Baaghi TV

Blog

  • بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کریگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، کیپٹن (ر)صفدر

    بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کریگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، کیپٹن (ر)صفدر

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما و وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر نے کہا ہے کہ مریم نوازکی پالیسیوں سے ریلیف عام آدمی تک پہنچ رہا ہے، ترقی کا عمل لاہور سے نکل کر اب گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔

    شیخوپورہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر)صفدر کا کہناتھاکہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیے بغیر حقیقی تبدیلی کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا، وزیراعلیٰ کےپی صوبے پر توجہ دینے کے بجائےکراچی جاکرعوام کوبھاشن دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک ہفتہ لاہورآئیں انہیں معلوم ہوجائےگا ترقی کا عمل ہرگلی اور محلہ تک پہنچ چکا ہے، پاکستان دفاعی اور معاشی طورپرایشیاکی مضبوط ترین قوت بننے جا رہا ہے، بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کردےگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، مریم نوازکی پالیسیوں سے ریلیف عام آدمی تک پہنچ رہا ہے، ترقی کا عمل لاہور سے نکل کر اب گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے

  • ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی،اہلیہ ارشد شریف

    ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی،اہلیہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کیس نمٹانےپر ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا ردعمل سامنے آ گیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ "ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی اگر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت انصاف نہیں دے سکی تو ایک ضلعی کچہری میں کیسے انصاف ہوگا جب آج تک ارشد شریف کے خلاف ہراسانی دھمکیوں سر میں گولی مارنے اور پھر قتل کرنے کی ایف آئی آر فیملی کی مدعیت میں درج نہیں ہوسکی۔ کوئی نظام موجود نہیں بس ایک بار آپ ساتھ ظلم ہوگیا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں یہاں پر یہ کہا جاتا ہے”.

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے۔
    ‎عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس مرحلے پر عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں رہی۔‎فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانی عوام کے دکھ اور تشویش کو سمجھتی ہے۔ تاہم تحقیقات اور قانونی کارروائی متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت جاری ہے۔
    ‎عدالت نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ فورمز یا عدالتوں سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔‎فیصلے کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے قوانین کے تحت ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

  • بشیر  بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

    درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

    سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

  • بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی  کا انعقاد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا

    ریلی میں ہزاروں افراد پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تھامے شریک ہوئے،ریلی کی قیادت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کررہے تھے ،اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ؛دور دراز سے لوگ افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے سبزہلالی پرچم تھامےاس ریلی میں شریک ہیں،میں فیلڈ مارشل کی بات کی تائید کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بلوچستان کے عوام اس کی محافظ ہے،اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ بلوچستان ہے،یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا، ریلی میں موجود لوگوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے بھی لگائے

  • بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف گزشتہ تین دن سے جاری بھرپور اور فیصلہ کن آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے متعدد علاقوں کو کلیئر کرا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو قوم کی سلامتی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہریوں کو بھی شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں سرگرم

    مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں سرگرم

    ‎قطر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تمام اہم علاقائی ممالک فعال ہو گئے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ایران اور امریکا کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب، ترکی، مصر اور عمان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔
    ‎ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطری وزیراعظم کا حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں خطے میں امن قائم کرنے اور تصادم کے خدشات کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام علاقائی طاقتیں خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
    ‎ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ ایکس پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ مذاکرات مناسب ماحول میں اور خطرات سے پاک طریقے سے آگے بڑھیں۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ یہ مذاکرات امریکی صدر کی پیشکش کے بعد خطے کی دوست حکومتوں کی مشاورت سے شروع کیے جا رہے ہیں اور یہ مذاکرات ایران کے قومی مفادات کے دائرہ کار میں ہوں گے۔
    ‎عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور قطر، ترکی اور مصر ثالثی کے کردار میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، جدید جنگی سازوسامان اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دہشت گرد کو اوسطاً 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا، جو کسی منظم بیرونی نیٹ ورک اور مالی معاونت کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید امریکی ساختہ M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزرز اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جو عام طور پر جدید عسکری فورسز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس کمیونیکیشن سیٹس سے بھی لیس تھے، جس سے ان کے درمیان رابطہ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بے حسی پیدا کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر حملوں سے قبل استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دہشت گرد خوف اور درد کے احساس سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں انجام دے سکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور تعاقبی آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے تعاقبی آپریشنز میں مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 197 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

  • نیا وائرس سامنے آگیا، نیپاہ جیسی علامات اور انسانوں میں خاموشی سے پھیلنے کا خدشہ

    نیا وائرس سامنے آگیا، نیپاہ جیسی علامات اور انسانوں میں خاموشی سے پھیلنے کا خدشہ

    انسانوں میں خاموشی سے پھیل رہا ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس ابتدائی طور پر نیپاہ وائرس جیسی علامات پیدا کرنے والے مریضوں میں پایا گیا، تاہم نیپاہ کے ٹیسٹ منفی آئے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نئے وائرس کو طبی طور پر پٹروپائن اوریوریو وائرس (PRV) کہا گیا ہے، اور اس کی علامات نیپاہ وائرس سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس بنگلہ دیش کے پانچ مریضوں میں پایا گیا، جنہوں نے حال ہی میں کھجور کے درخت سے حاصل کردہ کچا رس استعمال کیا تھا، جو نیپاہ، ریبیز اور ماربرگ جیسے وائرسز کے پھیلاؤ کا معروف ذریعہ ہے۔
    ‎مریضوں میں شدید سانس اور اعصابی علامات دیکھنے میں آئیں، جبکہ کچھ افراد میں بیماری کے مہینوں بعد بھی تھکن، سانس لینے اور چلنے میں مشکلات برقرار رہیں۔ ایک مریض کی موت بھی ہوئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ PRV وائرس کی وجہ سے ہوئی یا نہیں۔
    ‎کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ نیپاہ جیسی علامات والے مریضوں میں اس نئے وائرس کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر نشے مشرا نے کہا کہ کچی کھجور کے رس کے استعمال سے نیپاہ کے علاوہ دیگر خطرناک وائرسز بھی پھیل سکتے ہیں، اور اس لیے وسیع نگرانی کے نظام کی فوری ضرورت ہے۔
    ‎برطانیہ کے صحت حکام نے بھی بھارت کے مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے حالیہ پھیلاؤ پر نظر رکھنے کی تصدیق کی ہے، جہاں تقریباً 200 افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

  • ‎ارشد شریف قتل کیس: وفاقی آئینی عدالت نے ازخود نوٹس نمٹا دیا

    ‎ارشد شریف قتل کیس: وفاقی آئینی عدالت نے ازخود نوٹس نمٹا دیا

    ‎وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے۔
    ‎عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس مرحلے پر عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں رہی۔
    ‎فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانی عوام کے دکھ اور تشویش کو سمجھتی ہے۔ تاہم تحقیقات اور قانونی کارروائی متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت جاری ہے۔
    ‎عدالت نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ فورمز یا عدالتوں سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔
    ‎فیصلے کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے قوانین کے تحت ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

  • متحدہ عرب امارات میں سونے کی فروخت میں اضافہ

    متحدہ عرب امارات میں سونے کی فروخت میں اضافہ

    متحدہ عرب امارات میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد شہریوں اور سرمایہ کاروں نے اپنے پرانے زیورات بیچنا شروع کر دیے ہیں تاکہ قرضہ جات چکائے جائیں یا پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی جا سکے۔
    ‎دبئی گولڈ سوک اور دیگر مارکیٹوں میں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی، جہاں انہوں نے 22K، 21K، 18K اور 14K سونے کے زیورات فروخت کیے۔ 29 جنوری کو ایک گرام سونے کی قیمت Dh666 تک پہنچ گئی تھی، لیکن چند دن بعد یہ گر کر Dh589.5 پر آ گئی، جس سے فوری فروخت میں اضافہ ہوا۔
    ‎شہزادی رحمان نے اپنے پرانے زیورات بیچ کر 25 فیصد منافع حاصل کیا، جبکہ دیگر افراد نے قرضہ جات چکانے یا پراپرٹی خریدنے کے لیے سونے کی فروخت کو ترجیح دی۔ سرمایہ کار میناک دوجا کے مطابق چاندی کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کار قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے جلدی نقد رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں قیمتیں مستحکم ہو گئی ہیں، بعض سرمایہ کار توقع کر رہے ہیں کہ چاندی کی قیمتیں دوبارہ $100 فی اونس تک جا سکتی ہیں۔ اب شہری اور سرمایہ کار سونے کو صرف زیورات کے طور پر نہیں بلکہ مالی منصوبہ بندی اور پراپرٹی میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔