Baaghi TV

Blog

  • وزیر اعظم کا پروگرام برائے صحت کی معیاریسہولیات – تعارف (معیاری علاج – بروقت ، سب کے لئے ،ہر جگہ)

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ چنیوٹ ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران کی ہدایت پر عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع چنیوٹ میں بنیادی مراکز صحت پر بیرونی مریضان کا وارڈ  او–پی –ڈی صبح 8 سےشام 8 بجے تک کھلے رکھے جائیں گے ۔صبح 8 سے دوپہر 2 تک کی بجائے یہ سروس رات 8 بجے تک کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چنیوٹ میں 2نئے ٹراما سنٹرز کی دیہی مراکز صحت کی سطح پر تعمیر کی جائے گی جبکہ بچوں کی 2 نرسریاں دیہی مرکز صحت کی سطح پر قائم کی جائینگیانہوں نے بتایا ہے کہ دوائیوں کی سٹوریج کے لئے1نئے گودام کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جبکہ وزیر اعظم کا پروگرام برائے صحت کے لئے تقریبا” 3 ارب روپے ، منتخب کردہ 8 اضلاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے تقریبا” 4کروڑ 49 لاکھ روپے بطور خاص ضلع چنیوٹ کے لئے رکھے گئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے تحت منتخب کردہ 8 اضلاع میں تقریبا” 2000نئی آسامیاں پیدا ہوں گی جن میں سے212ضلع چنیوٹ کے لئے مخصوص ہیں۔ ان کی تفصیل درج زیل ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف نے چنیوٹ میں محکمہ ہیلتھ میں نئی تعیناتیوں اور دیگر مثبت تبدیلیوں سے متعلق بتایا کہ 2چائلڈسپیشلیسٹ10میڈیکل آفیسرزخاتون میڈیکل آفیسرز42 نرسز48ایل ایچ ویز51 سیکورٹی گارڈ
    59 آیا کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے گا

  • کشمیر میں فوج اور سی آرپی ایف کی ناکامی پر بھارتی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا، اہم خبر آگئی

    کشمیر میں فوج اور سی آرپی ایف کی ناکامی پر بھارتی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا، اہم خبر آگئی

    مقبوضہ کشمیر میں‌ تحریک آزادی کچلنے میں‌ ناکام بھارت سرکار نے آسام رائفلز کو کشمیر کے حساس علاقوں‌ میں تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں‌ بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور انڈوتبتین بارڈر پولیس کے علاوہ اب آسام رائفلز کی تعیناتی کو ہندوستانی حکومت کی ناکامی کے طور پر دیکھا جارہا ہے. یہ حکم نامہ ہندوستانی وزارت داخلہ نے جاری کیا ہے. جموں‌ کشمیر میں آسام رائفلزکے نئے بٹالینز بھی قائم کئے جائیں گے۔ بھارتی حکومت نے ناگہانی آفات سے نمٹنے کے بہانے برما کے ساتھ لگنے والی سرحد پر تعینات فورسز کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

    آسام رائفلز 1835ء میں قائم کی گئی تھی. اس پیرا ملٹری فورس میں‌ اس وقت تقریبا پچاس ہزار کے قریب اہلکار شامل ہیں۔ آسام رائفلز میں بھارتی فوج کے افسران تعینات کئے جاتے ہیں اوریہ بھارتی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ان دنوں‌ تحریک آزادی بھرپور عروج پر ہے اور اعلیٰ‌تعلیم یافتہ نوجوان تیزی سے عسکری تنظیموں‌میں شمولیت اختیار کر کے بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار ہو رہے ہیں.

  • بھارتی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد مجرم اراکین پارلیمنٹ

    بھارتی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد مجرم اراکین پارلیمنٹ

    بھارت کے لوک سبھا انتخابات میں کامیاب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ میں سے چالیس فیصد پرمقدمات درج ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی الیکشن میں مودی کی پارٹی بی جے پی کو کامیابی ملی ہے. نئی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد اراکین پر قتل اور زیادتی جیسے مختلف مقدمات قائم ہیں. سمجھوتہ ایکسپریس حملے کی ملزم بھی بھارت میں الیکشن جیت چکی ہے. کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کو قتل عام اور ڈکیتی سمیت 204 مقدموں کا سامنا ہے، الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچنے والے 543 اراکین اسمبلی میں سے 233 پر مقدمے چل رہے ہیں .بھارتیہ جنتا پارٹی کے 303 نو منتخب اراکین میں سے 116 کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں۔اسی طرح، کانگریس کے 52 میں سے 29 پر مقدمات قائم ہیں.

  • نواز شریف سے جیل میں نیب کی تفتیش کے بعد مریم نواز نے ٹویٹر پر میدان سنبھال لیا

    نواز شریف سے جیل میں نیب کی تفتیش کے بعد مریم نواز نے ٹویٹر پر میدان سنبھال لیا

    مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ووٹ چوری سے آنے والے جعلی اعظم کہلاتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال پر نوازشریف سے ڈھائی گھنٹے تفتیش ،KP حکومت کا حصہ نا ہونے کے باوجود حکومت کے ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال کرنے والا جعلیِ اعظم قانون سے بالاتر؟ اب صرف نوازشریف کے خلاف اس کرسی پر بیٹھنے کا کیس باقی رہ گیا ہے جو کرسی انکو ووٹ نے دلائی تھی.

    مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ کامیابی کا انحصار کسی عہدے پر نہیں بلکہ نظریے اور عوام کے دلوں میں جگہ بنانے پر ہوتا ہے۔عزت عہدوں سے ملتی تو آج نالائق اعظم کی عزت ہوتی اور وہ سر اٹھا کہ چلنے کے قابل ہوتا۔ ووٹ چوری سے آنے والے جعلی اعظم کہلاتے ہیں ،ووٹ کی طاقت سے آنے والے عوامی وزیراعظم کہلاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب اسلام آباد کی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے اڑھائی گھنٹے تحقیقات کیں، نیب کی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹرحمادحسن نیازی،ڈپٹی ڈائریکٹرانویسٹی گیشن عبدالماجد شامل تھے ،نیب اسلام آباد کی ٹیم عدالت سےاجازت کےبعد جیل پہنچی تھی، نواز شریف سے تحقیقات کے بعد نیب ٹیم واپس روانہ ہو گئی .

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف پر33قیمتی سرکاری گاڑیاں سال16-2015 میں خریدنےکا الزام ہے،سابق وزیراعظم نواز شریف سےدستیاب رکارڈکی روشنی میں پوچھ گچھ کی گئی ، بلٹ پروف گاڑیاں نواز شریف اور مریم نواز نے بھی استعمال کیں، جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں ڈیوٹی ادائیگی کے بغیر خریدی گئیں، بلٹ پروف گاڑیاں سارک کانفرنس 2016 کے مہمانوں کے لیے منگوائی گئیں، نواز شریف نے 34 میں سے 20 بلٹ پروف گاڑیاں اپنے قافلے میں شامل کرلی تھیں. سرکاری بلٹ پروف گاڑیاں نواز شریف کے اہلخانہ نے استعمال کیں۔

  • بھارت میں ٹوپی پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان نوجوان پر تشدد

    بھارت میں ٹوپی پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان نوجوان پر تشدد

    بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد ہندو انتہا پسند آپے سے باہر ہو چکے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں پر تشدد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے. بھارتی ریاست ہریانہ میں ٹوپی پہن کر بازار سے گزرنے والے مسلم نوجوان کو ہندو انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا .اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے گروگرام میں ایک مسلمان لڑکا ٹوپی پہنے بازار سے گزرا توہندو انتہا پسندوں نے اسے روکا، ٹوپی اتاری اور تشدد کا نشانہ بنایا، ہندو انتہا پسندوں نے مسلم نوجوان کو کے شری رام کا نعرہ لگانے پر بھی مجبور کیا. عالم نامی نوجوان کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے گھر جا رہا تھا. عالم نے پولیس میں ہندو انتہا پسندوں کے‌ خلاف کاروائی کے لئے درخواست دے دی ہے. جس میں اس نے لکھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے اسے کہا کہ یہاں ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں. مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہندو انتہا پسندوں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ ان کے کہنے پر میں نے نعرہ لگا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے ’جے شری رام‘ بولنے کے لیے بھی مجبور کیا، لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے لاٹھی سے میری بری طرح پٹائی کی۔ مسلمان نوجوان کی چیخ و پکار سن کر مقامی لوگ مدد کی لئے آئے تو ہندو انتہا پسند فرار ہو گئے. گروگرام شہر کے اے سی پی راجیو کمار نے اس حوالہ سے کہا کہ واقعہ کے متعلق تھانہ میں تعزیرات ہند کی دفعہ 153، 149، 323 اور 506 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے. مدعی کا میڈیکل بھی کروایا گیا ہے. ۔ ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے.

    واضح رہے کہ گروگرام میں مسلمانوں پرہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے کئی واقعات گزشتہ ایک سال میں سامنے آ ئے ہیں ۔

  • ذاکر موسی کی شہادت، کشمیر میں تعلیمی ادارے تا حال بند

    ذاکر موسی کی شہادت، کشمیر میں تعلیمی ادارے تا حال بند

    برہان وانی کے ساتھی ذاکر موسیٰ کی شہادت کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لئے بھارت سرکار نے آج پیر کو تعلیمی ادارے بند کروا دئیے جس کی وجہ سے تعلیمی نظام مکمل طور پر معطل رہا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ذاکر موسیٰ کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے. بھارت سرکار نے کشمیریوں کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بند کروا دئیے. سرینگر،اننت ناگ، کولگام ،بڈگام ، گاندربل، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بھارت سرکار نے زبردستی تعلیمی ادارے بند کروائے. شوپیاں میں تعلیمی ادارے کھلے تھے ان کو بھی بند کروا دیا گیا. جس کی وجہ سے تدریسی کام مکمل طور پر معطل رہا.

    واضح رہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع پلوامہ کے شہر ترال میں ذاکر موسیٰ کو شہید کیا تھا، ذاکر موسیٰ کی شہادت کی اطلاع ملنے پر کشمیری سڑکوں‌پر نکل آئے اور بھر پور احتجاج کیا.بھارتی فوج نے ذاکر موسیٰ کی لاش کو لواحقین کے حوالے کیا ، ذاکر موسیٰ کی شہادت پر مختلف علاقوں سے کشمیری اس کے گھر پہنچے، ہزاروں لوگوں نے ذاکر موسیٰ کی نماز جنازہ میں شرکت کی، اس کی نماز جنازہ آٹھ بار ادا کی گئی ، دو بارذاکر موسیٰ کو دفنانے کے لیے لے کر جا رہے تھے کہ عوام کی استدعا پر پھر لاش واپس لانا پڑی اور لوگون نے نماز جنازہ ادا کی.بھارتی فوج کی جانب سے ناکہ بندی اور سخت سیکورٹی کے باوجود ہزاروں کشمیری نماز جنازہ میں شریک ہوئے.

    واضح رہے کہ ذاکر موسیٰ نور پورہ ترال کے رہنے والے تھے اور انہوں نے 2013میں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اسکے بعد وہ برہان وانی کا قریبی ساتھی بن گئے ۔ذاکر موسیٰ ایک اچھے اور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔انکے والد عبدالرشید بٹ ریٹائرڈ اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر ہیں۔انکے بڑے بھائی شاکر رشید بٹ ہڈیوں کے سرجن ہیں اور بھابی بھی ڈاکٹر ہیں جبکہ بہن شاہینہ بنک میں کام کرتی ہیں۔ذاکر موسیٰ 2012میں چندی گڑھ میں رام دیو جندل انجینئرنگ کالج میں بی ٹیک کرنے کیلئے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے تعلیم چھوڑ دی اور بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تھے .

  • وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ۔

    کوئٹہ :- وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے نوشکی میں 7 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے سات سالہ بچے سے زیادتی اور بعد میں قتل کرنے والے ملزم کو ضلعی انتظامیہ نے نوشکی کے قریبی علاقے برابچہ سے گرفتار کیا ملزم کی گرفتاری پر ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر نوشکی ، اسسٹنٹ کمشنر نوشکی اور لیویز فورس کے اقدامات قابل ستائش ہیں ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقائی سطح پر انٹیلی جنس ٹیسٹ کاروائی کی گئی 7 سالہ بچے سے زیادتی اور قتل کے ملزم کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ملزم کو آئین اور قانون کے مطابق عبرتناک سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی ایسی گھناؤنی جرم کا ارتکاب نا کرے اور ایسے لوگ ہمارے معاشرے کے لئے بد نما داغ ہیں،مقتول بچے کے والدین کے دکھ اور غم میں برابر کا شریک ہوں، صوبائی وزیر داخلہ

  • ایوان کی بے عزتی پر سپیکر کچھ نہیں کرتے. شاہد خاقان عباسی

    ایوان کی بے عزتی پر سپیکر کچھ نہیں کرتے. شاہد خاقان عباسی

    قومی اسمبلی اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل کے واقعے پر وزیراعظم، وزیرداخلہ ، وزیراعلیٰ نہیں بولے، حکومت کے مفلوج ہونے کی وجہ سے وزیر بے بس ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ایوان میں خواجہ آصف میں قومی معاملات پر تقریر کی اورتجویزدی کہ چیئرمین نیب کےمعاملے میں کمیٹی بنائی جائے ،وزیرستان کےواقعے پربھی کہا یہ قومی معاملہ ہےجسےسیاسی طورپرحل ہوناچاہئے ،یہ ان فاٹانہیں پاکستان کاحصہ ہے لیکن کسی نے واقعےکی تفصیل نہیں دی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ خواجہ آصف کی تقریرکےجواب میں توقع تھی وزراءاس پرجواب دیں گے لیکن ایوان کی بدنصیبی ہےایک اوروزیرجس کا کیا بیک گراؤنڈ ہےوہ اس موضوع پربولا اس ایوان کی بے عزتی پر اسپیکر کچھ نہیں کرتے.

  • خواجہ آصف کے الزام کے بعد جہانگیر ترین فوری میدان میں آ گئے.کیا کہا؟

    خواجہ آصف کے الزام کے بعد جہانگیر ترین فوری میدان میں آ گئے.کیا کہا؟

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ‌آصف نے قومی اسمبلی میں جہانگیر ترین پر الزام عائد کیا کہ جس چینل پر چیئرمین نیب کی خبر چلی اس میں جہانگیر ترین حصے دار ہیں. جس پر جہانگیر ترین میدان میں آ گئے، خواجہ آصف کو فوری جواب دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ جس نیوز چینل نے چیئرمین نیب سے متعلق یہ خبر بریک کی اس چینل میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین حصے دار ہیں اور اس کے مالک طاہر خان پتا نہیں کہ وہ حصہ دار ہیں یا مالک ہیں ۔ خواجہ آصف کے بیان کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جہانگیر ترین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کی تاریخ ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اس نے اسمبل کے فلور پر دعویٰ کیا کہ میں اس ٹی وی کا پارٹنر ہوں‌جس نے چیئرمین نیب کے خلاف خبر چلائی، جہانگیر ترین کا کہنا تھا، کسی بھی چینل میں میرا کوئی شیئر نیہیں خواجہ آصف اپنے الفاظ واپس لیں

    Khawaja Asif has a history of being a liar. Today, on the floor of the house, he again lied claiming that I am a partner in the TV channel that did prgmme against Chairman Nab.I do not own even a single share in any TV channel let alone owning one. Take your words back khwja Asif

  • فنکار اور مکا٘ر

    فنکار اور مکا٘ر

    ویسے ہمارے ملک میں فنکار ہیں آپکے خیال سے ۔۔۔
    میرے حساب سے تو فنکار بہت پہلے اس ملک کو چھوڑ کر جا چکے ہیں
    جیسے “منٹو صاحب “
    اور “بڑے غلام علی “
    اور بھی کئی نام ایسے ہیں جو اس ملک کو چھوڑ کر چلے جاتے اگر انکو اس ملک کو چھوڑ کر جانے کا موقع ملتا وہ اب ایک گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں نا کوئی انکا نام لیتا ہے نہ کوئی ان سے سیکھنے کی زحمت کرتا ہے نا ہی کوئی ان سے یہ پوچھتا ہے کہ وہ زندگی کیسے گزار رہے ہیں
    کبھی کسی نے حسین بخش گلو جی کا نام لیا کسی کو پتہ ہے دلدار صاحب کون ہیں ؟؟؟؟ کسی کو پتہ ہے کہ ایک دھمال” ہو لال میری پت رکھیو” جو پوری دنیا میں بہت سنی اور گائی جاتی ہے کس موسیقار کی دھن ہے اور اس کو لیکھا کس شاعر نے ہے ؟؟

    آپ اِن لوگوں کو فنکار کہتے ہیں جو اپنے کام کا ریاض چھوڑ کر صرف ذریعہ ڈھونڈنے کا ریاض کر رہے ہیں کہ بس کوئی ذریعہ سفارش مل جائے اور اپنا نام کر لیں کوئی محنت کوئی ریاضت نہ کرنی پڑے
    کسی کو برا ٹھرا کر اور اپنے آپ کو خوامخواہ اچھا کہلوانا یا کسی کے کندھے پر پاؤں رکھ کے آگے بڑھ جانا تو فنکار کی فطرت نہیں ۔۔!
    فنکار کبھی کسی کا حق نہیں مارتا بلکہ فنکار تو ڈرتا ہے ان سب باتوں سے وہ وہاں بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا جہاں کسی کی حق تلفی کی بات ہو رہی ہو فنکار بہت ذیادہ ہی حساس ہوتا ہے اور فنکار ہی تو حق اور سچ بات کرتا ہے کیا آج کا فنکار ایسا ہے ؟ کیا فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے چاہے وہ اداکار ہو یا پینٹر ایک گانے والے سے لیکر ساز بجانے والا ہو یا موسیقار جو بھی اس شعبے سے تعلق رکھتا ہے کیا آج کا فنکار اتنی عاجزی اور انکساری دل میں رکھتا ہے؟؟
    فنکار میں اور ایک عام شخص میں ایک ہی نمایاں فرق ہوتا ہے
    کہ فنکار کو جھوٹ اور فریب نہیں آتا فنکار ایک ملاوٹ سے پاک چیز کا نام ہے
    اس ملک کی یہی بد نصیبی ہے کے جیسے پارلیمنٹ میں ہر بار ایسے سیاست دان آ جاتے ہیں جو سیاست سے بہت دور ہیں مطلب کے انکو یہ ہی نہیں پتہ کے سیاست باہر کے لوگوں سے کر کے اپنے ملک کو اچھا چلانا ہے
    لیکن وہ اپنے ہی ملک کو سیاست کی نظر کیے جا رہے ہیں ایسے ہی اس ملک کے فنکاروں کا حا ل ہے
    یہ بھی اپنے فن سے بہت دور ہو کر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے کام کی ریاضت جھوڑ کر سیاست کیے جا رہے ہیں ریاضت والا سیاست اور سیاست والا غلاظت کیے جا رہا ہے اور ہماری عوام بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کی حوصلہ آفزائی کیے جا رہی ہے
    کوئی اداکار ہو یا ہدائتکار کوئی گانے والا ہو یا ساز بجانے والا کہیں بھی کسی جگہ یا کسی ٹی وی چینل پر کسی فنکار کو کسی اپنے ساتھی فنکار کی تعریف کرتے کسی نے دیکھا ہے۔۔۔۔ نہیں کیوں کے ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کیا اس بات سے لگتا ہے کہ آجکل فنکار کو اپنے فن پہ بھروسہ نہیں یا اسکو اندر سے پتہ ہے کہ وہ تو فنکار ہے ہی نہیں اپنے کسی ساتھی فنکار کا نام لینے سے کیوں ڈرتے ہیں ہمارے فنکار کیوں انکو لگتا ہے کہ کسی دوسرے فنکار کا نام لینے سے انکی عزت میں کمی آ جائے گی اسکا مطلب صاف ہے کے اصل میں وہ فنکار ہیں ہی نہیں اسی لیے وہ اپنے ساتھی فنکار کا نام لینے سے گھبراتے ہیں یا وہ فنکار یہ جانتا ہے کہ جس فنکار ساتھی کا وہ نام لینے جا رہا ہے وہ واقع ہی اس سے بڑا ہے ویسے اپنے سے سینیر کو عزت دینا تو کوئی بری بات نہیں اور اپنے سے جونئیر کو عزت دینابھی اچھی بات ہے

    ہاں کچھ لوگ نام لیتے ہیں یہ ان فنکاروں کے نام لیتے ہیں جو مر چکے ہیں اور اس لیے انکو ان سے کوئی ڈر نہیں تو وہ بِلا جھیججک ان کا نام لے کر اپنی جھوٹی عاجزی و انکساری دیکھاتے ہیں کہ ہم انکو مانتے ہیں واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو ہمارے فنکاروں کو یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ ایک دوسرے کی عزت افزائی کرنے سے عزتوں میں اضافہ ہی ہو گا اور ہاں اگر آپ کسی کی ترقی کا باعث نہیں بن سکتے تو کم سے کم اس کی ترقی پر اسکی حوصلہ افزائی تو کر دیں
    ہمارے ملک میں کسی بھی چینل نے کسی بھی راٹر ، کیمرامین ، ریکاڈسٹ ، گیت کار ، شاعر کو بلانے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی کبھی ان کے کام کو سراہا ساری داد فلم اور ڈرامے کا ہدائتکار لے جاتا ہے اور گانوں کی داد موسیقار لے جاتا ہے ہمارے ملک میں فلم اور ڈرامہ بنانے والوں نے ان سب رائٹرز جو انکی فلمیں ڈرامے لکھتے ہیں اور شاعر جو ان کی فلم اور ڈرامہ کی گانے لکھتے ہیں ان کے لیے
    خاص بجٹ بنایا ہوتا ہے جو خاصا کم ہوتا مطلب ان کو یہ لگتا ہے کہ لکھنا ریکارڈ کرنا اور فلماناں دنیا کا آسان کام ہے ؟؟
    اور افسوس اس ملک کے بہت ذیادہ ذہین لوگ جو ایوارڈز کو ڈیزائن کرتے ہیں انھوں نے کبھی کہانی نویس، کیمرا مین ، ریکاڈسٹ اور شاعر کی نومی نیشن والی کیٹا گری ہی نہیں بنائی مطلب یہ لوگ کہانی نویس،کیمرا مین، ریکاڈسٹ اور شاعر ان کے حساب سے فضول لوگ ہیں

    اور اس ملک میں ہر بندہ ہی اپنے آپ کو ایک استاد کی نظر سے دیکھتا ہے اب سارے استاد ہونگے تو وہ طالب علم کہاں سے آئے گا کہ جس کو علم سیکھنا ہے اور جس کو جو نہیں آتا وہ وہی کیے جارہا ہے
    اور ہماری عوام بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کی حوصلہ آفزائی کیے جا رہی ہے
    ہمارا ملک وہ ہے جہاں ایک سچے آرٹسٹ مطلب جو واقعئ فنکار ہے اپنے کام میں اسکو پاگل ، خبطی ، جیسے خطابوں سے نوازا جاتا ہے
    آج کے فنکار ایک بات ضرور یاد رکھیں
    فنکاری اور مکاری میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔۔۔ شکریہ