Baaghi TV

Blog

  • بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    الحمدللہ اس ارض پاک پاکستان کے باشندوں کو میرے رب نے بہت کشادہ قلب عطاء کیا ہے جس میں امت کا درد موجود ہے،الحمدللہ اس ارض پاک نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امت کے مفلسوں،مظلوموں اور مصیبت زدگان کی مدد کی ہے جس کاماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی گواہ ہے،1990 کی دہائی انسانی تاریخ کے اُن المناک ادوار میں شمار ہوتی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، ظلم اور جبر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا،یورپ میں بوسنیا کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہوئے تو خطے میں پہلے سے جاری افغان جنگ نے بھی کروڑوں افراد کو دربدر کر رکھا تھا،دوسری سمت چیچنیا میں بھی جنگ نے لاکھوں چیچن لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا،ایسے حالات میں پاکستان وہ ملک بن کر سامنے آیا جس نے نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر مظلوم انسانوں کو گلے لگایا،1994 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ظالم درندہ صفت سرب افواج کے ہاتھوں قتلِ عام، اجتماعی قبروں کی دریافت اور جبری ہجرت نے عالمی ضمیر کو ہلا دیا

    6 اپریل 1992 کو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا تو سرب فورسز نے جنگ شروع کر دی جس سے بوسنیا کے مختلف شہروں پر حملے شروع ہوئے،1992 تا 1993 میں بوسنیا کے شہر سرایوو، موستار، برچکو میں شدید لڑائیاں جاری رہیں اور شہری علاقوں میں محاصرے اور تباہی جاری ہو گئی،1993 میں اقوام متحدہ نے بوسنیا میں امن زونز کا اعلان کیا لیکن بہت سے علاقے محصور اور غیر محفوظ ہو گئے تو 1994 میں بوسنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے،کچھ ممالک نے انہیں پناہ دی تھی جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے مہاجرین کو عارضی پناہ دی تھی،یہ مہاجرین اسلام آباد اور گردونواح میں مقیم رہے تھے

    11 سے 31 جولائی 1995 کو سربرینیتسا نسل کشی میں تقریباً 8,000 بوسنیائی مسلمان مرد اور جوان لڑکے شہید ہوئے تھے
    نومبر 1995 کو امریکی ثالثی کے تحت ڈیتون امن معاہدہ پر مذاکرات شروع ہوئے،دسمبر 1995 کو Dayton Peace Accords پر دستخط ہوئے اور جنگ رسمی طور پر ختم ہو گئی اور بوسنیا کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا جس کے بعد
    1996 تا 1997 تک مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ، اس نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف بوسنیا کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی بلکہ ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو پاکستان لا کر عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ دی جنہیں اسلام آباد اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں میں عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں،جواب میں بوسنیائی باشندے آج بھی پاکستان کو خاص عزت دیتے ہیں

    یہی وہ پاکستان ہے جو اس سے قبل اور اس کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان بھی بن چکا تھا
    سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان خاندان پاکستان آئے اور دہائیوں تک یہاں مقیم رہے،پاکستان کی عوام نے اپنی محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اپنے شہروں، دیہات، بازاروں اور گھروں میں جگہ دی، افغان پناہ گزینوں نے بھی پاکستان کی معیشت، مزدوری، تعمیرات، تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بن کر رہے،وقت گزرتا گیا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گی جسکی بڑی حد تک اسلامی نظام سے مماثلت تھی تاہم اس کے باوجود بھی افغان باشندے اپنے وطن جانے کو تیار نا ہوئے کیونکہ ان کو علم تھا یہ امن بھی عارضی ہو گا،وقت گزرتا گیا اور افغان پناہ گزین جعلی طریقے سے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ پاکستان کے شہری بننا شروع ہو گئے،نیز ان افغان لوگ نے مختلف قسم کے جرائم کیساتھ ساتھ جنگی جرائم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا جس سے پاکستان کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑانیز افغان گورنمنٹ نے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو کھلے عام پناہ دینا شروع کر دی جس کو پاکستان نے عالمی سطح پر درجنوں بار ثابت بھی کی مگر افعان اپنے میزبان پر بھاری ہوتا چلا گیا ہے مجبوراً پاکستان کو سختی سے ان کو نکالنا پڑا جو سلسلہ آج دن تک جاری ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افغان باشندے موجود ہیں جس میں سے محض 20 فیصد سے بھی کم واپس گئے ہیں

    چیچنیا میں 1994 تا 1996 اور 1999 تا 2009 تک جنگی حالات،خانہ جنگی کے باعث کئی ہزار چیچن شہری جنگ اور تباہی سے بچنے کے لئے پاکستان آئے،یہ تعداد افغان یا بوسنیائی مہاجرین کے مقابلے میں بہت محدود تھی، ان مہاجرین کو بھی زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقوں میں عارضی رہائش اور امداد دی گئی،پاکستانی اسلامی تنظیموں اور خیراتی گروہوں نے انہیں خوراک، رہائش اور تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور انہیں بلکل احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک غیر ملک میں ہیں بلکہ افغان و بوسنیائی پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی وہی ہسپتال ،سکول،کالجز و دیگر سہولیات مہیا کی گئیں جو ہر پاکستانی کے پاس تھیں مطلب ان کو ہر لحاظ سے ایک پاکستانی شہری کے برابر سہولیات حاصل تھیں، زیادہ تر چیچن مہاجرین نے جنگ کے بعد یا یورپ کے دیگر ممالک کی طرف واپس جانے یا منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا
    اور پاکستان کو بڑے باعزت طریقے سے خیر آباد کہا اور آج بھی وہ اس پاکستانی قربانی پر فطرت جذبات سے لبریز ہو کر پاکستان کو بڑی عزت و تکریم سے پکارتے ہیں

    ان تین ممالک کے مہاجرین کے علاوہ مملکت پاکستان نے پاک بھارت جنگ 1971 کے بعد بہت سے بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی جن میں سے بیشتر آج بھی پاکستان بھر خاص کر کراچی میں آباد ہیں،اسی طرح ایران میں 1979 کے رجیم چینج کے بعد سیاسی مخالفین اور اقلیتی شورش کے بعد بہت سے ایرانیوں نے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں پناہ لی ،عراق کی خلیجی جنگ 1991 کے بعد بیشتر عراقیوں نے پناہ کیلئے پاکستان کا رخ کیا جنہیں پاکستان نے خوش آمدید کہا ،ارض انبیاء مملکت شام میں 2011 کی خانہ جنگی میں بہت سے شامی مہاجر پاکستان میں پوری آزادی اور عزت سے رہے،قبلہ اول فلسطین کے باسی بھی مختلف ادوار میں خاص کر 1967 کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پہنچے جہاں ان کو شاندار پروٹوکول کیساتھ مرحبا کہا گیا،اسی بناء پر وہ آج بھی پاکستان کو خاص پیار اور محبت سے نوازتے ہیں

    تاجکستان میں 1992 تا 1997 کے دوران تاجک خانہ جنگی کے نتیجے میں،پاکستان نے مظلوموں کے لئے اپنی مملکت کے دروازے کھولے اور انہیں عارضی پناہ فراخ دلی سے دی گئی تھی،2012 میں برما میں خانہ جنگی اور مسلم کشی کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے باعث بہت سے افراد پاکستان آئے تو انہیں عارضی رہائش، خوراک اور ابتدائی تعلیم فراہم کی گئی تھی، زیادہ تر یہ مہاجرین بعد میں دیگر ممالک منتقل ہو گئے تھے،جو کہ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں پوری عزت کیساتھ قبول کیا گیا تھا،نیز آج بھی انڈین مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں مکمل آزادی اور پوری عزت کیساتھ سکونت پذیر ہیں

    دنیا بھر کے مہاجرین کو پناہ دینے کے یہ واقعات پاکستان کی انسانیت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جہاں محدود تعداد کے مہاجرین کو بھی محفوظ پناہ دی گئی اور افغانستان کے بے یارو مددگار اور بے سروساماں کی بہت بڑی تعداد کو بھی گلے سے لگائے رکھا،آج جب مہاجرین کے مسئلے کو محض بوجھ سمجھا جاتا ہے، تو بوسنیا،چیچنیا اور افغان و دنیا بھر کے مسلمان مہاجرین کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے دروازے کھولیں ہیں چاہے وہ یورپ کے مسلمان ہوں یا ہمسایہ افغان بھائی یاپھر روس کی ریاست چیچنیا کے مسلمان ،پاکستان ہمیشہ حاضر رہا ہے

  • پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو کموڈورز کو ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

    ریئر ایڈمرل جاوید ضیاء نے 1994 میں پاکستان نیوی کی ویپن انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹر آف سائنس کے اہل ہیں۔ اپنے شاندار نیول کیریئر کے دوران افسر نے مختلف اہم تقرریوں پر خدمات انجام دیں۔ اس وقت ایڈمرل نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (مٹیریل) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    ریئر ایڈمرل ارمغان احمد نے 1994 میں پاکستان نیوی کی میرین انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے NUST سے مینوفیکچرنگ سسٹم انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ میں ماسٹر آف سائنس کیا۔ ان کے پاس ایک شاندار سروس کیریئر ہے جس میں اہم تقرریوں پر خدمات انجام دینے کا وسیع تجربہ ہے۔ اس وقت وہ مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکیارڈ (کراچی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔فلیگ آفیسرز کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔

  • پاکستان میں چاندی کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ

    پاکستان میں چاندی کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ

    پاکستان میں چاندی کی قیمت عالمی مارکیٹ میں طلب و رسد، ڈالر کی قیمت، مہنگائی، عوامی طلب اور حکومتی پالیسیوں جیسے متعدد عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔
    ‎آج ملک کے مختلف شہروں میں 10 گرام چاندی کی قیمت تقریباً 9,713 روپے رہی، جبکہ ایک تولہ چاندی کی قیمت 11,317 روپے ریکارڈ کی گئی۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی یہی نرخ دیکھنے میں آئے۔
    ‎چاندی پاکستان میں نہ صرف زیورات کے لیے بلکہ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق:
    * مہنگائی کے خلاف ہیج: چاندی مہنگائی میں اضافے کے دوران قیمت بڑھنے کا امکان رکھتی ہے۔
    * طویل مدتی سرمایہ کاری: اگرچہ مختصر مدت میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے، لیکن طویل مدت میں چاندی اچھی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔
    * سونا کے مقابلے میں کم خطرناک: چاندی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سونے کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، اس لیے یہ نسبتاً کم خطرناک سرمایہ کاری مانی جاتی ہے۔
    ‎پاکستان میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو زیادہ تر زیورات کے معیار اور وزن کے لیے بطور حوالہ استعمال کیا جاتا ہے، اور مقامی کرنسی میں روزانہ نرخ اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔

  • سابق بیورو کریٹ محمد سعید  مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی تقریبِ رونمائی ہوئی، تقریب سے محمد سعید مہدی،ولید اقبال،پیپلز پارٹی کے رہنما ،سینئر سیاستدان،ممتاز وکیل اعتزاز احسن،سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی،سینئر صحافی سہیل وڑائچ ،اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب و دیگر نے خطاب کیا،

    محمد سعید مہدی کی کتاب دی آئی وٹنس کی تقریبِ رونمائی میں سیاست دانوں، بیورو کریٹس ، صحافیوں ، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی ،تقریب کے دوران لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے افتتاحی کلمات میں شرکاء کو خوش آمدید کہا، محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس کتاب میں میں نے اپنے الفاظ میں زندہ تاریخ ریکارڈ کی ہے، جو حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی دہائیوں کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔ میری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ بات جو ہر کوئی کہنے سے ڈرتا ہے آپ اسے لکھیں۔بحیثیت سول سرونٹ میں نے اکثر عظیم اور یہاں تک کہ خوفناک واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ،میں نے اپنی بساط کے مطابق حقائق کو ویسے ہی بیان کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے جیسا میں نے دیکھا ،یہ یادداشت تحقیقاتی کے بجائے بیانیہ ہے، جو ذاتی تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تشریح تاریخ دانوں پر چھوڑتی ہے۔ ان کے کیریئر نے انہیں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم لمحات میں جگہ دی۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے طور پرانہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے آخری مرحلے کا مشاہدہ کیا اور پھانسی سے قبل ان سے ملنے والے آخری اہلکار تھے۔ لاہور کے کمشنر کے طور پرانہوں نے 1986 میں جلاوطنی سے واپسی پر بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا، بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پرانہوں نے 1999 کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کے بعد دو سال قید میں گزارے۔

    محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں اپنی زندگی کے واقعات سنائے اور کہا کہ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اڈیالہ جیل کی تعمیر عمل میں آئی۔ اس وقت کمشنر راولپنڈی تھا ایک روز جنرل ضیاء الحق نے مجھے طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اس جیل میں کون کون سی کلاسز تعمیر کی گئی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ بی اور سی کلاس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے مزاق میں کہا کہ اس میں اے کلاس بھی بنا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی اس جیل میں جانا پڑ جائے۔ اڈیالہ جیل میں پندرہ کمروں پر مشتمل اے کلاس بھی تعمیر کر دی گئی۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ کئی برس بعد، جنرل پرویز مشرف کے دور میں مجھے گرفتار کیا گیا اور اسی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ اس موقع پر وہاں ان کے نام کی وہ تختی موجود تھی جو سنگِ بنیاد کے حوالے سے نصب کی گئی تھی۔ میں نے جیلر سے کہا کہ کم از کم اس تختی کی کچھ لاج رکھ لی جائے۔ دو دن بعد جب عدالت پیش کرنے کے لئے جیل سے باہر لایا گیا تو تختی سے میرا نام غائب تھا،

    اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے سعید مہدی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کے دور میں لکھنا مشکل ہو چکا ہے، سعید مہدی کی کتاب ایک تاریخ ہے، اگر ہم کچھ لکھیں تو کئی بار سوچنا پڑتا ہے کبھی توہین عدالت، کبھی توہین مذہب کے الزام، کچھ بھی ہو سکتا ہے،اب تو عمران خان کا نام نہیں لکھا جاتا بلکہ بانی پی ٹی آئی کہا اور لکھا جاتا ہے،یہ کیا ہے، میں تو عمران خان ہی کہتا ہوں کیونکہ وہ میرا دوست ہے،

    ولید اقبال نے بھی مصنف محمد سعید مہدی کو خراج تحسین پیش کیا اور کتاب میں بعض غلطیوں کی بھی نشاندہی کی،جن کو انتظامیہ کی جانب سے اگلے ایڈیشن میں درست کرنے کی نشاندہی کی گئی.

    سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید مہدی سلطانی گواہ نہیں بنے عوامی گواہ بنے اور سرخرو ہوئے ۔ اہل صحافت کو بھی انکی کتاب پڑھنی چاہئے لکھنے والے نے کہیں بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ انکے جذبات احساسات ہیں۔ بھٹو کی محبت انکے دل میں ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے جو انکی زبانی ہم تک پہنچا۔ دائرے کا سفر پاکستان میں کب تک جاری رہے گا اس کا جواب سب کو تلاش کرنا ہے ماضی کو دوہرانے کا وقت نہیں۔ کاش نئے سرے سے آغاز سفر اور ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں تا کہ پاکستان آگے بڑھے

    سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کو ہوتے دیکھا لیکن کچھ بدلتے بھی نہیں دیکھا، وہی کھیل تماشا اب بھی جاری ہے ۔ اب تو شاید سعید مہدی جیسا گواہ بھی نہ یو۔ ایک دھاندلی ہوئی تو اگلی نہ ہو ۔ کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان کے آئین پر تو ساری قوم متفق ہو اور جو اس سے پھرے تو اسکو سمجھایا جائے خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔ سعید مہدی کی گواہی معتبر ہے ، ہم واقعات سنتے تھے آج وہی کتاب میں تاریخ کا حصہ بن گئے ۔سعید مہدی خوش قسمت ہیں انکو تھانیداری چھوڑے 20 برس ہو گئے لیکن آج لوگ ان کے لیے گواہ بن کر آئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ عینی گواہ بننے کے لیے آنکھ کافی نہیں۔ ضمیر بھی درکار ہوتا ہے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین نیب کا سرکاری زمین کی واپسی کے لیے مشترکہ کارروائی پر اتفاق

    وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین نیب کا سرکاری زمین کی واپسی کے لیے مشترکہ کارروائی پر اتفاق

    ‎کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں سندھ میں سرکاری زمین کی بازیابی اور لینڈ فراڈ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
    ‎ملاقات میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ایڈووکیٹ جنرل، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر، چیئرمین سی ایم انسپکشن ٹیم بلال میمن اور چیئرمین اینٹی کرپشن ذوالفقار شاہ شریک تھے۔ نیب کی جانب سے ڈی جی آپریشنز نیب ہیڈکوارٹرز امجد مجید، ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی، ڈائریکٹر لینڈ نیب کراچی محمد آفاق اور لیفٹیننٹ کرنل (ر) حمزہ ممتاز نے شرکت کی۔
    ‎چیئرمین نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری زمین سے متعلق 188 مقدمات کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 61 ہزار ایکڑ سے زائد زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی گئی۔
    ‎بریفنگ کے مطابق کراچی میں 635 ایکڑ ایویکیو لینڈ، کلفٹن بلاک I اور II میں 350 ایکڑ سمندری زمین، سجاول اور ٹھٹھہ میں 4 لاکھ ایکڑ جنگلاتی زمین جبکہ جامشورو میں 83 جعلی ریونیو اندراجات منسوخ کر کے 1,040 ایکڑ زمین بازیاب کرائی گئی۔
    ‎چیئرمین نیب نے سرکاری زمین کی واپسی میں سندھ حکومت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابیاں نیب اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان مؤثر تعاون کا واضح ثبوت ہیں۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عوامی اثاثوں کی واپسی پر نیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بازیاب شدہ زمین عوامی فلاحی منصوبوں، پارکس اور تفریحی مراکز کے قیام کے لیے استعمال کی جائے گی۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری زمین کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس کے قیام کا بھی فیصلہ کیا، جس میں بورڈ آف ریونیو، نیب اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے افسران شامل ہوں گے۔ ٹاسک فورس ہر پندرہ دن بعد اجلاس کرے گی۔
    ‎انہوں نے جنگلات اور مینگرووز کی زمین سے متعلق سمریوں کی فوری منظوری اور مستقبل میں تجاوزات روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی بھی ہدایت کی۔

  • ایران کی امریکی حملے کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کی دھمکی

    ایران کی امریکی حملے کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کی دھمکی

    ‎اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو تہران ایسا جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔
    ‎نیویارک میں بدھ کو جاری بیان میں ایرانی مشن نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر تیار ہے، لیکن اگر دباؤ ڈالا گیا تو ملک اپنا دفاع کرے گا۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ جب امریکا نے پہلے عراق اور افغانستان میں جنگ کی، تو اسے سات کھرب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور سات ہزار سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔
    ‎ایرانی مشن نے یہ پیغام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا، جس کے ساتھ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شامل تھا۔

  • لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے مین گیٹ کے سامنے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق انہیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اس کی بیٹی گٹر میں گر گئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گٹر گہرا ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ماں اور بیٹی کی تلاش کے لیے خصوصی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں،عینی شاہدین کے مطابق مین ہول کا ڈھکن موجود نہیں تھا اور اندھیرے یا رش کے باعث خاتون اور بچی کو گٹر کا اندازہ نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ شہریوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی غفلت کو ذمہ دار قرار دیا۔

  • برٹش ایئرویز کی پرواز کا پہیہ ٹیک آف کے دوران گر گیا

    برٹش ایئرویز کی پرواز کا پہیہ ٹیک آف کے دوران گر گیا

    برٹش ایئرویز کے ایک مسافر بردار طیارے کو پیر کے روز اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ٹیک آف کے دوران اس کا ایک پہیہ نیچے جا گرا۔ واقعے کے باوجود طیارے نے پرواز جاری رکھی اور بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد بحفاظت لندن پہنچ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق برٹش ایئرویز کی پرواز، جو جدید ایئر بس A350-1000 طیارے کے ذریعے آپریٹ کی جا رہی تھی، پیر کی شب امریکی ریاست نیوایڈا کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی۔ طیارے نے رات 9 بجکر 10 منٹ پر اڑان بھری، تاہم ٹیک آف کے فوری بعد طیارے کا پچھلا پہیہ نیچے جا گرا۔ذرائع کے مطابق پہیہ گرنے کے واقعے کے باوجود طیارے کے عملے نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا اور تمام حفاظتی پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے پرواز کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ طیارہ بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا مقررہ وقت سے 27 منٹ قبل لندن کے ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا، جہاں ایوی ایشن حکام اور انجینئرنگ ٹیمیں پہلے سے موجود تھیں۔

    ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ لینڈنگ کے بعد طیارے کا تکنیکی معائنہ کیا گیا جبکہ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اور ایمرجنسی سروسز بھی الرٹ رہیں۔برٹش ایئرویز کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور سلامتی ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق طیارے کا پہیہ گرنے کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • مریم نواز کا پرواز کارڈ پروگرام، ہنرمند نوجوانوں کیلئے بڑی خوشخبری

    مریم نواز کا پرواز کارڈ پروگرام، ہنرمند نوجوانوں کیلئے بڑی خوشخبری

    ‎وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ پرواز کارڈ کے ذریعے صوبے کے ہنرمند نوجوانوں کو تین لاکھ روپے بلا سود فراہم کیے جائیں گے۔
    ‎پرواز کارڈ، راہ روزگار اور اسکل ڈیولپمنٹ پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کو ریلیف اور سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام میں رقوم کی فراہمی میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور 50 ہزار ہنرمند نوجوان اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔
    ‎مریم نواز نے بتایا کہ صوبے کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 2 لاکھ بچوں کو تربیت دی گئی، جبکہ ایک ہزار بچوں کو گارمنٹس کے شعبے میں روزگار فراہم کیا گیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو نہ صرف ہنر سکھایا جا رہا ہے بلکہ باعزت روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے، اور ای کامرس کے ذریعے بھی نوجوان اپنی صلاحیتوں سے کما رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام وسائل عوام کی خدمت کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں، اور موبائل پولیس اسٹیشن گھروں کی دہلیز پر عوام کے مسائل حل کر رہے ہیں۔
    ‎مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ ہنر مند افرادی قوت کی دنیا بھر میں طلب ہے، اور پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

  • یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن، 4924 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن، 4924 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

    درینالہ خورد (نامہ نگار) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام تیسرے سالانہ کانووکیشن کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مجموعی طور پر 4 ہزار 924 فارغ التحصیل طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رانا سکندر حیات نے کی، جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد واجد، رجسٹرار جمیل عاصم اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ کانووکیشن کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 72 پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران اپنی تحقیق مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی متحرک قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ نے تعلیمی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ جلد ہی ملک کی صفِ اول کی جامعات میں شامل ہو جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان محنت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ صوبائی وزیر نے یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مرکزِ امتیاز (Center of Excellence) کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے تقریب میں شرکت پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو نصیحت کی کہ عملی زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اعتمادی اور جدت پسندی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ دیانت داری سے محنت کریں اور بڑے خواب دیکھیں تاکہ وہ معاشرے کے لیے ایک کارآمد شہری ثابت ہو سکیں۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے کامیاب طلبہ میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں، جبکہ اساتذہ اور والدین نے طلبہ کی اس اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔