Baaghi TV

Blog

  • یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    ایک ایسا خوبصورت سرزمین جس سرزمین کو جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس سرزمین میں کوئی کمی ہے تو وہ کمی سکون کی ہے وہ خوبصورت سرزمین کشمیریوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے لیکن وہاں کے بہادر لوگ اپنے جنت کو دوزخ میں بدلنے میں نہیں چھوڑتے وہ مسلسل اپنے آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ایک مدت سے وہ اس جدوجہد میں مبتلا ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی سر جھکا کر غلامی کو تسلیم نہیں کیا ان کے آزادی کی خواہش کبھی نہیں مریں گی، کئی بار کشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہر بار وہ اپنے جدوجہد کی آواز سے ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ بہادر مسلم تھے اور رہیں گے اور نسل در نسل ان کی بہادری کی داستانیں چلتی رہیں گی ان کے زخم ناقابل فراموش ہے۔اور ہم پاکستان کے لوگ چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام ہو ہر پانچ فروری کو کشمیریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپ کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ صرف ایک دن کے لیے ہم نے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو فراموش کر دیا ہے ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ہمارے حوصلے دیکھیں ہمیں درد بھی محسوس نہیں ہو رہی بہت ہی افسوس کی بات ہے۔ آئے مل کر اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کو بے گناہ اور اپنے ہی گھر کے اندر قتل کیا جاتا ہے اور ہم تماشائی اور بے بس بن کر کھڑے ہیں۔

  • صدائے کشمیر  ،تحریر: عاصمہ تبسم

    صدائے کشمیر ،تحریر: عاصمہ تبسم

    پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقویم کا ایک ورق نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے کہ ہم کشمیری عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ وہ وادی جو کبھی اپنی دلکش فضاؤں، بہتے جھرنوں اور سبز پہاڑوں کے باعث جنتِ نظیر کہلاتی تھی، آج خون اور آنسوؤں کی کہانی سناتی ہے۔

    1947 کے خزاں میں جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، تو اس دن سے کشمیری عوام کی زندگی ایک مسلسل کرب میں ڈھل گئی۔ حقِ خودارادیت کی وہ روشنی جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں جھلکتی تھی، آج تک ان کی دہلیز تک نہیں پہنچی۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا، لیکن کشمیری عوام کی آنکھوں میں آزادی کا خواب اب بھی زندہ ہے۔

    بھارت کے ظلم و جبر کی داستان اتنی طویل ہے کہ ہر صفحہ خون سے لکھا گیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کی آنکھوں کو پیلٹ گنز سے چھین لینا، یہ سب روزمرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ اظہارِ رائے پر ایسی پابندیاں ہیں کہ زبان کھولنے کی سزا قید و بند ہے، اور قلم اٹھانے کی جرات کرنے والوں کے لیے اظہار پر قدغن کی دیواریں کھڑی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی شناخت اور آبادیاتی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی سازش کی۔ لیکن اس سب کے باوجود ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ظلم کے سامنے جھکنا ان کے خون میں نہیں۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح ہیں، لیکن عالمی طاقتیں خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں دنیا کے ضمیر پر دستک دیتی ہیں، مگر افسوس کہ یہ دستک اکثر ان سُن کانوں تک نہیں پہنچتی۔

    یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم صرف نعروں اور جلسوں تک محدود ہیں یا واقعی کشمیری عوام کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہیں؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھیں۔ ہمیں ان کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے، تاکہ ظلم کی سیاہ رات میں امید کی کرن روشن ہو سکے۔

    جیسا کہ ایک اور صدا بلند ہوتی ہے:

    اندھیروں میں بھی جلتی ہے امید کی شمع
    کشمیر کی جدوجہد ہے تاریخ کی نعمت

    کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک ایسی شمع ہے جو ظلم کی آندھیوں کے باوجود بجھنے سے انکار کرتی ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جب تک کہ آزادی کی صبح ان کی دھرتی پر طلوع نہ ہو جائے۔

  • کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر:  دعا سرفراز

    کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر: دعا سرفراز

    کشمیر ایک حسین وادی ہی نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ، ایک جلتا ہوا سوال اور ایک عظیم قربانیوں کی داستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے پہاڑ، وادیاں، دریا اور فضائیں بھی آزادی کا نغمہ گنگناتی ہیں۔ کشمیر پاکستان کا مقدر ہے، کیونکہ یہ رشتہ محض جغرافیے کا نہیں بلکہ ایمان، تہذیب، ثقافت اور قربانیوں سے بندھا ہوا ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر کی مسلم اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا، مگر بدقسمتی سے یہ خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ ان کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن ہے اور زبان پر صرف ایک ہی صدا ہے: "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔” کشمیر کی وادیاں شہیدوں کے لہو سے رنگین ہیں۔ ماں نے اپنے لعل قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائی کھوئے اور بچوں نے اپنے باپ کی شفقت سے محرومی سہی، مگر کسی نے بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے۔ پاکستانی قوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتی ہے۔

    کشمیر پاکستان کا مقدر اس لیے بھی ہے کہ یہ رشتہ قدرتی، نظریاتی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک سچ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیوں میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گا اور کشمیری عوام آزادی کی فضا میں سانس لیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کے لیے آواز بلند کریں اور ہر ممکن حد تک ان کا ساتھ دیں۔ کیونکہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، یہ ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کشمیر تھا، کشمیر ہے اور کشمیر ہمیشہ پاکستان کا مقدر رہے گا۔

  • زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    زن چه نیست ۔۔۔؟تحریر: پارس کیانی

    انسانی تہذیب کی پوری داستان میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ عورت ہے۔ کائنات کا سماجی توازن عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ انسانیت کی بنیاد، تعلقات کا رچاؤ، محبت کی نزاکت، خاندان کی تشکیل، سب عورت کے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے کردار میں کبھی ماں ہے، کبھی بہن ہے، کبھی دوست، کبھی ساتھی، اور کبھی ایک ایسے جذبے کی علامت جس سے زندگی کو معنی ملتے ہیں۔

    عورت کی عظمت کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب تک محدود نہیں۔ قدیم مصر سے لے کر جدید دنیا تک، ہر دور نے اسے کسی نہ کسی صورت میں مرکزی مقام دیا۔ ہندو مت میں لکشمی اور سرسوتی کو علم اور خوش حالی کی علامت سمجھا گیا۔ یونانی روایات میں دیوی ایتھینا دانائی و حکمت کا استعارہ رہی۔ بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت سب کی کہانیوں میں خواتین شفقت، قوت اور استقامت کی علامت ہیں۔ یہ حقیقت انسانیت کے اجتماعی شعور میں گندھی ہوئی ہے کہ عورت دنیا کی سماجی تعمیر میں بنیادی اکائی ہے۔

    سماجیات کے مطابق معاشرے کی تشکیل کا پہلا ادارہ خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی اساس عورت ہے۔ زبان، رویّے، اقدار، روایات اور احساسات،all transmission،عورت کے ذریعے نسل در نسل آگے بڑھتے ہیں۔ وہ نرمی بھی ہے اور استقامت بھی۔ اپنے وجود سے ماحول میں توازن پیدا کرتی ہے، افراد کو جذباتی ہم آہنگی دیتی ہے اور معاشرے میں رشتوں کے مابین ربط قائم رکھتی ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین ملتی ہیں جنہوں نے تہذیبوں کے رخ بدل دیے۔ قدیم مصر کی حکمران حتشپسوت، چین کی وو زیٹیان، برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اوّل، یونان کی فلسفی ہائپیشیا، فرانس کی جوآن آف آرک، ہندوستان کی رانی لکشمی بائی، مغل دور کی مشہور فرمانروا رضیہ سلطانہ، اوّلین طبی محقق الفیہ بنتِ موسیٰ، اور برصغیر کی بہادر عورت دادی جانکی جیسے نام اس بات کی دلیل ہیں کہ عورت تاریخ کے دھارے میں کسی موڑ پر پیچھے نہیں رہی۔ جدید دور میں انجیلا میرکل، کملا ہیرس، کرسٹینا فرنانڈز، اور بینظیر بھٹو کی قیادت اس سلسلے کی تسلسل ہے۔

    سائنس اور علم میں بھی عورت نے وہ نقش چھوڑے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔ میری کیوری نے ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت سے جدید سائنس کا دروازہ کھولا۔ ایڈا لوویلیس نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے تصورات دیے۔ جوسیلین بیل برنیل نے نیوٹرون ستاروں کی دریافت کی۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کی بنیاد فاطمہ الفہری نے رکھی۔ ادب میں ورجینیا وولف، ٹونی موریسن، قرۃالعین حیدر اور عصمت چغتائی نے انسانی نفسیات اور سماج کو نئے زاویے دیے۔
    عورت کی سماجی و انسانی خدمات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مدر ٹریسا کی انسانیت نوازی، وانگاری ماتھائی کی ماحولیاتی جدوجہد، روزا پارکس کی نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت، ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لیے آواز، ہیرئیٹ ٹبمین کی غلامی کے خلاف لڑائی—یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ عورت ہر زمانے میں تبدیلی کی سب سے مضبوط قوت رہی ہے۔ برطانیہ کی لیڈی ڈیانا نے فلاحی خدمات اور عالمی انسانیت کے لیے وہ نقوش چھوڑے جو دلوں پر آج بھی نقش ہیں۔

    وہ عورت جو کبھی جھولا جھلاتی ہے، کبھی کتاب تھامتی ہے، کبھی نظریہ وجود بخشتی ہے، کبھی تلوار بلند کرتی ہے، کبھی قلم اٹھاتی ہے، اور کبھی ایک گھرانے میں محبت کی بنیاد رکھتی ہے،وہی عورت اصل میں دنیا کی تشکیل کرنے والی ہستی ہے۔ اگر مرد تعمیر ہے تو عورت تزئین، مرد بنیاد ہے تو عورت عمارت، مرد سمت ہے تو عورت معنی۔

    دنیا کی ہر تہذیب اور ہر دور ایک ہی حقیقت دہراتا ہے کہ عورت محض جنس نہیں، انسانیت کا سب سے اہم محور ہے۔اور کائنات عورت کے وجود کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

  • لاہور قلندرز نے  مستفیض الرحمان کو براہ راست سائن کر لیا

    لاہور قلندرز نے مستفیض الرحمان کو براہ راست سائن کر لیا

    لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیےبنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو براہ راست اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔

    لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے5 فروری کو اس اہم معاہدے کی تصدیق کی، جس کے مطابق بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے اس تجربہ کار کھلاڑی کو 6 کروڑ 44 لاکھ روپے کے عوض ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلا دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی حکومت کے دباؤ پر ڈراپ کردیا تھا جس کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی وجوہات کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز بھارت میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا آئی سی سی کے اس اقدام کو پاکستان نے دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے ورلڈ کپ میں بھا رت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

    معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    مستفیض الرحمان اس سے قبل بھی 2016 اور 2018 تک لاہور قلندرز کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اب طویل عرصے بعد وہ ایک بار پھر اسی ٹیم میں نظر آئیں گےلاہور قلندرز کی انتظامیہ نے اس فیصلے کو محض ایک پیشہ ورانہ ضرورت نہیں بلکہ ایک جذباتی تعلق قرار دیا ہے۔

    ٹیم کے مالک ثمین رانا کا کہنا ہے کہ جو ایک بار قلندر بن جائے وہ ہمیشہ قلندر ہی رہتا ہے اور مستفیض الرحمان ان کے لیے صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک بھائی اور خاندان کے فرد کی طرح ہیں امید ہے مستفیض الرحمان کی ٹیم میں واپسی سے بولنگ لائن مضبوط ہوگی اور ان کا تجربہ ٹیم کو ٹرافی جیتنے میں مددگار ثابت ہوگامستفیض کی مہارت اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی کارکردگی پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر ے گی۔

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    آئندہ سیزن کے لیے لاہور قلندرز نے اپنے پرانے اور اہم کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے جن میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، سکندر رضا اور نوجوان محمد نعیم شامل ہیں گزشتہ سال قلندرز کی ٹیم میں بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، مہدی حسن میراز اور ارشاد حسین بھی شامل تھے-

  • معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی لہٰذا بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں،قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور کشمیری ہر روز نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہوگا، کشمیری دنیا کو ہر روز سچائی کا آئینہ دکھا رہے ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو ، میرا فرض ہے آگے بڑھ کر تعاون کروں اور ہمارے تعاون میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی،کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، میں تحریک آزادی کے شہید کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کو قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنی آزادی قربان کرنےکو تیار نہیں،بھارت کی جانب سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے مگر بھارت جو فرنٹ کھولے گا اسی محاذ پر کبھی نہ بھولنے والا جواب دیں گے، معرکہ حق میں بھارتی گھمنڈ خاک میں ملا دیا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی تیز کررہا ہے مگر سفارتی محاذ پر بھی بھارتی بیانیہ دفن ہوگیا ہے، بھارت کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے، معرکہ حق میں پاکستان کی فتح اصل میں کشمیریوں کی بھی فتح ہے، معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، ہمیں اتحاد اور اتفاق سے دشمن کے عزائم ناکارہ بنانے ہیں، بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم اور ناپاک سازشیں ترک کرنے تک خطے میں امن ممکن نہیں، ہم امن چاہتےہیں لیکن امن برابری اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے۔

  • آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    زیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے-

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان اور ان کے سرپرستوں کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے ایک فتنہ ہے جو معصوم شہریوں اور مزدوروں کو نشانہ بناتا ہےیہ فتنہ بھارت کی ایماء پرپاکستان کی ترقی کے راستےمیں حائل ہے، پاکستان اپنی وحدت،ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، فتنہ انگیزی کی ہرکوشش کاموثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ریاست الحمدللہ مضبوط اورقوم متحد ہے، پاکستان کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ قانون کے مطابق نہ صرف پوری طاقت سے روکا جائے گا بلکہ ہمیشہ کیلئے توڑ دیا جائے گا، انشاءاللہ، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

  • صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈیپ فیک اور اے آئی مواد حکومت و معاشرے دونوں کے لیے بڑا چیلنج ہے،یہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے اے آئی سے تیار جعلی مواد معاشرے کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔

    شہر قائد میں جاری کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوسرے روز کو اہم عالمی مباحث کے لیے مختص کیا گیا تھا کانفرنس کے ایجنڈے میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان، موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات، جمہوری اقدار کے فروغ، مختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، عالمی چیلنجز کے مؤثر حل کی تلاش اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال شامل تھا۔

    سی پی اے کانفرنس کے دوسرے روز فیک نیوز اور آرٹیفشل انٹیلیجنس سے متعلق سیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کی میزبانی شرمیلا فاروقی نے کی جب کہ پینل ڈسکشن میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہےیہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اے آئی سے تیار جعلی مواد معاشرے کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ محکمۂ اطلاعات 24 گھنٹے صورتحال کی نگرانی میں مصروف ہے، تاہم جعلی و حقیقی مواد کی شناخت کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت ہے، جس کے لیے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ٹی وی چینلز کے نام پر جھوٹی خبریں پھیلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے ، آواز و ویڈیوز کی نقل سازی کے ذریعے غلط معلومات عام کی جا رہی ہیں،حکومت فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔

    صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ جعلی مواد پھیلانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ جھوٹی معلومات کسی کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں انہوں نے فیک نیوز کو پورے معاشرے کے لیے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مضبوط قانون سازی ضروری ہے پیکا ایکٹ پہلے سے نافذ ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے کیونکہ غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی تمام طبقات کے لیے یکساں ہونی چاہیے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کا احتساب، قانونی کارروائی اور سزا ضروری ہےجعلی خبروں، اے آئی اور غلط معلومات سے متعلق سیشن میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیپ فیکس اور اے آئی سے پیدا شدہ جعلی مواد معاشرے اور عوامی رائے پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر آنے والے مواد کی نگرانی کرے اور فوری طور پر جعلی معلومات کی نشاندہی کرےانہوں نے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جعلی مواد پھیلانے کے نتائج ہوتے ہیں قانون کے تحت ذمہ داریاں طے ہیں انہوں نے ایف آئی اے جیسے وفاقی اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو جعلی مواد کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

  • امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو محدود رکھنے والا آخری اہم معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ 5 فروری کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے میں توسیع یا کسی نئے متبادل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے اب عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےیہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا جس کا مقصد دنیا کو کسی بڑی ایٹمی جنگ سے بچانا تھا اس معاہدے کے تحت امریکا اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ بھی کر سکتے تھے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کوئی دھوکہ نہ دے سکے1991 میں جب پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا تھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی حد 6ہزار رکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ کم کیا گیا۔

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سفارتی ذرائع سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا، تاہم، روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ معاہدے کی کسی پابندی کے پابند نہیں رہے اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اگرچہ دونوں ممالک نے حالیہ سالوں میں ہتھیاروں کی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کیا لیکن اب معاہدہ نہ ہونے سے یہ صورتحال بدل سکتی ہے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق روس کے پاس اس وقت تقریباً 5459 اور امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے سے اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکیں گے جس سے غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے اور دونوں طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم دفاعی معاہدے ختم ہو چکے ہیں جن میں یورپ میں ٹینکوں اور فوج کی تعداد محدود رکھنے کا معاہدہ بھی شامل ہےاب دنیا کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس پر ہیں جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

  • امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار اور ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کی صبح تقریبا دس بجے منعقد ہوں گے امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح کیا کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر ایران اس فارمیٹ میں واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مذاکرات سے باہر دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تہران کے مطابق غیر قابلِ مذاکرہ ہیں ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف متفقہ دائرہ کار کے اندر، نیوکلیئر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی تجویز کیا گیا تھا، جس میں ترکی نے ثالثی کرکے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی عمان پہلے بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرچکا ہے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی فوج کی خلیج فارس میں تعیناتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

    امریکا اور اس کا اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔