Baaghi TV

Blog

  • شدید ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ ،لوگوں کی چیخیں

    شدید ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ ،لوگوں کی چیخیں

    قصور
    شیر میں شدید لوڈ شیڈنگ، گرمی اور مچھروں کی یلغار سے شہری پریشان

    قصور میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی مسلسل بندش نے راتوں کی نیند چھین لی ہے جبکہ مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے

    شہریوں کے مطابق روزانہ کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھروں میں پنکھے اور دیگر برقی آلات بند رہتے ہیں شدید گرمی کے دوران یہ صورتحال خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور مریضوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے

    دوسری جانب بارشوں اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے جس سے ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مچھروں کے باعث سونا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اسپرے اور صفائی کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں فوری کمی کی جائے، بجلی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور مچھروں کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اسپرے مہم شروع کی جائے

    حالات یہی رہے تو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے

  • چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھو ئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں، واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کاررو ائیوں کا آغاز کر دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔

    اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے،مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

  • سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    پی ٹی سی ایل نے ایکس پر جاری پیغام میں بتایا کہ مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور دشمن کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں فعال اور منظم ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا اور اسرائیل کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے علاقوں میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔

    دوسری جانب حالیہ پیش رفت میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • فیکٹ چیک: ایران امریکا مذاکرات سے متعلق سوشل میڈیا دعوے غلط قرار

    فیکٹ چیک: ایران امریکا مذاکرات سے متعلق سوشل میڈیا دعوے غلط قرار

    سوشل میڈیا پر ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مبینہ مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والے دعوے غلط اور گمراہ کن قرار دے دیے گئے ہیں۔ مختلف اکاؤنٹس، خاص طور پر ساؤتھ ایشیا انڈیکس ، آر ٹی اور دیگر پلیٹ فارمز کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کی حقیقت سامنے آنے کے بعد واضح ہوا ہے کہ ان میں کئی دعوے تصدیق شدہ نہیں تھے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایک وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں 80 فیصد معاملات طے پا گئے تھے اور جلد دوسرا دور بھی متوقع ہے۔ تاہم اس دعوے کی کوئی مستند سرکاری یا بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں مخصوص تاریخ کو ہوگا، جسے بعد میں فیک قرار دیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ان خبروں میں استعمال ہونے والی معلومات یا تو غیر مصدقہ تھیں یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئیں۔ بعض پوسٹس میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دے کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی، جبکہ کسی بھی ذمہ دار حکومتی ادارے یا معتبر میڈیا نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس عالمی صورتحال میں اس قسم کی غیر مصدقہ خبریں نہ صرف عوام کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر ایران اور امریکا جیسے اہم ممالک کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
    ‎حکام اور تجزیہ کاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر پر فوری یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے تصدیق کے بعد ہی کسی اطلاع کو آگے بڑھائیں۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی درستگی کو جانچنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے، تاکہ غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب و ترکیہ کا دورہ اگلے چند گھنٹوں میں  متوقع

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب و ترکیہ کا دورہ اگلے چند گھنٹوں میں متوقع

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ کل سے شروع ہوگا، جس کے تحت وہ پہلے سعودی عرب جائیں گے اور بعد ازاں ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان کی متحرک خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق انطالیہ ڈپلومیسی فورم 17 سے 19 اپریل تک ترکیہ کے ساحلی شہر انطالیہ میں منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے 20 سے زائد سربراہان مملکت، تقریباً 15 نائب رہنما اور 50 سے زائد وزراء شریک ہوں گے جبکہ 150 سے زائد ممالک کے نمائندگان بھی شرکت کریں گے۔
    ‎فورم میں عالمی امن، اقتصادی تعاون اور بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
    ‎پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات تاریخی، ثقافتی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط 1947 سے برقرار ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر ہے جسے 2027 تک بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
    ‎2022 کے ترجیحی تجارتی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی اشیاء پر ٹیرف میں کمی آئی، جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل اور ترک صنعتی مصنوعات کو فائدہ پہنچا ہے۔
    ‎دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان نیوی کے لیے جدید جنگی جہاز تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے دو ترکیہ میں جبکہ دو کراچی شپ یارڈ میں تیار ہو رہے ہیں، جو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی نمایاں

  • اسرائیل ترکیہ کو نیا ہدف بنا سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ

    اسرائیل ترکیہ کو نیا ہدف بنا سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ

    ‎ترک وزیر خارجہ نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل مستقبل میں ایران کے بعد ترکیہ کو اپنا نیا دشمن قرار دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں کے تحت ہمیشہ کسی نہ کسی دشمن کی تلاش میں رہتا ہے اور بغیر دشمن کے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے ایران سنجیدہ دکھائی دیتا ہے، تاہم اسرائیل اس عمل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
    ‎انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اس اہم تجارتی راستے کو پرامن سفارتکاری کے ذریعے کھولنے کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جو پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
    ‎ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل کی حالیہ سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں غزہ جیسی صورتحال پیدا کر رہی ہیں، جو مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے اسرائیل اس وقت شام پر حملہ نہیں کر رہا، لیکن جیسے ہی حالات سازگار ہوئے، شام بھی نشانے پر آ سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور علاقائی سیکیورٹی کے لیے مشترکہ معاہدے کی طرف بڑھیں۔ ان کے مطابق یونان، قبرص اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔
    ‎ترک وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد خطے کی صورتحال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں ماہرین اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کس سمت جا سکتی ہے اور اس کے عالمی اثرات کیا ہوں گے۔

  • ایران اور قطر میں رابطہ، اسلام آباد مذاکرات زیر غور

    ایران اور قطر میں رابطہ، اسلام آباد مذاکرات زیر غور

    ‎ایران اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس رابطے کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر خصوصی بات چیت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنا خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران اور قطر کے درمیان اس سطح کا رابطہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی ممالک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ قطر ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ ایران بھی سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات مثبت نتائج دیں گے اور خطے میں جاری تناؤ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے، اور خطے میں کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کی خواہاں ہے۔

  • خواجہ آصف کا بیان، مذاکرات کے بعد ماحول بہتر قرار

    خواجہ آصف کا بیان، مذاکرات کے بعد ماحول بہتر قرار

    ‎وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ امن مذاکرات کے بعد مجموعی ماحول میں بہتری نظر آ رہی ہے اور مستقبل میں دوبارہ مذاکرات کے امکانات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ نشستوں میں اہم نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد کوئی منفی اشارہ سامنے نہیں آیا بلکہ کئی مثبت پہلو دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کا امکان برقرار ہے اور اس حوالے سے اطمینان بھی پایا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ اگلی نشست تک فریقین کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے، جو خطے میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر مہربان ہے اور موجودہ حالات میں ملک ایک بہتر پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں ہونے والی پیش رفت پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہو رہی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق وزیر دفاع کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کر رہا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کو پہلے ہی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا چکا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔