Baaghi TV

Blog

  • ایران اور قطر میں رابطہ، اسلام آباد مذاکرات زیر غور

    ایران اور قطر میں رابطہ، اسلام آباد مذاکرات زیر غور

    ‎ایران اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس رابطے کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر خصوصی بات چیت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنا خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران اور قطر کے درمیان اس سطح کا رابطہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی ممالک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ قطر ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ ایران بھی سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات مثبت نتائج دیں گے اور خطے میں جاری تناؤ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے، اور خطے میں کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کی خواہاں ہے۔

  • خواجہ آصف کا بیان، مذاکرات کے بعد ماحول بہتر قرار

    خواجہ آصف کا بیان، مذاکرات کے بعد ماحول بہتر قرار

    ‎وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ امن مذاکرات کے بعد مجموعی ماحول میں بہتری نظر آ رہی ہے اور مستقبل میں دوبارہ مذاکرات کے امکانات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ نشستوں میں اہم نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بعد کوئی منفی اشارہ سامنے نہیں آیا بلکہ کئی مثبت پہلو دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کا امکان برقرار ہے اور اس حوالے سے اطمینان بھی پایا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ اگلی نشست تک فریقین کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے، جو خطے میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر مہربان ہے اور موجودہ حالات میں ملک ایک بہتر پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں ہونے والی پیش رفت پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہو رہی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق وزیر دفاع کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کر رہا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کو پہلے ہی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا چکا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

  • ایران میں حملوں سے متاثر ریلوے نظام بحال

    ایران میں حملوں سے متاثر ریلوے نظام بحال

    ‎ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق حالیہ فضائی حملوں کے بعد متاثر ہونے والا ریلوے انفراسٹرکچر کامیابی سے بحال کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں میں ایران کے پانچ صوبوں میں ریلوے نظام کو نقصان پہنچا تھا، تاہم مرمت کا عمل مکمل کر کے ٹرین سروس دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے ٹریکس اور دیگر اہم تنصیبات متاثر ہوئی تھیں، جس سے ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل ہو گئی تھی۔ تاہم متعلقہ اداروں نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا کام شروع کیا اور قلیل وقت میں اسے مکمل کر لیا۔
    ‎ایرانی حکام نے بتایا کہ تہران سے تبریز اور تبریز سے مشہد کو ملانے والی اہم ریلوے لائنیں بھی مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔ یہ لائنیں ملک کے اندر مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے ان کی بحالی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق ریلوے نظام کی بحالی سے نہ صرف عوام کو سفری سہولت دوبارہ میسر آئے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں بنیادی ڈھانچے کی جلد بحالی کسی بھی ملک کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے تاکہ معمولات زندگی کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔

  • ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ، ہر خطرے کا جواب دینے کا اعلان

    ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ، ہر خطرے کا جواب دینے کا اعلان

    ‎ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کے ساتھ ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اعلیٰ ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بیان قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ابن‌الرضا کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد سامنے آیا۔ بریفنگ میں حالیہ علاقائی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی پر روشنی ڈالی گئی۔
    ‎جنرل ابن‌الرضا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایران نے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق مسلح افواج نہ صرف دفاعی بلکہ جوابی کارروائی کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو ایسی کسی بھی کارروائی پر پشیمان ہونا پڑے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف دفاعی پوزیشن کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی پیغام دیتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایسے بیانات کشیدگی میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں، تاہم یہ ممالک کی جانب سے اپنی دفاعی تیاریوں کا اظہار بھی ہوتے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  • پی ٹی آئی کا بانی کی صحت پر اظہار تشویش، ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا بانی کی صحت پر اظہار تشویش، ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی کا مطالبہ

    ‎تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ذاتی معالجین کو فوری طور پر رسائی دی جائے تاکہ مناسب اور شفاف طبی سہولیات یقینی بنائی جا سکیں۔ پارٹی ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو فوری طور پر بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے تاکہ وہ ان کا معائنہ کر سکیں اور علاج کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ علاج کے حوالے سے شفافیت کی کمی نے پارٹی قیادت اور کارکنان میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
    ‎پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ہر قیدی کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا قانونی اور بنیادی حق ہے، جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان کے مطابق اگر طبی سہولیات میں تاخیر یا کمی ہوئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور فوری اقدامات کریں تاکہ بانی پی ٹی آئی کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملات پر سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے اور انسانی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ انسانی حقوق کا بھی اہم حصہ ہے، اس لیے ایسے معاملات میں شفافیت اور فوری کارروائی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
    ‎یہ معاملہ سیاسی اور عوامی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں مختلف حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو جواب شدید ہوگا


    ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، بندرگاہوں پر حملہ ہوا تو جواب شدید ہوگا


    ‎ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو دنیا میں کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
    ‎پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول موجود ہے اور اگر کسی نے اسے آزمانے کی کوشش کی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی جارحیت یا غلط قدم کا جواب فوری اور بھرپور ہوگا۔
    ‎ایرانی فورسز نے خبردار کیا کہ اگر غیر ملکی فوجی جہاز ایرانی حدود کے قریب آئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید یہ کہ جہازوں کی نقل و حرکت پر کسی بھی قسم کی پابندی کو ایران نے بحری قزاقی قرار دیا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک پیٹرول پمپ کی لوکیشن شیئر کی اور کہا کہ موجودہ تیل کی قیمتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، کیونکہ اگر ناکہ بندی کی صورتحال پیدا ہوئی تو چار سے پانچ ڈالر فی گیلن پیٹرول بھی یاد کیا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کے اس سخت مؤقف سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست پڑ سکتے ہیں۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز میں نئی سروس فیس کا منصوبہ

    ایران کا آبنائے ہرمز میں نئی سروس فیس کا منصوبہ

    ‎ایران نے اپنی اسٹریٹجک پالیسی اور بحری سفارت کاری کے تحت ایک نئے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی جانے والی رقم کو ’ٹرانزٹ ٹول‘ کے بجائے ’سروس فیس‘ کا نام دیا جائے گا۔ اس اقدام کو خطے میں بدلتی صورتحال اور عالمی بحری راستوں کی اہمیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد یکطرفہ اقدامات کے بجائے باقاعدہ سفارتی معاہدوں کے ذریعے ایک منظم نظام قائم کرنا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ متعلقہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کیے جائیں تاکہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے بدلے میں نئی سروس فیس کو تسلیم کیا جائے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں عمان کو بھی ایک اہم کردار دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس تجویز کے تحت عمان کو انتظامی سطح پر شامل کر کے ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے اصولوں کے مطابق ہو اور عالمی سطح پر قابل قبول بنایا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا یہ اقدام نہ صرف معاشی بلکہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ خطے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دیگر ممالک اس نظام کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی نئی پالیسی کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ‎ایرانی بحریہ سمندر کی تہہ میں ہے، چھوٹی کشتیاں رہ گئی ہیں جنہیں خطرہ نہیں سمجھتے: ٹرمپ

    ‎ایرانی بحریہ سمندر کی تہہ میں ہے، چھوٹی کشتیاں رہ گئی ہیں جنہیں خطرہ نہیں سمجھتے: ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اب وہ مؤثر طاقت نہیں رہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی باقی ماندہ کشتیاں امریکی کارروائی کے قریب آئیں تو انہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
    ‎اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ کے 158 یونٹس تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب صرف چند چھوٹی کشتیاں باقی رہ گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ چھوٹی کشتیاں، جنہیں ایران ’فاسٹ اٹیک شپس‘ کہتا ہے، فی الحال امریکا کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔
    ‎تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر یہ کشتیاں امریکی ناکہ بندی یا آپریشنز کے قریب آئیں تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں ان کشتیوں کو بھی اسی طرح تباہ کیا جائے گا جیسے ماضی میں منشیات فروشوں کی کشتیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی تناؤ موجود ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف عسکری سطح پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایران امریکی الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی منڈیوں پر۔
    ‎عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • آسیان کا امریکا ایران جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا مطالبہ

    آسیان کا امریکا ایران جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا مطالبہ

    ‎جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک پر مشتمل تنظیم آسیان نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی 15 روزہ جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آسیان وزرائے خارجہ نے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک وقتی سیز فائر کو پائیدار حل میں بدلنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری رکھیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں آسیان ممالک نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسیان وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھیں تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنا ناگزیر ہے۔
    ‎آسیان ممالک نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ وہاں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک توانائی کی ضروریات کے لیے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس اہم تجارتی راستے کا کھلا اور محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے۔
    ‎مزید برآں آسیان نے پاکستان کی جانب سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران اس موقع کو ضائع نہیں کریں گے اور مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات کا مستقل حل تلاش کریں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر توانائی کی منڈیوں میں استحکام آئے گا۔

  • نائجیریا میں فضائی حملہ، بازار پر بمباری سے 200 افراد جاں بحق

    نائجیریا میں فضائی حملہ، بازار پر بمباری سے 200 افراد جاں بحق

    ‎نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں فوجی کارروائی کے دوران فضائیہ کے طیاروں نے ایک مقامی بازار کو نشانہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق یہ حملہ ریاست یوبے کے گاؤں جلی میں کیا گیا، جو ریاست بورنو کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ تاہم حالیہ فضائی حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب بازار میں عام شہری خریداری میں مصروف تھے۔
    ‎انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر ہلاک اور زخمی افراد کی تعداد تقریباً 200 تک پہنچ گئی ہے۔ مقامی رہنما لاوان زنا نور گیدم نے بھی اس بڑے جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
    ‎دوسری جانب نائیجیرین فضائیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے بوکو حرام کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا، تاہم بازار پر حملے کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں ریاستی حکام نے تسلیم کیا کہ حملہ ایک ایسے مقام کے قریب ہوا جہاں شہری بڑی تعداد میں موجود تھے۔
    ‎ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔