Baaghi TV

Blog

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی معیشت کیلئے بڑا دھچکا، وزیر خزانہ

    مشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی معیشت کیلئے بڑا دھچکا، وزیر خزانہ

    ‎اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو رہی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس 2026” کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہی۔
    ‎وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎محمد اورنگزیب کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر حکومت کو کئی اہم اور مشکل فیصلے کرنا پڑے تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اہم شعبوں کو توانائی کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھی جائے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بڑھتے ہوئے توانائی اخراجات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے مستحق طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے۔
    ‎وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان نے دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں موجودہ عالمی بحران کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپلائی چین میں رکاوٹوں اور امن و امان کے مسائل سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کیے ہیں۔
    ‎مزید برآں انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی حکومت نے پیشگی منصوبہ بندی کی ہے اور قرضوں کے بروقت انتظام کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ ملک کا معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • فچ کی پاکستان کیلئے ریٹنگ برقرار، آئی ایم ایف پروگرام اہم سہارا قرار

    فچ کی پاکستان کیلئے ریٹنگ برقرار، آئی ایم ایف پروگرام اہم سہارا قرار

    ‎عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی بی نیگیٹو ریٹنگ کو مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ برقرار رکھتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا قرار دیا ہے۔ فچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال میں کچھ استحکام دیکھا جا رہا ہے، تاہم چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ فچ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری اصلاحات پاکستان کی معیشت کو بہتر سمت میں لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
    ‎فچ نے مالی سال 2026 کے لیے مہنگائی کی شرح تقریباً 7.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جو کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کچھ حد تک قابو میں نظر آتی ہے، تاہم عام شہریوں کے لیے مہنگائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 5.3 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ کر 1.1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق فچ کی جانب سے ریٹنگ برقرار رکھنا ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم معاشی بہتری کے لیے حکومت کو اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔ خاص طور پر ٹیکس نیٹ بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
    ‎فچ رپورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ اگر پاکستان آئی ایم ایف پروگرام پر مستقل مزاجی سے عمل جاری رکھتا ہے تو مستقبل میں معاشی استحکام مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

  • ایران کا بھارت کیلئے آبنائے ہرمز میں تعاون کا عندیہ

    ایران کا بھارت کیلئے آبنائے ہرمز میں تعاون کا عندیہ

    ‎ایران نے بھارت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ بھارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے قریبی رابطے میں ہیں۔
    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں تعینات بھارتی سفیر محمد فتح علی نے کہا ہے کہ ایران بھارت کے بحری جہازوں کو سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے میں تعاون سے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ کشیدگی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب بھارتی سیلرز یونین نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تقریباً 20 ہزار بھارتی عملہ مختلف جہازوں پر موجود ہے، جس کے باعث ان کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ یونین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان افراد کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
    ‎الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سیلرز یونین نے اس حوالے سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری راستوں کی سیکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی کرنسی میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز بھی دی تھی، جس پر مختلف ممالک کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔
    ‎ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے اور تمام جہاز اس سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ کسی دشمنانہ طرز عمل کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی وجوہات کے تحت جہازوں کو ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہنا ضروری ہے تاکہ محفوظ راستوں کے ذریعے ان کا سفر یقینی بنایا جا سکے۔

  • ‎آبنائے ہرمز ناکہ بندی پر روس کا انتباہ، عالمی منڈیوں کیلئے خطرہ

    ‎آبنائے ہرمز ناکہ بندی پر روس کا انتباہ، عالمی منڈیوں کیلئے خطرہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کے اعلان پر روس کا ردعمل سامنے آ گیا ہے، جس میں اس اقدام کے عالمی معیشت پر منفی اثرات کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ کریملن کا کہنا ہے کہ اس حساس آبی گزرگاہ کی بندش عالمی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
    ‎روسی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایسے میں اس راستے کی بندش نہ صرف توانائی کی سپلائی کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرے گی۔
    ‎کریملن نے مزید کہا کہ اس معاملے میں ابھی بہت سی تفصیلات واضح نہیں ہیں اور صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اس لیے کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مزید پیش رفت کا انتظار ضروری ہے۔ روس نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
    ‎بیان میں ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر بھی بات کی گئی، جہاں روس کی جانب سے افزودہ یورینیئم سے متعلق پیشکش کا ذکر کیا گیا۔ روس نے کہا کہ یہ تجویز بدستور موجود ہے، تاہم فی الحال اس پر زور نہیں دیا جا رہا۔
    ‎ماہرین کے مطابق روس کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں، کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ایلون مسک کا ویکسین سے متعلق چونکا دینے والا بیان

    ایلون مسک کا ویکسین سے متعلق چونکا دینے والا بیان

    ‎ٹیکنالوجی کی دنیا کی نمایاں شخصیت ایلون مسک نے ایک بار پھر کورونا ویکسین کے حوالے سے جاری بحث کو تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک سابق فارماسیوٹیکل ماہر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ویکسین کی حفاظت پر سوالات اٹھائے اور اپنے ذاتی تجربے کا بھی ذکر کیا، جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایلون مسک نے جرمنی کے سابق ماہرِ ٹاکسیکولوجی ڈاکٹر ہیلمٹ سٹرز کی ایک ویڈیو کو شیئر کیا۔ اس ویڈیو میں ڈاکٹر سٹرز نے دعویٰ کیا کہ ایم آر این اے ویکسینز کو منظوری نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ویکسینز کے استعمال کے نتیجے میں ہزاروں اموات ہو سکتی ہیں، جبکہ ان کے مطابق منظوری سے قبل مکمل حفاظتی جانچ بھی نہیں کی گئی۔
    ‎ڈاکٹر سٹرز کو ماضی میں یورپی سطح پر اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے اور انہیں جرمن پارلیمانی کمیشن کے سامنے بھی طلب کیا گیا تھا۔ 19 مارچ 2026 کو دی گئی اپنی گواہی میں انہوں نے الزام لگایا کہ فائزر بائیو این ٹیک ویکسین کی منظوری سے پہلے ضروری ٹیسٹ مکمل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے جرمن ویکسین سیفٹی ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ہونے والی اموات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب جرمن وزیر صحت کارل لاؤٹرباخ اور دیگر طبی ماہرین نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسینز کو منظوری دینے سے پہلے ہزاروں افراد پر مشتمل کلینیکل ٹرائلز کیے گئے تھے، اور ہر رپورٹ ہونے والے کیس کی سائنسی بنیادوں پر مکمل جانچ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ویکسین کے بعد کسی بھی موت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی وجہ ویکسین ہی ہو۔
    ‎ایلون مسک نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویکسین سے پہلے کورونا وائرس کا شکار ہو چکے تھے، جو ان کے مطابق عام فلو جیسا تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ویکسین کی دوسری خوراک لینے کے بعد انہیں شدید طبیعت خراب ہونے کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا محسوس ہوا جیسے وہ مر رہے ہوں۔
    ‎مسک کے اس بیان اور ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے اثرات، اس کی حفاظت اور عالمی اداروں کے کردار پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

  • ٹرمپ کا یوٹرن، آبنائے ہرمز کے بجائے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان


    ٹرمپ کا یوٹرن، آبنائے ہرمز کے بجائے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان


    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے اب ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا نیا فیصلہ سامنے رکھ دیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں اعلان کیا کہ 13 اپریل کو ایسٹرن ٹائم کے مطابق صبح 10 بجے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی جائے گی۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ اقدام شام 7 بجے نافذ العمل ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے کارروائی کرے گی۔
    ‎یہ اعلان ایک دن قبل کیے گئے اس بیان کے برعکس ہے جس میں ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر اس اہم سمندری گزرگاہ کو بند کر دے گی اور تمام جہازوں کی نقل و حرکت کو روک دیا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس پالیسی میں تبدیلی ممکنہ طور پر عالمی دباؤ اور معاشی اثرات کے خدشات کے باعث کی گئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی بندش سے عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا تھا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ایک سخت اقدام ہے، تاہم یہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے مقابلے میں نسبتاً محدود اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی کے تجربات کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں مزید تناؤ کو جنم دے سکتے ہیں۔

  • ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مذاکرات پر گفتگو

    ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مذاکرات پر گفتگو

    ‎ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی صورتحال اور جاری سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر خصوصی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے سفارتی راستوں کو ضروری قرار دیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ اس موقع پر خطے میں بڑھتی ہوئی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا گیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان یہ رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دونوں ممالک خطے کی بڑی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان بہتر تعلقات پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام لا سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے جسے سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے ایک مثبت ماحول پیدا کیا ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
    ‎یہ رابطہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ علاقائی ممالک اب تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو مستقبل میں اہم پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے۔

  • پوپ لیو کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب، جنگ پر خاموش نہیں رہوں گا

    پوپ لیو کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب، جنگ پر خاموش نہیں رہوں گا

    ‎کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں پوپ نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور کسی دباؤ یا تنقید سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کی حمایت نہ کرنے پر پوپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک سخت بیان دیتے ہوئے پوپ کو کمزور قرار دیا اور ان کی خارجہ پالیسی پر بھی سوال اٹھائے۔
    ‎ٹرمپ نے مزید تنازع اس وقت کھڑا کیا جب انہوں نے اپنی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روپ میں دکھاتے نظر آئے۔ اس اقدام پر سوشل میڈیا صارفین اور مسیحی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
    ‎صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ پوپ لیو کو صرف اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ وہ امریکی ہیں، اور اگر وہ خود وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتے تو لیو ویٹیکن تک نہ پہنچتے۔ اس بیان کو بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎دوسری جانب پوپ لیو نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر براہ راست بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، تاہم وہ جنگ اور تشدد کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور انسانیت کو ایک بہتر راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
    ‎الجزائر کے دورے پر روانگی کے دوران میڈیا سے گفتگو میں پوپ نے کہا کہ وہ امن، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب کے پیغام کو غلط طریقے سے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

  • چین کا جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور، مذاکرات کو مثبت قدم قرار

    چین کا جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور، مذاکرات کو مثبت قدم قرار

    چین نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ردعمل دیتے ہوئے اسے صورتحال میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ چینی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کی مکمل پاسداری کریں گے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکیں گے۔
    ‎چینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک مثبت اشارہ ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ امن کی کوششیں متاثر نہ ہوں۔
    ‎چین نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کو ہر صورت محفوظ، مستحکم اور کھلا رکھنا چاہیے۔ چینی حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی یا کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ توانائی کی عالمی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے دنیا بھر میں توانائی بحران جنم لے سکتا ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہوں۔
    ‎چین نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ توانائی کے تحفظ اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کا یہ مؤقف اس کی عالمی معیشت میں اہم حیثیت اور توانائی کے حوالے سے اس کے مفادات کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے تحمل اور سفارتکاری پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں اس تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنا چاہتی ہیں تاکہ عالمی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • دیامر میں پولیس پر حملہ، 3 اہلکار شہید، ڈی ایس پی زخمی

    دیامر میں پولیس پر حملہ، 3 اہلکار شہید، ڈی ایس پی زخمی

    ‎گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں پولیس ٹیم پر مسلح حملے کے نتیجے میں تین اہلکار شہید جبکہ ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ تھور گوئیں کے علاقے میں پیش آیا جہاں پولیس ایک اہم کارروائی میں مصروف تھی۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پولیس ٹیم علاقے میں افیون کی فصل تلف کرنے کے لیے موجود تھی کہ اسی دوران نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ کر دی۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ تین اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ڈی ایس پی سمیت مزید اہلکار زخمی ہو گئے۔
    ‎اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق حملے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ریجنل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
    ‎مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار شامل ہیں جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ طبی عملہ زخمیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بھی بتائی جا رہی ہے۔
    ‎واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
    ‎یہ حملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں میں مصروف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی جانب سے بھی واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔