وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری فیصل ممتاز راٹھور نے چیف سیکریٹری خوشحال خان اور انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں، جن میں ریاست کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، انتظامی امور اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق چیف سیکریٹری خوشحال خان نے وزیراعظم کو مختلف انتظامی معاملات، حکومتی امور اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے ریاست میں جاری ترقیاتی اور انتظامی سرگرمیوں کے بارے میں بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک نے وزیراعظم کو امن و امان کی مجموعی صورتحال، پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرائم کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ آئی جی پولیس نے سیکیورٹی صورتحال اور پولیس کی کارکردگی سے متعلق مختلف امور پر بھی وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاست میں قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور حکومتی رٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ریاست میں امن، استحکام اور بہتر طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہو اور انہیں بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، شفاف انتظامی نظام اور مؤثر قانون نافذ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔
Blog
-

وزیراعظم آزاد کشمیر کی چیف سیکریٹری اور آئی جی سے ملاقات، امن و امان پر تفصیلی غور
-

سورج کی روشنی کم کرنے کا منصوبہ نئے خطرات کی زد میں
سائنسدانوں نے موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے تجویز کیے گئے متنازع منصوبے اسٹریٹوسفیرک ایروسول انجیکشن (SAI) کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقہ اگرچہ زمین کا درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ماحول، انسانی صحت اور فضائی سفر پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اس منصوبے کے تحت فضا کی بالائی تہہ، جسے اسٹریٹوسفیر کہا جاتا ہے، میں انتہائی باریک ایروسول ذرات چھوڑنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سورج کی کچھ شعاعیں خلا میں واپس منعکس ہو جائیں اور زمین تک پہنچنے والی حرارت میں کمی آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بظاہر عالمی درجہ حرارت میں کمی لا سکتا ہے، تاہم اس کے طویل المدتی نتائج ابھی مکمل طور پر معلوم نہیں۔
امریکا کی رٹگرس یونیورسٹی کے محققین نے اپنی نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ فضا میں سلفیورک ایسڈ سے بننے والے سلفیٹ ذرات کمرشل طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ذرات طیاروں کے انجنوں اور دیگر نظاموں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں اور عملے کو زہریلے کیمیکلز کی مضر مقدار کے سامنے بھی لا سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ ایلن رونوک کا کہنا ہے کہ اسٹریٹوسفیر میں بارش نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہاں موجود ذرات زمینی فضا کے مقابلے میں تقریباً پچاس گنا زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بڑی مقدار میں کیمیائی ذرات فضا میں چھوڑے گئے تو ان کے اثرات کئی برس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو انسانی نظام تنفس کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی، گھرگھراہٹ اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو پہلے ہی دمہ یا دیگر پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہوں۔
دوسری جانب کولمبیا کلائمٹ اسکول کے سائنسدانوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسٹریٹوسفیرک ایروسول انجیکشن کو عالمی سطح پر استعمال کیا گیا تو اس سے دنیا کے موسمی نظام میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جنہیں واپس پلٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بارشوں کے نظام، ہواؤں کی سمت، زرعی پیداوار اور مختلف خطوں کے موسم پر بھی اس کے غیر متوقع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زمین کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 0.6 سے 1 ڈگری سینٹی گریڈ کمی لانے کے لیے فضا کی بالائی تہہ میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ خارج کرنا پڑ سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر مزید تحقیق ضروری ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں میں کسی نئے ماحولیاتی بحران کو جنم نہ دیا جائے۔ -

عامر خان نے گوری سپراٹ سے تیسری شادی کر لی
بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان نے اپنی دیرینہ ساتھی گوری سپراٹ سے نجی تقریب میں شادی کر لی-
بھارتی میڈیا کے مطابق شادی کی تقریب اتوار کے روز ممبئی میں عامر خان کی رہائش گاہ پر سادگی سے منعقد ہوئی، جہاں دونوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت اپنی شادی رجسٹر کروائی، تقریب میں صرف قریبی اہل خانہ اور دوستوں نے شرکت کی عامر خان کے بچوں جنید، آئرہ اور آزاد سمیت متعدد قریبی عزیز تقریب میں موجود تھے۔
عامر خان اور گوری سپراٹ ایک دوسرے کو تقریباً 25 برس سے جانتے تھے، تاہم 2024ء میں دوبارہ رابطہ ہونے کے بعد ان کا رشتہ مضبوط ہوا عامر خان نے مارچ 2025ء میں اپنی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر پہلی بار گوری کو اپنی گرل فرینڈ کے طور پر عوام کے سامنے متعارف کروایا تھا یہ عامر خان کی تیسری شادی ہے، اس سے قبل وہ رینا دتا اور اس کے بعد فلم ساز کرن راؤ سے شادی کر چکے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عامر خان کی نئی اہلیہ گوری سپراٹ نے یونیورسٹی آف آرٹس لندن سے فیشن، اسٹائلنگ اور فوٹوگرافی میں ڈگری حاصل کی ہےاس کے علاوہ وہ ایک پروفیشنل ہیئر ڈریسر بھی ہیں، اس وقت گوری سپراٹ عامر خان کے پروڈکشن ہاؤس عامر خان فلمز میں ہی کام کر رہی ہیں گوری کا ایک 6 سالہ بیٹا بھی ہے، تاہم ان کے پہلے شوہر کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات دستیاب نہیں۔
-

دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا سنگاپور میں ملنے کے بعد ملزم رضا ڈار نے خواتین سے رقم کا مطالبہ کیا اور ڈیفنس میں انہیں حبس بے جا میں رکھا پولیس نے کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے-
خواتین اور مرکزی ملزم رضا ڈار (مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے قریبی رشتے دار کے درمیان سنگاپور میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے حوالے سے لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاملہ تھا۔جب خواتین لاہور واپس آئیں تو ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں ڈیفنس کے علاقے میں کرائے کے مکان میں یرغمال بنایا اور مبینہ طور پر تشدد و زیادتی کا نشانہ بنایا۔
نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون کے والد نے بیرون ملک سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لے کر گاڑی کو ٹریس کیا اور دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا، پولیس نے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر کے کینٹ کچہری کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، میڈیکل رپورٹ میں بھی ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔
دوران پریس کانفرنس ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہاکہ پہلی کال سیف سٹی پر آئی ، سیف سٹی کال کے ایکشن کے بعد یہ ہوا، اس کے بعدوہ لوگ گھر سےتتربترہوئے،اس کی وجہ سے وہ گاڑی وہاں سے نکلی،اس کال کا ٹائم چیک کرلیں،7بج کر 18منٹ کی کال سے پہلے اے ایس پی کی وہاں موجودگی ہے، اے ایس پی کا لڑکی سے رابطہ ہے،یہ چیپٹرتوکلوز ہو جاتا ہے،ہم لائیو لوکیشن اور ٹھوس ثبوت آپ کے سامنے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ قیاس آرائی تھی جس کو پوری سٹوری نہیں پتہ تھی اس نے وہاں سے سٹوری شروع کی۔
فیصل کامران نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی معاونت کے لیے پولیس نے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا جب کہ متاثرہ خواتین میں شامل ایک خاتون وینزویلا کی شہری ہے، جس کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق متاثرہ خواتین کی سہولت اور اعتماد کے لیے خواتین پولیس افسران کو ان کے ساتھ تعینات کیا گیا اور انہیں طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا گیاہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے مرحلے پر کچھ دشواری پیش آئی، تاہم سفارت خانے کے حکام سے ہونے والی تمام گفتگو پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ایک روز مزید لاہور میں قیام پر آمادہ کیا گیا، جس کے بعد اگلے روز انہیں عدالت میں پیش کر کے دفعہ 164 کے تحت ان کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے۔ بعد ازاں ملزمان کا ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی۔
واضح رہے کہ خواتین نے اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم رضا ڈار نے انہیں دھمکانے کے لیے باس نامی شخص کو موقع پر بلایا تھا جو اپنے گن مینوں کے ساتھ موقع پر پہنچا تھا اور اسی نے قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے بیانات میں جس شخص کو ’باس‘ کہا گیا تھا، اس کا اصل نام وحید ہے اب تک اس مقدمے میں 8ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ ’باس‘ کے نام سے سامنے آنے والے کردار وحید کے خلاف پہلے سے8 مقدمات درج ہیں۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ جب کسی بااثر شخصیت کا رشتہ دار کسی مقدمے میں ملوث ہو تو متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہےتفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ ایک ملزم ملک کے ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے تو اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے پر انہیں ہدایت دی گئی کہ قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کی جائے، جس کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ اس مقدمے کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ کیس کی تفتیش اور کارروائی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کسی جج کے گھر پر چھاپہ مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ان کے مطابق جج کے گھر جانے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔
-

خاتون کی جان بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم شہید
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم ایک خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی لے جانے کی کوشش سے بچاتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بن گئے، واقعے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
اسلام آباد کے علاقے نائنتھ ایونیو پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم نے ایک خاتون کی مدد کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم وہاں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سوار کو خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر زبرد ستی کرتے دیکھا، انہوں نے اپنی گاڑی روکی اور خاتون کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔
واقعے کے دوران خاتون بھاگ کر گروپ کیپٹن عاصم کی گاڑی کے دوسری جانب آ گئی اسی اثنا میں موٹرسائیکل سوار، جس کی شناخت سعد کے نام سے ہوئی ہے، نے مبینہ طور پر گروپ کیپٹن عاصم سے تلخ کلامی کی اور اچانک فائرنگ کر دی فائرنگ کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم شدید زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متاثرہ خاتون کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ ملزم سعد اسی کے دفتر میں ملازم ہے اس کے مطابق ملزم نے صبح اسے دفتر چھوڑنے کی پیشکش کی، تاہم راستے میں اس نے راستہ تبدیل کر دیا اور مبینہ طور پر اسے کسی دوسری جگہ لے جانے کی کوشش کی، جب اس نے مزاحمت کی تو ملزم نے اس کے ساتھ زبردستی شروع کر دی، اسی دوران گروپ کیپٹن عا صم موقع پر پہنچے اور اس کی مدد کی۔
پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تفتیش جاری ہےشہید گروپ کیپٹن عاصم اپنے سوگواران میں اہلیہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو چھوڑ گئے ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاک فوج کے سپاہی صرف سرحدوں ہی نہیں عزت کے بھی رکھوالے ہیں۔
-

ہیلمٹ نہ پہننے والوں کی موٹرسائیکلیں بند کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت نےہیلمٹ نہ پہننے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر لاہور میں ہیلمٹ کے استعمال کو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے باضابطہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں ٹریفک حکام کے مطابق شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے جو افراد بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلاتے ہوئے پکڑے جائیں گے، ان کے خلاف چالان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی موٹرسائیکل بھی ایک دن کے لیے بند کر دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ کی پابندی کے علاوہ لین لائن کی خلاف ورزی کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور ان کی موٹرسائیکلیں بھی بند کی جا رہی ہیں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں پر 20 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں بند کی جا چکی ہیں۔
حکام نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ہیلمٹ کا لازمی استعمال کریں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
-

اپر چترال میں گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث شدید سیلاب سے واحد رابطہ پل بہہ گیا، زمینی رابطہ منقطع
اپر چترال میں گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی، جس سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی –
اطلاعات کے مطابق یارخون کے علاقے بانگ گول میں اچانک سیلاب آنے سے پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھروں، باغات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا اور کئی علاقے زیرِ آب آ گئے-
انتظامیہ کے مطابق شدید سیلاب کے باعث بنگ نالہ پر قائم واحد رابطہ پل بھی دریا برد ہوگیا، جس سے یارخون ویلی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی پل بہہ جانے کے بعد یارخون کی تقریباً 50 ہزار آبادی کا واحد زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے مستوج، بروغل روڈ بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
علاقے کے عوام نے متعلقہ حکام، حکومتِ خیبر پختونخوا اور فلاحی تنظیموں سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے، متبادل راستے بحال کرنے اور متاثرہ افراد کی مدد کی اپیل کی ہے۔
-

ایران کا ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعاد
تہران: ایران نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کاز اور آزادی کی جدوجہد کی ہر ممکن سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا انہوں نے واضح کیا کہ تہران اس مقصد کے لیے اپنی تمام ممکنہ سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، فلسطینی مسئلہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ایران مستقبل میں بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے تعاون اور حمایت کو برقرار رکھے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کو اپنی مستقل پالیسی سمجھتا ہے اور اس مؤقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی، ایران خطے میں امن، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور فلسطین کے مسئلے پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ایران کی جانب سے فلسطینی کاز کی حمایت کے اس اعادے کو خطے میں جاری سفارتی پیش رفت کے تناظر میں ایک اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
-

ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی:سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی، اسی وجہ سے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے-
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کو ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے انہیں کراچی کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر وفاق سے سوال کرنے کا مشورہ دیا وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بلیک میلنگ کا ثبوت ہے، ایم کیو ایم عوامی اعتماد کھو چکی ہے، اسی وجہ سے اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ میں دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہوسکتا، ایم کیو ایم اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرے۔
واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں اور گورنر شپ سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھیں گے۔
فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ساتھیوں، آرٹیکل 140 اے، سندھ کی گورنر شپ اور اربن ڈیولپمنٹ پیکج جیسے مطالبات منظور نہ ہوئےتو ایم کیو ایم پاکستان جلد اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط لکھے گی اور اپنے 22 اراکین کے لیے اپوزیشن بینچوں پر جگہ بنانے کی درخواست کرےگی 2022 میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دستخط کیے ، وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس معاہدے کے ضامن اور گواہ تھے، آخری وارننگ ہے، وزیر اعظم معاہدے پر عمل درآمد کروائیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں، فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے بتایا ہے گورنر سندھ کو ہٹانے میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے، وفاق اس معاملے پر وضاحت کرے۔
-

دھواں چھوڑنےوالی گاڑیوں کےڈرائیورزکالائسنس معطل کرنے کا فیصلہ
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کے حکم پر اسموگ تدارک کریک ڈاؤن جاری ہے،سی ٹی او لاہور نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کا ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے خلاف اب مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے۔
سی ٹی او عبدالرحیم شیرازی کے مطابق کمرشل گاڑیوں کے معاملے میں بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے ایسی گاڑیاں جو مقررہ ماحولیاتی معیار پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ روٹ پرمٹ بھی معطل کیے جائیں گے تاکہ فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بننے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں بغیر ترپال ریت، مٹی یا تعمیراتی سامان لے جانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کے داخلے پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر کوئی گاڑی اس پابندی کی خلاف ورزی کرتی پائی گئی تو اس کے خلاف صرف جرمانہ ہی نہیں بلکہ مقدمہ بھی درج کیا جائے گا بغیر ترپال گاڑیوں سے اڑنے والی گرد و غبار سموگ میں اضافے کا اہم سبب بنتی ہے، جس کے خاتمے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں اس عرصے میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 14 ہزار 378 گاڑیوں کے چالان کیے گئے، جبکہ سموگ کے تدارک کے لیے جاری خصوصی مہم کے دوران ایک ہزار 401 مقدمات بھی درج کروائے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بغیر ترپال ریت اور مٹی لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی گئی گزشتہ مالی سال میں ایسی 53 ہزار 599 گاڑیوں کو قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں جرمانے، چالان اور دیگر قانونی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، لاہور میں صاف ماحول کی فراہمی اور شہریوں کی صحت کا تحفظ ٹریفک پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے
عبدالرحیم شیرازی ے گاڑی مالکان، ٹرانسپورٹرز اور کمرشل ڈرائیوروں پر زور دیا کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت فٹنس یقینی بنائیں، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کرائیں اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کے دوران ترپال کا لازمی استعمال کریں سموگ کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی مہم آئندہ بھی بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ لاہور کو فضائی آلودگی سے پاک اور شہریوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔