Baaghi TV

Blog

  • پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
    بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
    اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
    پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
    حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔

  • آصف زرداری نے تمام  مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں

    آصف زرداری نے تمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں

    آصف زرداری نےتمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لےلیں

    آصف زرداری کو نیب نے اسمبلی کی بجائے کہاں پہنچا دیا؟ بلاول پریشان

    آصف زرداری کو عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت کا نیب کو حکم

    بلاول زرداری کے حلقہ میں خاتون نے فون پر بات کرنے سے انکار کیا تو اسکے ساتھ کیا ہوا، افسوسناک خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پارک لین، توشہ خانہ، بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی نے سماعت کی، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو آصف علی زرداری نے خود دلائل دینا شروع کر دیے، آصف زرداری نے عدالت میں کہا کہ مجھ پرجعلی کمپنی بنا کرقرض لینے کا الزام ہے ،مجھ میں ہمت اورطاقت ہے میں ملک کی جمہوریت کومضبوط بناؤں گا، دوران سماعت آصف زرداری نےتمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں اور کہا کہ معلوم ہےمیں یہاں کیوں کھڑاہوں ، مجھے پہلے بھی 8 سال بعدرہا کیا گیا، کیس واپس لیتاہوں،میں کسی کوشرمندہ نہیں کرناچاہتا.

    حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتوں کو آگے ہونا ہو گا، آصف زرداری

    ایک ہفتے کی جیل کے بعد زرداری کی بس ہو گئی، اسمبلی میں کیا کہہ دیا؟ بڑی خبر؟

    نیب نے عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر سابق صدر کو اسلام آبادہائیکورٹ میں پیش کردیا،پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملاقات کیلئے اسلام آبادہائیکورٹ پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے انہیں گیٹ روک لیا، پولیس اہلکاروں کاکہناتھا کہ آپ کا نام فہرست میں نام نہیں اس لئے آپ اندر نہیں جا سکتے ،تاہم اجازت ملنے کے بعد بلاول بھٹو کو عدالت میں جانے کی جازت دیدی گئی ،بلاول بھٹو زرداری کمرہ عدالت میں آصف زرداری سے گلے ملے،آصف زرداری نے بلاول بھٹو کو اپنے ساتھ والی نشست پر بٹھا لیا

  • طالبان کو افغانستان سےفوج نکالنے کی یقین دھانی کرا دی، امریکا

    طالبان کو افغانستان سےفوج نکالنے کی یقین دھانی کرا دی، امریکا

    امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ طالبان کو یقین دہانی کرادی ہے کہ ہم غیرملکی فوج نکالنے کو تیار ہیں، امید ہے طالبان سے یکم ستمبر تک افغان امن سمجھوتہ طے پاجائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی وزیرخارجہ کا کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتوں کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حقیقی پیشرفت حاصل کرلی ہے، سمجھوتے کا مسودہ بھی تیار ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغان امن سمجھوتے کے سلسلے میں پاکستان کا کردار اہم ہے، امریکا مذاکرات کے نتائج سے متعلق ہدایات نہیں دے سکتا۔
    ان کا کہنا تھا کہ امید ہے افغان سرزمین اب دوبارہ دہشت گردی کا مرکز نہیں بنے گی، توقع ہے دہشت گردوں کو اب افغانستان میں محفوظ ٹھکانے نہیں ملیں گے۔

    امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورہ پر ہیں، اس دوران انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔

  • لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں …  ناصر بیگ چغتائی

    لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی

    ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
    ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
    اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
    پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
    اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
    1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
    2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
    3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
    4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
    5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
    6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
    کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
    دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
    یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
    یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟


    Nasir Baig Chughtai

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کر دیا

    چار کشمیری شہداء کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت، علاقہ میں مکمل ہڑتال

    سرینگر سے کشمیری صحافی کیا بھارت سرکار نے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری کو شہید کر دیا. بھارتی فوج کے ساتھ سرچ آپریشن میں سی آرپی ایف نے بھی حصہ لیا اس موقع پر علاقہ بھر مٰیں موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی.

    موئے مقدس کے محافظ خاص،درگارہ حضرت بل سرینگر کے سجادہ نشین غلام حسن بانڈے وفات پا گئے

    بلٹ پروف جیکٹ پہنے بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں نے کیسے مارا؟ مودی سرکار حیران

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر مٰیں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج گھروں‌پر چھاپے مارتی ہے اور احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو شہید کر دیتی ہے

  • وسیم اکرم نے محمد عامر سے اپنے جیسے کردار کی توقع لگا لی

    وسیم اکرم نے محمد عامر سے اپنے جیسے کردار کی توقع لگا لی

    سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نیوزی لینڈ پر ہمیشہ نفسیاتی برتری حاصل رہتی ہے، کھلاڑیوں کو 92 ورلڈ کپ کی داستان سے حوصلے مل سکتے ہیں۔امید ہے کہ عامر وہی کردار ادا کریں گے جو 1992ء کے ورلڈ کپ کے اندر میں نے کیا تھا .

    تفصیلات کے مطابق وسیم اکرم نے کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ 92 کے ورلڈکپ میں بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کوئی میچ نہیں ہاری تھی، پھر ہم سے ہاری تھی، امید ہے کہ اس بار بھی ایسا ہو، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ تینوں میچز جیتے، ٹیم اپنے میچز پر توجہ دے پھر جو ہوگا دیکھیں گے۔

    سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نیوزی لینڈ پر ہمیشہ نفسیاتی برتری حاصل رہتی ہے، کھلاڑیوں کو 92 ورلڈ کپ کی داستان سے حوصلے مل سکتے ہیں۔

    انہوں نے قومی ٹیم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی بہترین ٹیم ہے، کیوی بولر ٹرینٹ بولٹ کو شروع میں وکٹیں نہ دیں، چاہے 5 اوورز میں 12 رنز ہی کیوں نہ ہوں کیوں کہ بولٹ دو یا تین سلپ لے کر نئے گیند سے بولنگ کرائے گا لہٰذا باہر جاتی گیند کو جانے دیں۔

    وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ جب اہم بولر کو وکٹ نہیں ملے گی تو باقی بولرز پر بھی دباؤ آئے گا، بولر کو مجبور کریں کہ وہ آپ کے پلان کے مطابق بولنگ کرے۔

    محمد عامر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عامر کی لائن لینتھ کافی بہترین جارہی ہے، امید ہے محمد عامر وہی کردار ادا کرے گا جو 92 میں میرا تھا، عامر کو ہمیشہ سپورٹ کیا کیوں کہ معلوم تھا کہ اسکو وکٹ مل گئی تو ردھم واپس آجائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہاب ریاض بھی اچھا پرفارم کررہا ہے اور پاکستان ٹیم کو پرفارم کرتا دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔

    سابق کپتان نے اوپنرز کو مشورہ دیا کہ ابتدائی تین بیٹسمینوں کا کردار کافی اہم ہوگا، ہماری شروع کی وکٹیں گرجاتی ہیں تو ہم لڑکھڑا جاتے ہیں، پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف کافی اچھی بیٹنگ کی، نیا گیند دیکھ کر کھیلا، یہی حکمت عملی ہونی چاہیئے۔

  • بھارت: دماغی بیماری سے  بچوں کی اموات میں مزید اضافہ

    بھارت: دماغی بیماری سے بچوں کی اموات میں مزید اضافہ

    بھارت میں دماغی بخار کی وبا سے بچوں کی اموات مزید بڑھ گئیں۔ وبائی مرض کے نتیجے میں اب تک 152 بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور حکومت اس سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

    تفصیلات کےمطابق بھارتی ریاست بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم (اے ای ایس) یعنی شدید دماغی بخار سے ڈیڑھ سو سے زیادہ بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔

    ریاست کے دو بڑے ہسپتالوں میں ابھی بھی سیکڑوں مریض زیر علاج ہیں ان میں بہت سے بچے ایسے ہیں جن کی عمر دس برس سے کم ہے۔ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر اموات ‘ہائپوگلیسیمیا’ یعنی خون میں شوگر کی مقدار بے حد کم ہونے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

    دماغی بخار کا پہلا معاملہ انیس سو ستر میں سامنے آیا تھا اور تب سے بہار اور اترپریش میں اس بخار سے ہزاروں بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ صرف بہار میں گذشتہ ایک عشرے کے وران 1350 بچوں کی اموات ہوچکی ہیں جن میں 355 بچے صرف ایک سال یعنی 2014ء کو انتقال کرگئے۔جون کے مہینے میں شروع ہونے والی اس بیماری سے سب سے زیادہ ہلاکتیں بہار کے مظفرپور علاقے میں ہوئی ہیں۔
    یہ بیماری اکثر مون سون کے موسم میں پھیلتی ہے اور اس سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔

    انڈیا میں انیس سو ستر سے اب تک ہزاروں بچے دماغی بخار سے ہلاک ہوچکے ہیںدو ہزار پانچ تک ڈاکٹروں کا یہ موقف تھا کہ بیشتر اموات جاپانی انسیفلائٹس یعنی جاپانی دماغی بخار سے ہوتی ہیں جو مچھروں کے کانٹے سے ہوتا ہے

  • پتوکی میں فاسٹ فوڈز میں ناقص اجزائے خورد و نوش کا استعمال ، انتظامیہ لاعلم

    پتوکی میں فاسٹ فوڈز میں ناقص اجزائے خورد و نوش کا استعمال ، انتظامیہ لاعلم

    قصور ، پتوکی:-

    cheezious فاسٹ فوڈ پر زنگر برگر اور دیگر کھانے والی چیزوں میں خراب اور بدبو دار گوشت کے استمعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیزیس پتوکی برانچ سے زنگر برگر منگوا کر کھولا تو چکن پیس سے انتہائی بدبو آ رہی تھی۔ لیکن تب تک بچہ ایک بائٹ کھا چکا تھا جس پر اس زنگر برگر یعنی چیسیز پر فون کر کے انھیں مطلع کیا گیا تو چیزیس ڈلیوری بوائے نے بھی گوشت بدبودار اور باسی ہونے کی تائید کی۔
    بعدازاں بچے کے چیک اپ کے لیے احتیاطاً ڈاکٹر سے رجوع کیا تاہم بچے کی حالت نارمل ہے۔
    چیزیس پتوکی کی چیزوں سے بو آنا یا گوشت کا باسی پن کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسی کئی شکایات سامنے آ چکی ہیں ۔ اہلخانہ نے چیزیس پتوکی کے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اور فوڈ اتھارٹی اور اے سی پتوکی سے چیزیس پتوکی کی اس برانچ کو سیل کر کے ان کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پتوکی اور گردونواح کے بچوں کو چیزیس پتوکی پر پائے جانے والے بدبودار اور باسی گوشت سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

  • 70 سالہ بزرگ کو مبینہ تشدد کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا

    70 سالہ بزرگ کو مبینہ تشدد کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا

    چنیوٹ
    چائے کے چھینٹے گرانے پر نوجوان طیش میں آگیا 70 سالہ بزرگ کو مبینہ تشدد کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا۔پولیس کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے
    تھانہ لالیاں کے علاقہ کوٹ اسماعیل میں چائے کی معمولی چھینٹیں کپڑوں پر پڑنے سے نوجوان نے طیش میں آ کر 70 سالہ بزرگ کی جان لے لی اطلاعات کے مطابق چنیوٹ تھانہ لالیاں کے علاقہ کوٹ اسمعیل پل پہ ہنڈائی ڈالہ جو کہ مال مویشی سے لوڈ تھا ایک پنکچر شاپ پر ہوا بھروانے کے لئےرکا۔تو وہاں بیٹھے فہد نامی نوجوان جو کہ کوٹ اسمعیل کا رہائشی ہے چائے پی رہا تھا کہ مقتول فقیر حسین قریب سے گزرا تو چائے کی پیالی سے ٹکرایا جس سسے چائے کی چھینٹیں فہد لالی کے کپڑوں پر پڑ گئیں جس سے طیش میں آ کر فہد لالی نے بزرگ شخص مقتول فقیر حسین کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سےفقیر حسین دل پر گہری چوٹ لگنے کے باعث جانبر نہ ہوسکا اور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا تاہم پولیس نے لاش کو قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کے لئے اسپتال منتقل کردیا ہے اور پولیس نے ملزم فہد اور 2 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی ہے

  • اے پی سی کا آغاز،بلاول پہنچے عدالت، مریم نواز کو کہاں بٹھایا گیا؟ اہم خبر

    اے پی سی کا آغاز،بلاول پہنچے عدالت، مریم نواز کو کہاں بٹھایا گیا؟ اہم خبر

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز ہو گیا.

    غیرمنتخب نمائندے کی سربراہی میں ہونیوالی اے پی سی میں غیر منتخب نمائندوں کی بھرمار

    اپوزیشن کی اے پی سی ہو گی ان کیمرہ، میڈیا بریفنگ ہو گی آخر میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی مقامی ہوٹل میں ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس مٰیں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں شریک ہیں، اے پی سی کے لئے شہبازشریف اورمریم نوازایک ہی گاڑی میں پہنچے ، مولانا فضل الرحمان نے ان کا استقبال کیا،

    بلاول اے پی سی میں شرکت کریں گے یا نہیں، بلاول نے خود اعلان کر دیا

    آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی (ف)، اے این پی، قومی وطن پارٹی، پخونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہیں ،عوامی نیشنل پارٹی پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی بھی اے پی سی میں شریک ہیں، شاہ اویس نورانی ، ساجد میر بھی اے پی سی میں شریک ہیں،

    اے پی سی سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس

    اپوزیشن کی اے پی سی شروع ہونے سے قبل ہی ناکام ،اہم خبر

    آصف زرداری کو نیب نے اسمبلی کی بجائے کہاں پہنچا دیا؟ بلاول پریشان

    اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان کی کرسی صدارت کے دائیں طرف شہباز شریف اور ان کے ہمراہ مریم نواز ہیں جبکہ بائیں طرف ایک کرسی بلاول زرداری کے لئے خالی ہے دوسری کرسی پر پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی بیٹھے ہیں ،بلاول زرداری ابھی تک اے پی سی میں نہیں پہنچے لیکن انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ شرکت کریں گے. بلاول زرداری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنے والد آصف زرداری سے ملاقات کر رہے ہیں نیب نے انہیں آج عدالت میں پیش کرنا ہے.

    حکومتی اتحادی جماعت بی این پی اے پی سی میں شرکت کریگی یا نہیں، فیصلہ ہو گیا

    اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلیے مولانا متحرک، نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات

    مریم نواز کا ایک اور یوٹرن، مولانا فضل الرحمان کا رابطہ، مریم نواز نے کیا کہا؟