Baaghi TV

Blog

  • اوکاڑہ: کمشنر ساہیوال ڈویژن کی زیر صدارت ضلع بھر کی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس

    اوکاڑہ: کمشنر ساہیوال ڈویژن کی زیر صدارت ضلع بھر کی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر) کمشنر ساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل کی زیر صدارت ڈی سی آفس میں ضلع بھر کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس ساہیوال شفیق احمد ڈوگر اور محکمہ ہائی وے، روڈز، بلڈنگز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران نے اے ڈی پی کے تحت ضلع بھر میں نئے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلی بریفنگ دی۔ کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل نے کہا کہ عوامی فلاح کے تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں اور ترقیاتی سکیموں کے معیار و بروقت تکمیل پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ افسران کو فیلڈ وزٹس اور کام کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مانیٹرنگ کرنا ہوگی، اور سرکاری فنڈز کا درست استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کمشنر نے واضح کیا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی سہولت کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔

  • ننکانہ صاحب: ڈپٹی کمشنر کا  ایکشن، کلاس سے غیر حاضر سکول ٹیچر معطل،ہیڈماسٹرز کاتبادلہ

    ننکانہ صاحب: ڈپٹی کمشنر کا ایکشن، کلاس سے غیر حاضر سکول ٹیچر معطل،ہیڈماسٹرز کاتبادلہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی/احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے تحصیل ننکانہ صاحب کا دورہ کرتے ہوئے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچیکی بڑا گھر کے اسکول میں کلاس سے غیر حاضر ٹیچر کو معطل کر دیا اور اسکول کے بدانتظامی پر دونوں ہیڈ ماسٹرز کو منتقل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے بچیکی بڑا گھر میں پولیو کیمپس کا وزٹ کیا، جہاں کلاس سے غیر حاضر ہونے اور اسکول میں چھڑی برآمد ہونے کے معاملے پر دو ٹیچرز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ بدانتظامی کے تدارک کے لیے دونوں اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اسکولوں میں نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بچیکی اور سیدوالہ کے مختلف بازاروں میں تجاوزات اور صفائی کے جائزے کے لیے بھی دورے کیے اور موٹروے انٹرچینج پر بیوٹیفکیشن اور سپورٹس ارینا کے جاری کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹس ارینا میں روزانہ کی بنیاد پر فٹ بال اور کرکٹ کے میچز منعقد ہوں گے اور میچز کی آن لائن بکنگ بھی دستیاب ہوگی۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کونسل اور پیرا فورس تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری رکھیں، اور ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کو جلد مکمل کرنے کے احکامات بھی دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر منصوبے اور اسکول کی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے تاکہ ضلع میں نظم و ضبط اور ترقیاتی کاموں کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔

  • 
جرح کے نام پر گواہ کو ہراساں کرنا ناقابل قبول، سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ

    
جرح کے نام پر گواہ کو ہراساں کرنا ناقابل قبول، سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ

    
لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جرح کے طریقۂ کار پر اہم اصولی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرح کا حق لامحدود نہیں اور اس کی آڑ میں گواہ کو ہراساں کرنا یا غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔
    ‎جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کو یہ مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر ضروری، طویل یا ہراساں کرنے والی جرح کو محدود کرے یا ختم کر دے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے گواہوں کو غیر ضروری دباؤ اور تضحیک سے محفوظ رکھنا عدالتی ذمہ داری ہے۔
    ‎سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ اس نتیجے پر پہنچے کہ مزید جرح غیر ضروری یا ہراساں کرنے کے مترادف ہے تو وہ مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی تھی۔
    ‎عدالت نے ریمارکس دیے کہ گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے اور عدالتی ریکارڈ کی درستگی کے حق میں ایک مضبوط قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے۔
    ‎عدالتی فیصلے کے مطابق مذکورہ مقدمے میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا، جس پر دو ماہ کے دوران سات سماعتوں میں 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اس تناظر میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت مکمل اختیار حاصل تھا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے اقدام کو برقرار رکھے۔

  • 
نیب کی بڑی کارروائی، کرپشن کیس میں 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری

    
نیب کی بڑی کارروائی، کرپشن کیس میں 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری

    
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے ایک بڑے مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے حیدرآباد میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کی بیوہ سے 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری کرلی ہے۔
    نیب کے مطابق گریڈ 18 کے افسر مشتاق کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے سال 2025 میں پلی بارگین کی درخواست دی، جسے منظور کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بنائے گئے تمام اثاثے سرکار کو واپس لے لیے گئے۔ ریکور کیے گئے اثاثوں میں اربوں روپے مالیت کی کمرشل پراپرٹیز، زرعی زمینیں، سونا، لگژری گاڑیاں، اور معروف برانڈز کو کرائے پر دی گئی دکانوں کا وسیع نیٹ ورک شامل ہے۔
    ‎نیب کا کہنا ہے کہ پلی بارگین کے بعد تمام اثاثے سندھ حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ یہ ریکوری صوبے میں بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

  • 
کیا ایل ای ڈی بلب بند نہ کرنا بجلی بچاتا ہے؟

    
کیا ایل ای ڈی بلب بند نہ کرنا بجلی بچاتا ہے؟

    
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا کمرے میں بلب کو مسلسل روشن رکھنے سے بجلی کم خرچ ہوتی ہے، خاص طور پر اب جب ایل ای ڈی لائٹس کم بجلی استعمال کرتی ہیں۔ اس کا جواب سادہ نہیں بلکہ کچھ حد تک حالات پر منحصر ہے۔
    امریکی محکمہ توانائی (یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف انرجی) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جب بھی کوئی شخص کمرے سے باہر نکلے تو عام طور پر بلب بند کر دینا چاہیے، کیونکہ اس سے بجلی کی بچت ہوتی ہے اور بل میں کمی آتی ہے۔
    ‎تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچھ مخصوص حالات میں بلب کو روشن رکھنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اگر آپ 15 منٹ کے اندر دوبارہ اسی کمرے میں واپس آنے والے ہوں تو بلب بند کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بار بار بند اور روشن کرنے سے نہ صرف بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے بلکہ بلب کی عمر بھی کم ہو سکتی ہے۔
    ‎اس کے برعکس، اگر آپ کو کافی دیر تک واپس آنے کا ارادہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ بلب بند کر دیا جائے، تاکہ بجلی کا ضیاع روکا جا سکے اور بلب کی زندگی بھی طویل ہو۔
    ‎بجلی کے بل میں کمی کا ایک اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ استعمال کے بعد برقی آلات کو پلگ سے نکال دیا جائے۔ اکثر ڈیوائسز بند ہونے کے باوجود پلگ میں لگی رہیں تو تھوڑی تھوڑی بجلی استعمال کرتی رہتی ہیں، جسے ماہرین ’ویمپائر انرجی‘ کہتے ہیں۔
    ‎امریکی محکمہ توانائی کے مطابق صرف ویمپائر انرجی کی وجہ سے لوگ سالانہ 100 سے 200 ڈالر اضافی خرچ کر دیتے ہیں۔ پاکستانی تناظر میں یہی رقم ہزاروں بلکہ بعض صورتوں میں لاکھوں روپے بن سکتی ہے، اور اوسطاً ایک گھر کی تقریباً 10 فیصد بجلی یہی غیر ضروری استعمال ضائع کر دیتا ہے۔

  • قصور میں مین ہول میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق

    قصور میں مین ہول میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق

    
پنجاب میں کھلے گٹروں کے باعث ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آ گیا۔ قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں شادی ہال کے احاطے میں موجود کھلے سیوریج نالے میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کمسن علی اپنے والدین کے ساتھ ایک ولیمے میں شرکت کے لیے آیا تھا کہ اچانک شادی ہال میں موجود کھلے گٹر میں گر گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق وہاں موجود افراد نے بچے کو فوری طور پر نکال کر اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی ہال میں سیوریج کا مین ہول کھلا ہوا تھا، جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ کمسن بچے کی موت سے خوشیوں کا ماحول ماتم میں بدل گیا اور اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر غلام فاطمہ موقع پر پہنچ گئیں اور شادی ہال کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر قصور آصف رضا نے بتایا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مین ہول کا سلیب پہلے سے غائب تھا یا بعد میں ہٹایا گیا۔
    ‎حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ‎کراچی میں شب برات کے موقع پر سیکیورٹی سخت

    ‎کراچی میں شب برات کے موقع پر سیکیورٹی سخت

    ‎کراچی میں شب برات کے موقع پر پولیس اور انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نیشنل آئی جی کراچی نے تمام زونل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز، ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت دی ہے کہ مرکزی شاہراہوں، گلیوں اور اہم مقامات پر پولیس موبائل اور موٹر سائیکل گشت بڑھایا جائے۔
    ‎ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، قبرستانوں اور درگاہوں پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ شب برات کی محافل اور اجتماعات کے منتظمین اور رضاکاروں کے ساتھ رابطہ رکھا جائے گا اور دہشت گرد عناصر، فورتھ شیڈول کے ملزمان اور مشکوک افراد پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔
    ‎عوامی املاک اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آتش بازی اور پٹاخوں کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ الرٹ پر ہوگا اور ٹریفک روانی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
    ‎یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور شب برات کے موقع پر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

  • پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن: طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاجواب کر دیا

    پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن: طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاجواب کر دیا

    
پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن کے دوران ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سوال کر کے حیران کر دیا۔
    کنونشن کے دوران طالبہ نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں تو جعلی حکومتیں ہیں لیکن کے پی میں تو اصلی حکومت ہے، پھر ترقی دوسرے صوبوں میں ہو رہی ہے، یہاں کیوں نہیں ہو رہی؟
    ‎سوال سنتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مسکراتے رہے اور کہا کہ ہماری ترقی یہ ہے کہ آپ بلا جھجک وزیراعلیٰ سے سوال کر رہی ہیں۔
    ‎یہ موقع شرکاء کے لیے دلچسپ بھی رہا اور طالبہ کی ہوشیاری کی داد بھی دی گئی۔

  • پاکستان میں ویکسین سازی میں سعودی تعاون کی راہیں ہموار

    پاکستان میں ویکسین سازی میں سعودی تعاون کی راہیں ہموار

    ‎پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے شعبے میں سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد کے بعد دوطرفہ تعاون کی اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ وفد کی قیادت منسٹر آف انڈسٹری کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کر رہے ہیں، جنہوں نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کیا۔
    ‎اجلاس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری، مستقبل کی طلب، دستیاب انفراسٹرکچر اور متعلقہ صلاحیتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت صحت کے ماتحت اداروں کے سربراہان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر قومی ادارہ صحت نے بھی اجلاس میں بریفنگ دی۔
    ‎وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ آبادی ہے اور ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جو ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی کے برابر اضافہ ہے۔ حکومت 13 اقسام کی ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کر رہی ہے، مگر یہ ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتیں اور عالمی اداروں سے درآمد کی جاتی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔
    ‎وزیر صحت نے کہا کہ ویکسین کی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں اور 51 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے، تاہم 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہو جائے گی۔ اگر مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو ملکی معیشت پر بڑا بوجھ ڈالے گی۔
    ‎مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارت صحت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صحت کے شعبے میں اشتراک خطے کے لیے مثال بنے گا اور ویکسین سازی میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

  • قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ،حافظ مسعود اظہر

    قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ،حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی حالیہ کارروائیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے حملوں کو ناکام بنانا ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی عزم کا مظہر ہے۔ سیکورٹی فورسز نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت ، قربانی اور قومی جذبے سے ثابت کردیا ہے کہ قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب اور بہادرانہ کارروائیوں پر ہم پاک فوج کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اسلامک کونسل کے رضا کار ، دینی ادارے اور علماء اپنے محافظوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں بھارت کی مداخلت کے شواہد موجود ہیں، یہ کارروائیاں پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں۔ دشمن عناصر کی یہ سازشیں ، کاروا ئیاں سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی کے باعث ناکام ہو رہی ہیں کہ جو قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس کا مقابلہ صرف اداروں ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے اتحاد اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں، ریاستی اداروں پر اعتماد رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ قومی یکجہتی ہی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کی اصل قوت ہے۔ وطنِ عزیز کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی اہلکار ہمارے حقیقی ہیرو اور محسن ہیں۔ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی ان کی احسان مند ہیں ۔ بہادر جوانوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی ۔ ہم شہید جوانوں کے درجات کی بلندی اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں ۔حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط کیا جائے، سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور بیرونی مداخلت کے شواہد عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں رکھے جائیں۔