Baaghi TV

Blog

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا،چیئرمین پی سی بی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا،چیئرمین پی سی بی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے معاملے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) کی وزیر اعظم سے ملاقات میں تمام آپشنز کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات میں محسن نقوی نے وزیراعظم کو آئی سی سی کی صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی۔بعد ازاں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ جمعے یا پیر تک ہوگا۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم کو ملاقات میں آئی سی سی معاملات پر بریفنگ دی، وزیر اعظم نے تمام آپشنز کو مدنظر رکھ کر معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی۔

    قبل ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کیے جانے کے معاملے پر آئی سی سی کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کیا بلکہ بنگلا دیش کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس کا کیس عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے آئی سی سی کو باضابطہ خط کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے اقدام کو غیر منصفانہ اور دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت کے معاملے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیر اعظم ہاؤس پہنچے، جہاں اہم مشاورت کی گئی۔ملاقات کے دوران محسن نقوی نے وزیر اعظم کو آئی سی سی کے دوہرے معیار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی سی سی بھارت کے لیے ایک قانون جبکہ دیگر ممالک کے لیے دوسرا قانون لاگو کرتا ہے۔ محسن نقوی نے یاد دلایا کہ بھارت نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کیا تھا، جس پر اسے متبادل وینیو فراہم کر دیا گیا، جبکہ اسی اصول کے تحت بنگلا دیش کو سہولت دینے کے بجائے ورلڈ کپ سے ہی باہر کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے بتایا کہ بنگلا دیش نے آئی سی سی کو بھارت میں سکیورٹی خدشات کے باعث وہاں جانے سے آگاہ کیا تھا، مگر اس کے باوجود آئی سی سی نے بنگلا دیش کو متبادل وینیو دینے کے بجائے ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا، جو کھلا امتیازی سلوک ہے۔

    چیئرمین پی سی بی نے وزیر اعظم کو یہ بھی آگاہ کیا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو اسے شمولیت کے عوض ملنے والی خطیر رقم سے محروم ہونا پڑے گا، جو مالی طور پر پاکستان کرکٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلے جائیں تو اس کا زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا، تاہم فیصلے میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کی بے دخلی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے احتجاج کے لیے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا تھا، جس کے تحت سفارتی، انتظامی اور کرکٹ فورمز پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے اور تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

  • رینالہ خورد: ڈرینوں کی تعمیر میں مبینہ کرپشن اور مجرمانہ بے ضابطگیاں، عمارتیں گرنے کا خدشہ

    رینالہ خورد (باغی ٹی وی/نامہ نگار)رینالہ خورد میں جاری ڈرینوں کی تعمیر کے دوران ناقص میٹریل کے استعمال اور بنیادوں (بیڈز) کی غیر معیاری کمپیکشن کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ مستقبل میں کروڑوں روپے مالیت کی تجارتی عمارتوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کی ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی جانب سے شہروں میں بیوٹیفیکیشن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بازاروں میں ڈرینوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ رینالہ خورد کے مصروف ترین علاقوں صدر بازار، پھاٹک بازار اور گوشت مارکیٹ میں بھی ڈرینوں کی تعمیر جاری ہے۔ تاہم شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے ڈرینوں کے بیڈز کی کمپیکشن مناسب طریقے سے نہیں کی جا رہی اور تعمیر میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔

    شہری حلقوں کے مطابق غیر معیاری تعمیر کے باعث ڈرینوں میں بہنے والا سیوریج اور بارشی پانی مستقبل میں ڈرینوں کے کناروں پر واقع دکانوں اور عمارتوں کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے بڑے مالی نقصانات اور حادثات کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو یہ مسئلہ آنے والے وقت میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

    تاجروں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ساہیوال، اینٹی کرپشن، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ڈرینوں کی تعمیر کو معیاری اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے تاکہ شہر اور شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔

  • کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

    کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاستدانوں نے ملکی وقار ،اقدار کا جنازہ نکال دیا،الزام تراشی جمہورٹھہری
    ہر ریاست میں زمینی حقائق پر فیصلے ہوتے ہیں ،پاکستان کو استثنیٰ حاصل نہیں
    سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت،معیشت کی مضبوطی اور بہترین خارجہ پالیسی ہونا چاہیے
    مشکلات کے باوجود مملکت خداداد قائم،پاک فوج نے ہمیشہ دوام بخشا،خون سے آبیاری کی
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    سیاست یا الزام تراشی؟پاکستانی سیاست ایک طویل عرصے سے ایک خطرناک روش پر گامزن ہے، جہاں دلیل، کارکردگی اور عوامی خدمت کی جگہ الزام تراشی، بہتان اور ایک دوسرے کو ’’ایجنٹ‘‘ قرار دینے کا چلن عام ہو چکا ہے، کوئی یہودی ایجنٹ ہےتوکوئی بھارتی،یہ وہ زبان ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے آ رہے ہیں، افسوس کہ اس روش نے قومی سیاست کو تماشا بنا دیا ہے،یہ طرزِ سیاست نہ صرف قومی وقار کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے، پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، جس کے اپنے مفادات، ترجیحات اور عالمی ذمہ داریاں ہیں،بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں ہر ریاست کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں، پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں، ریاستی فیصلوں کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنا دراصل اپنی ہی ریاست کی کمزوری کا اعلان کرنے کے مترادف ہے،سیاست کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل، معیشت کی بہتری، خارجہ محاذ پر مؤثر کردار اور داخلی استحکام ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست ذاتی دشمنیوں اور وقتی فائدے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، اختلافِ رائے کو غداری اور سیاسی مقابلے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام اور ریاست دونوں کو ہو رہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر آج پاکستان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود قائم ہے تو اس کے پیچھے پاک فوج اور دیگر ریاستی اداروں کی قربانیاں، استقامت اور ذمہ دارانہ کردار شامل ہے،ان اداروں نے ہر مشکل وقت میں ریاست کو سہارا دیا،سیاسی قیادت اکثر باہمی لڑائیوں میں الجھی رہی، قوم اب اس تماشے سے اکتا چکی ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہو گی،روزگار کیسے بڑھے گا، تعلیم اور صحت کے شعبے کیسے بہتر ہوں گے، اور پاکستان عالمی برادری میں ایک باوقار اور مضبوط کردار کیسے ادا کرے گا۔

    ’’ایجنٹ‘‘ کے نعروں سے معیشت سنبھلتی ہے نہ ریاست مضبوط ہوتی ہے،وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، الزام تراشی ترک کریں، کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کریں اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، اگر سیاست کا معیار یہی رہا تو تاریخ سخت سوال کرے گی کہ جب ملک کو سمت کی ضرورت تھی،تب رہنما تماشے میں مصروف کیوں تھے،پاکستان کو نعروں کی نہیں، وژن کی ضرورت ہے

  • کرکٹرز کے ساتھ 7 ارب کے فراڈ کی تحقیقات ہونی چاہیے.جاوید بدر

    کرکٹرز کے ساتھ 7 ارب کے فراڈ کی تحقیقات ہونی چاہیے.جاوید بدر

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹرجاوید بدر نے کہا ہے کہ پاکستانی موجودہ و سابق کرکٹرز کے ساتھ 7 ارب کے فراڈ کی تحقیقات ہونی چاہیے.

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ سے قبل ایسی خبر کا آنا سازش بھی ہوسکتی ہے،پی سی پی اور ایف آئی اے کو مل کر اصل حقائق سامنے لانے چاہیے،اس خبر سے مُلک کی جگ ہنسائی ہورہی ہے ،اتنی بڑی رقم مُلک سے باہر کس طرح گئی،اس خبر کا فائدہ ہندستان اُٹھا کر بدنام کر سکتا ہے ،بہتر ہے کہ پاکستان خود اصل حقائق سامنے لاۓ ،میں نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تفشیش کے لیے درخواست دے دی ہے،قومی ہیروز کا پیسہ محفوظ نہیں تو عام آدمی کیا سنوائی ہوگی،جو بھی غیر قانونی کام میں ملوث پایا گیا تو اُسے سزا ملنی چاہیے،مُتاثرہ کرکٹرز بابر اعظم انضمام الحق کو خود سامنے آنا چاہیے ،قومی ہیروز کے ساتھ مُلک کی عزت جُڑی ہے،چئیرمین بورڈ مُحسن نقوی کو خود کرکٹرز سے بات کرنی چاہیے ،ایف آئی اے کے پاس خبر پر ایکشن لینے کا اختیار بھی ہے،میرے علم کے مُطابق معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے،ایف آئی اے نے میری درخواست تفشیش کے لیے این سی سی آئی اے کو بھیج دی ہے

  • جے یو آئی کا 8 فروری کودھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

    جے یو آئی کا 8 فروری کودھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

    جے یو آئی نے 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منائیں گے ،جمہوریت دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔آئین پاکستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں مرکزی احتجاجی پروگرام سے خطاب کریں گے ۔تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔غیور عوام حکمرانوں کی قرآن و شریعت کے متصادم آئین سازی کے خلاف احتجاج کریں گے ۔مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی ،،لاقانونیت ، کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ ہونگے ۔عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قبول نہیں ۔شریعت ،آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کریں گے ۔کارکن تیاری مکمل کریں ۔

  • انسانیت شرمسار گھر کا صحن مقتل بن گیا ،نومولود بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا

    انسانیت شرمسار گھر کا صحن مقتل بن گیا ،نومولود بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے کنیٹ خلیل میں انسانیت لرز اٹھی۔ گیارہ دن کا معصوم بچہ بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کئی روز سے لاپتہ نومولود کی لاش گھر کے صحن میں موجود کنویں سے برآمد ہونے پر علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق، کنیٹ خلیل کے رہائشی کامران ولید کا 11 روزہ شیر خوار بچہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔ والدین اپنے جگر گوشے کی واپسی کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے، مگر آج بروز اتوار اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب لاپتہ بچے کی لاش گھر کے اندر موجود کنویں میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاش کو کنویں سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔ معصوم جان کے ساتھ پیش آنے والے اس وحشیانہ واقعے نے ہر آنکھ پرنم کر دی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ اس افسوسناک واقعے پر علاقہ مکینوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔

  • مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی

    انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک سوال ہمیشہ بے چین کرتا رہا ہے کہ اس کے کیے ہوئے اچھے یا برے کام کا نتیجہ آخر اسے کیوں اور کیسے ملتا ہے۔ اور وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کہیں یہ اس کی اپنے دماغ کی اختراع تو نہیں یا اس کی کوئی شخصی کمزوری تو نہیں جو اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مکافات عمل (karma) جیسی بھی کوئی چیز ہے جس کے خوف کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے۔

    مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فلسفوں میں اس سوال کا جواب مختلف ناموں سے دیا گیاہے، کسی نے اسے "کرم” کہا، کسی نے "مکافاتِ عمل”، کسی نے "اخلاقی قانون”، کسی نے "فطری ردّعمل”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ زندگی کے چلتے، وہ کائنات کے حوالے جو بھی قوتیں کرتا ہے کائنات پوری قوت سے اسے واپس کرتی ہے۔اگر کوئی مذہب یا خدا کو نہ بھی مانے، تب بھی کائنات کا نظام ایک سادہ اصول پر استوار ہے کہ ہر عمل ایک ردّعمل کو جنم دیتا ہے۔”اگر کوئی خدا کا انکار بھی کر دے تو کائنات کی توانائیوں کا انکار نہیں کر سکتا۔”

    ہر سوچ، ہر جذبہ، ہر عمل اپنے اندر ایک لہر رکھتا ہے۔ یہ لہر فضا میں چھوڑتے ہی اپنا سفر شروع کر دیتی ہے، اور سائنس کے مطابق electro magnetic field اور انسانی bio-field کی صورت میں گھوم کر واپس اسی انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی ردّ عمل کو مذہبی زبان میں مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے، اور سائنسی زبان میں resonance vibration اور bio-energy کا اصول۔یہ صرف سائنسی حقیقت نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جدید دماغی علوم ( مجموعی طور پر )( cognetive and behaveroul sciences esp.) کے مطابق جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے، نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا سچائی پر قائم رہتا ہے تو انسان کے دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو اس کے اندر اعتماد، سکون اور خوشی کی لہریں بیدار کرتے ہیں۔ یوں اس کے رویّے، فیصلے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے اور وہ بہتر حالات اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس بددیانتی، نفرت، دھوکا اور ظلم وہ کیمیکلز بڑھاتے ہیں جو بے چینی، اضطراب اور بوجھل ذہنی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یعنی چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، کائنات انسان کے ہر عمل کو ایک مخصوص توانائی کے طور پر قبول کرتی ہے اور اسی نوعیت کی لہریں کئی گنا اضافہ کے ساتھ واپس لوٹا دیتی ہے۔
    انسانی ذہن کے ماہرین کا موقف یہ ہے کہ برائی کا سب سے پہلا عذاب انسان کے اپنے اندر پنپتا ہے۔ جو شخص ظلم کرتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا کسی کا حق مارتا ہے، اس کے شعور کے کسی کونے میں خوف، بداعتمادی اور گناہ کا احساس جڑ پکڑ لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ احساس اس کے کردار کو کھوکھلا کرتا ہے، اس کے رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے اور زندگی میں مسلسل بے سکونی پھیلا دیتا ہے۔ نیکی کا اثر بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔ اچھا کرنے والا فرد سب سے پہلے اپنے اندر ہلکا پن اور اعتماد محسوس کرتا ہے، اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور اس کے رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ یوں وہ خود کو بھی سنوارتا ہے اور ماحول کو بھی بہتر بناتا ہے۔

    سماجی علوم کی رو سے معاشرہ بھی انسان کے عمل کو دیر تک نظرانداز نہیں کرتا۔ جو شخص لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، انصاف کا خیال رکھتا ہے یا دوسروں کے ساتھ سچائی کا رویہ اختیار کرتا ہے، سماج اسے عزت دیتا ہے۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے پذیرائی ملتی ہے اور اس کا دائرۂ اثر وسیع ہوتا ہے۔ مگر جو فرد دھوکا دینے والا، موقع پرست یا نقصان پہنچانے والا ہو، معاشرہ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر ردّ بھی کر دیتا ہے اور اس رویے کا منفی انجام اس کی زندگی میں ضرور سامنے آتا ہے۔ دنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی بنیاد پر کھڑی ہوئی کوئی طاقت دیرپا نہیں رہی، جبکہ انصاف، انسانی وقار اور خیرخواہی پر مبنی رویے ہمیشہ دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

    زمانہ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم وقت کے ایک موڑ پر شکست سے دوچار ہوئے۔ طاقت، دولت اور اختیار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ داخلی خوف اور عدم تحفظ سے نہیں بچ سکے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے انسانیت، انصاف اور سچائی کو اختیار کیا، چاہے عارضی مشکلات کا شکار ہوئے، مگر وقت نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ محض اخلاقی یا مذہبی بیانیہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ مکافات عمل یا عمل کی واپسی یا فطری رد عمل ایک ایسا اصول ہے جسے ماننے کے لیے مذہب ضروری نہیں۔

    یہ بالکل ایسے ہے جیسے کششِ ثقل کو ماننے سے انکار کر دیں، چاہے مانیں یا نہ مانیں، وہ پھر بھی اثر کرتی ہے۔
    انسان کا ہر لفظ، ہر خیال، ہر ارادہ، ہر عمل ایک توانائی ہے جو کائنات میں گشت کرتی ہے اور اپنے جیسی توانائیوں کو کھینچ کر واپس لاتی ہے۔
    Karma ( بدلے کا عمل )
    آخر کیسے چلتا ہے؟
    آپ محبت دیتے ہیں، محبت ملتی ہے
    آپ دوسروں کے لیے راستے آسان کرتے ہیں، آپ کے راستے کھلتے ہیں
    آپ حسد، بغض، نفرت پھیلاتے ہیں، یہی چیزیں کئی گنا ہو کر آپ تک پہنچتی ہیں
    آپ رزق روکتے ہیں، رزق آپ سے روٹھ جاتا ہے
    یہ کوئی روحانی نعرہ نہیں، یہ انسانی تعلقات، نفسیات، معاشرت اور فطرت کا جامع قانون ہے۔
    اور کائنات کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے
    مکافاتِ عمل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ اندھا انصاف کرتا ہے۔
    یہ ذات، مذہب، مقام، طاقت، دولت، ،شہرت کسی چیز کی رعایت نہیں کرتا۔
    اسی لیے دانا کہتے ہیں:
    "کائنات خاموش ہے، مگر حساب بہت باریک رکھتی ہے۔ انسان کا ہر لفظ، ہر ارادہ اور ہر عمل ایک توانائی بن کر فضا میں جاتا ہے اور پھر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کہیں گم ہو جائے۔ یہ واپس آتا ہے، مگر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ۔ یہی زندگی کا سب سے غیرجانبدار اصول ہے۔

    انسان جب محبت، خیرخواہی، آسانی یا نیکی بانٹتا ہے تو انہی خوبیوں کے دروازے اس کی اپنی زندگی میں کھلنے لگتے ہیں۔ اور جب وہ نفرت، حسد، بغض یا نقصان پھیلاتا ہے تو انہی چیزوں کا بوجھ اس کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ رزق، عزت، سکون اور کامیابی بھی اسی اصول کے تابع چلتے ہیں۔ آسانیاں بانٹنے والا شخص آسانیوں کا مالک بنتا ہے، مگر دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرنے والا فرد خود بھی مشکلات کے بھنور میں آ جاتا ہے۔
    تاریخ کے صفحات بھی مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی شہادت ہیں۔ روم کی عظیم سلطنت ہو یا یونان کی فکری حکومت، عرب کی وسعتیں ہوں یا منگولوں اور عثمانیوں کی شہرت، جب تک یہ انصاف، نظم اور اعتدال پر قائم رہیں، دنیا نے ان کے سامنے سر جھکایا۔ اور جب ظلم، تکبر، بددیانتی اور انسانیت سے انحراف بڑھا تو انہی سلطنتوں کے ستون زمین بوس ہو گئے۔ فرعون کے پاس طاقت بےپناہ تھی مگر تکبر نے اسے ڈبو دیا۔ ہٹلر کے پاس لشکر تھے مگر نفرت نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے برعکس نیلسن منڈیلا جیسے لوگ جن کے پاس طاقت نہیں تھی، صرف سچائی اور انصاف کا اصول تھا، وقت نے انہیں عزت، وقار اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ یہ کوئی مذہبی یا روحانی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔

    مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کسی طاقت، دولت یا رتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ کسی ذات، مذہب، علاقے یا حیثیت کے لحاظ سے فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ صرف عمل کو دیکھتا ہے، نیت کو جانچتا ہے اور پھر وقت آنے پر اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بڑا منصوبہ ساز بن جائے، کائنات کے باریک حساب سے نہیں بچ سکتا۔ انسان جو کچھ دیتا ہے، وہی ایک دن مجبوراً اس کے دروازے پر لوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہےکبھی روشنی بن کر، کبھی اندھیرا بن کر.

  • ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ، وزیراعلیٰ سندھ

    ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے المناک سانحہ گل پلازا پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت سندھ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور گل پلازا کی جگہ پر نئی سرکاری عمارت تعمیر کی جائے گی۔

    وہ کورنگی کازوے پل کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازا کے واقعے پر وہ تفصیل سے بات کریں گے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن حکومت ہر ممکن حد تک متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے ورثاء کو حکومت سندھ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کا مناسب وقت نہیں، ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ہے، بعض اوقات غیر سنجیدہ تنقید کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازا کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ گل پلازا کے ہر دکاندار کو دو ماہ تک 5،5 لاکھ روپے دے گی تاکہ وہ اس عرصے میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ دکانوں میں موجود سامان کے نقصانات کا ازالہ کراچی چیمبر آف کامرس کی مدد سے کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ مجموعی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے ان افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے متاثرہ تاجروں کو اپنی عمارتوں میں متبادل جگہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک گل پلازا کی نئی عمارت مکمل نہیں ہو جاتی، اس عرصے کے دوران دکانداروں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی رہے گی۔ دو ماہ کے اندر اندر متاثرہ تاجروں کو متبادل دکانیں فراہم کر دی جائیں گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی سہولت فراہم کی جائے گی اور نئی تعمیر میں جتنی دکانیں پہلے موجود تھیں، ان سے ایک انچ بھی زیادہ تعمیر نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ حکومتی سطح پر کوتاہیاں بھی رہی ہیں، جنہیں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ سندھ میں تمام عمارتوں کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، خاص طور پر وہ عمارتیں جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر چیک کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ سروے کے بعد عمارت مالکان کو بتایا جائے گا کہ ایک ہفتے کے اندر کون سے حفاظتی اقدامات لازم ہیں، اور جو عمارتیں ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گی، انہیں سیل کر دیا جائے گا، اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے تاجر برادری سے تعاون کی اپیل بھی کی۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے، چاہے وہ ان کے خلاف ہو یا میئر کے خلاف، تو اسے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید سب کا حق ہے، سوال ضرور کریں لیکن ایسے بیانات نہ دیے جائیں جو حالات کو مزید خراب کریں۔انہوں نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ اس حساس موقع پر ایسے سوالات نہ کیے جائیں جن سے غیر ضروری تنازع کھڑا ہو، کیونکہ یہ وقت سیاسی یا الزامی بحث کا نہیں بلکہ متاثرین کے دکھ میں شریک ہونے اور عملی اقدامات کرنے کا ہے۔

    کورنگی کازوے پل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ کورنگی کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے بعد شہر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا، جس کے حل کے لیے تین سال قبل یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل پل پر کام شروع ہوا، تاہم ڈیزائن کے کچھ مسائل درپیش تھے۔ اس منصوبے پر 6 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے اور اس سے انڈس یونیورسٹی، ایس آئی یو ٹی سمیت مختلف جامعات کے طلباء اور شہریوں کو فائدہ پہنچے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سندھ مسلسل کام کر رہی ہے اور عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم نائن تک کھول دیا جائے گا، جو شہر کے ٹریفک مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

    اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی شعبے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 7.4 فیصد پر برقرار ہے، جو پالیسی ریٹ کے حوالے سے ایک اہم اشاریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے تاہم بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور موجود ہے، جس پر اسٹیٹ بینک گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    جمیل احمد نے بیرونی شعبے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) میں کمی جبکہ درآمدات (امپورٹس) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدی دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کا بنیادی مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ پالیسی فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار، عالمی مالیاتی حالات اور اندرونی معاشی دباؤ کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

    ماہرینِ معیشت کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو وقتی استحکام ملے گا، تاہم برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کا رجحان طویل مدت میں معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

  • بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی چھت مانگنے کی درخواست مسترد

    بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی چھت مانگنے کی درخواست مسترد

    لاہور میں بسنت کی تقریبات سے متعلق ایک منفرد مگر متنازع درخواست پر سیشن کورٹ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

    ایک مقامی وکیل کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی عمارت کی چھت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی۔درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے وکیل کے مؤقف کو غور سے سنا تاہم سیشن کورٹ نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سیشن کورٹ کا احاطہ ایک انتہائی حساس اور سیکیورٹی زون ہے، جہاں عدالتی کارروائیاں اور سرکاری امور انجام دیے جاتے ہیں، ایسے میں کسی بھی قسم کی تفریحی یا عوامی تقریب کی اجازت دینا سنگین سیکیورٹی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ماضی میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس کے پیش نظر عدالتی عمارت جیسے حساس مقامات پر اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سیشن کورٹ نے مزید واضح کیا کہ قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے تحت عدالتی عمارتوں کا استعمال صرف اور صرف سرکاری و عدالتی مقاصد کے لیے مخصوص ہے، جبکہ عوامی یا تفریحی تقریبات کے لیے دیگر مناسب مقامات موجود ہیں۔