Baaghi TV

Blog

  • سیالکوٹ: آل راجپوت ویلفیئر آرگنائزیشن کی نئی قیادت، فلاحی سرگرمیوں کا آغاز

    سیالکوٹ: آل راجپوت ویلفیئر آرگنائزیشن کی نئی قیادت، فلاحی سرگرمیوں کا آغاز

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی/بیورو چیف مدثر رتو)سیالکوٹ میں آل راجپوت ویلفیئر آرگنائزیشن ضلع سیالکوٹ کی حلف برداری کی شاندار اور پروقار تقریب 24 جنوری 2026 بروز ہفتہ شام 7 بجے تاج ہوٹل، کچہری روڈ میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا سمیت سرکاری و غیر سرکاری شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جس سے تقریب کے وقار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    تقریب کے دوران ضلعی عہدیداران سے حلف لیا گیا، جن میں ضلعی صدر رانا ظفر اقبال، سینئر نائب صدر ندیم السلام سلہری، نائب صدر رانا اجمل، جنرل سیکرٹری صائم طاہر اور فنانس سیکرٹری محمد عارف سلہری شامل ہیں۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر رانا ظفر اقبال نے تنظیم کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آل راجپوت ویلفیئر آرگنائزیشن کو ضلع سیالکوٹ کی چاروں تحصیلوں اور گلی محلوں تک منظم انداز میں متعارف کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم الخدمت کے ماڈل پر فری ڈسپنسری کے قیام، رمضان پیکجز کی تقسیم، مستحق بچوں کی کفالت اور دیگر فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    تقریب میں شریک مخیر حضرات نے تنظیم کے فلاحی مشن کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ آخر میں ضلعی صدر نے تمام معزز مہمانوں اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا، جبکہ کھانے کے بعد اجتماعی دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

  • گیارہ روزہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین،قاتلہ گرفتار

    گیارہ روزہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین،قاتلہ گرفتار

    خونی رشتوں کی بے رحمی حسد کی آگ نے بستا گھر اجاڑ دیا تائی نہیں قصائی نے معصوم نومولود کو زندہ کنویں میں پھینک کر ممتا کا کلیجہ چھلنی کر دیا
    کینٹ خلیل میں کہرام گیارہ روزہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین اپنوں کے روپ میں چھپے بھیڑیے بے نقاب ڈرامہ رچانے والی سفاک قاتلہ گرفتار
    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ جاتلی کے علاقے کینٹ خلیل میں انسانیت سوز واقعہ نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ حسد اور نفرت کی آگ میں اندھی ہونے والی سگی تائی نے ممتا کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے اپنے ہی گیارہ دن کے معصوم بھتیجے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    تفصیلات کے مطابق کینٹ خلیل میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز قتل کیس کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پولیس کی پیشہ ورانہ تحقیقات نے قاتلہ کا نقاب الٹ دیا۔ ملزمہ نے محض حسد کی بنیاد پر اس ننھے پھول کو اغوا کیا اور بے رحمی سے کنویں میں پھینک دیا جس سے معصوم بچہ دم توڑ گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ جاتلی جمال نواز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ برق رفتار کارروائی کی اور جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ملزمہ کو دھر لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، تاہم مزید حقائق جاننے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں اس بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ شہریوں نے قاتلہ کو نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کی بروقت کارروائی اور ملزمہ کی گرفتاری پر اہل علاقہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او جمال نواز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ معصوم بچے کی لاش ملنے پر گھر میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان،مذاکرات کی آفر کے بعدنرسوں کا احتجاج ختم

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان،مذاکرات کی آفر کے بعدنرسوں کا احتجاج ختم

    یوٹرن یا صلح نامہ؟ چارج نرس ماریہ عندلیب کا وضاحتی بیان جاری ایم پی اے، سی ای او ہیلتھ، ایم ایس سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے معذرت کی
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی نرسسز نے اعلی الصبح ہسپتال کے باہر احتجاج کیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا سی ایم کی ریڈ لائن خواتین ہسپتال کی نرسسز کو ہراسانی کا سامنا، وارڈ ماسٹر کی غنڈہ گردی نامنظور جیسے دیگر تیکھے نعرے درج تھے۔ معاملے کی نزاکت اور احتجاج کی شدت کو بھانپتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر سرمد حسین کیانی اور سینئر ڈاکٹرز و ایڈمنز میدان میں آ گئے۔ انتظامیہ نے احتجاجی نرسوں کو مذاکرات کی میز پر بلایا اور ان کے جائز مطالبات حل کرنے کی ٹھوس یقین دہانی کروائی، جس کے بعد نرسوں نے اپنا احتجاج ختم کیا۔ دوسری جانب اس پورے معاملے میں اس وقت نیا موڑ آگیا جب متاثرہ چارج نرس ماریہ عندلیب نے ایڈمن آفس سے اپنے وضاحتی بیان میں سوشل میڈیا پر انکے تبادلے کو ایم پی اے سمیت شعبہ صحت حکام کے نام سے منسوب کرنے کی جو پوسٹیں گردش کر رہی تھیں مذکورہ نرس نے ان تمام تر الزامات کی گرد جھاڑتے ہوئے کہا کہ ان کا ایم ایس ڈاکٹر سرمد کیانی، سی ای او ہیلتھ راولپنڈی یا ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی کے ساتھ کوئی جھگڑا یا اختلاف نہیں ہے نہ ہی ان میں سے کسی نے میرا تبادلہ کروایا ہے۔ مزید برآں انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنا تبادلہ واپس کروانے کے لیے سی ای او ہیلتھ راولپنڈی سے رجوع کر چکی ہیں جہاں سے انہیں مثبت اشارہ ملا ہے۔ حیرت انگیز طور پر چارج نرس نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈی ایچ اے راولپنڈی حکام سے غلط فہمی کی بنا پر کیے گے احتجاج کی وجہ سے کسی بھی قسم کی دل آزاری پر معذرت بھی کر لی ہے، جس نے احتجاج کے پیچھے چھپے اصل حقائق پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

  • فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک ، 28 لاپتہ

    فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک ، 28 لاپتہ

    فلپائن میں کشتی ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 28 افراد لاپتہ ہیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی فلپائنی صوبے باسیلان کے قریب حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک مسافر بردار کشتی بندرگاہی شہر زمبوانگا سے جنوبی سولو کے جزیرے جولو جا رہی تھی،فلپائنی کوسٹ گارڈ کے مطابق بحری جہاز 349 افراد سوار تھے جن میں 332 مسافر اور عملے کے 27 ارکان تھے ، کشتی کو حادثہ رات گئے پیش آیا،فلپائنی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ 316 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 28 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

  • آئندہ دو روز مری سمیت بٹگرام اور  دیگرمقامات پر برفانی طوفان کی پیشگوئی، ٹریول ایڈوائزری جاری

    آئندہ دو روز مری سمیت بٹگرام اور دیگرمقامات پر برفانی طوفان کی پیشگوئی، ٹریول ایڈوائزری جاری

    آئندہ دو روز مری سمیت بٹگرام، چنارکوٹ اور بٹل ایریا میں شدید بارش اور برفباری متوقع ہے،جبکہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی۔

    ٹریول ایڈوائزری کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دو روز مری سمیت بٹگرام، چنارکوٹ اور بٹل ایریا میں شدید بارش اور برفباری متوقع ہےموٹروے پولیس نے بٹگرام، بٹل چنار کوٹ اور اچھڑیاں ایریا میں ہیوی مشینری کے ساتھ اضافی نفری تعینات کر دی ہے، عوام غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور اگر سفر کرنا ناگزیر ہو تو حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھیں۔

    ٹریول ایڈوائزری کے مطابق اضافی فیول، گرم کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء ساتھ رکھیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں، سفر شروع کرنے سے پہلے موسم کی تازہ ترین صورتحال اور روڈ کنڈیشن موٹروے پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس@NHMP سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    آج شام سے کل شام تک مری میں شدید برفباری کا امکان ہے، سیاح اور شہری رات کے وقت مری کا سفر کرنے سے مکمل گریز کریں، مری میں د رجہ حرارت گرنے سے سڑکوں پر برف کی شیشے جیسی سخت تہہ بن سکتی ہے، ڈی پی او کے مطابق برف والی سڑک پر گاڑی کے بریک کام نہیں کرتے، رات کا سفر خطرناک ہو سکتا ہے، اندھیرے اور دھند میں برف ہٹانے والی مشینری کا کام کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، ٹائروں پر ’’اسنوچین‘‘ کے بغیر کسی گاڑی کو مری میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔

  • گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    نام تو اس کا’’ گل پلازہ ‘‘ تھایعنی پھول پلازہ ۔ ’’ گل ‘‘ ۔۔۔۔مطلب پھول جو دیکھنے میں بھی خوشنما ہوتا ہے لوگوں کے لئے خوشیاں بانٹتا اور خوشبو بکھیرتا ہے لیکن کراچی کا ’’ گل پلازہ ‘‘ لوگوں کے لیے موت کا کنواں اور دہکتا ہوا الاؤ بن گیا۔ ایسا الاؤ جس نے پھول نہیں، جس نے چشم زدن میں 80زندہ انسان جلائے۔گل پلازہ لوگوں کیلئے ایسا الاؤ بن گیا جس نے خوشبو نہیں، راکھ بکھیری۔ جس نے زندگی نہیں، موت بانٹی ۔ کراچی کے اس بدقسمت پلازے میں لگنے اور بھڑکنے والی آگ کوئی اچانک حادثہ نہ تھی، یہ برسوں سے سلگتی ریاستی بے حسی تھی جو اُس دن شعلوں کی صورت پھٹ پڑی۔ یہ آگ لکڑی، کپڑے یا کیمیکل سے نہیں لگی ۔ یہ آگ غفلت، لالچ، رشوت ، مجرمانہ خاموشی اور بدانتظامی سے لگی ہے ۔اب تک 80سے زائد زندگیاں اس الاؤ میں جل کر راکھ چکی ہیں۔لیکن اصل سانحہ اعداد و شمار نہیں بلکہ اصل سانحہ وہ 30 لاشوں کی باقیات ہیں جو ایک ہی دکان سے ملیں،وہ جلی ہوئی ہڈیاں، وہ ٹوٹے ہوئے دانت، وہ راکھ میں دبے سوختہ جسم جو اپنی شناخت اور پہچان تک کھو چکے ہیں ۔۔۔جن کا ڈی این اے تک بھی ممکن نہیں۔

    سوچئے! جب اپنے بیٹے کی راہ تکتی ماں کو لاش نہیں صرف راکھ ملے ، جب باپ کو قبر نہیں صرف ایک تھیلی دی جائے۔ جب ورثا سے کہا جائے کہ شناخت ممکن نہیں تو اس ماں کے درد اور انتظار کیا کا نام کیا رکھا جائے؟ یہ کیسا نظام ہے ، جہاں انسان جل کر راکھ ہو جائے مگر فائلیں زندہ رہیں؟ چیخیں جو فائلوں میں دب گئیں ، آگ کے شعلوں میں گھرے وہ معصوم بچے، جو آخری لمحے میں ماں کو پکار رہے تھے، وہ بزرگ جو چل نہیں سکتے تھے، وہ محنت کش جو رزق کی تلاش میں آئے تھے، وہ خواتین جو زندگی کی امید لے کر گھروں سے نکلی تھیں۔۔۔۔سب کی چیخیں نظام کی بہری دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئیں۔ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ، کوئی فائر الارم نہیں ، کوئی اسپرنکلر نہیں ، کوئی راستہ نہیں ، بس شعلے تھے ۔۔۔۔۔۔اور موت کے بھیانک قہقہے تھے ۔

    بلاشبہ یہ ایک درد ناک سانحہ اور المیہ ہے جس پر اب طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے آگ شارٹ سرکٹ سے لگی اور کوئی کہہ رہا ہے کہ آگ اچانک لگ گئی ۔ کوئی کچھ کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ ۔ یہ تمام قیاس آرائیاں درحقیقت قاتل کو بچانے کی کوشش ہے۔ یہ آگ کسی دکان دار نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی مزدور نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی ، یہ آگ اچانک نہیں بڑھکی یہ آگ ان بچوں نے بھی نہیں لگائی جو اس میں زندہ جل گئے بلکہ یہ آگ اُس نظام نے لگائی ہے ،جو پلازے بنانے کی اجازت تو دیتا ہے ، مگر انسان بچانے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ یہ آگ اس نظام نے لگائی ہے جو پلازے بنانے کی اجازت کو دیتا ہے لیکن پلازے کے مالکان کو سیفٹی فائر سسٹم کی تنصیب اور ہنگائی راستے بنانے کے احکامات جاری نہیں کرتا ۔

    ہم سمجھتے ہیں سانحہ گل پلازہ۔۔۔۔۔ حادثہ نہیں بلکہ اجتماعی قتل عام ہے ، یہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ ہے۔ وہ مرد و خواتین جو صبح گھروں سے نکلے کہ شام کو بچوں کے لیے روٹی لائیں گے وہ شام کو خود کفن بن گئے۔ زندگی بھر کی وہ جمع پونجی جو دکانوں میں لگی تھی خود بھی جل گئی اور اپنے مالکوں کو بھی جلا گئی ۔ آج ان گھروں میں نہ ہنسی ہے ، نہ چراغ اور نہ امید ہے ۔۔۔۔۔۔صرف بین ہیں ، آہیں ہیں اور سناٹا ہے ۔
    گل پلازہ میں جلنے والوں میں کئی ایسے تھے جو آگ سے نہیں مرے بلکہ دم گھٹنے سے مرے ہیں ۔وہ لوگ جو سیڑھیوں کی طرف دوڑے مگر راستے بند تھے ، جو کھڑکیوں کی طرف لپکے مگر سلاخیں نصب تھیں، جو چھت کی طرف بھاگے مگر دروازہ مقفل تھا وہ سب آگ سے پہلے مایوسی میں مر گئے۔

    یہ کیسی عمارت تھی جس میں داخلہ تو آسان تھا مگر نکلنے کا راستہ نہیں تھا ؟ کراچی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے معاشی شہ رگ ہے لیکن یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بازار بنتے ہیںمگر زندگی کے لیے نہیں بلکہ موت کے لیے؟ آگ میں گھرے اور شعلوں میں لپٹے لوگوں نے یقینا باہر نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی ۔ انھوں نے مدد کیلئے اپنے پیاروں کوفون بھی کئے ہوں گے ۔ وہ آخری فون کالز جو کبھی نہیں ملیں ۔ اس سانحے میں کچھ موبائل فون جلے ہوئے ملے کچھ بجتے رہے مگر اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ کسی نے آخری لمحے ماں کو فون کیاہو گا کہ امی یہاں آگ لگ گئی ہے ! کسی نے دم آخریں بیوی کو پیغام بھیجا ہو گا کہ بچوں کا خیال رکھنا ۔ یہ وہ پیغامات ہیں جو موبائل میں محفوظ رہ گئے لیکن پیغام بھیجنے والے راکھ ہو گئے۔ کفن بھی پورا نہیں، قبر بھی ادھوری ہے یہ کیسا المیہ ہے کہ کچھ لاشوں کے لیے پورا کفن بھی میسر نہیں۔کہیں ہڈیوں کو کپڑے میں لپیٹا گیاکہیں راکھ کو ڈبوں میں رکھا گیااور ورثا سے کہا گیا یہی ہے جو بچ سکا ہے۔
    سوچیے!
    جس جسم نے عمر بھر مشقت کی جس ہاتھ نے بچوں کو پالا ، جس پیشانی نے سجدے کیے وہ اب چند ہڈیوں میں سمٹ گیااور ریاست کے ضمیر پر راکھ کی تہہ بن کر سوالیہ نشان بن گیا ۔

    اب تو تحقیقات نے بھی نظام کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ سانحے کے بعد تحقیقات ہوئیں تو سچ اور زیادہ بھیانک نکلا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو سات فائلیں پیش کیں تین فائلیں گل پلازہ کے زیر التواء عدالتی مقدمات کی باقی فائلیں خلافِ ضابطہ تعمیرات کی جو اپنے دامن میں دولت کی ہوس کی کئی المناک اور شرمناک داستان لیے ہوئے ہے ۔ یعنی یہ پلازہ غیر قانونی تھا، متنازع تھا اور خطرناک تھا ۔ پھر بھی آباد رہا ، کاروبار ہوتا رہا اور آخرکار یہ پلازہ کتنے ہی زندہ انسانوں کا مقتل اور مدفن بن گیا ۔پلازے کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تو ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے صرف 5 فیصد حصے میں فائر سیفٹی سسٹم۔ ہنگامی اخراج کے راستے ناپید اور آگ بجھانے کے آلات غائب !

    تو سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔۔؟ سانحے کا سب سے لرزا دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ڈی این اے نہ ہونے کی وجہ سے باقیات ورثا کے حوالے کرنا بھی ایک کرب ناک مرحلہ بن چکا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز دروازے پر بیٹھتی ہے وہ بیوی جو ہر فون کال پر چونک اٹھتی ہے وہ بچہ جو پوچھتا ہے ابو کب آئیں گے؟

    ان سب کو کون جواب دے گا؟ آگ میں جل کر شہید ہونے والوں کے ورثا کا ایک ہی مطالبہ اور قوم کا بھی مطالبہ اور قوم کے ضمیر کی آواز بھی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور بازار، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان کا المیہ ہے۔ہر شہر میں ایسے ہی جلتے ہوئے اور بارود کے ڈھیر پر کھڑے کمرشل اور رہائشی پلازے خاموشی سے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

    سانحہ گل پلازہ میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آئندہ کے لیے کمرشل اور رہائشی پلازوں کی تعمیر میں تمام تر حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔ اب صرف آنسو کافی نہیں، صرف بیانات کافی نہیںبلکہ فوری طور پر ملک گیر فائر سیفٹی ایمرجنسی، تمام کمرشل و رہائشی عمارتوں کافوری اور شفاف آڈٹ یقینی بنایا جائے ۔ بغیر سیفٹی عمارت بند کی جائیں ۔ اس لئے کہ سیفٹی کے بغیر پلازہ براہِ راست قتل گاہ ہے ۔ لہذا یسے تمام پلازے فوری سیل کیے جائیں اور ان کے مالکان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے ۔

  • ڈیرہ غازی خان میں ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان میں ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی/نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان شہر کے اندر موٹر سائیکل سواروں پر عائد ہیلمٹ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ ڈیرہ غازی خان ایک چھوٹا اور محدود رقبے پر مشتمل شہر ہے، جہاں اندرونِ شہر سفر نہایت کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے، اس لیے بڑے شہروں کی طرز پر سخت ہیلمٹ پابندی شہریوں کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔

    شہریوں کے مطابق ڈیرہ غازی خان شہر کا مجموعی رقبہ تقریباً دو سے اڑھائی کلومیٹر پر محیط ہے، جہاں قادریہ چوک سے گھنٹہ گھر، گھنٹہ گھر سے کلمہ چوک، کلمہ چوک سے گولائی کمیٹی، گولائی کمیٹی سے ٹریفک چوک اور ٹریفک چوک سے لاری اڈا جیسے مصروف روٹس پر سفر عموماً دو سے چار منٹ جبکہ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ ایسے مختصر فاصلے اور کم دورانیے کے سفر میں ہیلمٹ پابندی کو شہری غیر عملی قرار دے رہے ہیں۔

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ملتان یا لاہور جیسے بڑے شہروں کے ساتھ موازنہ کرنا درست نہیں، کیونکہ یہاں کی جغرافیائی ساخت، ٹریفک کا دباؤ اور شہری ضروریات یکسر مختلف ہیں۔ بڑے شہروں میں طویل فاصلے، شدید ٹریفک رش اور حادثات کی شرح زیادہ ہوتی ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں اندرونِ شہر ٹریفک کی نوعیت اور فاصلوں کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان شہر کی حدود میں ہیلمٹ پابندی پر نظرثانی کی جائے اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جائے، تاکہ عوام کو روزمرہ کے مختصر سفروں میں سہولت میسر آ سکے اور غیر ضروری جرمانوں اور مشکلات سے نجات حاصل ہو۔

  • نتین یاہو کو بورڈ آف پیس سے بے دخل کیا جائے، خالد مسعود سندھو

    نتین یاہو کو بورڈ آف پیس سے بے دخل کیا جائے، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے پاکستان کا کردار نہایت اہم، مؤثر اور فیصلہ کن ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم بورڈ آف پیس غزہ کے ساتھ کشمیر کےمسئلہ کو بھی حل کرنے میں کردار ادا کرے، نیتن یاہوجنگی مجرم،بورڈ آف پیس میں شمولیت کی بجائے عالمی عدالت انصاف میں پیش ہوں.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی افواج واپس نکالے، غزہ کے مظلوم عوام اور حماس کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مطالبات کو تسلیم کروانے کیلئے عملی اور بھرپور کردار ادا کیا جائے، اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے،انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے، ایسے شخص کو بورڈ آف پیس کا رکن بنانے کے بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق آئی سی سی کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو نیتن یاہو کی اس بورڈ سے بے دخلی کا فی الفور مطالبہ کرنا چاہئے۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس کے فورم پر نہ صرف مسئلہ فلسطین بلکہ مسئلہ کشمیر پر بھی بھرپور اور دو ٹوک آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ دونوں تنازعات اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ہیں،اگر بورڈ آف پیس فلسطینی عوام کی خواہشات، قربانیوں اور حقِ مزاحمت کے خلاف کوئی فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان کو اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بورڈ سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور انصاف، آزادی اور حق کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا،چیئرمین پی سی بی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا،چیئرمین پی سی بی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے معاملے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) کی وزیر اعظم سے ملاقات میں تمام آپشنز کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات میں محسن نقوی نے وزیراعظم کو آئی سی سی کی صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی۔بعد ازاں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ جمعے یا پیر تک ہوگا۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم کو ملاقات میں آئی سی سی معاملات پر بریفنگ دی، وزیر اعظم نے تمام آپشنز کو مدنظر رکھ کر معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی۔

    قبل ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کیے جانے کے معاملے پر آئی سی سی کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کیا بلکہ بنگلا دیش کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس کا کیس عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے آئی سی سی کو باضابطہ خط کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے اقدام کو غیر منصفانہ اور دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت کے معاملے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیر اعظم ہاؤس پہنچے، جہاں اہم مشاورت کی گئی۔ملاقات کے دوران محسن نقوی نے وزیر اعظم کو آئی سی سی کے دوہرے معیار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی سی سی بھارت کے لیے ایک قانون جبکہ دیگر ممالک کے لیے دوسرا قانون لاگو کرتا ہے۔ محسن نقوی نے یاد دلایا کہ بھارت نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کیا تھا، جس پر اسے متبادل وینیو فراہم کر دیا گیا، جبکہ اسی اصول کے تحت بنگلا دیش کو سہولت دینے کے بجائے ورلڈ کپ سے ہی باہر کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے بتایا کہ بنگلا دیش نے آئی سی سی کو بھارت میں سکیورٹی خدشات کے باعث وہاں جانے سے آگاہ کیا تھا، مگر اس کے باوجود آئی سی سی نے بنگلا دیش کو متبادل وینیو دینے کے بجائے ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا، جو کھلا امتیازی سلوک ہے۔

    چیئرمین پی سی بی نے وزیر اعظم کو یہ بھی آگاہ کیا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو اسے شمولیت کے عوض ملنے والی خطیر رقم سے محروم ہونا پڑے گا، جو مالی طور پر پاکستان کرکٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلے جائیں تو اس کا زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا، تاہم فیصلے میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کی بے دخلی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے احتجاج کے لیے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا تھا، جس کے تحت سفارتی، انتظامی اور کرکٹ فورمز پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے اور تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

  • رینالہ خورد: ڈرینوں کی تعمیر میں مبینہ کرپشن اور مجرمانہ بے ضابطگیاں، عمارتیں گرنے کا خدشہ

    رینالہ خورد (باغی ٹی وی/نامہ نگار)رینالہ خورد میں جاری ڈرینوں کی تعمیر کے دوران ناقص میٹریل کے استعمال اور بنیادوں (بیڈز) کی غیر معیاری کمپیکشن کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ مستقبل میں کروڑوں روپے مالیت کی تجارتی عمارتوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کی ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی جانب سے شہروں میں بیوٹیفیکیشن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بازاروں میں ڈرینوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ رینالہ خورد کے مصروف ترین علاقوں صدر بازار، پھاٹک بازار اور گوشت مارکیٹ میں بھی ڈرینوں کی تعمیر جاری ہے۔ تاہم شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے ڈرینوں کے بیڈز کی کمپیکشن مناسب طریقے سے نہیں کی جا رہی اور تعمیر میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔

    شہری حلقوں کے مطابق غیر معیاری تعمیر کے باعث ڈرینوں میں بہنے والا سیوریج اور بارشی پانی مستقبل میں ڈرینوں کے کناروں پر واقع دکانوں اور عمارتوں کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے بڑے مالی نقصانات اور حادثات کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو یہ مسئلہ آنے والے وقت میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

    تاجروں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ساہیوال، اینٹی کرپشن، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ڈرینوں کی تعمیر کو معیاری اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے تاکہ شہر اور شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔