Baaghi TV

Blog

  • سانحہ بھاٹی گیٹ، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

    سانحہ بھاٹی گیٹ، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

    بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار پانچوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ فریقین کے مابین صلح ہو چکی ہے، اس لیے ملزمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے مدعی کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ملزمان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔سماعت کے دوران مدعی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے بعد فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے صلح ہو چکی ہے اور وہ ملزمان کے خلاف مزید کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مدعی نے واضح طور پر کہا کہ ملزمان کو بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    عدالت نے مدعی کے بیان اور فریقین کی رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ صلح کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، بشرطیکہ مدعی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔

    واضح رہے کہ تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر رکھا تھا، جس میں لاپرواہی اور غفلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ماں بیٹی کی المناک موت پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا رہا، جبکہ شہریوں کی جانب سے کھلے مین ہولز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔

  • 
بنگلہ دیش میں اقتدار کا پلڑا بدلنے کو تیار

    
بنگلہ دیش میں اقتدار کا پلڑا بدلنے کو تیار

    ‎بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملکی سیاست ایک نئے موڑ پر آ گئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کو 2009 کے بعد ملک کے پہلے حقیقی اور مقابلے کے انتخابات قرار دیا جا رہا ہے، جہاں اس بار اپوزیشن سڑکوں پر مضبوط نظر آ رہی ہے اور حکمران جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔
    ‎شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور میں اپوزیشن جماعتیں یا تو انتخابات کا بائیکاٹ کرتی رہیں یا بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے باعث غیر مؤثر ہو گئیں۔ تاہم 2024 کی عوامی تحریک کے بعد منظرنامہ بدل چکا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد، خاص طور پر جنرل زیڈ، اس انتخاب کو فیصلہ کن قرار دے رہی ہے۔
    ‎بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو واضح برتری حاصل ہونے کی توقع ہے۔ بی این پی 300 میں سے 292 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے کے بارے میں پُراعتماد ہیں۔ دوسری جانب اسلامی جماعت جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد بھی مضبوط چیلنج پیش کر رہا ہے، جبکہ نوجوان کارکنوں پر مشتمل ایک نئی جماعت نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق 12 فروری کے انتخابات میں واضح نتیجہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ شیخ حسینہ کے جانے کے بعد کئی ماہ کی بدامنی نے معیشت کو متاثر کیا، خاص طور پر گارمنٹس سیکٹر جو عالمی سطح پر بنگلہ دیش کی شناخت ہے۔
    ‎انتخابات کے نتائج خطے میں چین اور بھارت کے کردار پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ شیخ حسینہ کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا اور ان کی رخصتی کے بعد چین کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی بھارت کے ساتھ متوازن تعلقات کی حامی سمجھی جاتی ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی حکومت بننے کی صورت میں پاکستان کے ساتھ قربت بڑھ سکتی ہے۔
    ‎سرویز کے مطابق 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، اس کے بعد مہنگائی کا نمبر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ووٹرز مذہبی نعروں کے بجائے معاشی کارکردگی اور شفاف قیادت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی کی صاف شبیہ اس کے حق میں ایک بڑا عنصر ہے۔
    ‎21 سالہ پہلی بار ووٹ دینے والے محمد راقب کا کہنا ہے کہ وہ ایسی حکومت چاہتے ہیں جو اظہارِ رائے اور آزاد ووٹنگ کی ضمانت دے۔ ان کے بقول، ’’لوگ تھک چکے تھے، نہ ووٹ کی آزادی تھی نہ آواز۔ ہمیں امید ہے کہ جو بھی حکومت آئے گی، یہ حق ضرور دے گی۔‘‘

  • ایران میں ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام گرفتار

    ایران میں ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام گرفتار

    ایران میں اصلاح پسندوں کے اتحاد ریفارم فرنٹ کے ترجمان جواد امام کو پاسدارانِ انقلاب نے گرفتار کر لیا ہے، جب کہ اسی روز ریفارم فرنٹ سے تعلق رکھنے والے مزید تین سیاستدانوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جواد امام کو گزشتہ روز ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کی کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتار افراد کو کہاں رکھا گیا ہے یا ان سے کب عدالت میں پیشی کرائی جائے گی۔ایرانی عدلیہ کے مطابق گرفتار سیاستدانوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حالیہ مظاہروں کے دوران ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے میں ملوث رہے۔

    ایرانی عدلیہ کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرنے کا بھی الزام ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جن کے بعد حکام کی جانب سے متعدد کارکنوں اور سیاستدانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں، جب کہ ناقدین ان اقدامات کو سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

  • طالبان انٹیلیجنس سے منسلک سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

    طالبان انٹیلیجنس سے منسلک سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

    طالبان انٹیلیجنس (GDI) سے منسلک اکاؤنٹس ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلانے میں بے نقاب ہو گئے ہیں، جس کے تحت کراچی کے ایک معروف تاجر کو جھوٹے طور پر داعش-خراسان کا کمانڈر ظاہر کیا گیا۔

    گزشتہ تین ہفتوں سے یہ طالبان سے منسلک اکاؤنٹس خیبر ضلع کے علاقے تیراہ میں مبینہ طور پر ISKP کی موجودگی سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلا رہے تھے۔اسی مہم کے دوران ایک جعلی شناخت “حافظ زبیر موحد” گھڑی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ تیراہ میں داعش-خراسان کی قیادت کر رہا ہے۔ انہی اکاؤنٹس نے یہ بھی جھوٹا الزام لگایا کہ مذکورہ شخص اسلام آباد خودکش حملے کے وقت اسلام آباد میں موجود تھا۔جسے داعش-خراسان کا کمانڈر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ کسی بھی طرح کا شدت پسند نہیں۔ “حافظ زبیر موحد” کے جعلی نام سے گردش کرنے والی تصویر دراصل حافظ محمد کی ہے، جو کراچی کے ایک معروف تاجر اور پراپرٹی ڈیلر ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں۔

    طالبان انٹیلیجنس سے منسلک اکاؤنٹس نے دانستہ طور پر ان کا نام حافظ محمد سے بدل کر حافظ زبیر رکھا، انہیں جھوٹے طور پر داعش سے جوڑا اور خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں داعش-خراسان کا کمانڈر قرار دیا۔ حقیقت میں حافظ محمد کا داعش سے کوئی تعلق نہیں اور انہوں نے آج تک کبھی تیراہ کا دورہ بھی نہیں کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    راستوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث سے روشنی میں واضع احکامات ہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا صدقہ ہے۔یعنی حضور ؑ نے اپنی اُمت کے مسلمانوں کو راستوں میں رکاٹیں ڈالنے سے منع فرمایاہے۔مسلمانوں کی سب سے محبوب عبادت نماز ہے جن مقامات پر نماز نہیں ہوتی اُن میں سے ایک راستے بھی ہیں۔اگر راستوں پرفرض عبادت میں شمار نماز ادا کرناجائز نہیں تو رزق کمانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ وزیراعلیٰ حکومت پنجاب محترمہ مریم نواز نے جہاں ریڈھی بازاروں کے قیام سے جائز روزی کمانے والوں کے لیے باوقاروسیع اہتما م کو پھیلاؤ پر گامزن کیا ہوا ہے وہاں راستوں سے ناجائز تجاوازات اور ریڈھیوں کو ہٹانے کے لیے پیرا فورس کا قیام شرعی اور اخلاقی طور پر سو فیصددرست کیا ہے۔حکومت پنجاب کی طرح میں بھی کسی غریب پاکستانی کے حلال رزق کا مخالفت نہیں ہوں مگر آپ کونظریہ مریم نواز صاحبہ کاپس منظر ضرور دیکھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔جولوگ کہتے ہیں حکومت پنجاب اور پیرا فورس غریب عوام پر ظلم کر رہے ہیں ان کے شعورکی درستی ہو جائے گئی۔

    (الکاسب حبیب اللہ)خدا کہتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اس کا دوست ہے تو اس دوست کی نشانی یہ ہے کہ وہ شرعی اور اخلاقی تقاضوں پر مزدوری کمانے والا ہوگا۔ فرمان رسول اللہ ؑ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔مگر کتنے مزدور آپ نے ایسے دیکھے ہیں جو اس طرح مزدوری کرتے ہیں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں؟عوامی گزرگاہوں پر ریڈھیوں سے راستے بند کرنے والے کتنے لوگ ہیں جو دُکان کرایہ بجلی بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے اپنا سودا مہنگے کرایے اور بل ادا کرنے والے دوکانداروں سے کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں؟خراب پھل پر اسٹیکر لگا کر ناقص سودا مہنگے داموں بیچنے والوں سے عام عوام کو کیا فائدہ ہے؟ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پراسلامی و اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ان ریڈھی والوں کے ہر طرح کے ظلم کو نظرانداز کیوں کر دیتے ہیں؟

    ریڈھی بانوں کی اکثریت مہنگے موبائل اچھی خوراک اچھا گھر اور پرائیویٹ سکول میں بچے پڑھانے والوں کی ہے پچیس فیصد کمزور حالات کے مالک ہوتے ہیں جن کے لیے حکومت پنجاب نے وسائل فراہم کرتے منصوبوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔عوام کے زہنوں میں ایک تاثر گردش کرتا ہے کہ ریڈھی لگانے والا بڑا ہی تنگ دست برے حالات میں جینے والا انسان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کسی کے چھوٹے کام کی وجہ سے اس انسان کو تنگ دست سمجھنے لگتے ہیں۔ایک ریڈھی والا ایک دوکان دار سے زیادہ پرکشش منافع کماتا ہے اسی لیے وہ دُکان کرایہ اور بجلی بل جیسے اخراجات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کرعوامی راستوں پر مشکلات پیدا کرتے ہیں ورنہ انہیں ریڈھی سے دکان کی ترقی پر جانے سے کون روکتا ہے؟ اسی طرح بھیک کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اس عقل مندی میں قید ہوتے ہیں کہ اس روزگارمیں دُکان کرایہ بجلی بل کے علاوہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔

    میری تحریر کا موضوع عوامی راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات پر آگاہی و نشاندہی فراہم کرنا ہے لہذا ہم اسی جانب چلتے ہوئے ایک ذاتی اور اہل محلہ کی شکایت بھی احکام بالا تک پہنچاتے چلیں تاکہ اس مسلے کا بھی مداوا ہو سکے۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ رائیونڈ تبلیغی مرکز کے بازار سے مستقل بنیادوں پر ناجائز تجاوازات اور ریڈھیاں ہٹانے میں ماضی و حال میں تمام ادارے ناکامی سے دوچار رہے ہیں جس کی وجوہات میں پہلی یہ کہ روڑ سے منسلک دُکان مالکان پیسے لیکر سڑک کرائے پر دیتے ہیں اور دوسری وجہ جو ریڈھی والے دوران کاروائی پکڑے جاتے ہیں وہ پیسے دیکر چھوٹ جاتے ہیں اورپھر سے روڑ پر قابض ہو جاتے ہیں۔مقامی رہائشی افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں مگرسوال یہ ہے کہ سٹرک کی رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے شریف شہریوں کی گلیوں میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں؟کیا یہ لوگ ٹیکس پیڈ پاکستانی نہیں ہیں؟

    ناجائز تجاوزات اور ریڈھی بانوں کی تکلیفوں سے برسوں کی شکار رائیونڈ تبلیغی مرکز گیٹ نمبر۹والے بازار سے وابستہ رہائشی گلیو ں کی معززمذہبی عوام وزیراعلیٰ حکومت پنجاب مریم نواز صاحبہ اسسٹنٹ کمشنرو پیرا فورس انچارج تحصیل رائیونڈ سے مطالبہ کرتی ہے کہ جب سٹرک پر لگی ریڑھیاں ہٹانے کے لیے کاروائیاں کی جاتی ہیں تو یہ ریڑھیوں والے مقامی رہائشی گلیوں میں پناہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے گلیوں کی بندش تکلیفوں سے دوچار کرتی ہے جس طرح مین سٹرک سے عام حالات میں ایمبولینس نہیں گزر سکتی اسی طرح جب ریڈھیوں والے گلیاں بند کرتے ہیں تو بوڑھے بچے مردعورتیں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جنہوں نے کئی بارشریفانہ انداز میں ریڈھی والوں سے منت سماج بھی کئی مگر وہ قوم پرستی کے منافقانہ اتحاد کی وجہ سے بدمعاشی کرتے ہوئے زبردستی گلیوں میں قابض رہتے ہیں۔برسوں سے مالکانہ حقوق رکھتے شریف حق پرست مقامی افراد نے اس زلت آمیز صورتحال سے جان چھڑوانے کے لیے مورخہ 22-10-2025کو پیرا فورس آفس اوراسسٹنٹ کمشنر تحصیل رائیونڈ آفس درخواست دائر کروائی جس کا ڈائری نمبر 1185ہے تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ کی طرف سے اس کا حل نہ نکال کر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی اداروں کے زریعے عوامی خدمت کے بیانے کو ابہام میں مبتلا کر دیا ہے۔اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو شکایت درج کروائی گئی جس کا نمبر 1555754جو 26جنوری 2026کو رجسٹر ہوئی۔اس پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ہونی ہے۔اس لیے اشتہار بازی اور بیان بازی پر کان نہ دھریں عملی طور پر عوام کے مسائل رشوت شفارش سے ہی حل ہو رہے ہیں جواس سے محروم ہیں وہ مسائل کی زد میں ہیں۔غفلت سستی نظر اندازی تنقید کو جنم دیتی ہے اور اعلیٰ ظرفی اصلاح کا نتیجہ۔ پنجاب حکومت اور سرکاری اداروں کے افسران کی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے پھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانیت و انسانیت کے جذبے سے متاثرہ عوام کی دادرسی کرکے سرخرو ہوں۔

  • ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

    بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

    "پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

    محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
    "بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
    اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
    ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
    "مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

    مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
    اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
    ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
    ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
    سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
    سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
    نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

    اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
    ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
    یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
    دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
    جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔

  • ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو صرف سندھ نظر آتا ہے،شرجیل میمن

    ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو صرف سندھ نظر آتا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جس نے بات کرنی ہے اسمبلی میں آئے، مسائل پاکستان کے ہر شہر میں ہیں، دو سیاسی جماعتیں ایسی ہے جن کی سیاست تنقید کرنے کی ہے، اگر یہ تنقید نہیں کریں گے تو ان کی سیاست کیسے چلے گی؟

    سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، وہ اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں حملے کرا رہا ہے، فیک اکاؤنٹ سے مذہبی انتشار کی مہم چلائی گئی، ساری بزدلانہ کارروائی بھارت کی طرف کی جا رہی ہیں، کوئی بھی دشمن ملک ایسی کارروائیاں کرے گا تو ہم اسے منہ توڑ جواب دینے کو تیار ہیں،اسلام آباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، دہشت گردوں نے معصوم لوگوں پر حملہ کیا، جو دشمن ممالک سامنے آ کر لڑ نہیں سکتے وہ پراکسی کے ذریعے سازشیں کر رہے ہیں،افغان طالبان کی مدد اور بھارتی سرپرستی میں اسلام آباد میں کیا گیا خودکش حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگوں میں ناکامی کے بعد یہ عناصر بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ مسائل پاکستان کے ہر شہر میں ہیں، دو سیاسی جماعتیں ایسی ہے جن کی سیاست تنقید کرنے کی ہے، اگر یہ تنقید نہیں کریں گے تو ان کی سیاست کیسے چلے گی؟ اگر یہ مخالفت نہیں کریں گے تو سیاست کیا کریں گے؟ یہی مخالفت کہیں اور نظر نہیں آئے گی، باقی صوبوں میں واقعات ہوئے تو ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی خاموش کیوں رہیں؟ ان کی سیاست کا دارومدار تنقید پر ہے، اتوار کو ہڑتال کی کال دی گئی، ویسے ہی بند ہوتا ہے، چند دن پہلے سندھ اسمبلی نے کامن ویلتھ کی میزبانی کی، ایک تاریخی پروگرام ہوا، پیغام گیا کہ پاکستان اور سندھ امن کا گہوارا ہیں، مائی کراچی بھی چند دن پہلے ہوا، ڈیفنس ایکسپو بھی کراچی میں ہوتی ہے، یہاں ایسے ایونٹ ہوتے رہتے ہیں، ورلڈ بینک کے وفد نے بھی سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف کی، دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پروجیکٹ سندھ حکومت بنا رہی ہے، سندھ حکومت نے ہر شہر اور منصوبے کو فوکس کر رکھا ہے، کوشش ہے کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں۔

  • اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک ایک باوقار نشست منعقد کی گئی جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر با صلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا یہ تقریب، ، فریم سے باہر ،، کی مصنفہ دعا عظیمی کو رائٹر گلڈ انعام ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں تھی جو بہت مقبول ہوئیں، تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی مہمانان خصوصی میں سلمان باسط صاحب ، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب تھے ان سب نے کتابوں پر بہت اچھی گفتگو کی خاص طور پر تقریب میں شامل سینر ادیب حسین مجروح صاحب نے بہت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت موثر اور مدلل گفتگو کی انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب، ، خاکی خاکے،، دعا عظیمی کی کتاب ،، فریم سے باہر، ، اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب، ، سوچ دلاان ،، پر بہت عمدہ اور باریک بینی سے اظہار خیال کیا ،

    سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب ،، خاکی خاکے ،، سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی ، تقریب کے شرکاء کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ دیا یہ تقریب بہت شاندار رہی فاطمہ شیروانی نے بہت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا بہت لذیذ کھانا تھا آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب کا تحفہ بھی دیا گیا، موسم بہت خوشگوار تھا یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا خوبصورت ہال ، خوبصورت پینٹنگز اور فرنیچر سے مزین کوریڈور ، اور پھر لش گرین لان رات کی خنکی اور فسوں سے بہت اچھا لگ رہا تھا شرکاء میں حسین مجروح
    اشفاق احمد ورک
    غلام حسین ساجد
    سلمان باسط
    محمود ظفر ہاشمی
    قرة العین شعیب
    روزینہ زرش بٹ
    مریم چویدری
    ڈاکٹر عظمی
    ثروت جہاں
    زرقا فاطمہ
    عطرت بتول
    دعا عظیمی
    سلمی اعوان
    فاطمہ شیروانی اور
    رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں

    دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو مبارکباد، اللہ تعالٰی لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے ، فاطمہ شیروانی ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین
    lahore

  • پشاور میں "چوہے” بڑھ گئے، شہریوں کی عدالت میں درخواست

    پشاور میں "چوہے” بڑھ گئے، شہریوں کی عدالت میں درخواست

    پشاور کے کئی علاقوں میں چوہوں کی بڑھتی تعداد کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

    درخواست ورسک روڈ، چارسدہ روڈ، بشیر آباد اور دیگر علاقوں کے شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے،پشاور ہائیکورٹ میں‌دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے چوہوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چوہوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے،ناقص سیوریج انتظامات کی وجہ سے چوہوں کی افزائش ہورہی ہے، حکومت اور انتظامیہ کو لوگوں نے کئی بار اس مسلے کو اجاگر کیا،
    2016 میں بھی یہ مسئلہ پیدا ہوگیا تھا، چوہوں کا انسانوں کو کاٹنے کے واقعات میں بے حد اضافہ ہوگیا تھا،صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 423 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس میں چوہوں نے انسانوں کو کاٹا تھا،2016 میں پشاور انتظامیہ نے سکیم شروع کیا تھا جس میں چوہوں کے مارنے پر پیسے دیئے جاتے تھے، حکومت شہر میں چوہوں کے خلاف اقدامات کریں، تاکہ یہ مسلہ مزید سنگین نہ ہوجائے،درخواست میں صوبائی حکومت، محکمہ صحت، ڈی سی، چیف ایگزیکٹو ڈبلیو ایس ایس پی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • صحافی  زین ملک کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین

    صحافی زین ملک کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین

    لاہور کے معروف صحافی زین ملک کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس کے بعد مرحوم کو مقامی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔ زین ملک کے انتقال سے صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    مرحوم کی نمازِ جنازہ میں اہلِ خانہ، قریبی عزیز و اقارب، دوست احباب اور صحافتی برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی، جبکہ شرکاء مرحوم کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا گو رہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ساندہ کےرہائشی صحافی زین ملک چھت سے گرکر جاں بحق ہو گئے تھے،صحافی زین ملک کو زخمی حالت میں میاں منشی ہسپتال منتقل کیاگیاتھا تا ہم وہ دم توڑ گئے،زین ملک لاہور کے مختلف چینلز پر بطور رپورٹر کام کرتا رہا ہے ،زین ملک نے آپ نیوز میں بطور سپورٹس رپورٹربھی کام کیا۔وہ جی این این میں بطور سپورٹس رپورٹر کا کام کر رہے تھے۔صحافی زین ملک سابق صدر لاہور پریس کلب میاں شہباز کے کزن تھے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے نجی ٹی وی کے میڈیا ورکر زین ملک کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ میری تمام ہمدردیاں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں اور ہم اس صدمے میں ان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے میڈیا ورکر زین ملک کے اہلخانہ سے اپنی تعزیت کا بھی اظہار کیا۔