Baaghi TV

Blog

  • آئی جی پنجاب کا شہری کی ہلاکت پر ایکشن، اے ایس پی فیصل آباد حسن افضل کو عہدے سے ہٹا دیا

    آئی جی پنجاب کا شہری کی ہلاکت پر ایکشن، اے ایس پی فیصل آباد حسن افضل کو عہدے سے ہٹا دیا

    انسپکٹر جنرل پنجاب نے فیصل آباد میں شہری کی ہلاکت کی ابتدائی رپورٹ پرایکشن لیتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی جڑانوالہ فیصل آباد حسن افضل کو عہدے سے ہٹا دیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی کھڑیانوالہ فیصل آباد خالد محمود اور ایس ایچ او عمردرازکو معطل کر دیا گیا ہے. سی آئی اے گوجرانوالہ کی ریڈنگ ٹیم کے 10 ممبران کو بھی معطل کر دیا گیا ہے.

    آئی جی پنجاب کی طرف سے ایڈیشنل آئی جی، آئی اےبی کو مکمل رپورٹ 48 گھنٹے میں پیش کرنیکا حکم دیا گیا ہے. آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ اختیارات سےتجاوز کرنے وال اکوئی افسریا اہلکار رعایت کا مستحق نہیں ہے. واضح رہے کہ فیصل آباد میں‌پولیس کی زیر حراست ایک شخص کی مبینہ وفات کا معاملہ پیش آیا تھا جس پر شہریوں‌ کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس چوکی کو آگ لگا دی گئی تھی. اس واقعہ کے خلاف آئی کی جانب سے ایکشن لیا گیا ہے.

  • لیبیا: مہاجر کیمپ پر فضائی حملہ،درجنوں ہلاک و زخمی

    لیبیا: مہاجر کیمپ پر فضائی حملہ،درجنوں ہلاک و زخمی

    لیبیا: مہاجر کیمپ پر فضائی حملہ،درجنوں ہلاک و زخمی.تفصیلات کے مطابق لیبیا میں ایک مہاجر کیمپ پر ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔دارالحکومت طرابلس کے مضافات میں واقع اس مہاجر کیمپ میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ طرابلس کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری جنرل خلیفہ حفتر پر عائد کی ہے۔

    قبل ازیں خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے طرابلس پر شدید حملوں کا اعلان کیا تھا تاہم، خلیفہ حفتر نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔یاد رہے کہ سابق لیڈر معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے لیبیا بدامنی اور سیاسی طور پر اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی لیبیا میں بڑی تعداد میں مہاجرین متحارب گروہوں کی لڑائی میں مارے جاچکے ہیں.

  • میں اب کانگریس کا صدر نہیں رہا ،راہل نے ٹوئٹر کو بھی پیغام دے بھیجا

    میں اب کانگریس کا صدر نہیں رہا ،راہل نے ٹوئٹر کو بھی پیغام دے بھیجا

    نئی دہلی:بھارت میں‌ہونے والے عام انتخابات میں‌شکست کے بعد اندراگاندھی کے پوتے راہول گاندھی نے آج پارٹی صدارت سے تو استعفیٰ دے ہی دیا تھا مگر بعد می ٹویٹر والوں کو بھی یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ اب واقعی ہی کانگریس کے صدر نہیں رہے . مسٹر راہل گاندھی نے آج یہ واضح کرنے کے بعد کہ وہ کانگریس صدر کے عہدے سے اپنا استعفی کسی بھی حالت میں واپس نہیں لیں گے، اپنے ہینڈل ٹوئٹر میں پروفائل سےصدر کا عہدہ ہٹا دیا ۔ انہوں نے اپنی پروفائل میں اب صد ر کے عہدے کی جگہ ’کانگریس رکن‘ اور ’ رکن پارلیمنٹ ‘لکھا ہے۔

    لوک سبھا انتخابات کی شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفی دے دیا تھا اور ورکنگ کمیٹی سے نیا صدر منتخب کرنے کو کہا تھا ۔ ورکنگ کمیٹی نے ان کے استعفی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے ان سے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس کے بعد پارٹی سینئر لیڈروں نے مسٹر گاندھی سے استعفیٰ پر زور نہ دینے کا مسلسل اپیل کی ۔ پارٹی کے تقریبا 150 عہدیداروں نے مختلف عہدوں سے استعفے بھی دیے ۔ گزشتہ پیر کو کانگریس حکمرانی والی تمام ریاستوں کے وزرائےاعلیٰ نے ان سے ایک ساتھ ملاقات کر کے عہدے پر بنے رہنے کی درخواست کی تھی لیکن وہ اپنے استعفی پر اڑے رہے ۔

  • بلاول بھٹو کی چھمب سیکٹر دھماکے کی مذمت، کہا بھارت دہشت گردی سے باز نہیں‌ آ رہا

    بلاول بھٹو کی چھمب سیکٹر دھماکے کی مذمت، کہا بھارت دہشت گردی سے باز نہیں‌ آ رہا

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کنٹرول لائن کے قریب چھمب سیکٹرمیں دھماکےکی شدید مذمت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے دھماکےمیں فوجی جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے. چیئرمین پیپلزپارٹی کی طرف سے شہداء کے لواحقین سے بھی اظہار ہمدردی کیا گیا ہے.

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت اپنی دہشتگرد حرکتوں سے باز نہیں آرہا. مودی دنیا میں امن اورانسانیت کےلیےخطرہ ہے. ان کا کہنا تھا کہ قوم مادر وطن پراپنی جانیں قربان کرنےوالے جوانوں کو سلام پیش کرتی ہے.

    واضح‌ رہے کہ لائن آف کنٹرول سے چند میٹردورچھمب سیکٹرپرآج دھماکا ہوا ہے جس میں‌ پاک فوج کے5جوان شہید، ایک زخمی ہوا ہے. دھماکہ آزاد جموں کشمیرکےعلاقے برنالہ میں لائن آف کنٹرول پرہوا. آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہےکہ شہداء میں صوبیدارمحمدصادق، سپاہی محمدطیب، سپاہی ذوہیب شامل ہیں. سپاہی غلام قاسم بھی شہداءمیں شامل ہیں. آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کا ثبوت ہے.

  • سیمی فائنل میں پاکستان کو کوئی معجزہ ہی پہنچا سکتا ہے.کیا کچھ کرنا پڑے گا ،ملاحظہ فرمائیں

    سیمی فائنل میں پاکستان کو کوئی معجزہ ہی پہنچا سکتا ہے.کیا کچھ کرنا پڑے گا ،ملاحظہ فرمائیں

    لارڈز: پاکستان سیمی فائنل سے دور یا سیمی فائنل پاکستان سے دور ،دونوں صورتوں میں پاکستان کو کوئی معجزہ ہی سیمی فائنل میں پہنچا سکتا ہے .انگلینڈ کے ہاتھوں نیوزی لینڈ کی شکست کے بعد پاکستان کا ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں پہنچنا تقریباً ناممکن ہوگیا۔ ورلڈ کپ کے 41 ویں میچ میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو 119 رنز سے شکست دیکر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ اس شکست کے باوجود نیوزی لینڈ 11 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے جب کہ پاکستان ٹیم کا آخری میچ لارڈز میں بنگلادیش سے ہے۔انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے میچ میں انگلش ٹیم کی شکست پاکستان کو بنگلادیش سے جیت کی صورت میں سیمی فائنل میں پہنچاسکتی تھی

    انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے میچ میں انگلش ٹیم کی شکست پاکستان کو بنگلادیش سے جیت کی صورت میں سیمی فائنل میں پہنچاسکتی تھی لیکن اب انگلش ٹیم کی فتح نے گرین شرٹس کے لیے صورتحال مزید مشکل کردی ہے۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان رن ریٹ کا فرق اتنا ہے کہ جسے ایک میچ میں کور کرنا ممکن نہیں، کیویز کے 11 پوائنٹس ہیں اور رن ریٹ ہے 0.175 جبکہ پاکستان کے 9 پوائنٹس اور رن ریٹ منفی 0.792 صفر اعشاریہ سات نو دو ہے۔

    بنگلا دیش کے خلاف میچ تو ہر حال میں جیتنا ہے لیکن میچ جیتنے سے صرف پوائنٹس برابر ہوں گے سیمی فائنل میں پہنچنا ہے تو رن ریٹ کو نیوزی لینڈ سے بہتر بنانے کےلیے وہ کچھ کرنا ہو گا جو ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ بنگلادیش کے خلاف لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ میں تاریخ ہی رقم کرنا ہوگی اور اسے سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے بنگال ٹائیگرز کو کم سے کم 316 رنز سے شکست دینا ہوگی جو کہ بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ یعنی اگر پاکستان پہلے بیٹنگ کرتا ہے اور 400 رنز بناتا ہے تو اسے بنگلادیش کو 84 رنز پر آؤٹ کرنا ہوگا۔اگر پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 350 رنز بنائے تو پھر حریف کو 39 رنز پر آؤٹ کرنا ہوگا۔اگر بنگال ٹائیگرز نے پہلے بیٹنگ کی تو پاکستان سیمی فائنل سے باہر ہوجائے گا۔

  • پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کیلئے بنگلہ دیش کو کتنے رنز سے ہرانا ہو گا؟ جانیے اس رپورٹ میں

    پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کیلئے بنگلہ دیش کو کتنے رنز سے ہرانا ہو گا؟ جانیے اس رپورٹ میں

    لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے اہم میچ میں‌ انگلینڈ کے ہاتھوں نیوزی لینڈ کی شکست کے بعد پاکستان کا سیمی فائنل میں پہنچنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے تاہم پاکستانی شائقین اب بھی کسی معجزہ کے منتظر ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج کے میچ میں‌ انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کی اور نیوزی لینڈ کو 306 رنز کا ٹارگٹ دیا جبکہ نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن جلدی ڈھیر ہو گئی اور وہ 119 سکور سے شکست کھا گیا. یوں‌انگلینڈ نے ورلڈ کپ سیمی فائنل کیلئے آسانی سے کوالیفائی کر لیا. نیوزی لینڈ انگلینڈ سے شکست کھا کر بھی 11 پوائنٹس سے چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف ابھی اپنا آخری میچ کھیلنا ہے.

    لارڈز میں‌ کھیلے گئے آج کے میچ میں اگر انگلینڈ ہار جاتا تو پاکستان بنگلہ دیش کو شکست دیکر سیمی فائنل میں پہنچ سکتا تھا مگر انگلینڈ نے یہ میچ جیت کر پاکستان کیلئے سیمی فائنل میں‌ پہنچنا تقریبا ناممکن بنا دیا ہے.

    اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر پاکستان سیمی فائنل میں جانا چاہتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کو316 رنز کے مارجن سے ہرانا ہو گا.

  • اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا 5 جولائی کو اسلام آباد میں ہوگا اکٹھ ،حکومت کے خلاف تحریک پر ہوگی بات

    اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا 5 جولائی کو اسلام آباد میں ہوگا اکٹھ ،حکومت کے خلاف تحریک پر ہوگی بات

    اسلام آباد:اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس 5 جولائی جمعہ کے روز اسلام آباد میں‌طلب کیا گیا ہے. رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں رہبر کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب پر مشاورت کی جائے گی۔ راہبر کمیٹی نئے چیئرمین سینیٹ کے نام پر مشاورت کرے گی اور 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کے پروگرام کو حتمی شکل دے گی۔

    رہبر کمیٹی میں ن لیگ کی جانب سے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال شامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی اور نیئر بخاری کو شامل کیا گیا ہے.نیشنل پارٹی کے میر طاہر، اے این پی کے میاں افتخار ممبر ہوں گے۔ پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ بھی کمیٹی کے رکن جبکہ جے یو آئی سے اکرم درانی اور جے یو پی کی جانب سے اویس نورانی ممبران میں شامل ہیں۔ جمعیت اہلحدیث سے رانا شفیق پسروری اور قومی وطن پارٹی کا رکن بھی شامل ہوگا۔

  • آئی ایم ایف نے ہمارے معاشی ایجنڈے کی حمایت کی ہے، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ

    آئی ایم ایف نے ہمارے معاشی ایجنڈے کی حمایت کی ہے، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ

    مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمارے معاشی ایجنڈے کی حمایت کی ہے.
    https://twitter.com/a_hafeezshaikh/status/1146460773058850816
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہمارااصلاحاتی ایجنڈا معاشی عدم توازن کو دورکرنے میں مددگار ثابت ہو گا. غریبوں کےتحفظ کے لیے سماجی شعبے پر اخراجات میں اضافہ کیاجائےگا.

    انہوں نے کہاکہ معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے ذریعے قرضوں کوکم کیا جائے گا، واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کے پیکج کی منظوری دی ہے جسے حکومتی ذمہ داران کی جانب سے بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے.

  • بچوں کے لئے سمر کیمپ ضروری مگر کہاں پر؟؟؟ عفیفہ راؤ

    آج کل جہاں بچے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کا مزا لے رہے ہیں ساتھ ہی کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے والدین نے کسی سمر کیمپ میں داخلہ دلوا دیا ہے اور وہ آجکل اس میں مصروف ہیں۔اگر ہم ماضی میں جھانکیں اور سوچیں کہ ہم اپنی گرمیوں کی چھٹیاں کیسے مناتے تھے تو آپ کو یا د ہو گاکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب سے زیادہ اانتظار ان دنوں کا ہوتاتھا جب ہم نے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانی نانا کو ملنے یادادی دادا کو ملنے جاناہوتاتھا۔اور یہ عام رواج تھا کہ گھروں میں سب بچے اکھٹے ہوتے تھے اور اپنے کزنز،خالہ ،ماموں ،تایا،چچااورپھوپھو کے ساتھ ٹائم گزارتے تھے ۔ ان کے ساتھ گزارہ وہ وقت اور شرارتیں ہی ہمارے بچپن کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔آج اگر ہم سب کسی فیملی ایونٹ پر اکھٹے ہوتے ہیں تو بچپن میں ایک ساتھ گزاری چھٹیوں کو ہی یاد کرکے ہم سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مگر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی گزارنے کے طریقے بھی کافی حد تک بدلتے جا رہے ہیں اب وہ وقت نہیں رہا کہ مائیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے بچوں کو لیکر اڑھائی یا تین ماہ کے لئے میکے جا سکیں ۔کسی عورت کی اپنی جاب کی مجبوری ہوتی ہے تو کسی کے شوہر کی نوکری کا مسئلہ ،کسی کو ساس کی اجازت نہیں ملتی تو کوئی اکیلے رہنے کی وجہ سے وقت نہیں نکال پاتی۔ویسے بھی آج کل کے تیزطرار دور میں کوئی بھی عورت اپنے شوہر اور گھر کو اتنے زیادہ دنوں کے لئے اکیلے چھوڑنے کارِسک بھی نہیں لے سکتی۔لیکن چھٹیوں میں بچوں کو 24گھنٹے سنبھالنا بھی ایک بہت بڑی ڈیوٹی ہے جو پوری کرنے کے لئے بڑے شہروں کی بیشتر خواتین سسمر کیمپ کا سہارا لیتی ہیں۔بچوں کو وہ چند گھنٹے گھر سے دور رکھنے کے لئے ہزاروں روپے سمر کیمپ کی فیس ادا کرتی ہیں ۔پرائیوٹ سکولوں کی طرح سمر کیمپس کی بھی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو فی گھنٹہ ایک ہزار روپے سے بھی زیادہ فیس چارج کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس فیس اور ٹائم کے عوض بچوں کو سکھاتے کیا ہیں؟؟؟

    یہ آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں نے بہت سے سمر کیمپس کے فیس بک پیجز اور ان میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز پرکافی ریسرچ کی۔پہلے پہل ان کے بروشیئرز اور اشتہارات دیکھ کر اور ان پر لکھی گئی ایکٹیویٹیز کے نام پڑھ کر تو ایسا لگا کہ واقعی ان سمر کیمپس میں جاکر تو چند دنوں کے گزارے جانے والے ان چند گھنٹوں میں ہمارے بچے نجانے کیاکچھ سیکھ لیں گے اور کوئی سائنسدان یا مصور تولازمی بن جائیں گے۔

    https://login.baaghitv.com/kya-hmary-bachon-ko-summer-camp-ki-zrurt-hai/

    اسی ایکسائٹمنٹ اور خوشی میں سوچا کہ اور ٹائم لگایا جائے اور ان کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں تو بس پھر ایک ایک کرکے ان فیس بک پیجز پر سمر کیمپس میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا تھا یہ تصاویر اورویڈیوز تو مجھے میرے ہی بچپن کی طرف لے گئیں۔ جہاں ہم لکڑی پر لگے ایک چھوٹے سے گول سپرنگ والی سٹک کو چھپا چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں کوئی اس کو پھینک نہ دے اور اگر کسی گھر کے بڑے نے دیکھ لی تو اس کو توڑ ہی نہ دیا جائے اور وہ سٹک باہر تب نکالتے تھے جب سب بڑے دوپہر کو آرام کی غرض سے سو جاتے تھے اور پھر ہم پانی میں کپڑے دھونے والا صرف گھول گھول کر خوب بلبلے بناتے تھے بس ہماری نالائقی یہ تھی کہ ہمارے پاس اس گیم کے لئے کوئی منفرد سا نام نہیں تھا جب کہ آج کل کے سمر کیمپس نے ان کو ببل بیش bubble bash کا نام دے کر ایسے نمایاں کیا جاتا ہے کہ اس میں نہ جانے کیا نئی چیز پوشیدہ ہے۔اس کے بعد ایک اور تصویر پر نظر ٹھر گئی جس میں بچے کاغذ کی مدد سے طرح طرح کے لباس اور جوتے بنا رہے تھے اس ایکٹیویٹی کو بھی کرافٹ کی کوئی نئی قسم ہی لکھا گیا تھا جبکہ ان لباس اور جوتوں کو دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کی وہ کاغذ کی گڑیایاد آگئی جو ہم اپنے رجسٹرز میں سے صفحات پھاڑ پھاڑ کر بناتے تھے اور گڑیا کےلئے بنائے کاغذ کے اُن کپڑوں پر بھی رنگوں کی مدد سے خوب پھول بوٹے بناتے اور انھیں رنگوں سے خوب گڑیا کو میک اپ بھی کرتے لیکن افسوس اس وقت میں ہماری یہ سب کھیل کھیلتے ہوئے کوئی تصاویر بنانے والا نہ تھا بلکہ ہم تو یہ سب چھپ چھپا کر کرتے تھے کہ کسی نے دیکھ لیا تو شامت آجائے گی کہ رجسٹر پڑھائی کے لئے تھا یا گڑیا بنانے کے لئے۔ ساتھ ہی ساتھ کٹنگ پیسٹنگ کی ایکٹیوٹیز نے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں آنے والی 14اگست یاد کروا دی۔ جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو بازار میں لگنے والے سٹالز سے جھنڈیاں خرید کر لائی جاتیں اور پھر گھر میں ہی سب سے چھوٹی خالہ کی منتیں کرکے ہم ان سے گوند بنواتے اور جب سب دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے تھے تو ہم ان جھنڈیوں پر گوند لگا لگا کر لڑیاں بناتے اور خوب جوش و جذبے سے 14 اگست بھی مل کر مناتے۔
    اور سب سے دلچسپ تو پول پارٹیز والی تصاویر دیکھنے کو ملی جن میں بچے پلاسٹک کے چھوٹے سے سوئمنگ پول میں ایک دوسرے پر پانی ڈال ڈال کر نہارہے تھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے چہروں کی خوشی قابل دید تھی اور وہ واٹر گن اور ٹیوبز کے ساتھ خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔ مگر یہ کیا یہ سب تو ہم ٹیوب ویل پر اپنے بڑوں کے ساتھ جاکر کرتے تھے مجھے یاد ہے ہمارے نانا جی ہمیں پانی میں جمپ لگاتا دیکھ کر خوب خوش بھی ہوتے تھے ساتھ ہی ساتھ برف میں لگے ٹھنڈے آموں کے ساتھ ہماری دعوت بھی کی جاتی تھی۔اور رہی بات پڑھائی کی تو سب بہن بھائی اور کزنز ایک دوسرے سے مقابلہ لگا کر سکولز کی طرف سے ملنے والا کام بھی جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اس طرح چھٹیاں بھی بھرپور انجوائے کی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی ہوتی تھی ۔مختصر یہ کہ ان سمر کیمپس کی تصاویر کے ساتھ کافی وقت لگانے کے باوجود کوئی ایسی نئی چیز دیکھنے کو نہ ملی جسے دیکھ کر یہ محسوس ہو کہ یہ کام تو ہم نے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں نہیں کیا تھا اور ہمارے بچوں نے بھی اگر یہ نہ کیا تو نجانے وہ ان سمر کیمپ والے بچوں سے ترقی کے میدان میں کہیں بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔
    ان ایکٹیوٹیز کے علاوہ بہت سے سمر کیمپس ایسے ہیں جو کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بچوں میں
    critical thinking,
    reading and writing skill,
    problem solving and
    leadershipکی صلاحیتیں پیدا کریں گے۔ویسے تو یہ سب صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں لیکن اگر behavioral sciencesکے مطابق دیکھا جائے تو یقین کرنا پڑے گا کہ انسان یہ سب سیکھ بھی سکتا ہے لیکن اس کے لئے اچھا خاصا وقت درکار ہوتاہے اور مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔جو کہ سمر کیمپس میں گزارے دو یا تین گھنٹوں میں تو ہونابہت مشکل ہی نہیں تقریباََ نا ممکن ہی ہے۔ہاں بچوں میں یہ سب صلاحیتیں پیدا کرنے میں اگر کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ اس کا سکول اور گھر ہے جہاں وہ اپنے دن کاا چھا خاصاٹائم گزارتے ہیں۔


    تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ چھٹیوں کو ایک بوجھ سمجھ کربچوں کے لئے گھر سے باہر بھاری فیس ادا کر کے سمر کیمپس تلاش کرنے کی بجائے ان چھٹیوں کو ایک موقع سمجھنا چاہیے کہ اس میں ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایک کوالٹی ٹائم گزارسکتے ہیں ۔ ہم جو عادات اپنے بچوں میں ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں یہ چھٹیاں اس کے لئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہیں ۔اور رہی بات مختلف طرح کی ایکٹیویٹیز کی تو یہ سب آجکل کیا مشکل ہے جب بک سٹورز پرہر طرح کی ایکٹیویٹیز کا سامان با آسانی دستیاب ہوتا ہے پھر بھی اگر کوئی مشکل ہو تو جس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاجس پر مائیں بچوں کے لئے سمر کیمپ تلاش کرتی ہیں اس پرسرچ کرکے وہ خودبہت سے نیو آئیڈیاز پر کام کر سکتی ہیں جب اتنی آسانیاں ہیں تو مائیں خود سے بچوں کے لئے کوئی ایسی ایکٹیویٹی کیوں نہیں پلان کرتیں؟بچوں کی بہتر تربیت اور اچھے کردار کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لئے اپنے گھر میں ہی سمر کیمپ کا انعقاد کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں. جس سے بچہ کچھ نیا سیکھ بھی سکے اور مصروف بھی رہے کیونکہ ماں سے بہتر بچے کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    عفیفہ راو
    صحافی۔۔ٹی وی پروڈیوسر

    Email:afeefarao@gmail.com

    Facebook: www.facebook.com/afeefarao786

    Twitter: https://twitter.com/afeefarao

  • بھارت:مودی دھاندلی سے الیکشن جیتا .الیکشن کمیشن کے نام خط،راہول گاندھی بھی کہتے ہیں یہی بات

    بھارت:مودی دھاندلی سے الیکشن جیتا .الیکشن کمیشن کے نام خط،راہول گاندھی بھی کہتے ہیں یہی بات

    نئی دہلی:بھارت میں مودی مخالف سیاسی اتحاد اور بڑی سیاسی جماعتوں نے نریندرا مودی پر یہ الزام لگایا ہے کہ مودی نے یہ الیکشن دھاندلی سے جیتا ہے. اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو بڑی تعداد میں‌شکایات موصول ہوئی ہیں. دوسر ی طرف
    سبکدوش افسروں نے انتخابی کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں لوک سبھا انتخاب کے دوران بے ضابطگیوں سے متعلق کیے گئے سوالوں پر کمیشن کی خاموشی پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

    لوک سبھا انتخاب کے دوران اپوزیشن کے ذریعہ انتخابی کمیشن کی کارگزاری پر سوال کھڑے کیے جانے کے بعد اب سبکدوش سول اور فوجی افسروں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم نے بھی 2019 کے مینڈیٹ پر سنگین سوال کھڑے کیے ہیں۔ 64 سابق آئی اے ایس، آئی ایف ایس، آئی پی ایس اور آئی آر ایس افسران نے انتخابی کمیشن کو کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط کی 83 سبکدوش سول اور فوجی افسروں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم نے بھی حمایت کی ہے۔ انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق سبکدوش افسروں نے انتخابی کمیشن کو لکھے خط میں کہا ’’2019 کا لوک سبھا انتخاب آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کے معاملے میں گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے ذیلی سطح پر نظر آتا ہے۔‘‘ خط میں سبکدوش افسران نے 2019 کے مینڈیٹ کو شبہ کے گھیرے میں بتایا ہے۔

    انتخابی کمیشن کو لکھے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق آئی اے ایس افسر وجاہت حبیب اللہ، ارونا رائے، جوہر سرکار، ہرش مندر، این سی سکسینہ اور ابھجیت سین گپتا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سابق آئی ایف ایس افسر شیو شنکر مکھرجی اور دیب مکھرجی بھی خط کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ دیگر اہم ناموں میں ایڈمیرل وشنو بھاگوت، پرنجوئے گوہا ٹھاکر، ایڈمیرل ایل رام داس، نویدیتا مینن، لیلا سیمسن اور پربل داس گپتا وغیرہ ہیں۔

    دوسری طرف کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے بھی مودی پر الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نے یہ الیکشن دھاندلی سے جیتا ہے جس میں ایک طرف تو پیسہ استعمال کیا گیا ہے تو دوسری طرف دیگر ذرائع استعمال کرکے اپنے مخالفین کو ہرایا ہے.