Baaghi TV

Blog

  • سوئی ناردرن کے ملازمین 41 کروڑ روپے کے گیس پائپ کی چوری میں ملوث، 18 ملزمان گرفتار

    سوئی ناردرن کے ملازمین 41 کروڑ روپے کے گیس پائپ کی چوری میں ملوث، 18 ملزمان گرفتار

    ‎سوئی ناردرن گیس لمیٹڈ (SNGPL) کے اپنے ہی ملازمین پر 41 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
    ‎پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ مانگا منڈی میں گیس پائپ کی چوری سے 41 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق اسٹور سے یہ پائپ چوری کیے گئے اور ایف آئی اے نے اس معاملے پر مجموعی طور پر 41 انکوائریاں کی ہیں۔
    ‎ایس این جی پی ایل حکام کے مطابق ٹرکوں کے ذریعے اسٹور سے مال نکالا گیا، اور سکیورٹی کیمرے براہ راست ہیڈ آفس کو رپورٹ کرتے ہیں۔ چوری میں 41 افراد کو ملوث پایا گیا، جن میں سے 18 کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا، لیکن سب کی ضمانت ہو گئی۔
    ‎ممبر کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ یہ ادارے کی اپنی چوری ہے اور پہلے الزام عوام پر ڈالا جاتا تھا، اب ملازمین ہی چوری کر رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے اب تک 4 کروڑ 40 لاکھ روپے کی ریکوری کر لی ہے جبکہ سوئی ناردرن نے 16 ملین روپے کی ریکوری کی تصدیق کی ہے۔ بورڈ نے اس کیس کے لیے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے اور فارنزک آڈٹ کی درخواست کر دی گئی ہے۔

  • ‎محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کرینگےکس کے ساتھ اورکب مذاکرات کرنا ہیں: بیرسٹرگوہر

    ‎محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کرینگےکس کے ساتھ اورکب مذاکرات کرنا ہیں: بیرسٹرگوہر

    چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر طے کریں گے کہ کس کے ساتھ اور کب مذاکرات کرنا ہیں۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں انفیکشن کی خبر میڈیا سے ملی ہے، اگر ایسا معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی کی ملاقات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور پچھلی بار بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ اکیلے ملاقات نہیں کریں گے۔

    بیرسٹر گوہر نے دہشت گردی کے مسئلے پر کسی قسم کی سیاست یا نرم رویے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ داخلی جھگڑوں میں دہشت گرد کامیاب ہوں گے اور جن سے ہمیں خطرہ ہے، ان سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو ایک بیانیہ پر لایا جائے اور انخلا کے معاملے پر پریس ریلیز کی ضرورت نہیں تھی، فون پر بات ہو سکتی تھی۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے احکامات کے پابند ہیں اور بانی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے۔ اب دونوں فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کب اور کس کے ساتھ ہوں گے۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں کیونکہ ہر لفظ کے اثرات ہوتے ہیں۔

    انہوں نے خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ خواتین کے حقوق اور ان کا تحفظ ضروری ہے جبکہ بچیوں کی شادی کی عمر میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔

  • گل پلازہ سانحہ، کراچی والوں اور لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں، مریم نواز

    گل پلازہ سانحہ، کراچی والوں اور لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں، مریم نواز

    ‎وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں گل پلازہ میں آگ ایک بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ لواحقین کو صبر عطا فرمائے اور ان کے لیے یہ بڑا دکھ ہے۔
    مریم نواز نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ کراچی کے عوام، سندھ حکومت اور متاثرین کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ اگر کسی قسم کی سہولت یا مدد کی ضرورت ہو تو وہ ہر ممکن تعاون کے لیےتیار ہیں۔

  • محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی

    محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی

    محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی کا انعقاد کیا۔
    ‎نیلامی کے دوران سب سے زیادہ بولی وزیر 1 نمبر پلیٹ پر لگی، جو 1 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔ دوسری سب سے زیادہ بولی آفریدی 1 نمبر پلیٹ پر لگی، جو 1 کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار روپے میں فروخت ہوئی اور یہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے حاصل کی۔
    ‎تیسری نمایاں بولی خان 1 نمبر پلیٹ پر رہی، جو 1 کروڑ 11 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی اور یہ نمبر پلیٹ ایم پی اے نیک محمد خان کے حصے میں آئی۔

  • اسپین : 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    اسپین : 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    ‎اسپین نے تقریباً 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن ایلماسیز نے کہا کہ حکومت ایک حکومتی فرمان کی منظوری دے رہی ہے جس کے تحت یہ اقدام نافذ ہوگا۔ قانونی حیثیت حاصل کرنے والے افراد ملک کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے۔
    ‎ایلماسیز نے کہا کہ حکومت امیگریشن کا نظام انسانی حقوق، معاشرتی شمولیت، باہمی ہم آہنگی، اقتصادی ترقی اور سماجی اتحاد کے اصولوں کے مطابق بنانا چاہتی ہے۔ یہ فیصلہ یورپ میں سخت پالیسیوں کے برعکس اسپین کی نرمی کا مظہر ہے۔
    ‎فیصلے سے فائدہ اٹھانے والے افراد وہ ہوں گے جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہوں اور جن کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہو۔ یہ قانون ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں۔
    ‎درخواستیں اپریل میں جمع کرائی جا سکیں گی اور جون کے آخر تک اس عمل کا سلسلہ جاری رہے گا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کو سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوگی کیونکہ سوشلسٹ قیادت والی اتحادی حکومت کے پاس وہاں اکثریت نہیں ہے۔

  • وزیراعلیٰ کی عزت بھی وزیراعظم جتنی ضروری, شاہد خاقان عباسی

    ‎سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی وزیراعظم کی۔
    ‎میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور وزیراعلیٰ کو اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھانی چاہئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومتوں کے باہمی محاذ آرائی سے عوام کو نقصان پہنچتا ہے اور اگر یکجہتی نہ ہوئی تو دشمن فائدہ اٹھائیں گے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ اکیلا نہیں چل سکتا، وفاق اور صوبہ لازم و ملزوم ہیں اور قانون کی بالادستی کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کو منتخب کرتے ہیں۔
    ‎سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی گالم گلوچ یا ذاتی حملوں کی سیاست نہیں کی، اور سیکیورٹی کے مسائل پر وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ حالات اس لیے خراب ہیں کہ فریقین آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔

  • ایک درجن سے زائد ارکان پارلیمان آن لائن فراڈ کا شکار

    ایک درجن سے زائد ارکان پارلیمان آن لائن فراڈ کا شکار

    سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ 9 سینیٹرز اور 3 اراکین قومی اسمبلی آن لائن فراڈ کا شکار ہوئے ہیں۔
    * صاحبزادہ حامد رضا سے 4 لاکھ 90 ہزار روپے دھوکے سے ہتھیا لیے گئے۔
    * سینیٹر فلک ناز سے شوکت خانم ہسپتال کے نام پر 4 لاکھ 85 ہزار روپے چھین لیے گئے۔
    * سینیٹر کال مندوخیل سے ایک گورنر کے نام پر رقم ہتھیا گئی۔
    * ناز بلوچ کو آن لائن ہراسانی اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔
    * ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی جعلی فائل بنا دی گئی۔
    * سینیٹر پلوشہ سے آن لائن سرمایہ کاری کے بہانے دھوکہ ہوا۔
    ‎این سی سی آئی اے نے دو ملزمان گرفتار کر لیے ہیں جبکہ دیگر کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • غصے میں آئین توڑنا پڑا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کر لوں گا, حافظ حمداللہ

    غصے میں آئین توڑنا پڑا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کر لوں گا, حافظ حمداللہ

    ‎جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا فی الحال دوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم اگر غصہ آئے اور قانون توڑنا پڑا تو وہ 16 سالہ لڑکی سے شادی کرنے پر آمادہ ہیں۔
    ‎اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مشورہ دیا کہ بیرون ملک کے دورے سے واپسی پر چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جائے۔
    ‎حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وہ ایسے قوانین کو تسلیم نہیں کریں گے جو قرآن و سنت کے منافی ہوں اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی کی ہے ان پر آرٹیکل 6 لاگو ہونا چاہیے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ فی الحال دوسری شادی کے موڈ میں نہیں ہیں، لیکن غصے کی صورت میں وہ 16 سالہ لڑکی سے نکاح کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

  • مشہور برانڈ کے آن لائن آرڈر میں  کپڑوں کی جگہ آٹے کی بوری موصول

    مشہور برانڈ کے آن لائن آرڈر میں کپڑوں کی جگہ آٹے کی بوری موصول

    ‎حیران کن آن لائن خریداری کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شہری کو معروف برانڈ "ماریا بی” سے آن لائن کپڑے خریدنے کے بعد آٹے کی بوری موصول ہوئی۔
    ‎درخواست گزار نے کنزیومر کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ یکم دسمبر کو اس نے "ماریا بی” سے 55 ہزار روپے سے زائد کے کپڑے آرڈر کیے، جو 4 دسمبر کو نجی کورئیر کمپنی کے ذریعے ڈیلیور کیے گئے۔ لیکن کپڑوں کی بجائے اسے گھر پر آٹے کی بوری ملی، جس پر شہری نے برانڈ سے ای میل اور کسٹمر سپورٹ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب نہ ملا۔
    ‎عدالتی درخواست میں کہا گیا کہ لیگل نوٹس بھیجنے کے بعد برانڈ نے رابطہ کر کے رقم ریفنڈ کرنے کی یقین دہانی کروائی، لیکن بعد میں رقم کی بجائے واؤچر دینے کی پیشکش کی، جو شہری کے مطابق فراڈ کے زمرے میں آتی ہے۔
    ‎شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ پچیس فیصد سود کے ساتھ رقم واپس دلائی جائے اور اذیت پہنچانے کے عوض دو لاکھ روپے ہرجانہ بھی دیا جائے۔ عدالت نے دونوں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جنوری تک جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

  • رینالہ خورد: مہنگائی اور موبائل فونز نے کھیلوں کے گراؤنڈز ویران کر دیے، سابق قومی کھلاڑی علیم اللہ چودھری کا اظہار تشویش

    رینالہ خورد: مہنگائی اور موبائل فونز نے کھیلوں کے گراؤنڈز ویران کر دیے، سابق قومی کھلاڑی علیم اللہ چودھری کا اظہار تشویش

    رینالہ خورد (سٹی رپورٹر) ہاکی کے سابق قومی کھلاڑی اور اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے گولڈ میڈلسٹ علیم اللہ چودھری نے کہا ہے کہ مہنگائی اور موبائل فونز نے پاکستان کے کھیلوں کے گراؤنڈز کو ویران کر دیا ہے اور نوجوان نسل کھیلوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو برائیوں اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے کھیلوں کی طرف راغب کریں۔

    تفصیلات کے مطابق علیم اللہ چودھری نے ایک خصوصی ملاقات میں کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان ہاکی، کرکٹ، سکوائش سمیت کئی کھیلوں میں ورلڈ چیمپین تھا اور دنیا کے افق پر چمکتے ستارے کی مانند تھا، لیکن آہستہ آہستہ کھیلوں کی سرگرمیاں گراؤنڈز میں ماند پڑنے لگیں اور وہ ویران ہو گئے۔

    علیم اللہ چودھری نے واضح کیا کہ کھیلوں کے خاتمے اور گراؤنڈز کے ویران ہونے میں سب سے بڑا کردار مہنگائی کا ہے، جس کے باعث نوجوان کھلاڑی ہاکی، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کا سامان خریدنے سے محروم رہے۔ مزید برآں، موبائل فونز نے نوجوانوں کی توجہ کھیلوں سے ہٹا دی، کیونکہ نوجوان اب اپنے ہاتھوں میں موبائل فونز لیے گراؤنڈز کا رخ کرنا چھوڑ چکے ہیں۔

    سابق قومی کھلاڑی نے کہا کہ ایک بار پھر کھیلوں کے گراؤنڈز کو آباد کرنے کے لیے حکومت کو ہاکی، کرکٹ، فٹبال، سکوائش سمیت دیگر کھیلوں کا سامان سستا کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کو موبائل فونز سے دور رکھ کر کھیلوں کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ نوجوان صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور پاکستان کے کھیلوں کا پرانا جلال دوبارہ بحال ہو۔