Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد:پاکستان اور میانمار کے وزرائے خارجہ  کے درمیان ملاقات

    اسلام آباد:پاکستان اور میانمار کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات

    جمہوریہ یونین آف میانمار کے وزیرِ خارجہ یو تھان سوے نے پیر کو وزارت خارجہ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات و سیاسی مشاورت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پردستخط کیے گئےجس کا مقصد دو طرفہ روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے،پاکستان اور میانمار کے مابین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا گیا فریقین نے دو طرفہ روابط کی موجودہ صورتحال، علاقائی امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    مذاکرات میں تجارت اور اقتصادی تعاون، استعداد کار میں اضافہ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون اور قونصلر امور کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا، اس موقع پر بیرونِ ملک اسکیمنگ آپریشنز سے متاثرہ افراد سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور میانمار کے عوام کے درمیان دیرینہ دوستی اور تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے ثقافتی تعاون کے فروغ اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا اس ضمن میں تعلیمی روابط، نوجوانوں کے تبادلے اور ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    میانمار کے وزیرِ خارجہ نے مذہبی سیاحت کو ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات اور عوامی روابط کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے میانمار کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال میانمار کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا انہوں نے میانمار میں قومی مفاہمت کے حق میں پاکستان کے اصولی مؤقف کو بھی دہرایا۔

    واضح رہے کہ میانمار کے وزیر خارجہ ان دنوں دو طرفہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں۔

  • صدر مملکت نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 7 اہم بلوں کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 7 اہم بلوں کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 7 اہم بلوں کی منظوری دے دی۔

    صدر مملکت کی منظوری کے بعد ان قوانین کا باضابطہ قانون سازی کا عمل مکمل ہو گیا ہے یہ قوانین تجارت، ٹیکس، سماجی تحفظ، تعلیم، ریلوے اور انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں،منظور شدہ قوانین میں گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کا بل 2026، نیشنل ٹیرف کمیشن (ترمیمی) بل 2026، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ترمیمی) بل 2026، ٹرانسفر آف ریلوے (ترمیمی) بل 2026، دانش اسکولز اتھارٹی بل 2026، انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2026 اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا اچانک دورہ، طبی سہولیات کا سخت جائزہ

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا اچانک دورہ، طبی سہولیات کا سخت جائزہ

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی/نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ میں اسسٹنٹ کمشنر احمد شیرگوندل نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا اچانک دورہ کر کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔

    اس موقع پر انہوں نے ایمرجنسی وارڈ، فارمیسی اور دیگر شعبوں کا دورہ کیا، زیر علاج مریضوں کی خیریت دریافت کی اور علاج معالجے کے معیار پر توجہ دی۔ اس کے علاوہ ہسپتال کے سٹاک رجسٹر اور عملے کے حاضری رجسٹر کی پڑتال بھی کی گئی، جبکہ فارمیسی میں ادویات کے سٹاک اور معیاد کا جائزہ بھی لیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر احمد شیرگوندل نے ہسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف سے کہا کہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت فرائض انجام دیں اور صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز نہ کریں، تاکہ مریضوں کو معیاری علاج اور سہولیات بروقت میسر آ سکیں۔

  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف: نادار افراد کے لیے 47 ارب روپے  کا   نگہبان پیکیج منظور

    پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف: نادار افراد کے لیے 47 ارب روپے کا نگہبان پیکیج منظور

    لاہور:پنجاب حکومت نے نادار افراد کے لیے 47 ارب روپے مالیت کا رمضان ریلیف پیکیج منظور کرلیا، مستحق افراد کو نگہبان کارڈز فراہم کیے جائیں گے-

    لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت رمضان المبارک کی پیشگی تیاریوں اور عوامی ریلیف سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کے مستحق افراد کیلئے بڑے امدادی پیکج کی منظوری دی گئی،اجلاس میں پنجاب حکومت نے ایک کروڑ سے زائد افراد کیلئے 47 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کی باضابطہ منظوری دے دی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس پیکج کے تحت پنجاب بھر کے 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے کی نقد امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ رمضان المبارک کے دوران اپنی بنیادی ضروریات باوقار اندازمیں پوری کر سکیں، وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ امداد کی فراہمی کا عمل شفاف، تیزاور بلا تعطل ہونا چاہیے۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مستحق افراد کو رمضان نگہبان کارڈ جاری کیے جائیں گے، جو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے گھرگھرجا کرفراہم کئے جائیں گے تاکہ بزرگوں، خواتین اورمعذورافراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے نگہبان کارڈ کے ذریعے مستحقین بینک آف پنجاب کے مقررہ دکانداروں سے اشیائے ضروریہ خرید سکیں گےرمضان نگہبان کارڈ کو بینک آف پنجاب کی اے ٹی ایم مشینوں پر بھی ایکٹیویٹ کیا جا سکے گا، جس کے ذریعے نقد رقم حاصل کرنا ممکن ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ رمضان نگہبان پیکج کا مقصد مہنگائی کے دباؤ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • دکانوں پر ڈیجیٹل ادائیگی لازمی قرار

    دکانوں پر ڈیجیٹل ادائیگی لازمی قرار

    حکومت نے کیش لیس پاکستان پروگرام کے تحت کیو آر کوڈ سسٹمز کا فیصلہ کیا جس کا مقصد نقدی پر انحصار کم کرنا، مالی شفافیت کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانا ہے-

    پاکستان حکومت نے ملک بھر کے ریٹیل آؤٹ لیٹس، دکانوں اور خوردہ فروشوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا کم از کم ایک طریقہ لازمی قرار دے دیا جس میں بالخصوص کیو آر (QR) کوڈ سسٹمز شامل ہوں گےوزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہار کیانی نے پالیسی مباحثے کے دوران بتایا کہ ہر ریٹیل آؤٹ لیٹ کو کم از کم ایک ڈیجیٹل پیمنٹ آپشن فراہم کرنا ہو گا، جیسے کہ راست کیو آر کوڈ یا دیگر قابل قبول ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام۔

    انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے مؤثر نفاذ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے تاکہ اس اقدام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جا سکے ، اس پالیسی کے نفاذ سے کیش لیس ادائیگیوں کا رجحان بڑھے گا۔ ٹیکس چوری اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی نگرانی ممکن ہو سکے گی جبکہ مالی شفافیت میں اضا فہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ ریٹیلرز کو ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام اپنانا ہو گا، بصورت دیگر متعلقہ حکام کارروائی کر سکتے ہیں، یہ اقدام وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے اور مالی شمولیت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں اس فیصلے سے صارفین نقدی کے بغیر آسانی سے خریداری کر سکیں گےجبکہ کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت آئے گی، اور پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک اہم قدم آگے بڑھے گا۔

  • عوام کے پاس پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا.گورنر سلیم حیدر

    عوام کے پاس پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا.گورنر سلیم حیدر

    سرگودھا (باغی ٹی وی،نامہ نگارملک شاہنوازجالپ)سرگودھا میں ڈویثرنل بلدیاتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا کہ عوام نوشتہ دیوار پڑھ لیں، اگلا وزیر اعظم بلاول بھٹو ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم حکومت کے ساتھ محبت میں نہیں بلکہ مجبوری میں ہیں، جبکہ ائیر کنڈیشنر کمروں میں بننے والی پالیسیوں سے عوام مایوس اور پریشان ہیں۔ سردار سلیم حیدر نے پیپلز پارٹی کو غریب اور کمزور کی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پریشان عوام کے پاس پارٹی کے علاوہ کوئی متبادل نہیں۔

    گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفادات کو ترجیح دی ہے اور عوامی مسائل کے حل میں پیش پیش رہی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے خطاب میں پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سی سی ڈی کے ذریعے چھوٹے ڈاکوؤں کو مروایا جا رہا ہے، جبکہ بڑے ڈاکو بنک لوٹنے میں مصروف ہیں اور انہیں تحفظ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں اور کاشتکاروں کی حالت زار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ کینو یا آلو کی فصلیں سب تباہ ہو رہی ہیں، جس سے کسان و کاشتکار شدید پریشان ہیں۔

    سابق وزیر مملکت تسنیم احمد قریشی نے کنونشن سے خطاب میں بتایا کہ 31 جنوری کو لاہور میں صوبے بھر کے بلدیاتی نمائندوں اور عہدیداران کے لیے صوبائی کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ ڈویثرنل بلدیاتی کنونشن میں سرگودھا ڈویژن کے پارٹی عہدیداروں اور جیالوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کے درمیان سرکاری و دستاویزی شواہد نے کئی اہم حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشنز، مراسلات اور تحریری ریکارڈ کے مطابق تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے خالصتاً سول انتظامی بنیادوں پر کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو مسخ کر کے ایک ایسا سیاسی و عوامی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جس میں ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق آبادی کی منتقلی کا فیصلہ مقامی حالات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس عمل میں مقامی جرگوں، عمائدین اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ شواہد اس دعوے کی واضح نفی کرتے ہیں کہ تیراہ ویلی سے لوگوں کو کسی زبردستی، دباؤ یا عسکری کارروائی کے تحت بے دخل کیا گیا۔سرکاری لیٹرز اور ریکارڈ میں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان آرمی کا کردار محض انسانی اور امدادی نوعیت کا تھا۔ فوج نے لاجسٹک سپورٹ، ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش، طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں معاونت کی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور منظم انداز میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم اس انسانی کردار کو بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر عسکری مداخلت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

    تحریری شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک منظم غلط معلوماتی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اصل انتظامی ناکامیوں کو پسِ پردہ رکھنا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 4 ارب روپے کے ریلیف فنڈ کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان فنڈز کا ایک بڑا حصہ شفاف اور درست انداز میں استعمال نہیں ہوا، جس پر اب تک مکمل اور تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔دستاویزات یہ تضاد بھی واضح کرتی ہیں کہ ایک جانب سرکاری ریکارڈ اس فیصلے کو سول انتظامیہ کا اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی بیانات اور بیانیاتی مہمات اسے فوجی آپریشن کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد ریاستی سطح پر بیانیاتی ابہام اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اصل مسئلہ کسی عسکری آپریشن کا نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی، کمزور منصوبہ بندی اور ریلیف فنڈز کے شفاف استعمال میں ناکامی تھا، جسے چھپانے کے لیے بیانیہ تبدیل کیا گیا۔

    سرکاری دستاویزات نے اس تاثر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ تیراہ ویلی سے نقل مکانی فوجی جبر یا آپریشن کا نتیجہ تھی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ یہ فیصلہ سول حکومت کی جانب سے کیا گیا اور فوج نے صرف انسانی امداد اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی امدادی اقدامات کو عسکری جبر کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی شدید طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ماہرین اور مبصرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ تیراہ ویلی سے متعلق حقائق کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، ریلیف فنڈز کے استعمال کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، تاکہ نہ صرف متاثرہ آبادی کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی بھی بحال ہو۔

  • غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمد اللہ

    غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمد اللہ

    جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قوانین منظور کرے تو یہ آئین سے انحراف کے مترادف ہے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔

    حافظ حمد اللہ نے کہا کہ سربراہ جے یو آئی کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور ان کی عمریں 18 سال سے کم ہوں ہم قانون کو پاؤں کے تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر مجھے غصہ آیا تو میں نے فیصلہ کیا، اگرچہ میں دوسری شادی اور دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہوں، وہ ہی ایک کافی ہے لیکن اگر غصہ آیا، قانون توڑنا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا-

  • اوکاڑہ میں گڈ گورننس اقدامات پر عملدرآمد کے لیے اہم اجلاس

    اوکاڑہ میں گڈ گورننس اقدامات پر عملدرآمد کے لیے اہم اجلاس

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی/نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت مفادِ عامہ کے پیش نظر حکومتِ پنجاب کے گڈ گورننس اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی، تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر نور محمد، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ مرغوب حسین ڈوگر، ایس ڈی ای او پیرا وسیم جاوید، ایس این اے افضال حسین بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں پرائس کنٹرول میکانزم، ستھرا پنجاب مہم، تجاوزات کے خلاف جاری اور آئندہ سخت کارروائیوں، شہر کی خوبصورتی کے لیے جاری ڈویلپمنٹ اسکیمز، پارکس کی تزئین و آرائش اور وزیراعلیٰ پنجاب کے دیگر گڈ گورننس اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ ان منصوبوں پر مکمل سنجیدگی، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست ریلیف مل سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف عوامی خدمت کی واضح پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور انہی گائیڈ لائنز کے مطابق حکومتِ پنجاب فلاحِ عامہ کے لیے وسیع اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں موجود رہ کر عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، لوگوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے متحرک انداز اپنائیں اور حکومتی پالیسیوں کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں

    سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔

    پیر کو سونے کی قیمت 5,100 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گئی،گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 6 بجکر 56 منٹ پر اسپاٹ گولڈ (نقد سونا) 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 5,089.78 ڈالر فی اونس پر رہا جبکہ اس سے قبل یہ 5,110.50 ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا، اسی طرح فروری کی ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت بھی اسی شرح سے بڑھ کر 5,086.30 ڈالر فی اونس ہو گئی، اسی دوران اسپاٹ سلور (نقد چاندی) کی قیمت 4.8 فیصد اضافے کے ساتھ 107.903 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے قبل یہ 109.44 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو چکی تھی-

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 10ہزار 900روپے کے بڑے اضافے سے 5لاکھ 32ہزار 062روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی،اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 9ہزار 345روپے بڑھ کر 4لاکھ 56ہزار 157روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت یکدم 537 روپے کے اضافے سے 11ہزار 428روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت 537روپے کے اضافے سے 9ہزار 797روپے کی سطح پر آگئی۔