باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس جاری ہیے جس میں بجٹ پر بحث جاری ہے، مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خا ن نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایک سال میں تیسرا بجٹ ہے،جو ایک تاریخ ہے،مجھے اس پراعتراض نہیں،اختیارکا استعمال کرنا حکومت کا حق ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ آگ ملک میں پہلے ہی لگی ہوئی تھی ،غریبوں کے گھر گرائے گئے،ان کو بے گھر کیا گیا،ان کی دکانیں گرائی گئیں،ایسی حکومت جس سے لوگ آس لگائے بیٹھے تھے کہ وہ دکھوں کا مداوا کریں گے؟
مشاہداللہ خان نے مزید کہا کہ کہا گیا تھا بلڈوزر تیارہوں گے،گورنرہاؤس وزیراعظم وزیراعلیٰ ہاؤس گرادیے جائیں گے لیکن ایک چپراسی وزیربن گئے ہیں جوسرکلر ریلوے کے نام پرلوگوں کے گھرتوڑ رہے ہیں .انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے لیکن چلے گئے ،مشاہد اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عبدالرزاق داؤد نےکہا کہ پاکستان کنگال ہوگیا،تو پھرتم نے 300 ملین کا ٹھیکا کیوں لیا ،ایک دن فیصلہ ہوتا ہے کہ پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونگے، اگلے دن جاری ہوجاتے ہیں،شک پڑتا ہے فیصلے کوئی اورکر رہا ہے،24گھنٹے میں اتنا بڑا فیصلہ تبدیل نہیں ہوتا،
کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.
ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.
اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.
ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.
یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.
بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.
یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.
لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیراعظم کو شوکاز نوٹس پر رد عمل میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی میں میڈیا سے کوئی گفتگو نہیں کی اورروایتی سیاستدانوں کی طرح ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات بھی نہیں کیے، فردوس عاشق اعوان نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت انتخاب سے قبل دھاندلی میں ملوث ہے ،سندھ حکومت کے وزرا کی انتخابی مہم کے لیے ڈیوٹیاں لگائی گئیں ،بڑی تعدادمیں نوکریاں،پیکیج اورترقیاتی منصوبوں کےاعلان کیےگئے، فردوس عاشق اعوان نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن بےضابطگیوں پرکیوں خاموش ہےنوٹس کیوں نہیں لیاجارہا؟
واضح رہے کہ وزیراعظم تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی محمد خان مہر کی وفات پر گھوٹکی گئے تھے اور ان کے بھائی سے تعزیت کی تھی جس پر پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن مٰیں وزیراعظم کے خلاف درخواست دی تھی الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا تھا.
ایل ڈی اےسٹی میں اربوں روپےفراڈمیں ملوث ملزم احدچیمہ کےکیس پرسماعت پراحتساب عدالت نےملزم احدچیمہ کےجوڈیشل ریمانڈمیں13روزکی توسیع کردی.
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق.ایل ڈی اےسٹی میں اربوں روپےفراڈمیں ملوث ملزم احدچیمہ کےکیس پرسماعت پراحتساب عدالت نےملزم احدچیمہ کےجوڈیشل ریمانڈمیں13روزکی توسیع کردی.
واضح رہے کہ نیب حکام کے مطابق ملزم کی جائیدادوں میں متعدد پلاٹس، زرعی زمینیں، فلیٹس اور مکانات شامل ہیں۔ دیگر جائیدادوں میں ایل ڈی اے ایونیومیں پلاٹ نمبر 701، بینک الفلاح امپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی میں 2 پلاٹس، بھیک احمد یارحافظ آباد میں 311 کنال 31 مرلہ زرعی زمین جبکہ آئی بی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد میں پلاٹ بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ نیب لاہور نے ملزم احد خان چیمہ کو 15 فروری 2018 کو آشیانہ اقبال کرپشن کیس میں گرفتار کیا تھا، دوران تحقیقات ملزم کے نام اربوں روپے مالیت کے اثاثہ جات ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جب سیاسی چور پارٹیوں میں آتے ہیں تو وہ اگلی کرسیوںپر بیٹھے ہوتے ہیں یہ تمام پارٹیوں میں ہوتا ہے ، کچھ ایسے لوگ ہیں جو پارٹیاں چینج کر کر کے کھجل خراب ہو رہے ہیں، رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے، جس پر سپیکر نے کہا کہ آپ کو احساس ہے سب کو احساس ہونا چاہئے،.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کو اندھیروں سے نکالا وہ جیل میں قید ہے کل ہمیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اس کا عزم جوان ہے. خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں ہماری پارٹی کے ساتھ وابستگی مدت کے ساتھ ہیں ، جب سیاسی چور پارٹیوں میں آتے ہیں تو وہ اگلی کرسیوںپر بیٹھے ہوتے ہیں یہ تمام پارٹیوں میں ہوتا ہے، آج اقتدار پر بیٹھنے والوں کو دیکھیں تو کل وہ شوکت عزیز ،مشرف کے ساتھ تھے، سیاست کا احترام بحال کرنا ہے تو ایسے لوگوں کو ضرور پارٹی میں لیں لیکن وہ مقام نہ دیں کہ اگلی کرسیوں پر بیٹھیں. جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارٹیوں کے الیکشن میں ایسا ہونا چاہئے کہ پارٹی کارکنوں کو آگے لانا چاہئے.
خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو پارٹیاں چینج کر کر کے کھجل خراب ہو رہے ہیں، خواجہ آصف نے کہا کہ رل بھی گئے آں پر چس بڑی آئی اے، جس پر سپیکر نے کہا کہ آپ کو احساس ہے سب کو احساس ہونا چاہئے،. کچھ لوگ ایسے ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں،. ذاتی مفادات کے لئے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو پارٹی میں لینے سے پہلے سوچنا چاہئے. خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جب آئین کی حدود کو پار کیا جائے گا تو وفاق کو خطرہ ہو گا،پاکستان کے عوام کا حق ہے وہ چوتھی بار اقتدار دیتےہیں یا نہیں ،ہم صلح صفائی کی بات کریں تو اس کا مطلب کچھ اور لیا جاتا ہے، خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جس طرح ایوان کے حالات رہے وہ قابل رشک نہیں سینیٹ اجلاس پر رشک آتا ہے وہاں حالات ایسے نہیں ،صلح صفائی کی بات کریں تو این آر او کا الزام لگ سکتا ہے ،چاہتے ہیں ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلے
بستی ملوک ( نمائندہ باغی ٹی وی ) تھانہ کی حدود میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت سرچ آپریشن،دوران آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزحمت کا سامناکئی افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں مختلف ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی منشیات فروشوں کوسرچ آپریشن کی مخبری بڑے منشیات فروش مال سمیت فرار،مخبری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف رپورٹ تیار کر لی گئی ہے بستی ملوک نیشنل ایکشن پلان کے تحت تھانہ بستی ملوک کی علاقہ یونین کونسل روڈ، اسلام پور، مبارک پور وغیرہ میں سرچ آپریشن جس میں پنجاب پولیس،رینجر،جی ٹی ٹی،اسپیشل برانچ کی ٹیم نے حصہ لیا دوران آپریشن کئی گھروں کی تلاشی لی گئی جس میں ریاست علی،عاشق علی ولد ممتاز،طارق محمود ولد رفیق،نواب خان ولدمحرم خان،نور جمال ولدعبدالغفور، یونس ولد وزیر علی،عابد حسین ولد فیاض وغیرہ سے لائسنسی اسلحہ برآمدہوا کچھ افراد جن میں ملک ذکاء حسین بھٹی،ریاض حسین بھٹی، فخر ریاض بھٹی ولد عبدلکریم بھٹی اور علی ریاض بھٹی ولد ریاض بھٹی شامل ہیں نے سرچ آپریشن ٹیم سے مزحمت بھی کی اور ہاتھا پائی ہوئی تاہم پولیس ودیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندعناصر کو ناکام بناتے ہوئے گرفتار کر لیا ان افراد کے قبضہ سے ایک عد دپسٹل بھی برآمد ہوا ہے جبکہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تھانہ بستی ملوک میں تعینات پولیس اہلکار وں نے منشیات فروشوں کے معاون خاص ہوٹل والے کو اس آپریشن کی پہلے ہی خبر دے دی جس کی وجہ سے منشیات فروش فریاد عرف فادی،ساجد ولد اللہ بخش وغیرہ پولیس کے ہتھے نہ چڑھ سکے ذرائع سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ آپریشن کی اطلاع منشیات فروش تک پہنچانے پر ان اہلکاروں کے خلاف رپورٹ تیار کی جارہی ہے اسی طرح تھانہ بستی ملوک دیگر علاقوں میں دوران سرچ آپریشن اسلحہ، منشیات وشراب برآمد ہوئی.
ایف بی آر نے بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا.
باغی ٹی وی رپورٹ کےکے مطابق ٹیکس چوروں کے خلاف سخت ایکشن لیتےہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ملک میں بڑی اسامیوں پر ھاتھ ڈالا جائے گا اس طرح اساسے چھپانے والوں کو انعام بھی دیا جائے گا.ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے اثاثے چھپانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی، پہلے بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے۔کسی کے چھپے اثاثے بتانے والے کو پانچ فیصد انعام ملے گا۔
چیف کمشنر ریجنل ٹیکس آفس بدر الدین قریشی نے کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ہزاروں لوگوں کے خلاف کارروائی میں بڑے اثاثے چھپانے والوں کے خلاف پہل کی جائے گی۔
بدر قریشی کے مطابق کوئی یہ نا سمجھے کہ ایف بی آر کے پاس معلومات کا ذخیرہ نہیں، صرف کراچی میں 13000 لگژری گاڑیاں ہیں اور یہ لوگ نان فائلر ہیں لیکن یکم جولائی کے بعد کوئی نہ بچ سکے گا۔
بستی ملوک ( نمائندہ باغی ٹی وی ) دن دہہاڑے واردات نجی کمپنی کا سیل مین نقدی سے محروم
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام بستی ملوک چوک نزد پاکستان فارمیسی بلمقابل الرحمان شاپنگ پلازہ کے سامنے محمد ریاض جو کہ نجی کمپنی میں سیل مین اور شہزور ڈالا پر مال سپلائی اور ریکوری کرتا پھر رہا تھا کہ پاکستان فارمیسی بستی ملوک کے قریب 3 نامعلوم مسلح ملزمان نے اسے گن پوائنٹ پر روکا اور 30 ہزار نقدی اسلحہ کے زور پر لے کر فرار ہوگئے واقعہ کی اطلاع پولیس تھانہ بستی ملوک کو دی گئی تو پولیس نے موقع پر پہنچ کر کاروائی کا آغاز کردیا۔
بھارت سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں کسی بڑے حملے کو مدنظر رکھتے ہوئے 50 فوجی گاڑیاں ہر وقت تیار رکھنے کا حکم دیا ہے دوسری جانب شوپیاں پلوامہ شاہراہ پر سول گاڑیوں کے رکنے پر پابندی لگا دی
باغی ٹی وی کی رپوٹ کے مطابق بھارت سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے حملے کا الرٹ جاری ہونے کے بعد بھارت سرکار نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے شروع کر دئیے ہیں. بھارت سرکار نے شوپیاں پلوامہ شاہراہ پر کسی بھی سول گاڑی کو روکنے پر پابندی لگا دی ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر راستے میں رکنا ہے تو اس شاہراہ پر سفر نہ کریں.شوپیاں ،پلوامہ و قریبی علاقوں میں بھارتی فوج کے کیمپوں کی بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، سرچ آپریشن کے لئے بھارتی فوج نے ڈرون بھی استعمال کر رہی ہے. بھارت سرکار کو خدشہ ہے کہ پلوامہ طرزکا حملہ ایک بار پھر ہو سکتا ہے اس ضمن میں بھارتی اداروں کی جانب سے ہائی الرٹ جاری ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہر بھارتی فوجی خوفزدہ ہے. بھارتی فوج نے شوپیاں پلوامہ شاہراہ کی نگرانی کے لئے 50 فوجی گاڑیاں ہر وقت تیار رکھنے کا حکم دیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ان گاڑیوں کو مدد کے لئے روانہ کیا جائے گا.
واضح رہے کہ بھارتی فوج نے چند روز قبل شوپیاں سے پانچ کشمیریون کو گرفتار کیا تھا جن سے بارودی مواد بھی بر امد ہوا تھا اس کے بعد سے بھارت نے ہائی الرٹ جاری کیا ہے. پاکستان نے بھی بھارت کو پیغام دیا تھا کہ ذاکر موسیٰ کی شہادت کے بعد عسکریت پسند بدلہ لینے کے لئے بڑے حملے کی تیاری کر رہے ہیں.
میانوالی،سرگودہا (نمائندہ باغی ٹی وی )ریجنل پولیس آفیسرسرگودھا سید خرم علی نے میانوالی کے دورہ کے موقع پر ڈی پی او حسن اسد علوی کے ہمراہ ڈی پی او آفس میں پولیس خدمت مرکز وین کا ملاحظہ کیا۔ ڈی پی او میانوالی نے ان کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس خدمت مرکز وین کے ذریعے وہ تمام 14 سہولیات جو پولیس خدمت مرکز سنٹر میں دی جارہی ہیں اب ایسے دور دراز کے علاقوں میں بذریعہ موبائل پہنچائی جائیں گی جہاں سے شہری خدمت مرکز تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اس کے لیے علیحدہ ٹرینڈ سٹاف لگایا گیا ہے جو کہ لوگوں کو تمام سہولیات مہیا کریں گے.