Baaghi TV

Blog

  • ایران کاکسی بھی ممکنہ جارحیت پر سخت ردعمل کا اعلان

    ایران کاکسی بھی ممکنہ جارحیت پر سخت ردعمل کا اعلان

    تہران: ایران نے کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ترجمان نے واضح کیا کہ غیر رسمی یا پرائیویٹ پیغامات کا تبادلہ باقاعدہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاملات میں شفاف، سنجیدہ اور باضابطہ سفارتی مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، جبکہ خفیہ یا غیر رسمی رابطے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس اور چین کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تعاون علاقائی استحکام، مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے، اور ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

    بیان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مغربی ممالک نے عالمی اقتصادی فورم کے ڈیووس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کو سائیڈ لائن سفارتی ملاقاتوں سے روکنے کی کوشش کی۔ ترجمان کے مطابق اس اقدام سے مغربی طاقتوں کی دوغلی پالیسی اور سفارتی عدم برداشت ظاہر ہوتی ہے، جو بامعنی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ایرانی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت، دباؤ یا دھمکی کا جواب اپنی قومی صلاحیتوں کے مطابق دیا جائے گا۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات کے بجائے مکالمے اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھے۔

  • سارا انعام قتل کیس،مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری

    سارا انعام قتل کیس،مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی،وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ ثمینہ شاہ کی بریت کی درخواست پر پہلے فیصلہ کیا جائے، جس جگہ قتل ہوا اس جگہ ثمینہ شاہ موجود تھیں،جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل سے سوال کیا کہ ثمینہ شاہ کا کردار کیا تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو بلایا۔
    وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جی ثمینہ شاہ نے ہی پولیس کو بلایا تھا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میں پہلے بریت کی درخواست پر دلائل دینا چاہوں گا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے سوال کیا کہ آپ ہمیں بتا دیں آپ کے پاس کون سا اہم ثبوت ہے،جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ گھر میں اور کون موجود تھا،وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ گھر میں اس وقت ملازم بھی موجود تھے، پہلے بریت پر دلائل ہوئے تو مرکزی کیس پر اثر پڑے گا،عدالت نے سارا انعام قتل کیس کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی،واضح رہے کہ ستمبر 2022 کو سارا انعام کو اُن کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا۔

  • یوٹیوبر رجب بٹ ،ندیم مبارک کی  ضمانت میں توسیع

    یوٹیوبر رجب بٹ ،ندیم مبارک کی ضمانت میں توسیع

    لاہور کی سیشن کورٹ نے آن لائن جوئے کی تشہیر کے مقدمے میں نامزد معروف یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانت میں 16 فروری تک توسیع کردی۔

    ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے کیس کی سماعت کی، جس میں عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر دونوں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانت میں توسیع کا حکم جاری کیا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیشی افسر کو کیس سے متعلق ریکارڈ جمع کروانے کے لیے پہلے ہی مہلت دی جاچکی ہے، تاہم مقررہ وقت میں مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا جاسکا۔ اس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو مزید مہلت دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    استغاثہ کے مطابق ملزمان پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن جوئے کی تشہیر کرنے کا الزام ہے، جو کہ ملکی قوانین کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمان نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

    ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک بے گناہ ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر کیے گئے مواد کی بنیاد پر بلاجواز مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، جبکہ کیس میں مزید تفتیش درکار ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کو عبوری ضمانت پر برقرار رکھا۔

  • بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد، فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

    بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد، فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

    بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد، فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    63 فٹبالرز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت کے لیے 6 رکنی غیر ملکی کوچنگ ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ 12 خواتین کھلاڑیوں سمیت نوجوان فٹبالرز کی فنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح تک لے جائیں گے،بلوچستان کے کھیل کے میدانوں میں ایک بار پھر رونق لوٹ رہی ہے، 63 فٹبالرز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت کا آغاز، 12 خواتین کھلاڑی بھی پروگرام کا حصہ ہیں، 6 رکنی غیر ملکی کوچنگ ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی، جدید ٹریننگ سے فٹبالرز کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا،غیر ملکی کوچز کی نگرانی میں جدید اور پروفیشنل ٹریننگ سیشنز کا انعقاد خوش آئند ہے، تربیتی سیشنز سے کھلاڑیوں کے حوصلے، اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت میں نمایاں بہتری آئے گی،صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے، بلوچستان کے کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے،

  • سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

    سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

    سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا، مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتے ہیں، نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا۔سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتا ہے، مالک کے انتقال کے بعد نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں، متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی نہیں۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس سنا، جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا دورہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا دورہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا دورہ کیا، انہوں نے پاسپورٹس درخواستوں، پرنٹنگ اور کارکردگی کے جدید ترین مانیٹرنگ نظام کا افتتاح کردیا۔

    وزیر داخلہ نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں 24/7 مانیٹرنگ روم اور کال سینٹر فعال کردیا، محسن نقوی کی ہدایت پر ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹ نظام کو بھی ڈیجیٹل کردیا گیا۔وزیر داخلہ نے ای مانیٹرنگ روم، کال سینٹر، فارنزک لیب اور جدید پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان پاسپورٹ سسٹم کو عالمی نظام کے مطابق ڈھال دیا گیا، نئے نظام سے پاسپورٹ درخواستوں، ڈیلیوری کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو عالمی معیار کی تیز اور محفوظ خدمات کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں، پاسپورٹ کے سیکیورٹی فیچرز کو آئی سی اے او اسٹینڈرڈز کے مطابق بنایا گیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ جدید جرمن مشینوں سے محکمے کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے، آٹومیٹک مشینوں سے پاسپورٹ پرنٹنگ پراسیس سے انسانی مداخلت کو مکمل ختم کردیا گیا ہے۔

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ

    اسلام آباد: سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ کر دی گئی۔

    اسپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے شاہ رخ ارجمند نے فراڈ کے مقدمے میں نجف حمید کی ضمانت سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کر لی۔ رپورٹ کے مطابق نجف حمید عدالتی کارروائی کے دوران عدالت میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے فریقین کے درمیان صلح کی بنیاد پر نجف حمید کی ضمانت منظور کی تھی، تاہم بعد ازاں ایف آئی اے کی درخواست پر ضمانت منسوخ کرنے کا فیصلہ سنایا گیا۔ مقدمے کی مزید کارروائی آئندہ تاریخ پر متوقع ہے۔

  • شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر ہلاک

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر ہلاک

    شمالی وزیرستان کے علاقے بکاخیل میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت غفور عرف اجاز کے نام سے ہوئی ہے، جو ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر تھا اور متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غفور عرف اجاز کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے سیدگئی سے تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کا کمانڈر مارا گیا، جبکہ دیگر دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا کمانڈر شمالی وزیرستان اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری میں سرگرم تھا۔ کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز بلا تفریق جاری رہیں گے اور ملک دشمن عناصر کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ مقامی لوگوں نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے علاقے میں امن کے قیام کے لیے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

  • وفاقی آئینی عدالت،سہیل سلطان کیخلاف الیکشن کمیشن کو  کیس سننے سے روک دیا

    وفاقی آئینی عدالت،سہیل سلطان کیخلاف الیکشن کمیشن کو کیس سننے سے روک دیا

    وفاقی آئینی عدالت نے این اے 4سوات سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کیخلاف الیکشن کمیشن کو تاحکم ثانی نااہلی کیس سننے سے روک دیا. عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی .

    این اے 4 سوات سے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کیخلاف نااہلی ریفرنس کے معاملہ پر وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی.کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر سہیل سلطان کی طرف سے وفاقی آئینی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ جب انتخابات ہو جائیں تو آرٹیکل 199 کے تحت رٹ دائر ہوسکتی ہے،اسپیکر کو ریفرنس بھیجنے کا اختیار ہی نہیں تھا،نواز شریف کیس میں بھی سپریم کورٹ یہ اصول طے کر چکی ہے. عدالت اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیا.سہیل سلطان پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ بننے کے بعد دو سال کی پابندی پوری نہ کرنے کا الزام تھا. الزام تھا کہ دو سال کی پابندی پوری کیے بغیر الیکشن میں حصہ لیا گیا. واضح رہے الیکشن کمیشن نے کل منگل کو کیس سماعت کیلئے مقرر رکھا تھا.

  • ٹرمپ کے   کلب میں خوش آمدید  ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ٹرمپ کے کلب میں خوش آمدید ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    انوار الحق کاکڑ 14 اگست 2023 سے 3 مارچ 2024 تک پاکستان کےآٹھویں نگراں وزیر اعظم رہے ،انوار الحق کاکڑ کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے نمائندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کیلئے ان کا نام شہباز شریف نے دیا تھا اور شہباز شریف کن کے آدمی ہیں آج اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے۔ نگران وزیر اعظم کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے ذریعے دیا جانا تھا اور راجہ ریاض نے صادق سنجرانی سمیت 2 قریبی ساتھیوں کے نام دئیے تھے جبکہ شہباز شریف نے دوسری ملاقات میں راجہ ریاض کو انوارالحق کاکڑ کے نام کی پرچی دیکر کہا تھا کہ نام تجویز کریں، انوارالحق کاکڑ کے علاوہ شہباز شریف نے راجہ ریاض کو کوئی اور نام دیا ہی نہیں تھا، اب آپ کو واضح ہو جانا چاہیے کہ کاکڑ صاحب کتنے اہم ہیں اور کن کے اہم ہیں۔

    چوبیس جنوری 2026 کو انوار الحق کاکڑ نے ایک سخت بیان دیا جو کہ ان کا اپنا تجزیہ یا موقف نہیں بلکہ انہی اہم لوگوں کا پیغام تھا جنہوں نے نگران وزیر اعظم بنوایا تھا، کاکڑ صاحب نے نرم لہجے میں گرم بات کر کے بتایا کہ ٹرمپ کے غزہ پیس پلان میں شامل ہونا حکومت کا فیصلہ ہے کل کو اس کے نتائج بھی حکومت کو ہی بھگتنے پڑیں گے، کاکڑ صاحب کا یہ بیان ایک دھماکہ ہے ان لوگوں کیلئے جو آج ٹرمپ اور امریکہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ 28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے امریکہ کی مخالفت کر کے ایٹمی حملے کر دئیے تو جنگ نیوز کی شہہ سرخی تھی کہ پاکستان کی امریکہ کو جھنڈی۔آج کے منظر نامے کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ دشمن ملک کو یہ موقع نہ مل جائے کہ اپنے اخبارات میں شہ سرخی لگائیں کہ امریکہ کی مشرقِ وسطی کو جھنڈی ۔ معذرت کہ ساتھ کہ عامر خان کی فلم پی کے کا یہ ڈائیلاگ تو نہیں کہہ سکتا کہ سرفراز دھوکہ دے گا لیکن یہ بات میں بہت سوچ سمجھ کہ کہہ رہا ہوں کہ امریکہ پاکستان کو دھوکہ دے گا۔ اور اسی بات کا خطرہ انوار الحق کاکڑ کو ہے دوسری جانب بڑوں نے انوارالحق کاکڑ کے ذریعے پیغام پہنچا کر خود کو بیچ میں سے نکال دیا ہے کہ یہ فیصلہ تو در اصل حکومت کا ہے مقتدرہ کا نہیں۔ کل جب اللہ نہ کرے بُرا وقت آئے گا تو بڑے بیچ میں سے نکل جائیں گے اور ووٹ کو عزت دینے والوں کا نعرہ واپس آ جائے گا اور عمران خان کی طرح کہہ رہے ہوں گہ ہمیں استعمال کیا گیا تھا۔

    انوار الحق کاکڑ مارچ 2018 میں مسلم لیگ ن کی حمایت سے آزاد حیثیت سے چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اسی مہینے وہ مسلم لیگ ن سے منحرف ہونے والے اس گروپ کا حصہ بن گئے تھے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ سیاست کی نگری میں احسان کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ طاقت اور طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ہی کامیابی کا راز ہے کیو نکہ وہ کہتے ہیں ہو جا تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔مجھے کبھی لگتا ہے کہ اُن کو بھی امریکہ کی چالوں کا پتہ ہے لیکن وہ نزلہ کبھی بھی خود پر نہیں آنے دیں گے۔

    مسلم ممالک میں امن کے نام پر پچھلے 60 سالوں میں جو اُدھم مچا ہوا ہے اس کی کوئی بات نہیں کرتا ، امریکہ اور مغرب ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نام پر آئے ، پچھلے چالیس سال سے امن کے نام پر سوا پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کو مار دیا ہے۔ مغرب کے کسی ملک میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی جہاں پچھلے چالیس سال میں جہاں امریکہ نے مداخلت کر کے کہا ہو کہ امن کیلئے ہم آئے ہیں پھر اسی ملک پر قبضہ کر لیا ہو۔ پہلے افغانستان، پھر شام، عراق اور ایران میں آج کچھ جاری ہے سب کے سامنے ہے۔ صر ف غزہ فلسطین میں 62 ہزار سے زائد لوگ شہید اور 31 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن تب امریکہ اور ان مغربی طاقتوں کو امن یا د نہیں آیا ، آج غزہ بورڈ آف پیس کے نام سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ذاتی کلب بنا چکے ہیں جس میں 60 ہزار بچوں اور خواتین کا قاتل نیتن یاہو بھی شامل ہے۔

    الجزیرہ نے پیس بورڈ تقریب کے دن ہی ٹرمپ کے اس ڈھونگ کا پردہ فاش کیا اور بتایا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں 11 صفحات کے چارٹر میں جس میں8 چیپٹر اور 13 آرٹیکل ہیں ، ایک بار بھی غزہ کا نام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسا غزہ امن بورڈ ہے جس میں غزہ ہی شامل نہیں جبکہ ظلم کرنے والا اسرائیل اور اسکا حمایتی امریکہ شامل ہے۔ جس دن بورڈ پر دستخط کیلئے ایک میدان لگا اسی دن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ ۔ جابر بادشاہوں اور قانون کو مطلوب مجرموں کا گروہ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہو گیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی 8 قرار دادیں امریکہ نے جبکہ 6 اسرائیل نے ویٹو کیں اب وہی امریکہ غزہ میں امن لائے گا، کیسا انصاف اور نظام جبکہ اس کو ماننے والے اندھے، گھونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔ نائب وزیر اعظم آئرلینڈ نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔

    دنیا میں یہودی آبادی کل ڈیڑھ کروڑ کے قریب جبکہ مسلمان دو ارب ہیں۔ یہودی حاکم اور غالب ہیں جبکہ مسلمان محکوم اور مغلوب۔ ایسا کیوں؟ یروشلم پوسٹ جو کہ اسرائیل کا اخبار ہے اس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی آذربائیجان سے تیل کی درآمد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل ترک بندرگاہ کے ذریعے آذربائیجان سے تیل درآمد کرتا ہے، اسرائیل اپنے ضرورت کا 46% تیل آذربائیجان سے خریدتا ہے ۔میری نظر میں غزہ و فلسطین کو دھوکہ دینے والے سب سے بڑے منافق یہ مسلم ممالک ہیں ۔سب مسلم ملک ساتھ مل گئے اور کافر سمجھے جانے والے ممالک ظلم کے خلاف کھڑا ہونے سے انکاری ہیں۔

    جس دن غزہ امن بورڈ پر دستخط ہو رہے تھے اس دن غزہ میں اسرائیل کے حملے سے 11 فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں چھ بہنوں کا 17 سالوں کے بعد پیدا ہونے والا والدین کا اکلوتا بیٹا شدید سردی سے جاں بحق ہو گیا۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ کونسا امن اور کونسا بورڈ؟ آپ اندازہ کریں صرف وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر شپ، آمرانہ نظام، شاہی حکومتیں، ہابرڈ نظام والا ڈرامہ ہے وہ ہی ٹرمپ کے ساتھ اس بورڈ میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان اسرائیل،اردن،آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، ویتنام،قازقستان،ارجنٹینا،بیلاروس، مراکش ۔تو کیا فرانس، برطانیہ، اٹلی میں اتنے بڑے غزہ کے حق میں جو مظاہرے ہوئے تھے وہ لوگ اور حکمران اسرائیل ، امریکہ کی چالوں سے واقف نہیں تھے ؟

    کہتے ہیں کہ جب تک کوئی مشورہ نہ مانگے تو نہیں دینا چاہیے لیکن میں ملک کی محبت میں طاقتوروں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی وقت آپ کا ہے ۔سوچ لیں کہ مستقبل قریب میں یہ نہ کہنا پڑے کہ ہمیں ڈیووس میں زبردستی لے جا یا گیا تھا اور ہم مجبور تھے اور اگر مجبور ہیں تو انوارالحق کاکڑ کی بات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے اور پاکستانی معاشروں میں ماؤں کی عزت کیا ہے یہ لیکچر ہمیں آج سے 78 سال پہلے ایک سیاستدان نے دیا تھا۔ لہذا اگر مجبوری ہے تو بتائیں کہ مجبور کیوں ہوئے اور کس کے کہنے پر ؟ اور اگر اتنے مجبور ہیں کہ زبان پر کچھ نام آتے ہی پھسل جاتی ہے تو پھر آپ سب کو صدر ٹرمپ کے ذاتی کلب میں خوش آمدید۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں