Baaghi TV

Blog

  • روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا  انکشاف

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔

    فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار دونوں شامل ہیں انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔

    صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025 میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025 میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں، انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہےاس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔

  • 
لیسکو نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایکسپورٹ ریٹ میں کمی کردی

    
لیسکو نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایکسپورٹ ریٹ میں کمی کردی

    
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے نئی بلنگ پالیسی جاری کرتے ہوئے ایکسپورٹ ریٹ میں کمی کردی ہے۔ اس کے تحت فی یونٹ ایکسپورٹ ریٹ 25.98 روپے سے کم ہو کر 25.32 روپے مقرر کیا گیا ہے، یعنی 66 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔
    لیسکو کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی بلنگ پالیسی جنوری 2026 کے بلنگ سائیکل سے نافذ العمل ہوگی۔ منظور شدہ ڈی جی کپیسٹی سے زائد ایکسپورٹ یونٹس پر پابندی عائد ہوگی اور اضافی ایکسپورٹ یونٹس کو ڈی جی کپیسٹی کے تناسب سے محدود کیا جائے گا۔
    ‎مزید برآں، سی پی 22 کے تحت ایکسپورٹ یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ جاری رہے گی اور نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی کا درست اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے۔

  • بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے لیے بنگلادیش کی حمایت کے شکر گزار ہیں، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل کولمبو میں کپتانوں کی پریس کانفرنس میں سلمان علی آغا نے کہا کہ بنگلادیشی ہمارے بھائی ہیں،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔

    بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر قومی کپتان نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ سے متعلق فیصلہ حکومت نے کرنا ہے اور ہم حکومت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں،بھارت کے ساتھ میچ ہوگا یا نہیں اس کا اندازہ نہیں، جو حکومت کہے گی اس کے مطابق ہی چلیں گے تاہم بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے۔

    سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان یہ میرا پہلا ورلڈکپ ہے جس کے لیے بہت پرجوش ہوں اور امید ہے میری کپتانی میں ٹیم اچھا کھیل پیش کرے گی ،ہم ایشیا کپ کے بعد سے اچھا کھیل پیش کررہے ہیں، پچھلے 6 ماہ سےاچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس مرتبہ ٹیم اچھا کھیل رہی ہے، امید ہے اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور امید ہے باقی ٹیموں کے خلاف اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گاسری لنکا میرے دوسرے گھر کی طرح ہے اور لوگ بہت اچھےاخلاق والے ہیں، یہاں آ کر ہمیشہ اچھا محسوس کیا ہے۔

  • نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے، اور اب ٹرین کو لے جانے کے لیے دوسرا انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، مگر ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا، اس حملے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہےاسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہےیہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

    ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر علاقے کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    مسافروں اور تاجروں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی پر اثر پڑ سکتا ہےسیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، اور جلد ہی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گاتاہم،علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔

  • انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار

    انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار

    لاہور: پنجاب پولیس کی جانب سے انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 153 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، کارر وائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 22 ہزار 753 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 570 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں لاہور میں غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 81 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2807 پتنگیں برآمد ہوئیں۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبے میں دھاتی ڈور اور پتنگوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث 4171 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے گرفتار افراد سے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7985 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں،پتنگ بازوں، مینوفیکچررز اور پتنگیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

  • یوم یکجہتی کشمیر.تحریر:   زونیشاء خاں

    یوم یکجہتی کشمیر.تحریر: زونیشاء خاں

    یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی
    "کشمیر بنے گا پاکستان” یہ صرف ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ذندہ و تلخ حقیقت ہے۔ کشمیر اور پاکستان کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ یکساں ہے۔ کشمیر کے ساتھ جو ہمارا رشتہ ہے وہ دینی و اسلامی رشتہ ہے۔ ہندوستان سے جب پاکستان علیحدہ ہوا تو کشمیر پاکستان کے حصے میں آیا تھا، لیکن بھارت کی ناانصافی سے یہ اب تک کیلئے نا حل ہونے والا تنازع بن چکا ہے، جسکی اندھیری رات ختم ہونے میں نہیں آرہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو "یوم یکجہتی کشمیر” منایا جاتا ہے۔ اس دن حکومت اور عوام کشمیریوں سے اظہار یکجتی کا اعلان کرتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک گزشتہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر کے جو تاثر قائم کیا گیا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کا اثر زائل ہو گیا۔

    کشمیر جنت نظیر کی سر زمینِ پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان کی آبادیاں ویران،کھیت کھلیان اور باغات تباہی حال، بہن اور بیٹیوں کی عزتیں پامال اور پوری وادی جنت نظیر آج مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اب تک بہت سی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاچکے ہیں۔ کشمیر میں ہر طرف ظلم وزیادتی اور بربریت کا منظر ہے۔ آئے روز بھارت کی طرف سے حملے ہورہے ہیں جنکا حساب کوئی نہیں لینے والا ہے۔

    کشمیری عوام مختلف تنظیموں کے جھنڈ تلے مصروف جہاد ہے۔ وہاں کا بچہ بچہ اپنی آزادی کیلئے کھڑا نظر آرہا ہے۔ 5 فروری کو پورے پاکستان میں "یوم یکجہتی کشمیر” سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعارے لگائے جاتے ہیں۔ ان شاءاللہ کشمیر اللّٰہ رب العزت کے حکم سے ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ظالم بھارتیوں نے اہل کشمیر پر زمین تنگ کر دی ہےمگر کشمیری عوام ان شاءاللہ آزادی کی تحریک کو کامیابی سی ہم کنار کر کے دم لیں گی۔

  • وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    وادیِ لہو میں آزادی کا سورج: 5 فروری اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر: فوزیہ شاہین

    5 فروری کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ لہو سے لکھی گئی اس داستانِ عزیمت کی یاد دہانی ہے جو وادیِ کشمیر کے چناروں تلے برسوں سے رقم ہو رہی ہے۔ یہ دن ہمیں ان ماؤں کی ممتا، ان بہنوں کی ردائے عفت اور ان جوانوں کے جذبۂ شوق کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر رکھا ہے۔ بقول شاعر:

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو
    موت بھی آئے اور کفن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    تاریخ کے جھروکوں میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ "مسئلہ کشمیر” برصغیر پاک و ہند کا وہ ادھورا ایجنڈا ہے جو آج بھی عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہر سال جب 5 فروری کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو یہ اپنے ساتھ ان ہزاروں شہداء کی خوشبو لے کر آتا ہے جنہوں نے غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ تان کر شہادت کا جام پیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کی خاموشی اس لہو کا مداوا کر پائے گی؟

    کشمیر کی تحریکِ آزادی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نام نہیں، بلکہ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ جذبہ ہے جسے جبر کی کوئی دیوار قید نہیں کر سکی۔ ان چار دہائیوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے ہزاروں مائیں اپنے جگر گوشوں کے جنازوں کو کندھا دیتی نظر آئیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو ماتھے پر بوسہ دے کر رخصت کیا، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    جس خاک کے خمیر میں ہو خوںِ شہدا
    اس ارضِ مقدس سے بغاوت نہیں ہوتی

    ایک ماں کے لیے جوان بیٹے کا داغ جھیلنا زندگی کی سب سے بڑی اذیت ہے، لیکن کشمیری ماؤں کا حوصلہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ وہاں بہنوں نے اپنے بھائیوں کی کلائیوں پر راکھی کے بجائے آزادی کے عہد باندھے اور جب ان کے بھائی لہو میں لت پت واپس آئے تو انہوں نے بین کرنے کے بجائے "آزادی” کے نعرے بلند کیے۔ یہ وہ قربانی ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور تحریک میں نہیں ملتی۔

    کشمیر کے المیے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ درندگی ہے جو خواتین کے ساتھ روا رکھی گئی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ غاصب افواج نے "عصمت دری” کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ کشمیریوں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ ہزاروں لڑکیاں اور عورتیں جن کی چادریں تار تار کی گئیں، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک آزاد فضا میں سانس لینے کا خواب دیکھتی تھیں۔
    نفسیاتی طور پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے زخم کبھی نہیں بھرتے، لیکن کشمیری خواتین کی ہمت دیکھیں کہ اس ظلم کے باوجود ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی۔ وہ آج بھی سر اٹھا کر قابض فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زمین کا حق مانگ رہی ہیں۔

    کچل کے پاؤں سے وہ وادیاں جو آئی ہے
    وہ فوج خون کی ندیاں بہا کے لائی ہے
    مگر یہ جبر کی دیوار ٹوٹ جائے گی
    سحر کی گود سے آزادی مسکرائے گی

    برصغیر کی تقسیم کے وقت سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ آج کئی سال گزرنے کے باوجود وہیں کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں دبی دھول چاٹ رہی ہیں۔ استصوابِ رائے کا وعدہ جو عالمی سطح پر کیا گیا تھا، وہ آج ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں معاشی مفادات کی خاطر انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے عالمی منڈی میں تولا جائے؟ یہ دوہرا معیار ہی اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    کشمیر کے عوام آج بھی اس امید میں بیٹھے ہیں کہ ایک دن آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ وہ سورج جو ان کی وادیوں سے خوف کے سائے مٹا دے گا، جو ان کی ماؤں کے آنسو پونچھے گا اور جو ان کی آنے والی نسلوں کو امن کا گہوارہ دے گا۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:

    ہم دیکھیں گے
    لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
    وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
    جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے

    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم آزادی کا فیصلہ کر لیتی ہے، تو دنیا کا کوئی بھی جدید اسلحہ یا فوجی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے ذریعے کشمیر کی شناخت مٹانے کی کوشش کی، لیکن اس نے کشمیریوں کے اندر آزادی کی تڑپ کو مزید جلا بخشی۔
    پاکستان کے عوام اور حکومت کے لیے 5 فروری محض اظہارِ یکجہتی کا دن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ مزید موثر انداز میں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا ہوگا جن کی آواز کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اے ارضِ وطن! تو بھی ہے گواہ ہم بھی ہیں گواہ
    اس ظلم کی کالی رات میں ہر آہ ہے گواہ

    اے اللہ! تو ہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔ وادیِ کشمیر میں بہنے والے معصوموں کے خون کے صدقے، اس مٹی کو غاصبوں سے پاک فرما۔ ان ماؤں کے حوصلے بلند رکھ جن کے بیٹے لاپتہ ہیں یا خاکِ وطن کا رزق بن گئے۔ کشمیر کے اس دیرینہ مسئلے کو جلد از جلد انصاف کے مطابق حل فرما اور وہاں کے لوگوں کو وہ حقیقی آزادی نصیب فرما جس کے لیے انہوں نے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔ آمین۔

  • یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    یوم کشمیر،تحریر؛حمرہ اکرام

    ایک ایسا خوبصورت سرزمین جس سرزمین کو جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس سرزمین میں کوئی کمی ہے تو وہ کمی سکون کی ہے وہ خوبصورت سرزمین کشمیریوں کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے لیکن وہاں کے بہادر لوگ اپنے جنت کو دوزخ میں بدلنے میں نہیں چھوڑتے وہ مسلسل اپنے آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ایک مدت سے وہ اس جدوجہد میں مبتلا ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی سر جھکا کر غلامی کو تسلیم نہیں کیا ان کے آزادی کی خواہش کبھی نہیں مریں گی، کئی بار کشمیر کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہر بار وہ اپنے جدوجہد کی آواز سے ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ بہادر مسلم تھے اور رہیں گے اور نسل در نسل ان کی بہادری کی داستانیں چلتی رہیں گی ان کے زخم ناقابل فراموش ہے۔اور ہم پاکستان کے لوگ چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام ہو ہر پانچ فروری کو کشمیریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپ کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ صرف ایک دن کے لیے ہم نے اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو فراموش کر دیا ہے ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ہمارے حوصلے دیکھیں ہمیں درد بھی محسوس نہیں ہو رہی بہت ہی افسوس کی بات ہے۔ آئے مل کر اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کو بے گناہ اور اپنے ہی گھر کے اندر قتل کیا جاتا ہے اور ہم تماشائی اور بے بس بن کر کھڑے ہیں۔

  • صدائے کشمیر  ،تحریر: عاصمہ تبسم

    صدائے کشمیر ،تحریر: عاصمہ تبسم

    پانچ فروری کا دن پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقویم کا ایک ورق نہیں بلکہ ایک عہد ہے، ایک وعدہ ہے کہ ہم کشمیری عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ وہ وادی جو کبھی اپنی دلکش فضاؤں، بہتے جھرنوں اور سبز پہاڑوں کے باعث جنتِ نظیر کہلاتی تھی، آج خون اور آنسوؤں کی کہانی سناتی ہے۔

    1947 کے خزاں میں جب بھارتی افواج نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، تو اس دن سے کشمیری عوام کی زندگی ایک مسلسل کرب میں ڈھل گئی۔ حقِ خودارادیت کی وہ روشنی جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں جھلکتی تھی، آج تک ان کی دہلیز تک نہیں پہنچی۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا، لیکن کشمیری عوام کی آنکھوں میں آزادی کا خواب اب بھی زندہ ہے۔

    بھارت کے ظلم و جبر کی داستان اتنی طویل ہے کہ ہر صفحہ خون سے لکھا گیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کی آنکھوں کو پیلٹ گنز سے چھین لینا، یہ سب روزمرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ اظہارِ رائے پر ایسی پابندیاں ہیں کہ زبان کھولنے کی سزا قید و بند ہے، اور قلم اٹھانے کی جرات کرنے والوں کے لیے اظہار پر قدغن کی دیواریں کھڑی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی شناخت اور آبادیاتی ڈھانچے کو مسخ کرنے کی سازش کی۔ لیکن اس سب کے باوجود ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ظلم کے سامنے جھکنا ان کے خون میں نہیں۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح ہیں، لیکن عالمی طاقتیں خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں دنیا کے ضمیر پر دستک دیتی ہیں، مگر افسوس کہ یہ دستک اکثر ان سُن کانوں تک نہیں پہنچتی۔

    یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم صرف نعروں اور جلسوں تک محدود ہیں یا واقعی کشمیری عوام کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہیں؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھیں۔ ہمیں ان کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے، تاکہ ظلم کی سیاہ رات میں امید کی کرن روشن ہو سکے۔

    جیسا کہ ایک اور صدا بلند ہوتی ہے:

    اندھیروں میں بھی جلتی ہے امید کی شمع
    کشمیر کی جدوجہد ہے تاریخ کی نعمت

    کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک ایسی شمع ہے جو ظلم کی آندھیوں کے باوجود بجھنے سے انکار کرتی ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، جب تک کہ آزادی کی صبح ان کی دھرتی پر طلوع نہ ہو جائے۔

  • کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر:  دعا سرفراز

    کشمیر پاکستان کا مقدر،تحریر: دعا سرفراز

    کشمیر ایک حسین وادی ہی نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ، ایک جلتا ہوا سوال اور ایک عظیم قربانیوں کی داستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے پہاڑ، وادیاں، دریا اور فضائیں بھی آزادی کا نغمہ گنگناتی ہیں۔ کشمیر پاکستان کا مقدر ہے، کیونکہ یہ رشتہ محض جغرافیے کا نہیں بلکہ ایمان، تہذیب، ثقافت اور قربانیوں سے بندھا ہوا ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر کی مسلم اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا، مگر بدقسمتی سے یہ خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ ان کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن ہے اور زبان پر صرف ایک ہی صدا ہے: "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔” کشمیر کی وادیاں شہیدوں کے لہو سے رنگین ہیں۔ ماں نے اپنے لعل قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائی کھوئے اور بچوں نے اپنے باپ کی شفقت سے محرومی سہی، مگر کسی نے بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کاز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے۔ پاکستانی قوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتی ہے۔

    کشمیر پاکستان کا مقدر اس لیے بھی ہے کہ یہ رشتہ قدرتی، نظریاتی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک سچ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیوں میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گا اور کشمیری عوام آزادی کی فضا میں سانس لیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کے لیے آواز بلند کریں اور ہر ممکن حد تک ان کا ساتھ دیں۔ کیونکہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، یہ ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کشمیر تھا، کشمیر ہے اور کشمیر ہمیشہ پاکستان کا مقدر رہے گا۔