Baaghi TV

Blog

  • بلوچستان میں دہشتگرد حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے منظم کیا گیا، گرپتونت سنگھ پنوں

    بلوچستان میں دہشتگرد حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے منظم کیا گیا، گرپتونت سنگھ پنوں

    بلوچستان میں بی ایل اے کا دہشت گرد حملہ، جو مودی کی بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، امریکی مفادات اور ٹرمپ انتظامیہ پر براہِ راست حملہ ہے

    سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گر پتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کا حل، خالصتان لبریشن آرمی کو مسلح کیا جائے ،بلوچستان میں شہریوں پر کیا گیا حملہ کی سازش بھارت میں تیار کی گئی، یہ حملہ اجیت دوول کی قیادت میں را نے منظم کیا،بلوچستان حملہ نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان میں امریکی مفادات اور براہِ راست ٹرمپ انتظامیہ پر بھی حملہ ہے۔بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جو امریکا کی جانب سے نامزد دہشت گرد تنظیم ہے کا یہ حملہ مودی کے بھارت کی جانب سے تیار اور استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے دو واضح مقاصد ہیں اول، پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا؛ دوم پاکستان سے امریکی سرمایہ کاری کو دور بھگانا۔اسی لیے دہشت گرد حملے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر بھارتی میڈیا اور بھارت کی سرپرستی میں پالیسی ساز آوازوں نے اسے ایک “ویک اپ کال” قرار دینا شروع کر دیا ،یہ ایک مربوط اور پہلے سے تیار کردہ بیانیہ تھا جس کا مقصد سرمایہ کاری کے ماحول کو زہر آلود کرنا اور امریکی شمولیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

    سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گر پتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوموں کے خون بہنے کو دیکھ کر میرا خون کھول رہا ہے۔پاکستان کے عوام! کیا تمہارا خون بھی کھول رہا ہے؟” ،پاکستان آرمی نے سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، تاہم اس سے بھارت کی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی ختم نہیں ہوگی “مودی کے بھارت کو ختم کرو”؛ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اب کیا ہدایت دینی چاہیے۔ “بلوچستان میں بی ایل اے بلوچستان لبریشن آرمی کے مسئلے کا پاکستان کے پاس حل یہ ہے کے ایل اے (خالصتان لبریشن آرمی) کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ بھارتی قبضے والے پنجاب کی آزادی کے لیے جدوجہد کی جا سکے،”

    بلوچستان میں شہریوں کا قتلِ عام مودی حکومت کی پراکسی جنگ ہے، جس کا ہدف نہ صرف پاکستان بلکہ براہِ راست امریکا بھی ہے، کیونکہ یہ امریکی معاشی حکمتِ عملی کو کمزور بنانے اور ٹرمپ انتظامیہ کی علاقائی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

  • علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد،دوبارہ وارنٹ جاری

    علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد،دوبارہ وارنٹ جاری

    انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علیمہ خانم کے خلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ احکامات تھانہ صادق آباد کے نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے دوران جاری کیے گئے۔

    عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خانم کی جانب سے دائر کی گئی حاضری سے استثنیٰ (معافی) کی درخواست مسترد کر دی۔ سماعت کے دوران علیمہ خانم کے وکیل فیصل ملک نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ملزمہ کی عدم حاضری کی درخواست کی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو تسلیم نہیں کیا۔پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خانم دانستہ طور پر مقدمے کے ٹرائل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سماعت پر تفتیشی افسران، گواہان اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوتے ہیں، مگر ملزمہ کی جانب سے مسلسل عدم حاضری عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔ پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ علیمہ خانم کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل عدم تعمیل کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے پراسیکوشن کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے علیمہ خانم کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی اور ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔اسی کے ساتھ عدالت نے علیمہ خانم کے دو ضامنوں کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ایس ایچ او تھانہ صادق آباد کو حکم دیا کہ دونوں ضامنوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔مزید برآں، عدالت نے علیمہ خانم کے وارنٹِ گرفتاری پر عملدرآمد نہ کرانے پر ایس پی راول کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں وارنٹس کی فوری تعمیل کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق تھانہ صادق آباد کے نومبر احتجاج کیس کی اب تک 42 سماعتیں ہو چکی ہیں، جن میں سے علیمہ خانم صرف 14 سماعتوں پر حاضر ہوئیں، جبکہ 28 سماعتوں پر غیر حاضر رہیں۔ کیس کی سماعت گزشتہ 120 دنوں سے جاری ہے، تاہم ملزمہ کی بار بار غیر حاضری کے باعث ٹرائل متاثر ہو رہا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیس کی آئندہ سماعت وارنٹِ گرفتاری کی تعمیل اور ضامنوں کی پیشی کے بعد مقرر کی جائے گی۔

  • بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے ریسٹورنٹ میں کھانوں کی  حیران کن قیمت

    بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے ریسٹورنٹ میں کھانوں کی حیران کن قیمت

    معروف بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کے آبائی شہر میں ایک ایسا ریسٹورنٹ قائم ہے جہاں معیاری اور بھرپور کھانا صرف 40 روپے میں دستیاب ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اریجیت سنگھ کا یہ ریسٹورنٹ ’ہیشل‘ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کے شہر جیا گنج میں واقع ہے، بتایا گیا ہے کہ یہ ریسٹورنٹ گلوکار کا خاندانی کاروبار ہے، جسے ان کے والد چلا رہے ہیں، اریجیت سنگھ کا ریسٹورنٹ ’ہیشل‘ اپنی نہایت کم قیمتوں اور لذیذ بھارتی کھانوں کی وسیع اقسام کے باعث خاصی شہرت رکھتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس ریسٹورنٹ میں معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کو صرف 40 روپے میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جن میں طلباء، مزدور اور بزرگ شہری شامل ہیں، یہ وہ افراد ہیں جنہیں مناسب قیمت پر قابلِ اعتماد اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اشد ضرورت ہوتی ہے، ریسٹورنٹ کے مینیو میں پنجابی اور بنگالی کھانے شامل ہیں۔ سبزیوں پر مشتمل مکمل تھالی تقریباً 40 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ طلباء کے لیے اس کی قیمت مزید کم کر کے صرف 30 روپے مقرر کی گئی ہے۔

  • ایمان مزاری سے ملاقات کا  معاملہ: شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں

    ایمان مزاری سے ملاقات کا معاملہ: شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے درخواست دائر کرنے کے لیے اپنی بائیومیٹرک بھی کروائی۔

    شیریں مزاری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ کل بیٹی اور داماد سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئی تھیں، تاہم ملاقات کا مقررہ دن ہونے کے باوجود انہیں اجازت نہیں دی گئی جیل قانون کے مطابق ملاقاتوں کے حوالے سے جو حق حاصل ہے، اسی بنیاد پر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کی ہے۔

    درخواست میں شیریں مزاری نے اپیل کی کہ بنیادی استدعا یہی ہے کہ جیل قانون کے مطابق ملاقات کا جو حق ہے وہ فراہم کیا جائےوہ ایک ماں ہیں اور بیٹی سے ملنا چاہتی ہیں، اسی طرح داماد سے ملاقات کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روکا جا رہا ہے،انہوں نے متعلقہ حکام کو اپنے قوا نین کا حوالہ دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے آرٹیکل ون ذہنی اور جسمانی تشدد کی تشریح کرتا ہے، جس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے-

    شیریں مزاری کے مطابق نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ ملک کے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہےبین الاقوا می قوانین کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ ہمیشہ اچھی رہی ہے اور ہم انڈس واٹر جیسے معاملات پر بھارت کو بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ خلاف ورزی نہیں کر سکتا،پاکستان شروع سے اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کرتا آ رہا ہے اور اگر پاکستان کی پوزیشن مضبوط رہی ہے تو اب اسے کیوں کمزور یا تباہ کیا جا رہا ہے۔

  • راؤ عبدالکریم کا آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    راؤ عبدالکریم کا آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کر دیا گیا جب کہ ان کی جگہ راؤ عبدالکریم کو تعینات کردیا گیا،راؤ عبدالکریم کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 24 ویں کامن سے ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے راؤ عبدالکریم کی انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے عہدے پر تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا، راؤ عبدالکریم کا شمار انتہائی پروفیشنل، منجھے ہوئے اور تجربہ کار بہترین افسران میں ہوتا ہے، راؤ عبدالکریم ان دنوں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    راؤ عبدالکریم نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی، راؤ عبدالکریم نے اے ایس پی یو ٹی سکھر، ایس ڈی پی او سکھر سٹی، لطیف آباد حیدر آباد، چنیوٹ کے عہدوں پر فرائض سر انجام دیے،راؤ عبدالکریم نے بطور ایس پی گوجرانوالا، لاہور اور شیخوپورہ خدمات انجام دیں، راؤ عبدالکریم بطور ڈی پی او میانوالی، قصور اور جھنگ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں راؤ عبدالکریم بطور ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالا، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، راؤ عبدالکریم کا تعلق نواب شاہ سے ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مختلف علاقوں میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز سامنے آئے ہیں، جن میں کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ پوسٹرز حریت پسند تنظیموں کی جانب سے آویزاں کیے گئے ہیں پوسٹرز میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر شامل ہیں۔

    پوسٹرز میں Thank You Pakistan‘،’ A Bond of Blood and Belief ‘اور’ Pakistan supports Kashmir’s right to decide — Let the people choose ‘جیسے جملے شامل ہیں–

    پوسٹرز میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ اجاگر کر رہا ہے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں،پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ پوسٹرز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دو قومی نظریے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اکتوبر 1947 میں اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا۔

    پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا، جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب ومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کے شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار ایک پر جوش اور پرتپاک انداز میں کیا۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بہادر کشمیری اکیلے نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی عوام ان کے دکھ، درد اور جدوجہد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کی آواز بن کر دنیا تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پیغام میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی گئی ہے،کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کی یہ قربانیاں آزادی کے عزم کو مزید مضبوط کر رہی ہیں، کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ رشتہ مضبوط ہے اور کبھی کمزور نہیں ہو سکتا سبز ہلالی پرچم سے وابستہ امید آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے، کشمیری دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں کشمیری عوام ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر آزادی کی صبح دیکھے گا۔

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    ساق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے فراڈ کیس میں ضمانت بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    نجف حمید نے ایف آئی اے مقدمے میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا، نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا،اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔

    درخواست میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے نجف حمید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ قانون پسند شہری ہوں، بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا، اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کیا جائے۔

  • گمراہ کن مواد پھیلانے پر اداکار راشد محمود یوٹیوبر پر پھٹ پڑے

    گمراہ کن مواد پھیلانے پر اداکار راشد محمود یوٹیوبر پر پھٹ پڑے

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اور معروف اداکار راشد محمود نے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز اور یوٹیوبرز کے خلاف شدید ردِعمل دیتے ہوئے گمراہ کن مواد پھیلانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس عمل کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں راشد محمود کا کہنا تھا کہ بعض ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز محض ویوز اور شہرت کے حصول کے لیے ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، جس سے ان کی برسوں پر محیط محنت، عزت اور وقار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔راشد محمود نے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ “صرف ویوز کے لیے میری پوری زندگی کی کمائی ہوئی عزت پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ براہِ مہربانی کوئی مجھ سے رابطہ نہ کرے، میں صحت یاب ہو رہا ہوں۔”

    اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں سینئر اداکار نے واضح کیا کہ وہ گزشتہ 21 دن سے بستر پر ہیں اور اس دوران بعض یوٹیوبرز نے ان کی صحت سے متعلق معاملات کو سنسنی خیز سرخیوں کے ذریعے پیش کیا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی قسم کی مالی مدد کے محتاج ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔انہوں نے کہا کہ “میں نے نہ کسی سے ایک پیسہ مانگا ہے اور نہ ہی مجھے کسی قسم کی مالی مدد درکار ہے۔ میرے انٹرویوز سادہ اور عام نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر ان پر لگائی جانے والی سرخیاں حقیقت کے بالکل برعکس ہوتی ہیں۔”راشد محمود کے مطابق انہیں ایک بے بس اور لاچار شخص کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو ان کی عزتِ نفس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ان کی زندگی بھر کی محنت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

    سینئر اداکار نے تمام یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کری ایٹرز سے پرزور اپیل کی کہ کوئی بھی ان کے پاس نہ آئے اور نہ ہی ان کے نام پر سنسنی پھیلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “مجھے کسی کی ہمدردی یا شہرت کی بنیاد پر بنائے گئے مواد کی ضرورت نہیں، میں صرف سکون اور صحت چاہتا ہوں۔”

    ویڈیو پیغام کے اختتام پر راشد محمود نے کہا کہ وہ اب پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں اور جلد مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ سے صحت کی دعا کرتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ان کے نام پر گمراہ کن مواد کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات میں نامزد معروف ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے نام سفری پابندی کی فہرست (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے نام غیر قانونی طور پر سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث انہیں بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور کسی بھی تفتیش سے فرار کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

    رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور ایڈووکیٹ احد کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواستوں میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو صرف انتہائی نوعیت کے معاملات میں کیا جانا چاہیے، جبکہ موجودہ حالات میں اس کی کوئی معقول قانونی وجہ موجود نہیں۔

  • وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد،وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ 10کلومیٹرکاشہرہے ،اتنا بڑا آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹرکے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کرسکتا،حلقہ بندیاں تودوہفتوں میں ہوسکتی،جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ وفا نہیں کیا میں ہائیکورٹ سے سپریم کا جج بنااورپھرآئینی عدالت لیکن الیکشن نہ ہوئے،جسٹس روزی خان نے کہا کہ کیس کو 5 سال تک تو التوا میں نہیں رکھ سکتے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ابھی تو اسلام آباد اور پنجاب میں کام کر رہے ہیں،نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں،