Baaghi TV

Blog

  • راولپنڈی پولیس لائنز میں جنرل پریڈ کا انعقاد

    راولپنڈی پولیس لائنز میں جنرل پریڈ کا انعقاد

    راولپنڈی: انسپکٹرجنرل آف پولیس،پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز کے احکامات کے مطابق پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں جنرل پریڈ کا انعقادکیا۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پی پنجاب کے احکامات کے مطابق اورسٹی پولیس آفیسرراولپنڈی کیپٹن (ر) محمد فیصل رانا کی ہدایت پر پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں جنرل پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ جنرل پریڈ میں پولیس کے چاق وچوبند دستوں نے ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی سید علی اکبر کو سلامی پیش کی۔جنرل پریڈ کے دوران راولپنڈی پولیس کے دیگر افسران ایس پیز، اے ایس پیز/ ایس ڈی پی اوز،ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز راجہ طفیور اختراورایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ جنرل پریڈ کے دوران ضلعی پولیس،ایلیٹ فورس، ڈولفن سکارڈ اورسٹی ٹریفک پولیس کے چاق و چوبند دستوں نے ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی سید علی اکبر کو سلامی پیش کی۔ جنرل پریڈ کا مقصد پولیس فورس کے جوانوں کو جسمانی و ذہنی طور پرمضبوط رکھنا ہے۔

  • ملتان:افسوسناک واقعہ 1122 کی سستی ،وزیر اعلیٰ‌برہم

    ملتان:افسوسناک واقعہ 1122 کی سستی ،وزیر اعلیٰ‌برہم

    لاہور:وزیراعلیٰ ملتان میں پیش آنیوالے افسوسناک واقعہ میں ایمبولینس کی آمد میں تاخیر پر برہم ڈی جی ریسکیو1122 کو فوری ملتان پہنچنے کی ہدایت، انکوائری رپورٹ 24 گھنٹے میں پیش کی جائے.ملتان میں‌ہونے والے اس افسوسناک واقعہ میں غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے ایمبولینس کے جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچنے اور زخمیوں کو بروقت ہسپتال نہ پہنچانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ریسکیو 1122 سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ریسکیو میں تاخیر کے حوالے سے ذمہ داروں کا تعین کرکے تادیبی کارروائی کا حکم دیا ہے اور ڈی جی ریسکیو 1122 کو فوری طور پر ملتان پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈی جی ریسکیو 1122 معاملے کی خود انکوائری کرکے 24گھنٹے میں رپورٹ پیش کریں۔ افسوسناک واقعہ کے حوالے سے ریسکیو میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ایمبولینس کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنا چاہیئے تھا۔ انہو ں نے کہا کہ ریسکیو میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی ہوگی۔
    ٭٭٭٭

  • ہزاروں رانا ثناء‌اللہ گرفتار ہو جائیں‌ ہمارے حوصلے پست نہیں‌ ہوں‌ گے، مریم اورنگزیب

    ہزاروں رانا ثناء‌اللہ گرفتار ہو جائیں‌ ہمارے حوصلے پست نہیں‌ ہوں‌ گے، مریم اورنگزیب

    پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق انہوں نےکہاکہ ہمارے حوصلے اور ہمت کو کمزور نہیں کیاجاسکتا، آج بسوں کابند ہونا دکھانا چاہیے تھا، ریلوے کا بند ہونا دکھانا چاہیے تھا. مسلم لیگ ن ڈٹ کرکھڑی ہے اور مقابلہ کرے گی. جتنی مرضی گرفتاریاں کرلیں ہم چوراورنالائق حکومت کو بے نقاب کریں گے.

    مریم اورنگزیب نے کہاکہ چاہے ہزاروں راناثناءاللہ گرفتارہوجائیں ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے،

    واضح رہے کہ یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

    کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

  • حیران ہوں کہ راناثناءاللہ پرکرپشن نہیں منشیات کا کیس ہے، وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی

    حیران ہوں کہ راناثناءاللہ پرکرپشن نہیں منشیات کا کیس ہے، وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی

    وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی نے رانا ثناء‌اللہ کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہماری حکومت میں پی ٹی آئی کےلوگ بھی کیسزکا سامنا کررہےہیں، حیران ہوں راناثنااللہ پرکرپشن کانہیں منشیات کاکیس ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کاواضح اصول ہےکہ کسی ادارےکےکام میں مداخلت نہیں کریں گے. ن لیگ کے حنیف عباسی بھی منشیات کیس میں پکڑے گئے تھے.

    واضح رہے کہ یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

    کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

  • انتشار پھیلانے والی اپوزیشن خود انتشار کا شکار ہے: عثمان بزدار

    انتشار پھیلانے والی اپوزیشن خود انتشار کا شکار ہے: عثمان بزدار

    انتشار پھیلانے کی ناکام کوشش کرنے والی اپوزیشن خود انتشار کا شکار ہے: عثمان بزداراپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی مخلص نہیں،غیر فطری اتحاد جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گامایوسی پھیلانے والے سابق حکمرانوں نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، سڑکیں، پل اور عمارتیں ان کی ترجیحات تھیںہماری حکومت نے ذاتی نمود و نمائش کے منصوبوں کی بجائے انسانی ترقی پر فوکس کیا ہے

    اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر طرز عمل غیر جمہوری ہے۔ انہو ں نے کہا کہ کئی برس سے حکمران رہنے والوں نے عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کیا۔ مایوسی پھیلانے والے سابق حکمرانوں نے اپنے دور میں عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اور سڑکیں، پل اور عمارتیں ان کی ترجیحات تھیں جبکہ ہماری حکومت نے انسانی ترقی پر فوکس کیا ہے اور ذاتی نمود و نمائش کے منصوبوں کی بجائے انسانی ترقی کو اپنا محور بنایا ہے۔

  • راناثناءاللہ کی گرفتاری میں عمران خان کا ذاتی عناد کھل کرسامنے آ گیا، شہباز شریف

    راناثناءاللہ کی گرفتاری میں عمران خان کا ذاتی عناد کھل کرسامنے آ گیا، شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقدمے و الزام کے بغیر رانا ثناء اللہ کی گرفتاری لاقانونیت، سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے. راناثنااللہ کی گرفتاری میں عمران خان کاذاتی عناد کھل کرسامنےآگیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے کہاکہ وزیراعظم کے حکم پر اداروں کو سیاسی مخالفین کیخلاف استعمال کی گھناؤنی مثال قائم کی گئی. نیب،نیب ٹواورکبھی اےاین ایف کاسیاسی مخالفین کوگرفتارکرناافسوسناک ہے. راناثنااللہ کومجازعدالت میں پیش کیاجائےاوربتایاجائےکہ ان پرکیاالزام ہے؟.

    انہوں‌ نے کہاکہ الزام کےبغیرگرفتاری لاقانونیت اورسیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے.

    واضح رہے کہ یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

    کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

  • جادو گر ہیں گورنر سندھ،فواد چوہدری، یقین تھا کہ پی ٹی آئی والے جادو اور ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں

    جادو گر ہیں گورنر سندھ،فواد چوہدری، یقین تھا کہ پی ٹی آئی والے جادو اور ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں

    اسلام آباد:جادو گر ہیں ہمارے پیارے گورنر عمران اسمعیل یہ دعویٰ پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کرکے سب کو حیرن کردیا .سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ گورنر عمران اسمٰعیل جب چاہیں گے سندھ میں حکومت گرا دیں گے اور نئی حکومت لے آئیں گے

    فواد چوہدری کےجواب میں وزیر اعلیٰ‌سندھ کے مشیر خاص مرتضیٰ وہاب نے بھی فواد چوہدری کے اس سیاسی دعوے کی اس انداز میں‌توثیق کی کہ ہمیں‌پہلے ہی یقین تھا کہ پی ٹی آئی والے پہلے ہی جادو ٹونے کرنے کے ماہر ہیں اور جادو ٹونے کے ذریعے ہی اپنی حکومت چلا رہے ہیں.

  • کدلتھی موڑ سے ایک اور موٹر سائیکل چوری

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) پولیس کا ڈر نہ ہو تو چور بھی دلیر ہوجاتے ہیں کچھ ایسا ہی ہوا ہے کدلتھی موڑ میں، تفصیل کے مطابق عوام کے مال اور جان کا تحفظ کرنے والی پولیس کی ناکامی ایک اور موٹرسائیکل کی چوری کی شکل میں سامنے آئی ہے کدلتھی میں موڑ گھر کے سامنے سے دن دہاڑے ہنڈا 70 موٹر سائیکل نمبری SAK 1530 چوری.
    یاد رہے کچھ دن پہلے سکندرآباد بھی آٹو رکشے میں آنے والے مسافر اپنے پیسے اور موبائلوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا

    پولیس ابھی تک ان کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے جبکہ آج کدلتھی موڑ میں یہ واقعہ پیش آگیا ہے

    کہیں ایسا تو نہیں کہ چوروں کا پولیس پر اعتبار بن چکا ہے کہ انہوں نے کرنا تو کچھ ہے نہیں لہذا ہمیں ڈرنے کیا ضرورت؟

    بات بہرحال جو بھی ہے پولیس کو اپنا روایتی نہ سہی محکمانہ خوف ہی برقرار رکھنا ہوگا تاکہ جہاں ایک طرف جہاں چوروں ڈاکووں کے دلوں میں خوف و رعب باقی رہے وہیں دوسری طرف عوام بھی سکھ کا سانس لیں کہ وہ پولیس کی موجودگی میں چوروں اور ڈاکووں سے محفوظ ہیں

  • رانا ثناء‌اللہ کی گرفتاری سیاسی انتقام کی مایوس کن کوشش ہے، بلاول بھٹو زرداری

    رانا ثناء‌اللہ کی گرفتاری سیاسی انتقام کی مایوس کن کوشش ہے، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رانا ثناءاللہ موجودہ حکومت کےسخت ترین ناقدین میں مؤثر ترین آواز ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے کہاکہ راناثناءاللہ ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سخت ترین ناقد رہے ہیں. اے این ایف کا رانا ثناءاللہ کو گرفتار کرنا سیاسی انتقام کی مایوس کن کوشش ہے. گرفتاریاں حکومتوں کی کمزوریاں اور مایوسی کو ظاہر کرتی ہیں.

    واضح رہے کہ یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

    کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

  • رانا ثناء اللہ کی سکیورٹی کب واپس ہوئی، تحریری طور پر کسے آگاہ کیا تھا؟ اہم خبر آ گئی

    رانا ثناء اللہ کی سکیورٹی کب واپس ہوئی، تحریری طور پر کسے آگاہ کیا تھا؟ اہم خبر آ گئی

    مسلم لیگ ن کے رہنما راناثنااللہ کے متعلق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ راناثنااللہ سے چندروزقبل سرکاری سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی تھی اور انہوں نے قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو تحریری طورپرآگاہ کیا تھا.

    رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر لیا گیا، گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ راناثنااللہ نےسرکاری سیکیورٹی واپس لیےجانے پرنجی گارڈزمیں اضافہ کردیاتھا اور وہ حالیہ دنوں‌ میں جس دوست سے بھی ملتے ان سے کہتے تھے کہ جلد ان کی گرفتاری متوقع ہے. یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب رانا ثناء‌اللہ سے پوچھا جاتا کہ انہیں کس جرم میں گرفتار کیا جائے گا تو وہ جواب دیتے تھے کہ ابھی جرم تلاش کیا جارہا ہے.