Baaghi TV

Blog

  • مجھے نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہے،علیمہ خان

    مجھے نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے ہمیں عمران خان کی ٹریٹمنٹ نہیں رہائی چاہیے۔

    اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا مشال یوسفزئی جن کی ہدایات پر جھوٹ بولتی ہیں وہ ان کی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہے،مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو علیمہ خان کا ٹارگٹ ملا ہوا ہے، عمران خان نے جیل میں کہا تھا جاکر ان کو بتاؤ کہ استعمال کرنے کے بعد انہیں کرش کردیا جائےگا، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ سے متعلق گزشتہ منگل کو اڈیالہ آکر پتہ چلا، میں آج بھی پوچھ رہی ہوں یہ خبر کیسے لیک ہوئی اور کس نے کی؟ میں آج بھی کہتی ہوں یہ خبر توجہ ہٹانے کیلئے لیک کی گئی۔

    ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان نے کہا سہیل آفریدی نے جمعرات کو دھرنے کا فیصلہ کیا تھا، میں نے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دی تھیں، انہوں نے 8 فروری کے پروگرام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے، ہم اگر ان پر دباؤ نہیں ڈالیں گے یہ ہمارے ساتھ یہی کریں گے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی ٹریٹمنٹ نہیں رہائی چاہیے، یہ خوفزدہ ہیں اسی لئے کہتے ہیں ملاقات نہیں ہو گی۔

  • دہشتگردی کا حقوق یا محرومی سے کوئی تعلق نہیں، طلال چوہدری

    دہشتگردی کا حقوق یا محرومی سے کوئی تعلق نہیں، طلال چوہدری

    
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کا محرومی، حقوق یا کسی سیاسی جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا واحد مقصد بھتہ خوری، لوٹ مار اور خوف پھیلانا ہے۔
    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر لاپتا افراد اور محرومی کا بیانیہ استعمال کر کے دہشتگردی کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ بیانیہ اب نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں کسی عوامی حق یا فلاح کے لیے نہیں بلکہ اپنے مالی مفادات کے لیے کارروائیاں کرتی ہیں۔
    ‎وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، بھتہ وصول کرنے اور بدامنی پھیلانے کے لیے دہشتگردی کا سہارا لیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ عناصر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مظلومیت کا لبادہ اوڑھتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل چہرہ لوٹ مار اور تشدد ہے۔
    ‎طلال چوہدری نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے علاوہ پوری دنیا نے ان واقعات کی مذمت کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری دہشتگردی کے اصل محرکات سے بخوبی آگاہ ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز نے قربانیاں دی ہیں اور دہشتگردی کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

  • اگر راستے میں ایک ہندوستانی  اور ایک سانپ ملے، تو پہلے ہندوستانی کو مارو،سینئیر سفارتکار

    اگر راستے میں ایک ہندوستانی اور ایک سانپ ملے، تو پہلے ہندوستانی کو مارو،سینئیر سفارتکار

    ناروے کے سفارتکار نے جیفری ایپیسٹن فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ کسی ہندوستانی اور سانپ سے ملیں تو پہلے ہندوستانی کو ماریں۔

    بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے حالیہ انکشاف نے پوری دنیا، خاص طور پرہندوستان میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے عوام کے لیے جاری کیے گئے 30 لاکھ صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں ناروے کے سابق بااثر سفارتکار ٹیرجے روڈ لارسن کا ایک ای میل سامنے آیا ہے، جس میں ہندوستانیوں کے خلاف انہوں نے تبصرہ کیا ہے-

    روس کے سرکاری میڈیا آر ٹی (RT) کے مطابق، 25 دسمبر 2015 کو ٹیرجے روڈ لارسن نے جیفری ایپسٹین کو ایک ای میل بھیجی تھی۔ یہ ای میل اس وقت بھیجی گئی جب ایپسٹین نے ایک ہندوستانی سیاستدان کا پیغام لارسن کو فارورڈ کیا تھا جواب میں لارسن نے ایک کہاوت استعمال کرتے ہوئے لکھا:کیا تم نے یہ کہاوت سنی ہے اگر راستے میں ایک ہندوستانی اور ایک سانپ ملے، تو پہلے ہندوستانی کو مارو۔

    ٹیرجے روڈ لارسن ناروے کے ایک بہت ہی بااثر سفارتکار رہے ہیں انہیں 1990 کی دہائی میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی تاریخی ‘ اوسلو امن عمل ‘ کا مرکزی شخص سمجھا جاتا ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں سفیر اور مشرق وسطی امن عمل کے خصوصی رابطہ کار جیسے بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ 2020 تک وہ انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر تھے، لیکن ایپسٹین کے ساتھ ان کے مالی تعلقات کی خبر آنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیاتھا۔

    حال ہی میں جاری ہونے والے ان دستاویزات میں صرف لارسن ہی نہیں بلکہ کئی دیگر جگہوں پر بھی ہندوستان کا ذکر آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایپسٹین ہندوستان ، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پردے کے پیچھے اپنا اثر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    جیفری ایپسٹین ایک امریکی فنانسر تھا، جس پر نابالغوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے۔ 2019 میں جیل میں اس کی مشکوک موت کے بعد ہی اس کے بااثر روابط کی تحقیقات چل رہی ہیں۔ اب امریکی قانون کے تحت جاری کیے گئے ان دستاویزات میں دنیا کے بڑے رہنماؤں، صنعتکاروں اور مشہور شخصیات کے نام سامنے آ رہے ہیں جو کسی نہ کسی طرح ایپسٹین کے رابطے میں تھے۔

  • پی آئی اے اور ایئر فرانس کے درمیان اہم کارگو معاہدہ طے

    پی آئی اے اور ایئر فرانس کے درمیان اہم کارگو معاہدہ طے

    قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے عالمی ایوی ایشن گروپ ایئر فرانس–کے ایل ایم سے کارگو اشتراک کر لیا۔

    پی آئی اے اور ایئر فرانس–کے ایل ایم کا کارگو معاہدہ 15 جنوری سے نافذ العمل ہوگیا معاہدے کے تحت پی آئی اے کارگو کو ایئر فرانس–کے ایل ایم کے عالمی نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی پاکستانی مصنوعات کی برآمدات اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں نمایاں بہتری متوقع ہے،برآمد کنندگان ایک ہی ایئر وے بل پر پی آئی اے اور ایئر فرانس–کے ایل ایم نیٹ ورک استعمال کر سکیں گے۔

    پی آئی اے کارگو دبئی، ریاض یا دمام کے ذریعے ایئر فرانس–کے ایل ایم نیٹ ورک سے منسلک ہوگئی نیٹ ورک میں ایمسٹرڈیم، پیرس، برسلز، فرینکفرٹ، اسٹٹگارٹ اور ڈسلڈوف شامل ہیں جبکہ امریکا کے اہم شہر نیویارک، اٹلانٹا اور لاس اینجلس بھی نیٹ ورک کا حصہ ہیں،معاہدہ قومی ایئر لائن کی کارگو صلاحیتوں میں اہم پیش رفت ہے۔

  • میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے،وزیر قانون

    میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے،وزیر قانون

    اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے خود خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے پمز اسپتال میں لے جائیں اور علاج وہی سے کروایا جائے، میرے وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو کہا کہ وہ ای ڈی پمز کے ساتھ پریس کانفرنس کریں، میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے-

    سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا اگر امن وامان کی صودتحال کا مسئلہ تو مجھے شام کو لے جائیں پمز کے ای ڈی نے یہ باتیں ایک پریس کانفرنس میں کی ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ بھی کوئی مسئلہ آیا تو انہیں یہ سہولیات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی کو ایک مسئلہ سامنے آیا جس پر انہوں نے خود کہا مجھے یہ انجکشن پمز سے لگوایا جائے بلاشبہ آئین پاکستان ہر شخص کو حقوق دیتا ہے، حقوق کا اطلاق بھی آئینی طریقہ ہے، سابق وزیراعظم کو ایک پروسیجر اپنا کر عدالت نے سزا دی ہے، ان کے خلاف ساڑھے چار کروڑ کے ہیروں کے ہار کو بہت کم قیمت میں بیچنے کا کیس ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ سزا یافتہ مجرم کی ذمہ داری اپیلٹ کورٹ کو ہوتی ہے، قیدی کو سہولیات نا ملنے کا معاملہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے پوچھا جا سکتا ہے رانا ثناء اللہ کو جب گرفتار کیا گیا تو انہیں کچھ دن پہلے آنکھ کا فالج ہوا تھا، میں نے مجسٹریٹ کو بھی کہا لیکن مجسٹریٹ صاحب نے آئیں بائیں شائیں کی، رانا ثناء اللہ کو باون ڈگری کے ٹمپریچر میں زمین پر سلایا جاتا تھا اور جیل ڈاکٹر سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا تھا، رانا ثناء اللہ پر منشیات کا کیس ڈالا گیا تھا۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے وزیراعظم نے تو کبھی نہیں کہا انہیں طبی سہولیات نا دی جائیں، میرے وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو کہا کہ وہ ای ڈی پمز کے ساتھ پریس کانفرنس کریں، میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہےجیل سپرنٹنڈنٹ نے قیدی کی ہدایت پر پمز اسپتال سے علاج کروایا اور ان کا پروسیجر کامیاب ہوا ہے، انہیں مزید کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

  • جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرا افسر ،تیرا افسر،ہرادارے میں ذاتی مفادات کو تقرری کی بنیاد بنادیا گیا
    ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے سیاسی مداخلت بند کرنا ہوگی،میرٹ ناگزیر
    ترقی یافتہ دنیا میں نظام شخصیات کے گرد نہیں ،قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    میرٹ کے بغیر نظام، نظام کے بغیر ریاست،پاکستان میں ریاستی اداروں کی کمزوری، انتظامی انتشار اور عوامی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ میرٹ کی مسلسل پامالی ہے،بیوروکریسی ہو یا پولیس، سول انتظامیہ ہو یا دیگر ریاستی ادارے،تقریباً ہر جگہ تقرریوں اور تبادلوں میں اصولوں کے بجائے پسند و ناپسند، سیاسی وابستگی اور ذاتی تعلقات کو فوقیت دی جا رہی ہے،یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں نہ سینئر افسر کے تجربے اور سروس ریکارڈ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی جونیئر افسر کی پیشہ ورانہ اہلیت کو، جب ایک سینئر افسر کو نظرانداز کر کے اس کے ماتحت کو محض من پسند بنیادوں پر اس کے اوپر تعینات کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے ادارے کو پہنچتا ہے، ایسے فیصلے ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مجروح کرتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد کو کمزور نہیں بلکہ عملاً ختم کر دیتے ہیں،دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ادارے افراد سے بالاتر ہوتے ہیں، وہاں نظام شخصیات کے گرد نہیں بلکہ قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں ’’یہ میرا افسر‘‘ اور ’’وہ تیرا افسر‘‘ کی سوچ نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کا میدان بنا دیا ہے، نتیجتاً پولیس غیر مؤثر، بیوروکریسی دباؤ کا شکار اور عوام انصاف سے مایوس دکھائی دیتے ہیں،اس صورتحال کو جمہوریت کا نام دینا خود جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے، جمہوریت کا بنیادی تقاضا اداروں کی خودمختاری، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی ہے، اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں، وفاداری کو قابلیت پر ترجیح دی جائے اور قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے،پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکومتی بحرانوں کا حل مزید دعوئوں یا بیانات میں نہیں بلکہ عملی اصلاحات میں مضمر ہے، جب تک اقربا پروری کو ریاستی سطح پر مسترد نہیں کیا جاتا، جب تک سیاسی مداخلت سے پاک اور آئین و قانون کے مطابق نظام نافذ نہیں ہوتا، اور جب تک میرٹ کو واقعی قومی پالیسی کا درجہ نہیں دیا جاتا،تب تک ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،اب وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ریاست کو ایک منظم نظام کے تحت چلایا جائے، میرٹ کے بغیر ادارے نہیں چلتے، اداروں کے بغیر ریاست نہیں بنتی، اور ریاست کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں

  • گزشتہ 3 سالوں  میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے کتنی منشیات ضبط کی؟

    گزشتہ 3 سالوں میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے کتنی منشیات ضبط کی؟

    اسلام آباد:گزشتہ 3 سالوں کے دوران اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کی کاروائیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئی۔

    منشیات اسمگلنگ کی روک تھام اور تدارک کے لیے انٹیلیجنس بنیاد پر چھاپہ مار کاروئیاں کی گئیں،اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کے چھاپوں میں 307 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔

    گزشتہ تین سالوں میں اسلام آباد کی تعلیمی اداروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں 214 کیسز درج ہوئے اور 263 گرفتار ہوئےسال 2023 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 3 کلو ڈرگ ضبط کی گئی، 4 افراد گرفتار ہوئے اور 4 کیسز بنے۔ 2024 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 176 کلو منشیات ضبط ہوئی اور 102 کیسز درج ہوئے اور 125 گرفتار ہوئے جبکہ 2025 میں 307 کلو گرام منشئات ضبط کی گئی، 108 کیسز بنے، 134 گرفتار ہوئے۔

    سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کا بھی امکان

    بھارتی گروہ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

  • سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کا بھی امکان

    سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کا بھی امکان

    نئے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی تعیناتی کے بعد اب کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کی تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نئے آئی جی اور سی سی پی او لاہور دونوں کا تعلق 24 ویں کامن سے ہے پنجاب حکومت نئے سی سی پی او لاہور کے ناموں پر غور کر رہی ہے جبکہ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی سمیت دیگر ناموں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

    امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی بھی جلد متوقع ہے اسی دوران، ڈی جی ایف آئی اے کے تبادلے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہےڈاکٹر عثمان انور کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ رفعت مختار کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی تقرری پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پنجاب پولیس کو نئی شکل دی اور عوامی خدمت اور اصلاحات کے نئے معیار قائم کیے ڈی جی ایف آئی اے کا عہدہ سنبھالتے ہی ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور قومی ذمہ داری کے لیے عثمان انور کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرکے راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے ڈاکٹر عثمان انور کو جنوری 2023 میں آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا تھا۔

  • بھارتی گروہ کینیڈا سمیت  مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    بھارتی گروہ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

    آسٹریلوی جریدے اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث مقامی کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔

    اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کے مطابق کینیڈا کے شہر سرے میں رواں سال جنوری سے اب تک بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کے 35 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ صوبہ اونٹاریو میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز سامنے آ چکے ہیں، کینیڈا میں سرگرم بدنام زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ منظم جرائم اور بھتہ خوری میں ملوث ہے بعض سکھ تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ بھارتی حکومت کی ایما پر کینیڈا میں خالصتان حامی کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    کینیڈین صحافیوں کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں بھی متعدد بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مفادات کے لیے ان جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کر رہی ہے۔

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ممالک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا استعمال بھارت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہا ہے بھارتی شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے بڑھتے واقعات میزبان ممالک کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔

  • شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    بھارت میں ایک خاتون نے شوہر کے مزاحیہ انداز میں انہیں ’بندریا‘ کہنے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ بھارت اترپردیش کے شہر لکھنؤ کے اندرا نگر علاقے میں پیش آیا،ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر کا ماحول خوشگوار تھا اور ہنسی مذاق جاری تھا۔ اسی دوران شوہر نے مزاحیہ انداز میں اپنی اہلیہ کو ’بندریا‘ کہہ دیا، جس سے تنو سنگھ شدید صدمے کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔

    رپورٹس کے مطابق تنو سنگھ ماڈل بننے کی خواہشمند تھیں اور اپنے جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں۔ وہ اپنے شوہر راہول سنگھ کے ساتھ اندرا نگر میں رہائش پذیر تھیں تنو کی بہن انجلی نے بتایا کہ بدھ کی شام خاندان والے سیتا پور میں ایک رشتہ دار کے گھر سے واپس آئے۔ گھر پہنچنے کے بعد سب لو گ ادھر ادھر بیٹھے خوشگوار ہنسی مذاق میں مصروف تھے، اسی دوران شوہر نے مذاقاً تنو کو ’بندریا‘ کہا، جس سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئیں اور غصے میں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

    ابتدائی طور پر خاندان کے افراد یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ جلد معمول پر آجائیں گی، اس لیے کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی تقریباً ایک گھنٹے بعد، جب کھانے کے لیے بلایا گیا اور کوئی جواب نہ آیا، تو گھر والوں نے کمرے میں جا کر دیکھا کہ تنو کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی تنو اپنے کیریئر اور جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں اور اسی وجہ سے شوہر کے مذاق کو برداشت نہیں کر پائیں، جس کا نتیجہ یہ افسوسناک واقعہ نکلا۔

    پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معاملہ خاندان کے اندر ہلکی پھلکی جھڑپ اور مذاق کی وجہ سے دل برداشتگی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔