Baaghi TV

Blog

  • فریال تالپور مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    فریال تالپور مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فریال تالپور کو نیب نے احتساب عدالت میں‌ پیش کیا، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کیس کی سماعت کی ،نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ مزید تفتیش کرنی ہے ،ریمانڈ دیا جائے جس پر عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے فریال تالپور کا مزید چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا.

    دوران سماعت فریال تالپور روسٹرم پرآگئیں،جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہسپتال لے کر گئے،فریال تالپور نے کہاکہ میڈیکل ٹیم آئی تھی بلڈپریشر کا مسئلہ تھا،میں شوگر کی مریضہ بھی ہوں، جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہائپرٹینشن بھی ہے ،اس پر سابق صدرآصف زرداری کی ہمشیرہ نے کہا کہ جی ہاں ،جج ارشد ملک نے کہا کہ جن کیخلاف مقدمات ہوں وہ ہائپرٹینشن کا شکار کیوں ہو جاتا ہے،عدالت نے فریال تالپور کو نشست پر بیٹھنے کی اجازت دیدی.

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے فریال تالپور کو گرفتار کیا تھا ، بعد ازاں عدالت نے15جون کوفریال تالپورکو9روزہ جسمانی ریمانڈپرنیب کےحوالےکیاتھا، آج جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر فریال تالپور کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا.

  • خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالہ سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کے معاون برائے پولیو بابربن عطا نے بھی شرکت کی. اجلاس میں پولیو پر قابو پانے کے لیئے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی ایچ او لکی مروت اور ڈی ایچ او بنوں سمیت متعدد کو معطل کیا جائے گا جن کی ناقص کارکردگی سامنے آئی ہے. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیومہمات کے دوران محکمہ صحت کےاختیارات کمشنرزکو دئیے جائیں گے. آئندہ پولیومہم کےدوران انکاری والدین کےخلاف ایف آئی آرنہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے. محکمہ پولیس کوپولیوورکرزکی حفاظت یقینی بنانےکا بھی کہا گیا ہے. وزیراعظم کے معاون برائے پولیو بابر بن عطا کا کہنا ہے کہ پولیو کےخلاف پروپیگنڈاسےنہیں پیارومحبت سےجنگ لڑیں گے.

    واضح رہے کہ بنوں ڈویژن کو پولیوسے متاثرہ علاقوں میں خطرناک ترین ڈویژن قرار دیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے انسداد پولیو بابرعطا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں میں پولیو کا تیزی سے پھیلنا تشویشناک ہے، مقامی افراد سمیت ہمارا اسٹاف بھی انسداد پولیو مہم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہواہے جسے فوری طورپر روکنا ہے۔

    پشاور میں ان سکولوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے جنہوں نے پولیو کے خلاف مہم چلائی تھی. ماہ اپریل میں چھ روزہ مہم کے دوران پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے سے بچوں کی حالت غیر ہو گئی تھی جس پر صوبائی دارالحکومت کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ان بچوں کو لا یا گیا تھا جنہوں نے پولیو کے قطرے پئے تھے. اس واقعہ کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا تھا جبکہ ایک ہسپتال کو بھی آگ لگائی تھی. واقعہ کے بعد کمشنرپشاورکی سربراہی میں کمیٹی نے نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ سیل کیے جانے والےا سکولوں میں دارالکلام ماڈل اسکول، اقراء اسکول،حال مارک اسکول، پشاور کیمبرج اسکول، مسلم اسٹینڈرڈ، آکسفورڈ پبلک اسکول پاین بریز اسکول شامل ہے۔ ان سکولوں کے خلاف کاروائی ڈپٹی کمشنر محمد علی اضغر کی ہدایت پر کی گئی ہے

    انسداد پولیو مہم کی جانب سے سوشل میڈیا پر 495 اکاونٹ بند کرنے کی درخواست کی گئی تھی جن میں سے 257 اکاونٹ بند کر دئیے گئے. فیس بک پر 263 اکائونٹس بلاک کرنے کی درخواست پر 209 اکائونٹس بلاک کئیگئے۔ ٹویٹر پر 134 اکائونٹس بلاک کرنے کی درخواست پر 15 اکائونٹس بلاک کئے گئے ہیں. یو ٹیوب پر 88 بلاک کرنے کی درخواست پر اب تک 33 اکائونٹس بلاک کئے جا چکے ہیں۔ بابر بن عطا نے مزید کہا کہ جن اکائونٹس کو بند نہیں کیا گیا ان کے خلاف کارروائی کے لیے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا۔

  • آصف زرداری کو عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت کا نیب کو حکم

    آصف زرداری کو عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت کا نیب کو حکم

    سابق صدر آصف زرداری کے خلاف بلٹ پروف گاڑیوں کی ادائیگی کے حوالہ سے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے سابق صدر کو عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کی توشہ خانہ سے بلٹ پروف گاڑیوں کی ادائیگی میں عبوری ضمانت کی درخواست پرسماعت ہوئی. کیس کی سماعت جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی نے کی، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہاں 4-2کیسزہیں اگرایک میں گرفتارہوجائے تو باقی کا کیا ہوگا،.جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگردرخواست گزارآپ کےکسٹڈی میں ہےتوپروڈکشن،واپسی آپ نےہی کرنی ہے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت کواختیارہےکہ وہ درخواست گزارکوپیش کرنےکاحکم دیتےہیں یانہیں،

    سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سابق صدرنیب کی حراست میں ہیں،ان کی حاضری ضروری ہے،اسلام آباد:میں قانون پربات کروں گا،آصف علی زرداری خودبھی عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے‌ نیب کو حکم دیا کہ آصف زرداری کو عدالت میں پیش کیا جائے، نیب نے عدالت کو کہا کہ آصف زرداری کو 26 جون کو عدالت میں پیش کریں گے.

    واضح رہے کہ نیب میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف جعلی اکائونٹس کیس کی کل 22 انکوائریاں جاری ہیں، یگا منی لانڈرنگ، پنک ریزیڈنسی، واٹر سپلائی سکیموں کے ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں۔پارک لین، توشہ خانہ گاڑیاں، بلٹ پروف گاڑیوں کی انوسٹی گیشن جاری ہیں جبکہ نوری آباد پاور منصوبہ، ٹھٹھہ اور دادو شوگر ملز کی انکوائری ہو رہی ہے.

  • عراق کے مذہبی رہنما مقتدی الصدر کا اپنی فورس تحلیل کرنے کا عندیہ

    عراق کے مذہبی رہنما مقتدی الصدر کا اپنی فورس تحلیل کرنے کا عندیہ

    عراق میں مزہبی رہنما مقتدی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی تنظیم ” السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) عراق میں سیکیورٹی اور انتظامیہ کے درمیان رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔

    باغی ٹی وی رپورٹ عراق میں مزہبی رہنما مقتدی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی تنظیم "اگر السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) اس سلسلے میں رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔
    اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں الصدر نے کہا کہ وہ عراقی عوام کو مطلع کریں گے کہ سیاسی، پارلیمانی اور حکومتی پردوں کے پیچھے کیا ہو رہا ہے ،،، اور اس حوالے سے قوم کے سامنے متعدد اہم نقاط پیش کریں گے۔

    الصدر نے مزید کہا کہ یہ لوگ فرقہ وارانہ، نسلی اور جماعتی بنیادوں پر تقسیم کے علاوہ ایک پرانی ریاست کی جڑیں کھودنے پر مصر ہیں۔

    الصدری گروپ کے سربراہ کے مطابق انہوں نے خود کو وزارتی تشکیل سے دور رکھا اور کوشش کی کہ کابینہ خود مختار ٹکنوکریٹس پر مشتمل ہو تاہم بہت کم لوگوں نے ان کی مدد کی۔

    مقتدی الصدر نے اعلان کیا کہ وہ اس بات کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں کہ وہ خود کو اُن تمام منصبوں اور عہدوں سے دور رکھیں گے جو غلط معیار کے مطابق ہوں گے۔

    الصدر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "ہم امید کر رہے تھے کہ حب الوطنی حکومت کی اولین ترجیح ہو گی۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ عراق کے فیصلے اب بھی پس پردہ ہو رہے ہیں … بعض عناصر علاقائی تنازع کو ایندھن سے بھڑکا رہے ہیں تا کہ عراق کو خطرے میں ڈالا جا سکے”۔

    مقتدی الصدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پر امن مظاہرین کے تحفظ کے لیے جلد حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "انسداد بدعنوانی کونسل کا کام ابھی تک باعث شرمندگی اور سست ہے”۔

    الصدر نے مطالبہ کیا کہ فوج، پولیس اور سیکورٹی اداروں کو زیادہ مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) اس سلسلے میں رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔

    یاد رہے کہ مقتدی الصدر کے سیکڑوں پیروکاروں نے چند روز قبل دارالحکومت بغداد اور دیگر کئی صوبوں میں ملک میں مقننہ اور انتظامیہ کی کارکردگی کے خلاف احتجاجی مطاہرے کیے تھے۔

  • آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آئس ہیروئن کہاں بن رہی ہے، منشیات کیس میں عدالت کے ریمارکس

    آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آئس ہیروئن کہاں بن رہی ہے، منشیات کیس میں عدالت کے ریمارکس

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آئس ہیروئن کہاں بن رہی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کےتعلیمی اداروں میں بڑھتےہوئے منشیات کے استعمال کےخلاف کیس پرسماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس عامرفاروق نےکیس کی سماعت کی، کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ائس ہیروئن کہاں بن رہی ہے،جس سےمنشیات برآمد ہواس کوپکڑا جاتاہےمگرجہاں بن رہی ہواسکاعلم نہیں،

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ سابقہ وزیرداخلہ نےکہا تھا کہ 75فیصد لڑکیاں،45فیصد لڑکےڈرگ استعمال کرتے ہیں،عدالت نےوزارت داخلہ،تعلیم،صحت کےجوائنٹ سیکریٹریزکوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،عدالت نے ڈائریکٹراےاین ایف کو بھی آئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئےسماعت2ہفتے تک کیلئےملتوی کردی.

    واضح رہے کہ سابق وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے بیان دیا تھا کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 75%طالبات اور 45%طلبہ کرسٹل آئس نشے کے عادی ہیں،اسلام آباد کے بڑے بڑے اسکولوں کے کیفوں میں آئس ہیروئن بک رہی ہے، منشیات کو کینڈی کے ریپر میں دیا جاتا ہے

  • امریکی رپورٹ نے  بھارت میں  مذ ہبی دھشت گردی  کا مکروہ چہرا ننگا کر دیا

    امریکی رپورٹ نے بھارت میں مذ ہبی دھشت گردی کا مکروہ چہرا ننگا کر دیا

    ‎امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمی مذہبی آزادی سے متعلق 2019 کی رپورٹ نے مودی کےبھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 2 سال سے مذہبی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہندو قوم پرست دھڑوں نے ‘ہندوتوا’ کے تحت غیر ہندوؤں پر تشدد کیا اور انہیں دہشت اور خوف کا نشانہ بنایا گیا جب کہ مودی حکومت نے گزشتہ دور میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‎حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ سیاسی لیڈر کھلے عام ‘ہندوتوا’ کا پرچار کرتے ہیں اور مودی حکومت کا مستقبل میں بھی توجہ نہ دینے کا عندیہ نظر آرہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‎ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے گائے کی ذبح پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ‎گائے ذبح کرنے کی جھوٹی اطلاع پر بھی مسلمانوں کو سرعام تشدد کر کے قتل کیا گیا۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق ‎دودھ، دہی، چمڑے اور گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد پر تشدد ہوا اور ان کاروبار سے وابستہ 10 افراد کو گزشتہ سال قتل کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی تقاریب ہورہی ہیں، غیر ہندوؤں کو "گھر واپسی” نامی تقاریب منعقد کر کے زبردستی ہندو بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ‎بھارت کی 10 ریاستوں میں اقلیتوں کے لیے حالات بدتر ہوچکے ہیں، ان میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، اڑیسہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجھستان شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکا نے بھارت کو مذہبی دہشت گردی کی فہرست میں بدترین ممالک میں شامل کر رکھا ہے۔

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.

  • پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں کتنے فوائد؟ جانیے رپورٹ میں

    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں کتنے فوائد؟ جانیے رپورٹ میں

    پھلوں اور سبزیوں میں موجود چھلکے میں چھپے فوائد کی وجہ سے ماہرین غزاء پھل اور سبزیاں چھلکے سمیت کھانے کی تجویز دیتے ہیں .

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پھلوں اور سبزیوں میں موجود چھلکے میں چھپے فوائد کی وجہ سے ماہرین غزاء چھلکے سمیت کھانے کی تجویز دیتے ہیں .
    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے اتارنے کا مطلب صفائی لیا جاتا ہے جب کہ ہر سبزی اور پھل کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
    چھلکے کا مطلب بھرپور فائبر کا استعمال ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اینٹی اوکسی ڈینٹس، وٹامن اور معدنیات بھی ان میں بھرپور ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گودے سے 33 فی صد فائبر چھلکے میں ہوتا ہے اور اینٹی اوکسی ڈینٹس 328 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
    مختلف پھلوں اور سبزیوں میں یہ مقدار مختلف ہوسکتی ہے لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ چھلکے کی افادیت اپنی جگہ ہے۔
    پھلوں میں آلو بخارا، خوبانی اور آڑو کے چھلکے میں فائبر 38 فی صد ہوتا ہے۔
    اسی طرح اکثر لوگ سیب کا چھلکا اتار کر کھاتے ہیں جب کہ سیب کا چھلکا فائبر، وٹامن اے اور وٹامن سی سے بھر پور ہوتا ہے۔

    ماہر غذائیت کھیرے کو بھی چھلکے سمیت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کینو موسمبی کے چھلکے کھائے نہیں جا سکتے لیکن ان کا استعمال بعد میں کیا جاسکتا ہے۔ ان چھلکوں کو سکھانے کے بعد ان کا استعمال مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔

  • فریال تالپورکوتاحال عدالت کیوں پیش نہ کیا جا سکا؟ اہم خبر آ گئی

    فریال تالپورکوتاحال عدالت کیوں پیش نہ کیا جا سکا؟ اہم خبر آ گئی

    سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج انہیں عدالت پیش کیا جائے گا،عدالت کے جج بیٹھے رہے لیکن فریال تالپور کو نیب نے پیش نہ کیا، جج کو بتایا گیا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے، انتظام ہوتا ہے تو عدالت لاتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج انہیں عدالت پیش ہونا تھا، تا ہم نیب کی گاڑٍی خراب ہونے کی وجہ سے ابھی تک انہیں عدالت پیش نہیں کیا گیا. جج ارشد ملک نے عدالت میں موجود سحر کامران سے استفسار کیا کہ کہ بتایا گیا ہے کہ فریال تالپور کا میڈیکل ہونا باقی ہے جس پر سحر کامران نے کہا کہ تفتیشی افسر نے بتایا ہے کہ گاڑی خراب ہونے کے باعث پیشی میں تاخیر ہوئی،تفتیشی افسرکے مطابق جیسے ہی گاڑی کا انتظام ہوگا عدالت میں پیش کردیا جائیگا، جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ جب فریال تالپورکو پیش کریں گے تب ہی کیس کی سماعت ہوگی،اتنا کہہ کر جج ارشد ملک اپنے چیمبر میں چلے گئے

    واضح رہے کہ فریال تالپور کی جعلی بینک اکاونٹ کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کیا ہے، نیب نے فریال تالپور کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا ہے. عدالت نے فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ تفتیش کے وقت وہاں خواتین افسران بھی موجود ہوں.

  • ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیور کو سنائی شیخ رشید نے خوشخبری

    ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیور کو سنائی شیخ رشید نے خوشخبری

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منتخب آدمی کو سیلکٹڈ کہنا نامناسب بات ہے، پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج سمجھتا ہوں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منتخب آدمی کو سلیکٹڈ کہنا نا مناسب بات ہے، شہباز شریف اور میری مدر پارٹی ایک ہی ہے، ہم نے کبھی پارٹی نہیں بدلی۔ شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں لندن جانے دو،دفع کریں ان کو جانے دیں ،پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج سمجھتا ہوں،ریلوے میں میراایک سال مکمل ہونے پر بھی رپورٹ جاری کی جائے گی .

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اداروں کو بہتر بنانے کا تہیہ کیا ہوا ہے، 3 سے 4 ارب کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کی ہے، تیل کی قیمت بڑھنے سے کرایوں میں اضافہ کیا گیا، 17 لاکھ لیٹر تیل بچایا اور 34 ٹرینیں بھی چلائی ہیں۔ نئی چلائی جانیوالی 10 ٹرینیں منافع میں جا رہی ہیں،

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرئیواز کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ 30فیصدریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیورز کو دوبارہ رکھنے رہ غور کرر ہے ہیں،اسسٹنٹ ڈرائیورز کی ٹریننگ کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیراعظم کو ایوان میں سیلکٹڈ کہنے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں جو بھی بیٹھا ہے وہ منتخب ہو کر آیا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن جماعتیں سیلکٹڈ وزیراعظم کہتی ہیں.