Baaghi TV

Blog

  • مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مختلف علاقوں میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز سامنے آئے ہیں، جن میں کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ پوسٹرز حریت پسند تنظیموں کی جانب سے آویزاں کیے گئے ہیں پوسٹرز میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر شامل ہیں۔

    پوسٹرز میں Thank You Pakistan‘،’ A Bond of Blood and Belief ‘اور’ Pakistan supports Kashmir’s right to decide — Let the people choose ‘جیسے جملے شامل ہیں–

    پوسٹرز میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ اجاگر کر رہا ہے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں،پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ پوسٹرز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دو قومی نظریے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اکتوبر 1947 میں اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا۔

    پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا، جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب ومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کے شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار ایک پر جوش اور پرتپاک انداز میں کیا۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بہادر کشمیری اکیلے نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی عوام ان کے دکھ، درد اور جدوجہد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کی آواز بن کر دنیا تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پیغام میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی گئی ہے،کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کی یہ قربانیاں آزادی کے عزم کو مزید مضبوط کر رہی ہیں، کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ رشتہ مضبوط ہے اور کبھی کمزور نہیں ہو سکتا سبز ہلالی پرچم سے وابستہ امید آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے، کشمیری دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں کشمیری عوام ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر آزادی کی صبح دیکھے گا۔

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    ساق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے فراڈ کیس میں ضمانت بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    نجف حمید نے ایف آئی اے مقدمے میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا، نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا،اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔

    درخواست میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے نجف حمید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ قانون پسند شہری ہوں، بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا، اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کیا جائے۔

  • گمراہ کن مواد پھیلانے پر اداکار راشد محمود یوٹیوبر پر پھٹ پڑے

    گمراہ کن مواد پھیلانے پر اداکار راشد محمود یوٹیوبر پر پھٹ پڑے

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اور معروف اداکار راشد محمود نے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز اور یوٹیوبرز کے خلاف شدید ردِعمل دیتے ہوئے گمراہ کن مواد پھیلانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس عمل کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں راشد محمود کا کہنا تھا کہ بعض ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز محض ویوز اور شہرت کے حصول کے لیے ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، جس سے ان کی برسوں پر محیط محنت، عزت اور وقار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔راشد محمود نے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ “صرف ویوز کے لیے میری پوری زندگی کی کمائی ہوئی عزت پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ براہِ مہربانی کوئی مجھ سے رابطہ نہ کرے، میں صحت یاب ہو رہا ہوں۔”

    اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں سینئر اداکار نے واضح کیا کہ وہ گزشتہ 21 دن سے بستر پر ہیں اور اس دوران بعض یوٹیوبرز نے ان کی صحت سے متعلق معاملات کو سنسنی خیز سرخیوں کے ذریعے پیش کیا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی قسم کی مالی مدد کے محتاج ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔انہوں نے کہا کہ “میں نے نہ کسی سے ایک پیسہ مانگا ہے اور نہ ہی مجھے کسی قسم کی مالی مدد درکار ہے۔ میرے انٹرویوز سادہ اور عام نوعیت کے ہوتے ہیں، مگر ان پر لگائی جانے والی سرخیاں حقیقت کے بالکل برعکس ہوتی ہیں۔”راشد محمود کے مطابق انہیں ایک بے بس اور لاچار شخص کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو ان کی عزتِ نفس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ان کی زندگی بھر کی محنت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

    سینئر اداکار نے تمام یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کری ایٹرز سے پرزور اپیل کی کہ کوئی بھی ان کے پاس نہ آئے اور نہ ہی ان کے نام پر سنسنی پھیلائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “مجھے کسی کی ہمدردی یا شہرت کی بنیاد پر بنائے گئے مواد کی ضرورت نہیں، میں صرف سکون اور صحت چاہتا ہوں۔”

    ویڈیو پیغام کے اختتام پر راشد محمود نے کہا کہ وہ اب پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں اور جلد مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ سے صحت کی دعا کرتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ان کے نام پر گمراہ کن مواد کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات میں نامزد معروف ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے نام سفری پابندی کی فہرست (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے نام غیر قانونی طور پر سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث انہیں بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور کسی بھی تفتیش سے فرار کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

    رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور ایڈووکیٹ احد کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواستوں میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو صرف انتہائی نوعیت کے معاملات میں کیا جانا چاہیے، جبکہ موجودہ حالات میں اس کی کوئی معقول قانونی وجہ موجود نہیں۔

  • وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد،وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ 10کلومیٹرکاشہرہے ،اتنا بڑا آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹرکے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کرسکتا،حلقہ بندیاں تودوہفتوں میں ہوسکتی،جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ وفا نہیں کیا میں ہائیکورٹ سے سپریم کا جج بنااورپھرآئینی عدالت لیکن الیکشن نہ ہوئے،جسٹس روزی خان نے کہا کہ کیس کو 5 سال تک تو التوا میں نہیں رکھ سکتے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ابھی تو اسلام آباد اور پنجاب میں کام کر رہے ہیں،نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں،

  • جرح کے نام پر گواہوں  کو ہراساں کرنا  ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔

    عدالت نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا یہ فیصلہ قانونی دائرہ اختیار کے اندر ر ہتے ہوئے کیا گیا گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے ۔ عدالتی نظام ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دے سکتا عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جس کا استعمال اس کیس میں درست طور پر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2 ماہ کے عرصے میں 7 سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی، جسے ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری قرار دیا۔

    کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔

  • نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی نظر ثانی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ نے نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی،عدالت نے وقت کی کمی کے باعث سماعت ملتوی کر دی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کرنا تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کروایا، سپریم کورٹ سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اس متفرق درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت دینے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ پر انحصار کیا گیا، ویڈیوز ٹرائل کے دوران درست ثابت بھی نہیں کی گئیں، ملزم کو ویڈیو ریکارڈنگز فراہم بھی نہیں کی گئیں وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران عدالت میں کبھی وہ ویڈیوز چلا کر بھی نہیں دیکھی گئیں، فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، عدالت اپنے 20 مئی کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

    یاد رہے کہ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سنایا تھا جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہے، جب کہ اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا ہے، عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھاعدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار نے جتنی سزا کاٹ لی، وہ کافی ہے، شریک ملزمان کو عدالت کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد رہا کردیا جائے۔

  • آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    پسند کی شادی سے متعلق کیس ،وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی ماریہ کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    عدالت نے لڑکی کے والدین کو مبینہ جعلی نکاح پر متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کر دی، لڑکی ماریہ نے کہا کہ مجھے اغواء نہیں کیا گیا مرضی سے شہریار سے شادی کی۔وکیل والدین نے کہا کہ بچی کی عمر بارہ سال ہے،کم سن بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا ،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم 10 سال کی تاخیر سے لیا گیا،
    لڑکی 12 سال کی کسی طرح سے نہیں لگتی۔لڑکی نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان دیا۔لڑکی کہہ رہی ہے وہ اغواء نہیں ہوئی۔لڑکی خود کو بالغ بتا رہی ہے،لڑکی کی شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہے۔آئینی عدالت نے پسند کی شادی کا کیس نمٹا دیا

  • خیبر: باڑہ قمبرخیل شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    خیبر: باڑہ قمبرخیل شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے قمبرخیل شنکو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشوں پر گولیوں کے واضح نشانات موجود ہیں، جس سے ابتدائی طور پر یہ واقعہ فائرنگ کا معلوم ہوتا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مزید تفتیش جاری ہے۔

  • بلوچستان حملوں کی عالمی مذمت،بھارت،فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچستان حملوں کی عالمی مذمت،بھارت،فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت،بھارت اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑایک بار پھر بے نقاب ہو گیا

    امریکا، چین،روس، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کی جانب سے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی،امریکہ کی چارج ڈی افیئرز ناتالی بیکر نے کہا کہ امریکا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کی ناصرف شدید مذمت کرتا ہے بلکہ پاکستان کیساتھ یکجہتی میں شریک ہے،چین کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا،چین نے واضح کیا کہ:چائنا ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہوئے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے گا،روس کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی،سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے بھی بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی،برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے ساتھ ہے

    دوسری جانب بھارتی میڈیا اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بلوچستان واقعہ کے فوراََ بعد منظم اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کیا گیا،بھارتی ریاست کی سرپرستی میں دہشت گردوں کو مظلوم ظاہر کرنے کی مذموم کوششیں بے نقاب ہوچکی ہیں

    ماہرین کے مطابق بھارتی پروپیگنڈا دہشت گردی کے فروغ کیلئے جاری ایک منظم ڈس انفارمیشن اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے،بھارت خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کیلئے دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل پشت پناہی کر رہا ہے ، بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا مقصد بلوچستان میں امن، ترقی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے