سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی وزیراعظم کی۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور وزیراعلیٰ کو اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھانی چاہئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومتوں کے باہمی محاذ آرائی سے عوام کو نقصان پہنچتا ہے اور اگر یکجہتی نہ ہوئی تو دشمن فائدہ اٹھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ اکیلا نہیں چل سکتا، وفاق اور صوبہ لازم و ملزوم ہیں اور قانون کی بالادستی کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کو منتخب کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی گالم گلوچ یا ذاتی حملوں کی سیاست نہیں کی، اور سیکیورٹی کے مسائل پر وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ حالات اس لیے خراب ہیں کہ فریقین آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔
Blog
-
وزیراعلیٰ کی عزت بھی وزیراعظم جتنی ضروری, شاہد خاقان عباسی
-

ایک درجن سے زائد ارکان پارلیمان آن لائن فراڈ کا شکار
سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ 9 سینیٹرز اور 3 اراکین قومی اسمبلی آن لائن فراڈ کا شکار ہوئے ہیں۔
* صاحبزادہ حامد رضا سے 4 لاکھ 90 ہزار روپے دھوکے سے ہتھیا لیے گئے۔
* سینیٹر فلک ناز سے شوکت خانم ہسپتال کے نام پر 4 لاکھ 85 ہزار روپے چھین لیے گئے۔
* سینیٹر کال مندوخیل سے ایک گورنر کے نام پر رقم ہتھیا گئی۔
* ناز بلوچ کو آن لائن ہراسانی اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔
* ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی جعلی فائل بنا دی گئی۔
* سینیٹر پلوشہ سے آن لائن سرمایہ کاری کے بہانے دھوکہ ہوا۔
این سی سی آئی اے نے دو ملزمان گرفتار کر لیے ہیں جبکہ دیگر کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ -

غصے میں آئین توڑنا پڑا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کر لوں گا, حافظ حمداللہ
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا فی الحال دوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم اگر غصہ آئے اور قانون توڑنا پڑا تو وہ 16 سالہ لڑکی سے شادی کرنے پر آمادہ ہیں۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مشورہ دیا کہ بیرون ملک کے دورے سے واپسی پر چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جائے۔
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وہ ایسے قوانین کو تسلیم نہیں کریں گے جو قرآن و سنت کے منافی ہوں اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی کی ہے ان پر آرٹیکل 6 لاگو ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ فی الحال دوسری شادی کے موڈ میں نہیں ہیں، لیکن غصے کی صورت میں وہ 16 سالہ لڑکی سے نکاح کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ -

مشہور برانڈ کے آن لائن آرڈر میں کپڑوں کی جگہ آٹے کی بوری موصول
حیران کن آن لائن خریداری کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شہری کو معروف برانڈ "ماریا بی” سے آن لائن کپڑے خریدنے کے بعد آٹے کی بوری موصول ہوئی۔
درخواست گزار نے کنزیومر کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ یکم دسمبر کو اس نے "ماریا بی” سے 55 ہزار روپے سے زائد کے کپڑے آرڈر کیے، جو 4 دسمبر کو نجی کورئیر کمپنی کے ذریعے ڈیلیور کیے گئے۔ لیکن کپڑوں کی بجائے اسے گھر پر آٹے کی بوری ملی، جس پر شہری نے برانڈ سے ای میل اور کسٹمر سپورٹ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب نہ ملا۔
عدالتی درخواست میں کہا گیا کہ لیگل نوٹس بھیجنے کے بعد برانڈ نے رابطہ کر کے رقم ریفنڈ کرنے کی یقین دہانی کروائی، لیکن بعد میں رقم کی بجائے واؤچر دینے کی پیشکش کی، جو شہری کے مطابق فراڈ کے زمرے میں آتی ہے۔
شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ پچیس فیصد سود کے ساتھ رقم واپس دلائی جائے اور اذیت پہنچانے کے عوض دو لاکھ روپے ہرجانہ بھی دیا جائے۔ عدالت نے دونوں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جنوری تک جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔ -

رینالہ خورد: مہنگائی اور موبائل فونز نے کھیلوں کے گراؤنڈز ویران کر دیے، سابق قومی کھلاڑی علیم اللہ چودھری کا اظہار تشویش
رینالہ خورد (سٹی رپورٹر) ہاکی کے سابق قومی کھلاڑی اور اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے گولڈ میڈلسٹ علیم اللہ چودھری نے کہا ہے کہ مہنگائی اور موبائل فونز نے پاکستان کے کھیلوں کے گراؤنڈز کو ویران کر دیا ہے اور نوجوان نسل کھیلوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو برائیوں اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے کھیلوں کی طرف راغب کریں۔
تفصیلات کے مطابق علیم اللہ چودھری نے ایک خصوصی ملاقات میں کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان ہاکی، کرکٹ، سکوائش سمیت کئی کھیلوں میں ورلڈ چیمپین تھا اور دنیا کے افق پر چمکتے ستارے کی مانند تھا، لیکن آہستہ آہستہ کھیلوں کی سرگرمیاں گراؤنڈز میں ماند پڑنے لگیں اور وہ ویران ہو گئے۔
علیم اللہ چودھری نے واضح کیا کہ کھیلوں کے خاتمے اور گراؤنڈز کے ویران ہونے میں سب سے بڑا کردار مہنگائی کا ہے، جس کے باعث نوجوان کھلاڑی ہاکی، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کا سامان خریدنے سے محروم رہے۔ مزید برآں، موبائل فونز نے نوجوانوں کی توجہ کھیلوں سے ہٹا دی، کیونکہ نوجوان اب اپنے ہاتھوں میں موبائل فونز لیے گراؤنڈز کا رخ کرنا چھوڑ چکے ہیں۔
سابق قومی کھلاڑی نے کہا کہ ایک بار پھر کھیلوں کے گراؤنڈز کو آباد کرنے کے لیے حکومت کو ہاکی، کرکٹ، فٹبال، سکوائش سمیت دیگر کھیلوں کا سامان سستا کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کو موبائل فونز سے دور رکھ کر کھیلوں کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ نوجوان صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور پاکستان کے کھیلوں کا پرانا جلال دوبارہ بحال ہو۔
-

اوچ شریف:سیلاب متاثرین کے چھوٹے کاروباری افراد کو نقد مالی امداد فراہم
اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان)ایل پی پی (لودھراں پائلٹ پروجیکٹ) نے کونسرن ورلڈ وائیڈ کے اشتراک اور FCDO (برطانیہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے) کی مالی معاونت سے ضلع بہاول پور کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں معاشی بحالی کا ایک مؤثر پروگرام شروع کر دیا۔
اس پروگرام کے تحت سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے والے 30 مستحق چھوٹے کاروباری افراد میں نقد مالی امداد تقسیم کی گئی تاکہ وہ اپنے روزگار کے ذرائع کو دوبارہ فعال بنا سکیں اور معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔
تقریب کے موقع پر ایل پی پی کے نمائندگان نے بتایا کہ حالیہ سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بدحالی سے دوچار کر دیا تھا، جس میں چھوٹے تاجر اور خود روزگار افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ نقد امداد کا یہ اقدام متاثرین کو فوری سہارا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنے کی عملی کوشش ہے۔
امداد حاصل کرنے والے افراد نے ایل پی پی، کونسرن ورلڈ وائیڈ اور FCDO کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مالی معاونت سے نہ صرف ان کے کاروبار دوبارہ شروع ہوں گے بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے معاشی استحکام اور نئی امید بھی پیدا ہوگی۔
اداروں کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی اور پائیدار ترقی کے منصوبے آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ متاثرہ آبادی کو باعزت روزگار، بہتر مستقبل اور خود انحصاری کی جانب لے جایا جا سکے۔
-

بحیرہ روم میں طوفان: سینکڑوں افراد لاپتہ یا ہلاک ہونے کا خدشہ
اقوام متحدہ کے نقل مکانی سے متعلق ادارے، انٹرنیشنل مائگریشن ایجنسی (IOM) نے پیر کو کہا ہے کہ بحیرہ روم میں گذشتہ 10 دنوں کے دوران شدید خراب موسم کے باعث متعدد کشتیوں کے ڈوبنے اور لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس سمندر کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں افراد کے جان سے جانے یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔
آئی او ایم کے مطابق طوفان، جو سائکلون ہیری کی وجہ سے پیدا ہوا، کئی کشتیوں کو نشانہ بنایا اور تلاش و بچاؤ کی کوششیں خراب موسم کی وجہ سے محدود ہیں۔ اٹلی کے لیمپیڈوسا میں ایک کشتی کے بچاؤ کے دوران تین افراد، جن میں تقریباً ایک سال کی جڑواں بچیاں شامل تھیں، ہلاک پائے گئے۔ بچیوں کی ماں کے مطابق ان کی ہلاکت ہائپوتھرمیا کی وجہ سے ہوئی۔
ادارے نے خبردار کیا کہ یہ سمندری راستہ تارکین وطن کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک راستہ ہے اور لاپتہ کشتیوں کی حتمی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتی ہے۔ -

احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی
اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے مبارک پور کے قریب گرڈ اسٹیشن کے پاس باراتیوں کی بس حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں تین خواتین زخمی ہو گئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بارات والی بس چوک بھٹہ احمد پور شرقیہ سے مبارک پور کی جانب جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور کے مطابق اسٹیئرنگ لاک ہو گیا، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گئی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والی خواتین میں زرینہ بی بی زوجہ محمد صادق، عمر 38 سال، شامل ہیں، جنہیں دائیں ٹانگ میں فریکچر کا شبہ ہے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔
دیگر زخمیوں میں نسیم بی بی زوجہ عبدالرحمن، عمر 50 سال، اور رضیہ بی بی زوجہ محمد یعقوب، عمر 35 سال شامل ہیں، جنہیں معمولی خراشیں اور پٹھوں میں درد کی شکایت تھی۔ دونوں خواتین کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو عملہ حادثے کے بعد طویل وقت تک جائے وقوعہ پر موجود رہا اور بس کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کروائی۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے نے باراتیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔
-

اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی
اوکاڑہ،رینالہ خورد (نامہ نگار+سٹی رپورٹر) اوکاڑہ کے علاقے شیر گڑھ روڈ پر واقع ایک پولٹری فارم کی عمارت مرمتی کام کے دوران اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق جبکہ 5 مزدور شدید زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق پولٹری فارم کی عمارت پر مرمت کا کام جاری تھا کہ اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے 6 مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال 22 ریسکیو اہلکاروں اور جدید مشینری کے ہمراہ فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد اور پولیس کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کی نگرانی میں ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ملبے تلے دبے تمام مزدوروں کو باہر نکالا گیا۔ حادثے میں 35 سالہ مزدور شاہد موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ زخمی ہونے والوں میں 28 سالہ شعیب، 42 سالہ عباس، 32 سالہ عرفان، 55 سالہ اکرم اور 30 سالہ رمضان شامل ہیں۔
ریسکیو ٹیم نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرتے ہوئے جاں بحق مزدور کی لاش اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ریسکیو ٹیم بروقت موقع پر نہ پہنچتی تو جانی نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔ شہریوں نے ریسکیو اہلکاروں کی فوری کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
-

بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد آئندہ ماہ پہلے قومی انتخابات
آئندہ ماہ بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک میں پہلے قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ حسینہ ایک ملک گیر عوامی تحریک کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں، جس میں عوام نے سیاسی اصلاحات، احتساب، حقیقی جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔
2024 کی اس تحریک نے ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط آمرانہ دور کا خاتمہ کیا، جس میں شہری آزادیوں کی پامالی اور ریاستی عناصر کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں شامل تھیں، جن میں اجتماعی ظلم و ستم کے سنگین جرائم بھی شامل تھے۔ سکیورٹی فورسز اور عوامی لیگ کے ارکان نے ملک گیر مظاہروں کے دوران سینکڑوں مظاہرین کو ہلاک کیا، جس کے نتیجے میں حسینہ کا زوال ممکن ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جو بھی جماعت کامیاب ہوگی، اسے ایک ایسا ملک ورثے میں ملے گا جو جبر سے نڈھال ہے مگر جمہوری تجدید کی امید رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کو سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں نہ رکھنے کی صورت میں یہ موقع ضائع ہو سکتا ہے۔
انتخابات میں ممکنہ طور پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) سب سے آگے نظر آ رہی ہے، جو طویل عرصے سے عوامی لیگ کی مرکزی اپوزیشن رہی ہے۔ حسینہ کے دورِ حکومت میں بی این پی کے ارکان اور حامی صوابدیدی گرفتاریوں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنتے رہے، جن میں سے کئی افراد پھر کبھی نہیں ملے۔ ان مظالم کو قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دستاویزی شکل دی، مگر حقیقی احتساب نہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جبر اتفاقی نہیں تھا بلکہ منظم اور ڈھانچہ جاتی تھا تاکہ اپوزیشن کو غیر موثر بنایا جا سکے، اور یہ روایت ماضی کی حکومتوں سے بھی چلی آ رہی تھی، جو اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہیں۔