Baaghi TV

Blog

  • بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    
لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت منائے جانے کے موقع پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فضائی تحفظ کے پیشِ نظر نوٹم جاری کر دیا ہے۔
    پنجاب حکومت کی جانب سے 6 سے 8 فروری تک شہر بھر میں پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے باعث پائلٹس کو ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎سول ایوی ایشن اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز کے مطابق نوٹم تین روز کے لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ لاہور کی فضائی حدود میں پروازوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری  امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما قاسم خان سوری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان دنوں امریکا میں آن لائن ٹیکسی ’اوبر‘ چلا کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔

    قاسم سوری نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اس طرح کا کام کرنا پڑے گاوہ چوری کرنے کے بجائے محنت مزدوری اور ایمانداری کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے وہ امریکا کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے ہیں،وہ عمران خان کے نظریے کے سپاہی ہیں اور ہمیشہ اسی سوچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    قاسم سوری نے اپنے موجودہ حالات کو ملک میں جاری مبینہ ناانصافیوں اور سختیوں کے تناظر میں بیان کیا اور خاص طور پر عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو درپیش قانونی مسائل کا ذکر کیاانہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے جیسے اہم ادارے میں ذمہ دار عہدے پر فائز رہے مگر انہوں نے کبھی وہاں سے ذاتی مال نہیں بنایا، 2018 سے پہلے وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پر عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی جیسی اہم شخصیات کی میزبانی کرتے رہے ہیں اور وہ ہمیشہ سے ایک متوسط طبقے کے ایماندار پاکستانی رہے ہیں۔

  • بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    کیا ہوا — اور یہ کیوں اہم ہے
    حالیہ دنوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر معمولی اور پرخطر قدم اٹھایا: بلوچستان کے 12 سے 16 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش۔ مقصد واضح تھا—بدامنی پھیلانا، اپنی طاقت کا تاثر دینا، اور بھرتی کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا۔
    لیکن اس کے برعکس جو ہوا، وہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تیز ترین اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں سے ایک تھا۔
    48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے:
    تقریباً 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا
    بڑی تعداد میں کارندوں کو گرفتار کیا
    دوبارہ منظم ہونے یا فرار کو روکنے کے لیے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز شروع کیے
    عالمی انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں یہ ردِعمل اس لیے نمایاں ہے کہ یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ رفتار، ہم آہنگی اور نظامی خلل کی گہرائی اہم ہے۔

    آپریشنل پھیلاؤ (نقشہ جاتی وضاحت)
    اگرچہ اصل نقشہ تزویراتی تفصیل دکھاتا، مگر آپریشنل دائرہ یوں سمجھا جا سکتا ہے:
    حملہ اور ردِعمل کے علاقوں میں شامل تھے:
    شمالی بلوچستان کے اضلاع
    وسطی نقل و حمل اور مواصلاتی راہداریوں
    جنوبی ساحلی اور اطرافی علاقے
    یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
    بی ایل اے نے صوبے بھر میں بیک وقت دباؤ ڈالنے کی کوشش کی
    پاکستان نے انفرادی ردِعمل کے بجائے صوبہ گیر انٹیلی جنس ایکٹیویشن کے ساتھ جواب دیا
    انسدادِ دہشت گردی کی اصطلاح میں یہ صوبائی سطح پر کمانڈ سنکرونائزیشن کی مثال ہے—ایک ایسی صلاحیت جس کے حصول میں کئی ریاستیں ناکام رہتی ہیں۔

    وہ اعداد جنہوں نے منظرنامہ بدل دیا
    بی ایل اے کی قوت بمقابلہ نقصانات
    زمرہ
    اندازاً تعداد
    بی ایل اے کے کل جنگجو
    ~1,500
    ہلاک کیے گئے دہشت گرد
    ~200
    ہلاک شدہ فیصد
    ~13%
    وقت
    < 48 گھنٹے سادہ الفاظ میں: دو دن میں کسی مسلح تنظیم کے دس فیصد سے زائد افرادی قوت کا خاتمہ تباہ کن ہوتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند گروہ محدود نقصانات برداشت کر لیتے ہیں، مگر وہ آسانی سے بحال نہیں ہو پاتے جب: اچانک افرادی قوت میں کمی ہو تربیت یافتہ جنگجو ضائع ہو جائیں ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا انکشاف ہو جائے عالمی سی ٹی تجزیہ کار اسے بڑی کامیابی کیوں سمجھتے ہیں
    بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی جائزے صرف “کتنے مارے گئے” پر نہیں رکتے؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کون سے نظام ٹوٹے۔
    اس آپریشن نے متاثر کیا:
    کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس
    شہری سلیپر سیلز
    اضلاع کے درمیان نقل و حرکت کی راہداریاں
    بھرتی کی رفتار اور تاثر
    دنیا کے کئی محاذوں—ساحل (Sahel) سے مشرقِ وسطیٰ تک—میں اسی نوعیت کی کمی حاصل کرنے میں مہینے لگتے ہیں، اکثر بیرونی مدد کے ساتھ۔
    پاکستان نے یہ کارنامہ مقامی صلاحیت کے ذریعے اور انتہائی تیزی سے انجام دیا۔
    اصل نقصان: نفسیاتی دھچکا اور بھرتی کا انہدام
    دہشت گرد تنظیموں کے لیے تاثر، اسلحے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
    بی ایل اے کے اہداف تھے:
    اپنی رسائی دکھانا
    اپنی اہمیت جتانا
    نئے بھرتی حاصل کرنا
    نتیجہ مگر الٹ نکلا:
    فوری نشاندہی
    فوری غیر مؤثر بنانا
    محفوظ آپریٹنگ اسپیس کا خاتمہ
    ممکنہ بھرتی کے لیے پیغام سخت اور واضح ہے: “تم زیادہ دیر نہیں ٹکو گے۔”
    یہ خوف آئندہ بھرتی کے خلاف ایک طاقتور رکاوٹ بنتا ہے۔

    تزویراتی پیغام*Strategic Message

    بلوچستان سے آگے تک
    یہ آپریشن کئی سطحی پیغامات دیتا ہے:
    عسکریت پسندوں کے لیے: بڑے پیمانے کی ہم آہنگی تیز رفتار تباہی کو دعوت دیتی ہے
    سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے: پراکسی تشدد سے دباؤ یا فائدہ حاصل نہیں ہوگا
    عالمی برادری کے لیے: پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیت ایک فاسٹ ری ایکشن، انٹیلی جنس غالب ماڈل میں ڈھل چکی ہے
    یہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں عدم استحکام بیرونی عناصر کے ذریعے بھڑکایا جاتا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے عزم کے ساتھ ناکام بنایا جاتا ہے۔

    خلاصہ

    محض تاکنیکی کامیابی سے بڑھ کر
    بی ایل اے کے مربوط حملوں پر پاکستان کا ردِعمل صرف کامیاب نہیں تھا—یہ تزویراتی طور پر سبق آموز بھی تھا۔
    48 گھنٹوں سے کم وقت میں کسی دہشت گرد تنظیم کے تقریباً 13 فیصد کا خاتمہ:
    آپریشنل رفتار توڑ دیتا ہے
    حوصلہ پست کر دیتا ہے
    بھرتی کے بیانیوں کو کمزور کر دیتا ہے
    وسیع اور پیچیدہ جغرافیے میں ریاستی رِٹ کو مضبوط کرتا ہے
    جیسے جیسے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز جاری ہیں، بی ایل اے کو صرف نقصانات نہیں بلکہ وجودی ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ کارروائی ایک پُراعتماد اور جدید انسدادِ دہشت گردی مؤقف کی عکاس ہے جسے دنیا اب نظرانداز نہیں کر سکتی۔

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

  • پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر بنگلہ دیشی حکومت کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق مشیر کھیل آصف نذرل نے پاکستان کے مؤقف کو اصولی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

    بنگلہ دیشی مشیر کھیل آصف نذرل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالے جانے کے معاملے پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا،پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے تحت بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، جس پر وہ پاکستانی قیادت کے شکر گزار ہیں۔

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    آصف نذرل نے اس موقع پر زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے پاک رہنا چاہیے اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں منصفانہ رویہ اختیار کیا جانا ضروری ہے کھیلو ں کے میدان کو تنازعات سے دور رکھنا ہی عالمی سپورٹس کی بہتری کے لیے اہم ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کابینہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ کھیل کے میدان پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ہمیں مکمل طور پر بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے میرے خیال میں یہ بہت مناسب فیصلہ ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    اس سے قبل حکومت پاکستانی نے یکم فروری کو ایک سوشل میڈیا پر جاری پیغام کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے مگر 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    اس حوالے سے آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہےگزشتہ روز بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے مسئلے کے حل کے لیے نائب سربراہ عمران خواجہ کو پاکستان سے بیک ڈور بات چیت کا ٹاسک سونپا ہے۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

  • عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    عالمی منڈی میں آلو کی برآمدات اور کسانوں کے مسائل ،تحریر :کامران اشرف

    پنجاب کے زرعی شعبے کے لیے حالیہ دنوں میں بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کی جانے والی زرعی اصلاحات نے آلو کے کاشتکاروں کے لیے نہ صرف امید کی کرن روشن کی بلکہ ان کی محنت کو منافع بخش بنانے کا عملی راستہ بھی کھولا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ اور 12 ملین میٹرک ٹن کی تاریخی پیداوار نے پنجاب کو آلو کی عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔

    آلو کی بمپر فصل، اگرچہ کاشتکاروں کے لیے خوشی کی خبر ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی جڑا ہوا ہے: پیداوار کے ضائع ہونے کا خطرہ۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمد کی اجازت طلب کی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ اپنے کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گی اور انہیں مناسب معاوضہ دلانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

    پنجاب حکومت کی کوششیں صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر برآمدات کے لیے قازقستان سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ مریم نواز شریف کے مطابق، قازقستان پہلا قدم ہے اور اس کے بعد مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے گی تاکہ آلو کی ریکارڈ پیداوار کو کوڑیوں کے بھاؤ نہ بیچا جائے۔

    کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فصل کی منڈیوں تک آسان رسائی ہے۔ زمین کی تیاری، فصل کی اگائی، دیکھ بھال، کھاد اسپرے اور پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں محنت کے باوجود، کئی بار کسان منافع نہ کما پاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ آلو کی پیداوار نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی منڈی میں بھی مناسب قیمت اور استحکام کے ساتھ فروخت ہو۔

    اس تمام عمل کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے کسان اپنی محنت کا پوری قیمت حاصل کریں اور ان کی فصلیں ضائع نہ ہوں۔ آلو کی بمپر پیداوار اب کسان کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خوشحالی اور معاشی استحکام کا پیغام لائے گی۔ پنجاب کی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لانے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پاکستان کے زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں مقام بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔

    مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کی زرعی اصلاحات نے آلو کی پیداوار کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے اور عالمی منڈی میں برآمدات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کے مالی استحکام، پیداوار کی حفاظت اور ملک کی معیشت میں زبردست بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ آلو کی بمپر فصل اب صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ پنجاب کے کسانوں کے لیے خوشحالی کا حقیقی پیغام ہے۔

  • اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا بھی محض ایک رسم بن چکا ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا بھی محض ایک رسم بن چکا ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    78سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے مظلوم کشمیری بھائی بھارت کی غلامی سے اسلئے آزاد نہیں ہورہے کہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں ۔ 5فروری اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا بھی محض ایک رسم بن چکا ہے ۔دوسری طرف بھارت مقبوضہ جموں کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کیلئے مسلسل عملی اقدامات کر رہا ہے یہاں تک کہ مقبوضہ وادی جیل بن چکی ہے اور کشمیریوں کیلئے سانس لینا بھی مشکل ہوچکا ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فورسز مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ۔ خواتین کی عصمت دری ، جبری گمشدگیاں، اجتماعی گرفتاریاں، طویل کرفیو اور شہری آزادیوں پر پابندیاں کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ان حالات میں 5فروری کو یومِ اظہارِ یکجہتی کشمیر منانا اگر چہ کشمیری عوام سے یکجہتی کے عزم کی علامت ہے، تاہم مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے صرف ایک دن اظہار یکجہتی کشمیر منا لینا کافی نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عملی اور مؤثر سفارتی و سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لیے محض ایک خارجی یا سفارتی معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد، جغرافیائی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا بنیادی مسئلہ ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، جو کشمیر کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر اٹھانا چاہیے۔اسلئے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ سال میں صرف ایک بار اظہار یکجہتی کشمیر منا لینا کافی نہیں بلکہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کیلئے عملی اقدامات کریں، سفارت کاری اور پالیسی میں کشمیر کو ترجیح دیں ۔

  • کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر، حریت اور یومِ یکجہتی،تحریر: انمول اعوان

    کشمیر دنیا کا ایک خوبصورت خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد، قربانی اور حریت کی علامت بھی ہے۔ قدرت نے کشمیر کو بے مثال حسن سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کا شکار ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ آزادی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اُن کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے، جسے طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پانچ فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اُن کی یہ قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

    کشمیر کے عوام نے ظلم، جبر اور پابندیوں کے باوجود کبھی اپنی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں ہونے دیا۔ اُن کے حوصلے، صبر اور استقامت پوری دنیا کے لیے مثال ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کی طاقت ہمیشہ غالب آتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں صرف کشمیری عوام کی حمایت کا درس ہی نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں اور کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کھڑے رہیں۔

    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی آزادی حاصل کریں گے اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔

  • 
امریکا کی سعودی عرب کو  F-15 طیاروں کے پرزہ جات فروخت کرنے کی منظوری

    
امریکا کی سعودی عرب کو F-15 طیاروں کے پرزہ جات فروخت کرنے کی منظوری

    امریکا نے سعودی عرب کو ایف۔15 لڑاکا طیاروں کے پرزہ جات فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں محدود تعداد میں امریکی شہری کنٹریکٹرز یا فوجی عملہ طویل مدت کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ پرزہ جات کی تنصیب، مرمت اور تربیت کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب امریکا تین روز قبل سعودی عرب کو تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فروخت کی اجازت بھی دے چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا خلیجی اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

    العربیہ کے مطابق سعودی عرب نے اس ڈیل کے تحت ایف۔15 طیاروں کے اسپیئر پارٹس اور مرمتی پرزہ جات، قابل استعمال سامان اور اضافی لوازمات، مرمت اور واپسی کی معاونت، زمینی اور عملے سے متعلق آلات، خفیہ اور غیر خفیہ سافٹ ویئر اور اس کی معاونت، تکنیکی دستاویزات، تربیتی سہولیات، اور امریکی حکومت و کنٹریکٹرز کی جانب سے انجینئرنگ، تکنیکی اور لاجسٹک خدمات کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔

    پینٹاگون کے مطابق یہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے خلیجی خطے میں ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جو خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ایف۔15 جنگی طیاروں سے متعلق یہ فروخت سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کی ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گی، زمینی افواج کے تحفظ میں مدد دے گی اور سینٹ کام کے خطے میں سعودی عرب کے مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام میں اس کے کردار کو نمایاں طور پر مستحکم کرے گی۔

  • یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )،  کامران ہاشمی

    یومِ یکجہتی کشمیر ( ایک عہد، ایک صدا )، کامران ہاشمی

    5 فروری کا دن ہمیں یہ یاد اور احساس دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک حقیقت کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں مظلوم کشمیری عوام کےساتھ کھڑے ہونے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا دن ہے۔برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی یہ سرزمین کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہی ہے۔ معصوم جانیں قربان ہوئیں، مائیں اجڑیں، مگر کشمیری عوام کے حوصلے نہ ٹوٹے۔ ان کی خاموشی میں صبر ہے اور ان کی نگاہوں میں آزادی کی روشن امید۔
    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کا ہر دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اورہراخلاقی،سفارتی اور انسانی فورم پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انشاء اللہ۔ یہ یکجہتی وقتی طور پر نہیں، بلکہ یہ ایک پختہ عزم اور زندہ ضمیر کا اظہار ہے۔

    آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ حق کی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیاں آزادی کی خوشبو سے مہک اٹھیں گی جس طرح جمیل الدین عالی نے نظم ” اے دیس کی ہواؤں ” میں یہ بات کہا ہے کہ تاریخ کہتا ہے کہ ایک دن آپ ضرور آزاد ہونگے ۔آخر میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوم کشمیری عوام کو جلد انصاف، امن اور آزادی عطافرمائےآمین۔

  • بے قابو کار کی حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکر، 4 ملازمین زخمی

    بے قابو کار کی حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکر، 4 ملازمین زخمی

    ‎کراچی میں ایک بے قابو کار حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں اسٹال کے 4 ملازمین زخمی ہو گئے۔
    ‎واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آ گئی ہے، جس میں کار کے اسٹال سے ٹکرانے کا منظر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
    ‎زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔