فیصل آباد میں تھانہ نشاط آباد کے علاقے میں فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق کانٹیبل وقاص اپنے گھر کے باہر موجود تھا کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے واقعہ کی تحقیقات جاری ہے۔
Blog
-

تبدیلی کی ابتدا، مگر کہاں سے؟؟؟ اسامہ چوہدری
شوارموں میں مُردہ مرغی کا گوشت، ہوٹلوں میں گدھوں کا گوشت، گدھے نہ بھی ہوں تو بیمار مریل جانوروں کا سستا گوشت، گاڑی دیکھتے ہی سبزی کا، فروٹس کا ریٹ اچانک سے بڑھا دینا، مرچوں میں اینٹیں, پیس کر ملانا، چائے کی پتی میں اصل پتی کی جگہ چنوں کا رنگ کیا ہوا چھلکا استعمال کرنا،ٹائروں میں ایک پنکچر کی جگہ زیادہ پنکچر کرنا،کالی مرچ کی جگہ اونٹوں کی ایک خاص غذا کو کالی مرچ بنا کر فروخت کرنا، استادوں کا صرف اخبار پڑھنےکے لئے اسکول جانا اور پھر حکومت سے گلے شکوے کرنا کہ حکومت نے تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ،سرکاری ڈاکٹرز کا ہسپتال میں آئے مریضوں کو دھکے دے کر ہسپتال میں سے باہر نکالنا،پولیس والوں کا بغیر رشوت کے کام نہ کرنا اور کام کرنے کے عوض سائل سے مٹھائی ،پولیس موبائل کے لئے ڈیزل کے پیسے اور چائے کےلئے پیسے وصول کرنا،ایک الیکٹریشن کا چند ٹکوں کی خاطرالیکٹرک چیزوں کو خود سے خراب کر دینا ،ہمارا صفائی کے بعد گھروں اور دکانوں کا کوڑا باہر سڑک پر پھینک دینا اور اپنا کاروبار چمکانے کی خاطر وال چاکنگ کر کر کے اس ملک کی دیواروں کو گندا کرنا یہ سب کام ہم خود کرتے ہیں اور گلے شکوے کرتے ہیں حکومتوں سے کہ ہماری حکومت ٹھیک نہیں ہے ،حکومت کام نہیں کررہی۔حکومت کام تب ہی کرے گی جب ہمیں اس ملک کا احساس ہوگا جب ہم اس ملک کو اپنا گھر سمجھیں گے اور اس کی حفاطت اسی طرح کریں گے جیسے اپنے گھروں کی اور اپنے ذاتی سامان کی حفاظت کرتے ہیں ،جی ہاں یہ ملک تب ہی ترقی کرے گا جب ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے جب ہم اپنے وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں گے اور اس کی عملی تصویر بھی پیش کریں گے تب آئے گی تبدیلی ،تب بنے گا ہمارا ملک ایشین ٹائیگر ،تب سنورے گی یہ پاک دھرتی اور تب ہم اس قابل ہوں گے کہ دنیا کہ کسی بھی کونے میں جائیں ہم وہاں فخر سے رہ سکیں ،جب ہم کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پہ اتریں تو ہمیں بغیر تلاشی کے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت ہو اور ہمارا چہرہ دنیا کے سامنے ایک مہذب، پرامن اور ایک اچھی قوم کے طور پہ سامنے آئے تو ہمیں سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا، ہمیں سب سے پہلے اپنی ذات میں انقلاب لانا ہوگا۔
-
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان
کوئٹہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ منصوبے جذبات اور احساسات کے بجائے پیشہ ورانہ قابلیت سے چلتے ہیں، صوبائی حکومت32 ارب روپے کی لاگت سے گزشتہ 15سال سے ادھوری 450 اسکیمات کو مکمل کر رہی ہے، صوبے میں قانونی سازی بہتر کی جارہی ہے، میر عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رہنماء اور پارلیمنٹ کا حصہ ہیں انہیں اظہار راۓکا حق ہے، ریکوڈک منصوبہ کیس میں ہرجانے کی رقم صوبے کو اداکرنی ہوگی، یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ صوبے میں پہلی دفعہ منرل سیکٹر پر کام کر رہے ہیں ریکوڈک کا کیس عالمی سطح پر چل رہا ہے اسکا ایک فیصلہ ہمارے خلاف آچکا ہے لیکن اب تک ہر جانے کی رقم طے نہیں ہوئی قوی امکان ہے کہ ہم پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جائیگا جو کہ بڑی رقم ہے یہ رقم صوبے نے ادا کرنی ہے اور اسکا سارا بوجھ حکومت بلوچستان پر آئیگا ہم اس صورتحال سے نکلنے کے لئے مختلف میکنزم پر کام کر رہے ہیں ریکوڈک و ہ واحد منصوبہ ہے جو کہ فیزبل اور گراؤنڈ پر عملی طور پر موجود ہے،باقی منصوبوں کے حوالے سے باتیں ہیں لیکن ان کے حوالے سے کوئی ٹھوس اور جامع معلومات نہیں ہیں ہمیں صوبے کے طور پر اسمبلی اور اسٹیک ہولڈرز کو بتانا ہے کہ ہماری پوزیشن ٹھیک نہیں ملکی سطح پر بھی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے اس صورتحال میں ہمیں اندورنی سطح پر کوئی بیل آؤٹ پیکج ملنے کے امکانات نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ جذبات اور احساسات سے منصوبے نہیں چلتے یہ انتہائی پیشہ ورانہ کام ہے،معدنیات دنیا کا مہنگا ترین شعبہ ہے جس پر وسیع ترین کام کرنا پڑتا ہے،ثمر مبارک مند کے کہنے پر صوبے کے ایک ارب روپے لگے لیکن دو سے تین ماہ کام کرنے کے بعد انکا منصوبہ بند ہوگیا تھر میں بھی یہی ہوا لیکن سندھ حکومت نے پیشہ ورلوگوں سے کام لیتے ہوئے تھر سے کوئلہ نکلا جس سے بجلی بنائ جارہی ہے انہوں نے کہا کہ دفتری اور آن گراؤنڈ منصوبے چل رہے ہیں،حکومت کا کام سسٹم ٹھیک کرنا ہے ہمارے فیصلوں کو سروسز پر اثر انداز ہونا چاہیے ہم میڈیا پر آنے کے بجائے مربوط اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کی کتاب بنا نا آسان جبکہ اس پر اصل کام عمل درآمد ہے ہماری حکومت جون تک32 ارب روپے کی لاگت سے 450اسکیمات جو گزشتہ حکومتوں کی شروع کردہ ہیں کو مکمل کریگی یہ وہ منصوبے ہیں جنہیں ہم نے شروع نہیں کیا یہ 15سال سے ادھوری اسکیمات تھیں، صوبے کے کالج، سکول،سڑکیں،ہسپتال ادھورے تھے انہیں پورا کر رہے ہیں،ماضی میں جو بھی حکومت آئی اس نے ماضی کے منصوبوں پر کام کرنے کی بجائے اپنے منصوبے شروع کیے انہوں نے کہا کہ صوبے میں قانون سازی بہتر کی جارہی ہے،، سروس اور بھرتیوں کے قانون بہتر کر رہے ہیں 80سال پرانے قوانین میں ریفارمز لا رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اتحادی جماعت ہے ان کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں، وزیر اعظم کی مدد سے سی پیک کے مغربی روٹ پر کام کر رہے ہیں اور یہ دو روئیہ بنے گا صوبے میں کارڈیک اور کینسر کا ہسپتال بنا رہے ہیں،، پہلی بار پلاننگ کمیشن کی جانب سے صوبے کی بہتری کے لئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں اسکیمات شامل کی جائیں گی،ہم نے صوبے کے ہر ضلعی کو تر جیح دی ہے،انہوں نے کہا کہ عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رکن ہیں بی اے پی میں کھلا ماحول ہے ہم ایک دوسرے سے اظہار رائے کرتے ہیں بعض اوقات ہم سنجیدیگی سے بات نہیں کر رہے ہوتے لیکن میڈیا پر بات آنے کے بعد لوگ سنجیدہ ہو جاتے ہیں اختلاف سیاست کاحصہ ہے سیاست میں لوگوں کے پاس آزادی اظہار ہونی چاہے ہم اسے کسی اور طریقے سے دیکھتے ہیں جبکہ لوگ کسی اور انداز میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
-
چنیوٹ(نمائندہ باغی TV)سرگودھا روڈ ہنڈا شوروم ڈاکوؤں کی گولی لگنے سے سکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گیا۔
ڈاکو ہنڈا شوروم کے تالے کھول رہے تھے۔تو دوران مزاحمت ڈاکوؤں نے سیکورٹی گارڈ پر گولی چلا دی۔جس کے نتیجے میں سیکورٹی گارڈ ارزمان ولد نزیر احمد عمر 40 سال محلہ رشیدہ آباد جانبحق ہو گیا۔گولی جاں بحق ہونے والے شخص کے سر میں لگی۔ڈی پی او چنیوٹ نےڈاکوؤں کی تلاش کےلیےخصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی۔ڈی پی چنیوٹ کا کہنا ہے کہ بہت جلد ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کر لیا جائے گا۔ -
2018ءکےانتخابات کا امیر ترین امیدوار مسجد کی بجلی استعمال کرتارہا
میاں محمد حسین منا شیخ کا تعلق تحصیل وضلع مظفرگڑ ھ سے ہے اور انہوں نے 2018ءکے عام انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثوں کی مالیت4کھرب3ارب 77کروڑ روپے ظاہر کی تھی۔مناشیخ نے عام انتخابات میں مظفرگڑھ کے شہری آبادی پر مشتمل حلقہ این اے182اور پی پی 270سے آزاد امیدوار کی حثیت سے الیکشن لڑا تھا اور چند سو ووٹ حاصل کرکے اپنی ضمانت تک ضبط کروابیٹھے تھے۔گزشتہ دنوں میاں محمد حسین منا شیخ کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنے ڈیرہ سےمنسلک جامع مسجد مھریہ رضویہ کے میٹر سے بجلی حاصل کر استعمال کرتے رہے۔یہ راز اس وقت فاش ہوا جب جامع مسجد مھریہ رضویہ کے امام حافظ محمد الیاس نے مظفرگڑھ کے تھانہ سول لائن میں درخواست دائر کی کہ محمد حسین مناشیخ مسجد کے میٹر سے بجلی لیتا رہا اور بل کے پیسے طلب کرنے پر مناشیخ نے اپنے کارندوں کی مدد سے امام مسجد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس نے مسجد کے امام کی مدعیت میں میاں محمد حسین مناشیخ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تاہم ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔




-
پنجاب فوڈاتھارٹی کی سرکاری گاڑی کا پرائیویٹ استعمال
مظفرگڑھ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی جنوبی پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹرکی گاڑی سکول وین بن گئی،سرکاری گاڑی میں سکول کے بچے اورسوداسلف لانے کی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی۔باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتاہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی جنوبی پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد مگسی کی مبینہ سرکاری گاڑی میں سکول یونیفارم میں ملبوس بچے سوار ہیں جبکہ گاڑی کے پچھلے حصہ میں سوداسلف کے بڑے بڑے تھلے رکھے گئے ہیں ۔گاڑی پر سبز رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ نصب ہے اور اس کانمبرLEG1199ہے۔صحافیوں نے جب سرکاری گاڑی میں بچوں اور دیگر سامان کی موجودگی کے حوالے سے ڈرائیور سے دریافت کیا تو ڈرائیور کا کہناتھاکہ وہ شہزاد مگسی صاحب کے بچوں کو سکول سے اٹھانے اور گھر کا سودا سلف لینے کے لئے بازار آیاہے۔
-
صوبائی وزیر کے ایک ٹکٹ میں دو مزے
صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک مظفرگڑھ میں پی ایم اے کی تقریب میں شرکت کے لئےنجی میرج کلب آئے تو تقریب تاخیر کا شکار ہوتی دیکھ کر چند قدم کے فاصلہ پر موجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مظفرگڑھ کا "اچانک” دورہ کرڈالا،اس موقع پر انھوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے انکے مسائل دریافت کئے.صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن مظفرگڑھ کی تقریب میں شرکت کے لئے سیال میر ج کلب میں آئے تو تقریب کچھ تاخیر کا شکار ہوتی دیکھ انہوں نے اپنی کارکردگی دیکھانے کے لئے میرج ہال سے چند قدم کے فاصلہ پر موجود ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ کا دورہ کرلیا،صوبائی وزیر توانائی نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے مسائل دریافت کیے.اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بیڈز کی کمی ہے جس کے حوالے سے وہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے بات کریں گے.صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ ملتان میں نشتر ہسپتال 2 کا افتتاح کردیا گیا ہے جو 2 سال کے عرصے میں مکمل ہوجائے گا.ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی.





-
”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا
امین بھایانی کا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا۔امریکہ میں مقیم معروف ادیب امین بھایانی کا تیسرا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا ہے۔ کتاب کا تعارفی فلیپ ممتاز و نامور ادبا نے لکھا ہے جس میں انہوں نے شاندار الفاظ میں مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ امین بھایانی نے اس کتاب میں لوگوں کے عمومی مسائل کو کہانیوں کا موضوع بنایا ہے اور ان کی نفسیاتی توضیح بھی کی ہے جو کہ ایک کہنہ مشق ادیب ہی کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنے دلچسپ اسلوب سے ہر عمر کے لوگوں کے لیے اس کتاب میں دلچسپی کا سامان کر دیا ہے۔ مصنف کی گہری سوچ اور فلسفہ ان افسانوں میں جھلکتا ہے۔ اس سے قبل امین بھایانی کے دو افسانوی مجموعے ”بھاٹی گیٹ کا روبن گوش“ اور ”بے چین شہر کی پُرسکون لڑکی“ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد پا چکے ہیں۔ اس کتاب میں شامل افسانے پاک و ہند کے نامور ادبی جرائد میں شائع ہوکر داد پاچکے ہیں۔امین بھایانی مصنف منفرد طرز تحریر کی بدولت ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کتابوں کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پذیرائی کے اعتبار سے یہ سر فہرست شمار ہوتی ہیں۔کتاب خوب صورت ٹائٹیل اور عمدہ طباعت سے مزین ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ ”کتاب والا پبلشر“ اور ”فضلی سنز“ کے باہمی اشتراک سے شائع کیا گیا اور کتاب سرائے اردو بازار لاہور سے بھی دستیاب ہے۔

-

آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید
وہ ہمت جرات غیرت کا پیکر مجسم تھا۔وہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا متلاشی تھا۔وہ نور کرنوں میں لپٹا چہرا ہزاروں دلوں کی امیدوں کا محور تھا۔وہ صحابہ کرام کے رستوں پر چلنے والا ایک مرد مسلم تھا۔وہ خزاں کے دور میں بہار کی آخری امید تھا۔وہ لاکھوں بہنوں ،ماؤں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کا محافظ تھا۔وہ فتح علی بن حیدر علی ٹیپو تھا۔
اس نے بچپن سے ہی شیروں سے کھیلنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے عزت کی زندگی گزارنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی انگریزوں اور مرہٹوں سے ان ہزاروں لاکھوں خون کے قطروں کا انتقام لینے کا عزم کیا ہوا تھا جو بنگال کی مٹی پی گئی تھی۔اس نے بچپن سے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف آخری قلعہ سمجھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی طاقت و جرات کے غیر معمولی جوہر سیکھے تھے۔
سلطان کی عمر ابھی کم ہی تھی کہ انہیں ان کے والد نے مختلف محاذوں مرہٹوں اور انگریزوں کے خلاف بھیج دیا۔سلطان معظم کی بہادری اور جرات کے اوپر سارا میسور رشک کرتا تھا۔پھر ایک تاریک رات میں،ایک ٹمٹماتا چراغ بھج گیا۔میسور کی عزت کا محافظ اور سلطان ٹیپو کے والد نواب حیدر علی وفات پاگئے۔جنگی صورتحال تھی۔میسور ایک وقت میں مرہٹوں، میر نظام علی اور انگریزوں کے خلاف مد مقابل تھا۔ایسی صورتحال میں جب حیدر علی وفات پاگئے، میسور کو انتہائ خطرناک نتائج مل سکتے تھے لیکن سلطان فتح علی حیدر ٹیپو کی مدبرانہ پالیسی نے میسور کے گرتے قلعے کو سنبھالا۔
اس اولوالعزم مجاہد نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دور انحتاط میں محمد بن قاسم کی غیرت،محمود غزنوی کے جاہ و جلال اور احمد شاہ ابدالی کے عزم و استقلال کی یاد تازہ کر دی تھی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر جب مایوسی و بے بسی چھا رہی تھی، تب سلطان ٹیپو کی ریاست میں امیدوں اور ولولوں کی نئ دنیا آباد ہورہی تھی۔جب ہندوستان پر مسلمانوں کے قلعے مسمار کیے جارہے تھے تب میسور میں سرنگا پٹم، چتل ڈرگ اور منگلور میں سلطنت خداداد کے معمار نئے قلعے اور حصار تعمیر کر رہے تھے۔
سلطان ٹیپو کا تمام دور عہد جنگوں میں گزری۔سلطان کے خلاف تین طاقتیں تھی۔مگر جس ایک طاقت سے سلطان لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ میر نظام علی کی طاقت تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ میر نظام علی ہی وہ حکمران تھا جو مسلمانوں کے چراغ بھجا رہا تھا اور انہیں غلامی کی تاریکیوں میں دھکا دے رہا تھا۔اس حکمران نے اپنے مفاد، فقط اپنے مفاد کیلیے لاکھوں عزتوں کا سودا کیا۔سلطان ٹیپو اس سے اس لیے نہیں لڑنا چاہتے تھے کہ اس کے ساتھ فوج مسلمان تھی۔سلطان ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگے جائیں۔تاریخ گواہ ہے سلطان معظم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اگر ان کا ساتھ حاصل نہ ہوسکے تو کم از کم انہیں میدان جنگ میں نہ لایا جائے۔مگر میر نظام علی کا تو مقصد صرف خزانے بھرنا تھا۔
بالآخر ٹیپو کی ایک ریاست، تین دشمنوں کے ساتھ محو جنگ ہوئ۔اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔سلطان ٹیپو اس جنگ کو فتح کرسکتے تھے مگر ایمان فروشوں نے سلطان کی مخبریاں کرکے اسے شکست دلوائ۔میر صادق، پورنیا، میر قمر الدین اور میر معین الدین جیسے غداروں نے صرف میسور کا ہی سودا نہیں کیا تھا بلکہ تمام ہندوستان کے مسلمانوں کی عزت کا سودا کیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سودے سے انکے اپنے گھر محفوظ نہ رہے۔جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے انکی اپنی بہنوں،بیٹیوں کو نہیں چھوڑا تھا۔
ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے میدان میں آئے۔سلطان نے میسور کے ہراول دستوں کیساتھ لڑا۔سلطان معظم پر ایک انگریز نے گولی چلائ۔مگر سلطان نے زخم کی فکر نہ کی۔سلطان کے جسم نے خون نکل رہا تھا مگر سلطان معظم اس خون سے سرنگاپٹم کی زمین کو سیراب کرنا چاہتے تھے۔سلطان پر ایک اور گولی لگی اور سلطان پر نقاہت کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر وہ لڑتے رہے۔جب زخموں کھ باعث سلطان کی ہمت جواب دینے لگی تو سلطان کے باڈی گارڈ دستے نے سلطان سے کہا "عالی جاہ!اب اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیں”
سلطان نے جواب دیا؛ "نہیں______میرے لیے شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے!”
سلطان کے گھوڑے پر ایک گولی لگی تو اس نے گرتے ہی دم توڑ دیا۔گھوڑے کیساتھ گرتے وقت سلطان کی دستار ان سے علحیدہ ہوگئ۔سلطان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک گولی سلطان کے سینے پے لگی۔پاس ہی ایک انگریز نے سلطان کی کمر سے مرصع پیٹی اتارنے کی کوشش کی۔لیکن سلطان میں ابھی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔انہوں نے یہ توہین برداشت نہ کی۔سلطان نے اچانک اٹھ کر تلوار بلند کی اور پوری شدت کیساتھ اس پر وار کیا۔انگریز نے اپنی بندوق آگے کی۔اس کے ساتھ ہی سلطان کی تلوار ٹوٹ گئ۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انگریز نے اپنی بندوق کی نالی کا سرا سلطان کی کنپٹی کے ساتھ لگاتے ہوئے فائر کردیا اور وہ آفتاب جس کی روشنی میں اہل میسور نے آذادی کی حسین منازل دیکھی تھیں، ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا۔اس آفتاب کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے اوپر ایک تاریک دور آگیا۔
اگلے روز سلطان کا جنازہ جب محل سے نکلا تو سرنگاپٹم کا ہر بچہ اس جنازے میں شریک ہوا۔ہر چشم سلطان کے غم میں پرنم تھی۔اس روز شدید آندھی کے آثار آسمان پر تھے۔جیسے ہی سلطان کے مقدس جسم کی تدفین ہوئ ویسے ہی بادلوں نے اشک جاری کردیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس دن اتنی بارش ہوئ کہ سرنگاپٹم کی گلیاں بازار ندیوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
دیکھنے والوں نے دریائے کاویری کی طغیانی دیکھی۔کاش وہ غدار جنہوں نے قوم کے مستقبل کا سودا کیا تھا، ایک دن اور انتظار کرلیتے تو دشمن کی فوج اسی دریا میں ڈوب جاتی______کاش،
سلطان معظم!
قوم کی جس آذادی کا آپنے خواب دیکھا تھا،وہ آذادی ایک ایسی قوم کو ملی ہوئ ہے جس کو دنیا پاکستانی کے نام سے جانتی ہے۔جو ریاست میسور آپنے قائم کی تھی، اور جو پورے ہند کے مسلمانوں کی محافظ تھی، آج اس جیسی ایک اور ریاست قائم ہے جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔اور یہ ریاست تمام عالم اسلام کی محافظ ہے۔قوم کے جو رضاکار آپکے قافلے میں شامل تھے، وہی رضاکار اس قافلے میں شامل ہیں۔یہ آفت و مصیبت کے وقت، یہ زلزلے اود سیلاب کے وقت امداد کی ناقابل یقین داستانیں رقم کردیتے ہیں۔اور میدان جنگ میں وہ افواج کے دوش دبدوش لڑتے ہیں۔اگر اس ریاست میں کہیں باغیانہ شعور بیدار ہو تو یہ رضاکار اٹھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلیے چل دوڑتے ہیں۔مصائب جھیلتے ہیں، آہنی چٹانوں کو سر کرتے ہیں، اپنے لوگوں کے طعنے سنتے ہیں مگر آپکی طرح،آپکے رضاکاروں کی طرح،آپکی قوم کی طرح یہ لوگ اپنے حوصلے کم نہیں ہونے دیتے،اپنے منشور میں پیچھے نہیں ہٹتے۔
سلطان معظم!
جس طرح آپکی ریاست اہل کفر اور انکے ہاتھوں میں کھیلتے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی طرح یہ ریاست کفار اور ان کے چیلے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔
جس طرح آپ کی فوج کم تعداد ہوتے ہوئے بھی دشمن پر غالب رہتی تھی،اسی طرح اس ریاست کی فوج بھی بہادری کے جوہر دکھاتی ہے۔دشمن یہ سوچ کر ان پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سو رہے ہوں گے، مگر یہ بیدار رہتے ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھول نہ پائے۔
سلطان معظم!
جس طرح آپکی ریاست میں غدار تھے جو آپکی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیشیں کر رہے تھے اسی طرح اس ریاست میں بھی غدار پائے جاتے ہیں۔کچھ پہلے حکمران بن کر آتے ہیں،کچھ الگ بھیس میں آتے ہیں-مگر پھر آفریں کہ اس ریاست کی چاک و چوبند افواج اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی عوام ان غداروں کو انجام تلک پہنچاتے ہیں۔
اس ریاست کے لوگ اے سلطان معظم! آپکو بہت یاد کرتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپ کو اپنی انسپائریشن سمجھتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپکے ہی اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ:
"شیر کی ایک لمحہ کی زندگی،گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
اللہ سلطان معظم اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے جو آج کے دن یعنی 4 مئی کو انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور ہماری اس ریاست پاکستان میں ان جیسے حکمران پیدا فرمائے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
آخر میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار:
آں شہیدان محبت را امام
آبروئے ہند و چین و روم شامنامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
خاک قبرش از من و تو زندہ ترازنگاہ خواجہ بدر و حنین
فقر سلطان وارث جذب حسین ؓ -

پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو
سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو کامران اکمل نے کہا کہ شاہد آفریدی کی عزت کی طرح سب کی عزت ہے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہیں کرنی چاہئیے شاہد آفریدی نے آئی سی سی سینچری بنائی اس وقت عمر بتا دیتے تو اچھا ہوتا انہوں نے کہا ورلڈ کپ سے پہلے نیٹ سیریز جیتنا بہت اہم ہ پاکستانی ٹیم بہت اچھا پرفارمنس کرے گی بھارتی میڈیا کھلاڑیوں اور فوج کے متعلق باتیں کرتا رہتا ہے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے لئے منتخب ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں محمد عامر کی بالنگ بہت اچھی ہے حسن علی کے علاوہ کوئی بالر نہیں ہے سعید اجمل نے کہا سئنیرز کی عزت سب کو کرنی چاہئیےجاوید میانداد لیجنڈ ہیں انکی عزت کرنی چاہئیے تقریب میں آئے عثمان شنواری نے کہاورلڈ کپ کی ٹیم پر مطمئن ہیں کوچ اور ٹیم بہترین ہے امید ہے ورلڈ کپ جیت جایئں گے شاہد آفریدی کی کتاب کے سوال پر انہوں نے کہا آئے گی تو سب واضح ہو جائے گا