Baaghi TV

Blog

  • ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ  فرزانہ صادق کی علیم خان سے ملاقات

    ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق کی علیم خان سے ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ایران کی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ، تجارت اور سرحدی روابط کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار بھی شریک تھے، جبکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے خطے میں امن کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے پختہ عزم، حوصلے اور استقامت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاکستان اور ایران کے درمیان سڑک اور ریل کے ذریعے روابط مزید مضبوط ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ زمینی رابطوں کے فروغ سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو وسعت ملے گی بلکہ خطے میں اقتصادی انضمام اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ٹرانسپورٹ کے شعبے میں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

    اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور دونوں وفود نے پاک ایران مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے جنگ بندی اور امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام پاکستان کی بھرپور حمایت اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ملاقات کے دوران فرزانہ صادق نے دونوں ممالک کے درمیان ٹرکوں اور کنٹینرز کی کلیئرنس میں حائل مشکلات کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر فریقین نے باہمی تعاون کے ذریعے ان مسائل کے جلد حل کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے پاک ایران بارڈر پر موجود حل طلب امور کو مشترکہ کوششوں سے نمٹانے اور ٹرانسپورٹ، تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

  • ہنگری میں انسانی اعضا جمع کرنے، انسانی گوشت کھانے والا ملزم گرفتار

    ہنگری میں انسانی اعضا جمع کرنے، انسانی گوشت کھانے والا ملزم گرفتار

    ہنگری پولیس نے 30 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اسپتال اور متروک قبرستانوں سے انسانی جسم کے اعضا جمع کرکے اپنے گھر میں محفوظ رکھتا تھا۔

    ہنگری کے نیشنل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق ملزم کو 17 جون کو دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ وہ انسانی اعضا اپنے گھر اور اسپتال میں ذخیرہ کر رہا ہے۔ ملزم ایک اسپتال میں وارڈ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔پولیس نے ملزم کے اپارٹمنٹ پر چھاپے کے دوران کئی انسانی کھوپڑیاں، ایک مکمل نچلی ٹانگ، ایک ہاتھ اور انسانی چہرے کی جلد سے تیار کردہ چہرے کا نمونہ برآمد کیا۔ اس کے علاوہ ایک سوٹ کیس میں مزید ہڈیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔تحقیقات کے دوران ایک مرتبان میں محفوظ دل بھی برآمد ہوا، جس کے بارے میں ماہرین یہ تعین کر رہے ہیں کہ آیا وہ انسانی ہے یا کسی جانور کا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش انسانی اعضا جمع کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے انسانی جسم کے اعضا میں غیرمعمولی دلچسپی تھی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ بعض انسانی اعضا سے کھانا تیار کر کے کھا چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو انسانی باقیات کے غیرقانونی استعمال کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اناٹومی اور پیتھالوجی کا شوقین ہے اور جانوروں کی چیر پھاڑ بھی کرتا رہا ہے۔تفتیش کاروں کا شبہ ہے کہ ملزم نے کچھ اعضا اپنے اسپتال کے کام کے دوران حاصل کیے جبکہ بعض انسانی باقیات ہنگری اور سلواکیہ کے متروک قبرستانوں سے قبریں کھود کر نکالی گئیں۔

    پولیس نے ملزم کے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل مواد بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ تمام برآمد شدہ انسانی باقیات فرانزک ماہرین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مقدمے میں مزید سنگین الزامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

  • ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

    ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد خلیجی عرب ممالک ایک نئے سکیورٹی اور سفارتی دوراہے پر کھڑے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ نے نہ صرف خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سکیورٹی ضمانتوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔خلیجی ممالک کئی دہائیوں سے امریکہ کو اپنا سب سے اہم سٹریٹجک اتحادی تصور کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے واشنگٹن اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات میں ایک زیادہ "لین دین” پر مبنی سوچ نمایاں ہونے لگی تھی۔ ٹرمپ نے 2018 میں سعودی عرب کے بارے میں کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر سعودی قیادت زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتی، جسے خلیجی ممالک میں مختلف انداز سے دیکھا گیا۔

    2019 میں سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملے کے بعد، جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا، خلیجی ممالک میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ امریکہ کس حد تک ان کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ یہی خدشات حالیہ ایران جنگ کے بعد مزید گہرے ہو گئے ہیں۔رواں سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ریاستوں کو براہ راست متاثر کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین،سعودی عرب اور کویت ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خلیجی قیادت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ امریکہ کی سکیورٹی وابستگیاں برقرار ہیں۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات کو نظر انداز نہیں کرے گا اور ہر اہم فیصلے پر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ابھرنے والا نیا معاہدہ خلیجی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں جیسے اہم مسائل کا مکمل حل پیش نہیں کرتا۔مزید برآں، معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی میں ایران کو ایک باضابطہ کردار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات اور سمندری تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کئی حلقے اسے اپنے اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ معاہدے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کی تجویز بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے خلیجی ممالک کی مالی معاونت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اب تک سعودی عرب اور دیگر ریاستوں نے اس حوالے سے واضح عزم کا اظہار نہیں کیا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئیں، جبکہ قطر نے دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے متبادل شراکت داروں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ترکی کو اس سلسلے میں ایک ممکنہ دفاعی سپلائر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کئی ریاستیں اپنی مقامی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک مستقبل میں ایک ایسے علاقائی سکیورٹی نظام پر غور کر سکتے ہیں جس میں ایران کے ساتھ "عدم جارحیت معاہدہ” بھی شامل ہو۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے کسی معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خلیجی ممالک اپنی دفاعی طاقت اور مشترکہ سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

    علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک اب نہ صرف ایران بلکہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق امریکہ پر مکمل انحصار کی پالیسی کمزور پڑ رہی ہے اور خلیجی ریاستیں مستقبل میں زیادہ خودمختار سکیورٹی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کریں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف سفارت کاری کافی نہیں ہوگی بلکہ دفاعی تیاری، علاقائی تعاون اور مؤثر بازدار قوت بھی ناگزیر ہوگی۔ ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

  • بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    رشتے خون سے نہیں، رویے سے بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں "بیٹی” اور "بہو” دو ایسے رشتے ہیں جنہیں اکثر ایک پلڑے میں تولا جاتا ہے، مگر دونوں کی جگہ، ذمہ داری اور احساس الگ ہے۔ فرق برا نہیں، بس سمجھنے کا ہے۔

    بیٹی گھر کی جان ہوتی ہے۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوتی ہے، پلتی ہے، اس کی ہنسی سے دیواریں گونجتی ہیں۔ ماں باپ کے لیے وہ امانت ہے۔ بیٹی سے توقع صرف محبت اور مان کی ہوتی ہے۔ غلطی کرے تو ماں سمجھاتی ہے، باپ ڈانٹ کر بھول جاتا ہے۔ اسے کھانا بنانا نہ آئے تو بھی "سیکھ جائے گی” کہا جاتا ہے۔ اس کی تعلیم، شوق، مرضی سب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی گھر چھوڑ کر جاتی ہے تو پورا گھر خالی لگتا ہے، مگر اس کی واپسی پر دروازے کھول دیے جاتے ہیں، حساب نہیں مانگا جاتا۔

    بہو دوسرے گھر سے آتی ہے۔ وہ اپنی ماں، اپنی عادتیں، اپنا بچپن چھوڑ کر ایک اجنبی گھر، اجنبی لوگوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرتی ہے۔ اس سے توقع ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ کھانا، صفائی، ساس سسر کی خدمت – سب اس کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ غلطی ہو جائے تو "پرائے گھر کی ہے” کہہ کر یاد دلا دیا جاتا ہے۔ اسے اپنا بننے کے لیے خود کوثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کی محبت کو بھی "فرض” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بہو جب ماں بنتی ہے تو بھی اسے "دوسروں کی امانت” سمجھا جاتا ہے۔

    فرق کی جڑ سوچ میں ہے۔ بیٹی کو ہم "اپنا” سمجھ کر پالتے ہیں، بہو کو "اپنانا” پڑتا ہے۔ بیٹی کی آزادی کو مان دیتے ہیں، بہو کی آزادی کو "بدتمیزی” سمجھ لیتے ہیں۔ بیٹی روٹھے تو مناتے ہیں، بہو روٹھے تو "نخرے” کہہ دیتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔ جس محبت، برداشت اور موقع کی توقع ہم اپنی بیٹی کے لیے رکھتے ہیں، وہی بہو کو دیں تو فرق خود بخود مٹ جائے گا۔ اور جس عزت، قربانی اور ذمہ داری کی امید ہم بہو سے رکھتے ہیں، وہی سلوک اگر ہم اپنی بیٹی کے سسرال والوں سے کریں تو رشتے مضبوط ہو جائیں۔

    نہ بیٹی کم ہے نہ بہو زیادہ۔ دونوں عورت ہیں، دونوں بیٹیاں ہیں۔ ایک نے گھر دیا، دوسری نے گھر سنبھالا۔ اگر ساس بہو کو بیٹی سمجھ لے اور بہو ساس کو ماں، تو "فرق” لفظ ہی ڈکشنری سے نکل جائے گا۔ رشتے تب ہی خوبصورت ہیں جب برابری ہو۔

  • گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ایک ایسی جگہ ہے جسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ پیر پنجال کے بلند پہاڑی سلسلے میں سر اٹھائے یہ چوٹی سطح سمندر سے تقریباً 3,045 میٹر یعنی 9,989 فٹ بلند ہے۔ یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ بادلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    گنگا چوٹی کا اصل حسن اس کے مقام میں ہے۔ یہ سدھن گلی کے قریب واقع ہے اور قدرتی طور پر دو اضلاع کو جوڑتی ہے۔ اس کے ایک طرف ضلع باغ کی وادیاں ہیں تو دوسری طرف ضلع جہلم ویلی کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہاں کا سفر تقریباً 200 کلومیٹر کا ہے۔ ہزارہ موٹروے اور مری ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے باغ اور پھر سدھن گلی تک پکی اور بہترین سڑک موجود ہے۔ سدھن گلی سے گنگا چوٹی تک جیپ یا عام گاڑی آرام سے چلی جاتی ہے۔ پیدل چلنے کے شوقین لوگوں کے لیے بھی مختصر ٹریک موجود ہے جو ہرے بھرے جنگل سے گزرتا ہے۔

    اس چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔ وسیع سبز چراگاہیں جن پر بھیڑ بکریاں چرتی ہیں۔ دور تک پھیلی ہوئی وادیاں، اور نیچے بادلوں کا سمندر سب کچھ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم بہت ہی خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ شہروں کی گرمی سے تنگ لوگ جب یہاں پہنچتے ہیں تو ٹھنڈی ہوائیں ساری تھکن اتار دیتی ہیں۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور منظر مکمل بدل جاتا ہے۔ برفباری کے شوقین لوگ دسمبر سے فروری کے درمیان یہاں کا رخ کرتے ہیں۔گنگا چوٹی صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ سکون کی جگہ ہے۔ یہاں کیمپنگ کا اپنا ہی مزہ ہے۔ رات کو تاروں بھرا آسمان اور صبح منہ پر پڑتی دھوپ زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور سیاحوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔اگر آپ نے ابھی تک کشمیر کی یہ جنت نہیں دیکھی تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ ایک بار ضرور جائیں کیونکہ گنگا چوٹی کی خوبصورتی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
    ganga choti

  • روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

    روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

    جی ٹی روڈ پر واقع عمارت جسے کہنے کو تو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت وہ گوجرخان کے باسیوں کے لیے ایک ریفرل سنٹر اور جیتے جاگتے انسانوں کے لیے مقتل بن چکا ہے۔ گوجرخان کا ٹی ایچ کیو ہسپتال آج بھی کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ کسی ایسے صاحبِ اختیار کا منتظر جو تصویروں، بیانات اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ کسی ایسے نمائندے کا منتظر جو سڑک پر جنم لینے والے بچے کی ماں کی تکلیف محسوس کرے، راستے میں دم توڑتے مریض کی آخری سانس کا کرب سمجھے اور عوام کی بے بسی کو اپنی سیاسی ذمہ داری جانے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ گوجرخان میں ہسپتال تو تھا، مگر علاج نہیں تھا، نمائندے تو تھے، مگر نمائندگی نہیں تھی، اور عوام تو تھے، مگر ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ کیا ضمیر مر چکے ہیں یا احساس کی رگیں سن ہو چکی ہیں؟ پوٹھوہار کی زرخیز دھرتی، جس نے ملکی سیاست کو بڑے بڑے نامور جلیل القدر رہنما اور عہدے دار دیے، آج اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کے خون کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کا پرسا دینے والا کوئی نہیں اور اس بے حسی کا سب سے بڑا مرکز جی ٹی روڈ کے کنارے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی عمارت دراصل کوئی علاج گاہ نہیں، بلکہ اس نظامِ کہنہ کا وہ نوحہ ہے جسے سن کر پتھر کا دل بھی پگھل جائے، مگر افسوس کہ ہمارے چنے ہوئے نمائندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں اس ہسپتال پر ‘ٹراما سنٹر’ کا چمکتا ہوا بورڈ تو سجا دیا گیا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ٹراما سنٹر نہیں، بلکہ گوجرخان کے غیور عوام کے ساتھ ایک بدترین ڈراما سنٹر تھا جو آج تک چلی آ رہی ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت کے دور میں کامیابی سے کھیلا جا رہا ہے۔ جدید دور کا نعرہ لگانے والے ذرا آ کر دیکھیں کہ یہاں نہ تو کوئی فنکشنل آئی سی یو (ICU) ہے، نہ زندگی بچانے والا وینٹی لیٹر، اور نہ ہی قبل از وقت پیدا ہونے والے معصوم بچوں کے لیے کوئی نرسری، نہ ریڈیالوجسٹ ہے، یہ کیسی ترقی ہے جہاں ایک حاملہ ماں، ایک بوڑھا باپ یا حادثے کا شکار کوئی نوجوان بنیادی طبی سہولت کو ترستا ہے؟ نتیجہ؟ ایک ہی لکیر پیٹی جاتی ہے "راولپنڈی ریفر کر دو”۔ وہ راولپنڈی جو گوجرخان سے گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ اس خونی راستے میں کتنے ہی بوڑھے باپ اپنے بیٹوں کے کندھوں پر دم توڑ گئے، کتنے ہی بھائی سسک سسک کر مٹی ہو گئے، اور بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایمبولینسوں یا سڑک کنارے گاڑیوں میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ مناظر دیکھ کر ان ایوانوں میں بیٹھے پنڈتوں کو شرم نہیں آتی؟ مسئلہ ڈاکٹروں، نرسوں یا پیرامیڈیکل اسٹاف کا نہیں ہے۔ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ وہ خود اس بوسیدہ نظام کے یرغمالی ہیں۔ عوام اور ڈاکٹرز آمنے سامنے ہیں، کہیں ہاتھا پائی ہو رہی ہے تو کہیں سڑکوں پر موت بٹ رہی ہے، لیکن اصل مجرم وہ سیاسی اشرافیہ جو ہر الیکشن میں ووٹ مانگنے آپ کی دہلیز پر ناک رگڑتی ہے وہ غائب ہے۔ اگر ان نمائندوں میں رتی برابر بھی غیرت اور وفا ہوتی، تو آج گوجرخان کا ہسپتال گریۂ زاری کی داستان نہ بنا ہوتا۔ کچھ دن شور مچتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان اٹھتا ہے، کوئی بے بس ڈاکٹروں کو گالیاں دیتا ہے تو کوئی صحافیوں کے قلم پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ان تماش بین سیاسی رہنماؤں کے گریبان پر کوئی ہاتھ کیوں نہیں ڈالتا؟ ان سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ تمہاری شاہانہ مراعات، تمہاری وی آئی پی پروٹوکول والی گاڑیاں تو وقت پر پہنچ جاتی ہیں، مگر غریب کے لیے وینٹی لیٹر، بچوں کی نرسری، آئی سی یو یونٹ، کیوں نہیں بن سکتا؟

    ہر حادثے کے بعد ہم چند دن ماتم کرتے ہیں اور پھر نئے مقتول اور نئے واقعے کے انتظار میں سو جاتے ہیں۔ آج گوجرخان کا ہسپتال کسی لفاظی یا کھوکلے دعوے کا نہیں، بلکہ ایک حقیقی مسیحا کا متلاشی ہے۔ کوئی تو ہو جو اس دھرتی کا والی وارث بنے، جو راستے میں تڑپنے والوں کا کرب اپنے سینے پر محسوس کرے، جو سڑک پر بچہ جنتی بہن بیٹی کی بے بسی پر خون کے آنسو روئے۔ کب تک ہم ان تماش بینوں کی شطرنج کے مہرے بنے رہیں گے؟ چشم پوشی کرنے والے ان حکمرانوں کو اب آئینہ دکھانے کا وقت آ چکا ہے۔ اگر اب بھی گوجرخان کے عوام نے اپنے حق کے لیے ان سیاسی بتوں کے گریبان نہ پکڑے، تو یاد رکھیے، اگلا جنازہ خدانخواستہ کسی کا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ موت کسی کا سیاسی نظریہ دیکھ کر نہیں آتی۔

  • پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

    پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

    اسلام آباد: پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر عوامی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ ماہرین، والدین اور مختلف سماجی تنظیمیں اس معاملے کو بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما سے جوڑتے ہوئے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد اکثر مذہبی اور اخلاقی اقدار سے متصادم ہوتا ہے، جبکہ بیرونی ثقافتی اثرات خاندانی نظام اور معاشرتی روایات کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق بچوں میں مسلسل اسکرولنگ کی عادت علمی اور فکری صلاحیتوں کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی لت اضطراب، ڈپریشن، نیند کی خرابی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ پرتشدد مواد کے باعث تشدد کو معمول سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے انتہاپسندی اور نقل پر مبنی خطرناک رویوں کے فروغ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے تیزی سے پھیلاؤ میں بھی سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس سے سماجی اور فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بچوں اور کم عمر افراد کے جنسی استحصال اور نامناسب مواد تک رسائی کے خدشات کو بھی پابندی کے حق میں اہم دلائل قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا سخت ضوابط متعارف کرا رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا، جبکہ برطانیہ، ملائیشیا اور یونان سمیت کئی ممالک اس حوالے سے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ فرانس، اسپین، ڈنمارک، اٹلی، ترکیہ، آسٹریا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں بھی متعلقہ قوانین پر غور یا قانون سازی کا عمل جاری ہے۔

    پاکستان میں اس تجویز پر عملدرآمد کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر ملکی ملکیت ہیں اور ان کے مقامی دفاتر موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق مؤثر قانون سازی، نگرانی کے جدید نظام اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کے بغیر پابندی پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔تجویز کے تحت والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی، تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ، مذہبی و سماجی اداروں کی آگاہی مہمات اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے عمر کی بنیاد پر فلٹرنگ جیسے اقدامات اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ اور صحت مند معاشرتی ماحول کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق مؤثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، جس پر حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر غور کرنا چاہیے۔

  • شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کا انکشاف

    شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کا انکشاف

    پلنگ زئی،شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم بچوں کے جنسی استحصال کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں

    پاک فوج کے آپریشن کے دوران خوارج کے چنگل سے بازیاب ہونے والے بچے نے خوارج کی جنسی درندگی کو بے نقاب کردیا،جنسی زیادتی کے شکار بچے اکرام اللہ نے بتایا کہ؛ اس کے والد کی وفات کے بعد خوارج اسے اپنے ساتھ منظر خیل مرکز لے گئے جہاں وہ اس کا جنسی استحصال کرتے تھے،مرکز میں اور بھی تین سے چار بچے تھے ،انکے ساتھ خارجی بدفعلی کرتے تھے، زیادہ تر خارجی افغانی تھے، کچھ عرصہ بعد مجھے پلنگزئی لایا گیا جہاں ایک خارجی نے مسجد میں قائم مرکز میں مسلسل بدفعلی کا نشانہ بنایا، متاثرہ بچے نے بتایا کہ اسے کئی خارجی متعدد بار زیادتی کا نشانہ بناتےرہے،بعد ازااں پاک فوج نے اسے بازیاب کرایا

    سماجی ماہرین کے مطابق؛خوارج کی طرف سے بچوں کا جنسی استحصال اور اس کیلئے مساجد کا استعمال انتہائی مکروہ فعل ہے ،مساجد کی بے حرمتی پر ہر مسلمان انتہائی دکھی ہے،معصوم لوگوں کے قتل عام اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا فتنہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا ،

  • یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں لاکھوں مرغیاں ہلاک، برطانیہ میں ہنگامی صورتحال

    یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں لاکھوں مرغیاں ہلاک، برطانیہ میں ہنگامی صورتحال

    یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ فرانس میں شدید گرمی کے باعث پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں ہلاک ہو گئی ہیں جبکہ لاشیں ٹھکانے لگانے کی خدمات بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

    فرانس کے علاقے پیدیلا لوائر کے ایک پولٹری فارمر کلیمنٹ بلانشارڈ کے مطابق چند روز کے دوران ان کے تقریباً 700 مرغے مر گئے، جبکہ عام حالات میں روزانہ صرف ایک یا دو مرغیاں ہلاک ہوتی تھیں۔دیگر علاقوں میں‌بھی مختلف پولٹری فارمز پر لاکھوں مرغیاں شدید گرمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں، حکام متاثرہ علاقوں میں مردہ پرندوں کو فارموں پر ہی دفنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔دوسری جانب برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث متعدد تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکڑوں اسکول مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں جبکہ طلبہ کو گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں واقع کوئین الیگزینڈرا اسپتال نے کولنگ سسٹم میں خرابی کے بعد "کریٹیکل انسیڈنٹ” کا اعلان کر دیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق خرابی سے آپریشن تھیٹرز، تشخیصی اسکیننگ اور دیگر اہم طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں، تاہم ہنگامی اور ضروری طبی سہولیات بدستور جاری ہیں۔

    ادھر فرانس میں گرمی کی شدت کے باعث 50 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 48 افراد ڈوبنے کے واقعات اور دو کم سن بچے گرم گاڑی میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ بعض علاقوں میں 44 ڈگری سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی تاریخ کے گرم ترین دنوں میں شمار ہو رہا ہے۔ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

    یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

    دس محرم الحرام، یعنی یوم عاشورہ، اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جو محض ایک تاریخ یا دن نہیں، یہ وہ دن ہے کہ جس کی اسلامی دنیا اور معرکہ حق و صداقت میں نظیر تک نہیں ملتی۔عاشورہ کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’عشرہ‘ سے نکلا ہے، یعنی دس۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت سانحہ کربلا سے بھی پہلے کی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کوہ جودی پر محفوظ اتری، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود سے نجات ملی، اور دریائے نیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے رہائی نصیب ہوئی جبکہ فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اسی دریا میں غرق ہو گیا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے خود اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔ یہی نہیں، عربوں کے دور جاہلیت میں بھی قریش اس دن کو محترم سمجھتے اور روزہ رکھا کرتے تھے، اور یہود اسے اپنی عید کی طرح مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ محرم کے روزے رکھ کر یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ساتھ ملا لیا جائے۔ یوں عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بھی قرار پایا، اور احادیث میں اسے ایک عظیم اور بابرکت دن کہا گیا۔

    اسی طرح شریعت اسلامیہ نے اس دن کے لیے ایک اور خوب صورت تعلیم بھی دی ہے، یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانے پینے میں فراخی اور وسعت کرنا۔ روایت میں آتا ہے کہ جو شخص یوم عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں پر رزق میں کشادگی کرے، اللہ تعالی پورا سال اس کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ یوں عاشورہ صرف غم اور سوگ کا دن نہیں رہتا، بلکہ اس میں عبادت، شکرگزاری، اور باہمی محبت کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وہ دوہرا پہلو ہے جو اس دن کو منفرد بناتا ہے، ایک طرف کربلا کا غم، دوسری طرف اللہ کی نعمتوں پر سجد شکر۔

    مگر تاریخ نے اس دن کو ایک ایسے سانحے سے جوڑ دیا جس نے اس کی معنویت کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ سنہ اکسٹھ ہجری کی بات ہے۔ امیر شام حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے اقتدار سنبھالا اور چاہا کہ سلطنت کے ہر گوشے سے اس کی بیعت لی جائے۔ مدینہ میں نواسۂ رسول،حضرت امام حسینؓ موجود تھے، جن کے بارے میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ "حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں”- یزید کی حکمرانی، اس کے طرز عمل اور اس کی سیرت کو دیکھتے ہوئے امام عالی مقام حضرت امام حسین کے لیے اس کی بیعت کرنا ممکن نہ تھا۔ آپ نے انتہائی وضاحت سے فرمایا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔یہ کوئی ذاتی اختلاف نہیں تھا، یہ اصول کی جنگ تھی، خلافت اور ملوکیت کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا معاملہ تھا۔

    کوفہ کے لوگوں نے حضرت امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھے کہ وہ تشریف لائیں اور ان کی قیادت سنبھالیں۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو حالات جانچنے کے لیے کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں حالات سازگار نظر آئے، مگر جیسے ہی یزیدی گورنر ابن زیاد نے کوفہ پر گرفت مضبوط کی، وہی لوگ جو وفا کے دعوے دار تھے اب خوف کے سائے میں بکھر گئے تھے۔اور حضرت مسلم کو شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر حضرات امام حسین کو راستے ہی میں مل گئی، مگر آپؓ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اب پیچھے ہٹنا، حق کی راہ سے پیچھے ہٹنے کے مترادف تھا۔ دو محرم کو حضرت امام حسین کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور قیام کےلیے خیمے لگائے گئے۔ یہیں سے بہادری قربانی اور غم کی ایک ایسی داستان شروع ہوئی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے سینے پر کندہ رہے گی۔

    سات محرم کو دریائے فرات پر یزیدی لشکر نے پہرہ بٹھا دیا اور امام اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔ تین دن تک، چھوٹے بچوں سمیت، پورا قافلہ پیاسا رہا۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغر کے لبوں کی پیاس، ننھی سکینہ کی بلکتی آنکھیں، اور بزرگوں کے خشک حلق، یہ سب اس امتحان اور داستان کا حصہ تھے جس میں اللہ تعالی نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کروائی جو تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ دس محرم کا سورج طلوع ہوا تو میدان کربلا حق و باطل کے معرکے کا گواہ بنا۔ یزیدی لشکر کی کثیر تعداد کے سامنے امام حسین کے ساتھ 72 کے قریب جانثار تھے۔ بقول شاعر

    ؎کیا فوج تھی حسینؓ کی اس فوج کے نثار
    ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار
    جرار و دیں پناہ نمودار نامدار
    لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی، کوئی گل عذار
    فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں
    وہ سب پلے تھے بیشہءِ شیر الہٰ میں
    جن میں آپ کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور جواں سال بیٹے حضرت علی اکبر بھی شامل تھے۔ ایک ایک کر کے سب نے جام شہادت نوش کیا۔اور سب سے آخر میں، عصر کی نماز کی حالت میں، سجدے میں امام عالی مقام، جگر گوشہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ کو بھی شہید کر دیا گیا۔اس کے بعد جو ہوا، وہ شاید لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اہل بیت کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔ یزید شاید اسے اپنی فتح سمجھ رہا تھا، مگر وہ دراصل اس کی شکست کا آغاز کا دن تھا ۔ حضرت زینبؓ، امام حسینؓ کی بہن، نے یزید کے دربار میں جو خطبہ دیا، اس نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
    ؎پہلے ہم مرد، خواتین کو کم جانتے تھے
    رفعت قوم نسا، خطبہ زینب سے کھلی
    کربلا کا خون رائیگاں نہیں گیا، بلکہ اس نے ایک ایسی روایت قائم کی جو آج چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے۔ شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ دراصل یزیدیت کی شکست تھی، اور اسلام ہر کربلا کے بعد نئے سرے سے زندہ ہوتا ہے۔ بقول شاعر
    ؎قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    کربلا کسی ایک مسلک، کسی ایک فرقے یا کسی ایک خطے کی میراث نہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ہر اس انسان کی آواز ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔اور یزید کسی شخص کا نام نہیں، ایک ایسی ذہنیت کا استعارہ ہے جو طاقت کے زور پر سچ کو دبانا چاہتا ہے، اور حسینؓ اس ضمیر کا نام ہے جو موت کو گلے لگا لیتا ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکرین بھی کربلا کے فلسفے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، اور دنیا بھر کے ادب میں امام حسین رضی اللہ کی قربانی کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین اسباق میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔نور احمد میرٹھی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’بوستانِ عقیدت‘‘ میں ناتھ اعظمؔ جلال آبادی کے اشعار ملاحظہ کیجیے
    ؎اے کربلا ہے تیری زمین رشکِ کیمیا
    تانبے کو خاک سے ہم زر بنائیں گے
    اعظمؔ تُو اپنے شوق کو بے فائدہ نہ جان
    فردوس میں یہ شعر تیرا گھر بنائیں گے

    گرسرن لال ادیبؔ لکھنوی کے لکھے اشعار مندرجہ ذیل ہیں

    ؎لوحِ جہاں پہ نقش ہے عظمت حسین کی
    حق کو شرف ملا ہے بدولت حسین کی
    ہوئی ہے تازہ دل میں رسولِ خدا کی یاد
    کہتے تھے لوگ دیکھ کے صورت حسین کی
    تھا اعتقاد میرے بزرگوں کو بھی ادیبؔ
    میراث میں ملی ہے محبت حسینؓ کی
    حضرت امام حسین رضی اللہ اور کربلا کی داستان سے پتہ چلتا ہے کہ باطل کی فتح، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی شاندار کیوں نہ دکھائی دے، تاریخ کے آئینے میں بالآخر شکست ہی ثابت ہوتی ہے، اور حق کی شکست، چاہے وہ کتنی ہی المناک کیوں نہ ہو، آخرکار فتح میں بدل جاتی ہے۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ وقت اسے مٹا نہیں سکا، بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کا پیغام مزید روشن ہوتا چلا گیا۔