Baaghi TV

Blog

  • مریم نواز کے لئے بڑی مشکل، حکومت نے انتہائی اہم فیصلہ کر لیا

    مریم نواز کے لئے بڑی مشکل، حکومت نے انتہائی اہم فیصلہ کر لیا

    نواز شریف کے جیل جانے کے بعد حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا، نواز شریف کی صاحبزادی مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے لئے بڑی مشکل کھڑی ہو گئی ، حکومت نے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا مکمل آڈٹ کروانے کا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا ہے کہ مریم نواز نے یوتھ پروگرام کے نام پر 67 ارب روپے کہاں خرچ کئے؟ لیپ ٹاپ اور قرضے کس کو دییے گئے ؟ اس کا مکمل آڈٹ اور انکوائری کروائی جائے گی

    واضح رہے کہ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چئرپرسن نومبر 2013 میں مقرر کیا گیا تھا۔ مریم نواز کی یوتھ پروگرام میں تعیناتی کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا تھا. اس حوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی مریم نواز کے خلاف دائر کی گئی تھی. عدالت نے مریم نواز کو اس عہدے سے ہٹانے کا کہا تھا جس پر ایک سال بعد نومبر 2014 میں مریم نواز نے یوتھ پروگرام سے استعفیٰ دے دیا تھا. اس ایک سال میں 67 ارب روپے یوتھ پروگرام کے تحت خرچ کئے گئے

  • نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    میاں منشا کی کمپنی کو غیر قانونی طور پر نوازنے کی نیب نے تحقیقات شروع کر دی ہیں ،اس سلسلہ میں نیب نے نیپرا کے سابق چیئرمین خالد سعید کو 20 مئی کو طلب کر لیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کے میگا پاور سیکنڈل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے. نیب نے میاں منشا کی کمپنی نشاط چونیاں پاور کو غیر قانونی طور پر اربوں روپے دینے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے اس ضمن میں نیب نے نیپرا کے سابق چیئرمین خالد سعید کو طلب کیا ہے. نیب کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ خالد سعید بیس مئی کو نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں اور متعلقہ ریکارڈ ساتھ لے کر آئیں. نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ نشاط چونیاں پاور کمپنی کو خلاف قانون ٹیرف کی مد میں نوازا گیا،نیب نے خالد سعید کو نشاط چونیاں پاور اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے خلاف جاری تحقیقات کے حوالہ سے طلب کیا ہے.

    پاکستان کے معروف بزنس مین میاں منشا سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش میں انکشافات کیا تھا کہ غیرملکی اثاثے شہزاد سلیم کے پاس محفوظ ہیں، چونیاں پاور، نشاط پاور سے قومی خزانے کو 80 ارب کا نقصان پہنچایا، دونوں پاور پلانٹ نشاط گروپ کی ملکیت ہیں، دونوں پاور پلانٹس سے سالانہ 80 ارب روپے کا فراڈ ہوتا تھا۔ میاں منشا اور اُن کے بیٹوں پرمنی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے، میاں منشا نے 2010 میں برطانیہ میں سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب خریدا، جس کی خریداری کے لیے انہوں نے کروڑوں پاؤنڈز غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے۔ واضح رہے کہ میاں منشا کے خلاف پاکستان ورکر پارٹی کے چیئرمین فاروق سلہریا نے گزشتہ برس بھی ایک درخواست نیب میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں منشا نے 95ملین ڈالر منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے برطانیہ منتقل کئے ہیں۔ ایم سی بی بینک‘نشاط گروپ‘ڈی جی خان سیمنٹ‘آدم جی انشورنس اور نشاط پاور کمپنیاں میاں منشا کی ملکیت ہیں. نیب نے گزشتہ سال جون میں میاں محمد منشا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

  • ساہیوال:اعلی سرکاری افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ساہیوال:اعلی سرکاری افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ساہیوال(نمائندہ باغی ٹی وی)کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی،
    میونسپل کارپوریشن افسران کے خلاف توہین عدالت کے جرم میں بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
    تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن ساہیوال کے کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین نے مستقل ہونے کےلئے ساہیوال لیبر کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی،جس پر عدالت نے محکمہ کو ان ملازمین کے مستقل کیے جانے بارے
    حکم نامہ جاری کیا تھا،اور اس معاملے میں ہائی کورٹ نے بھی محکمہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ملازمین کو مستقل کرنے کے لیبر کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا تھا لیکن اس کے باوجود میونسپل کارپوریشن ساہیوال کے افسران نے عدالتی حکم نامے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملازمین کو مستقل نہ کیا۔جس پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ساہیوال اور چیف آفیسر سروسز میونسپل کارپوریشن ساہیوال کے خلاف توہین عدالت کی اپیل دائر کی گئی تھی،الزام علیہان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر لیبر کورٹ کے معزز جج صاحب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام علیہان کے بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو حکم دیا ہے کہ آئیندہ تاریخ سماعت پر ان افسران کو ہر صورت گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے دونوں افسران کی تنخواہ میں سے پچاس ہزار روپے بطور جرمانہ کٹوتی کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم بھی جاری کیا،
    واضح رہے کہ بعض ملازمین کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے افسران ڈیلی ویجز ملازمین کی آڑ میں بوگس حاضریاں لگا کر لاکھوں روپے کی تنخواہیں خود وصول کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کو مستقل نہیں کیا جارہا کیونکہ اس سے ان کا دھندہ ختم ہونے کا خدشہ ہے

  • صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدف۔۔۔۔۔۔۔۔

    صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدفصحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قوموں کی تربیت کرنے، ان کی ترقی کا رخ متعین کرنے، حکومتیں بنانے اور گرانے میں قلم کا کردار سب سے زیادہ ہے لیکن آئے دن صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات نے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے سرمایہ کاروں اور انتظامیہ کی جانب سےتیار کردہ صحافی یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو چھپانے کے لیے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ سچ لکھنے اور حقائق چھپانے کو مصلحت کا نام دے کر اپنا طرہ بلند رکھے ہوئے ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما سیاستدانوں، محکمہ صحت اور پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے دیکھے گئے ہیں تشویش ناک عمل تو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی انکوائری پولیس ملازم ہی کرتا ہے ایسی صورت میں انصاف ملنا تو درکنار الٹا مدعی صحافی کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں مندرجہ بالا مذکورہ اقسام کے صحافی مصلحت قرار دے کر ظالم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں بس یہی وجہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کے ضرورت ہے

    پاکستان پریس فاونڈیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2002 سے 2019 تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ کیئے گئے ہیں ان 17 سالوں میں 42 صحافیوں کو پولیس نے ہراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا ان تمام واقعات میں 185 صحافی زخمی ہوئے اور 73 صحافی پیشہ ورانہ امور انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے

    صحافتی امور انجام دینے پر تشدد کا ایک واقعہ لیہ میں ڈان اخبار کے رپورٹر فرید اللہ چوہدری کے ساتھ بھی پیش آیا جو واضح کرتاہے کہ صحافیوں کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے فرید اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2010 کے پہلے ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لیہ میں نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا اور کوریج کے لیے میڈیا کو کال دی ہم پریس کلب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے تو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نے میڈیا نمائندگان کو اندر جانے سے منع کر دیا اور ہمیں گیٹ پر روک لیا گیا اندر طلبات کا شور تھا اس لیے ہم وہیں موجود رہے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں لگ بھگ دس منٹ گزرنے کے بعد ای ڈی او ہیلتھ لیہ ڈاکٹر مختار حسین شاہ ہنگامی طور پر وہاں پہنچے اور صحافیوں کو گیٹ پر ہی چھوڑ کر طلبات کے پاس چلے گئے تاکہ مسئلہ سنا جائے اورمذاکرات کیے جا سکیں۔نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا کہ ہم معاملہ میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں ہی سنائیں گی ورنہ احتجاج جاری رہے گا حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجبورا ای ڈی او نے میڈیا نمائندگان کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ ہماری موجودگی میں نرسنگ سکول کی طلبات نے بتایا کہ فیئرویل پارٹی کے موقع پر ہماری پرنسپل وکٹوریہ نے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ کی بیگم( جو کہ اسی سکول میں لیکچرار تھیں) کو کچھ قیمتی تحفے دیئے اور پارٹی ختم ہونے پر وہ بھاری رقم ہمارے وظیفے سے کٹوتیاں کر کے پوری کی جا رہی ہے جو کہ ہمیں نا منظور ہے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم میڈیا نمائندگان نے نرسنگ سکول کی طلبات کے بیانات قلم بند کر لیے اور میں نے اگلے دن ڈان اخبار میں تمام سٹوری چھاپ دی جس کے بعد مجھے بذریعہ فون دھمکیاں ملیں کہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا اور کچھ دستوں سے پیغام ملا کہ ای ڈی او کی بیوی کا نام چھپنے کی وجہ سے وہ غصے میں ہے اس لیے محتاط رہیں میں نے معاملے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ہمارے دوست عزیز عدیل علیل تھے تو ان کی تیمارداری کے لیے رات 8 بجکر 30 منٹ پر ہمراہ غلام مصطفی جونی ایڈووکیٹ اور عبدالستار علوی کے میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا تیمار داری کے بعد خبر کے فالو اپ کے حوالے سے ڈان اخبار کے ڈیسک سے کال آئی تو میرے ساتھیوں نے مجھے فون پر مصروف چھوڑ کر آگے آگے چلنا شروع کر دیا بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے اندھیرا تھا۔ کچھ لوگ میرے قریب آئے اور مجھے پوچھا کہ کیا آپ کا نام فرید اللہ ہے میں نے جواب دیا کہ ‘جی’ تو انہوں نے مجھے پر ہلہ بول دیا اور یہی کہتے رہے کہ آج تمہیں رپورٹنگ سیکھاتے ہیں ہم آج تمہیں رپورٹر بناتے ہیں ان افراد کی تعداد 6 تھی ایک نے مجھ پر چھری سے وار کیا لیکن کپڑے کھلے ہونے کے وجہ سے چھری قمیض کےدائیں جیب پر لگی اور وہاں پھنس گئی شور شرابہ ہونے اورموٹر سائیکل گرنے پر میرے ساتھیوں سمیت سب لوگ متوجہ ہوئے اور ہماری طرف لپکے لیکن اتنی دیر میں حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوچکے تھے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم نے پولیس کو کال کی اور سامان پورا کیا تو پتہ چلا کہ فرنٹ والی جیب پھٹنے کی وجہ سے جیب میں موجود 13 ہزار روپے اور موبائل غائب ہے تلاش کرنے پر موبائل تو مل گیا لیکن پیسے نہ مل سکے اس سارے واقعے کا اندراج پولیس تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ نمبر623/10 زیر دفعات 379/506 اور 147/148 درج کر لیا گیا ہمارے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہم حملہ آوروں کے نام تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس وقت کے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محمد یعقوب مرزا نے ملزمان نامزد کروا دیئے چونکہ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ اس وقت کے ڈی سی او جاوید اقبال مرحوم کے قریبی دوست تھے اس لیے ڈی سی او کے توسط سے اس وقت کے ڈی پی او چوہدری محمد سلیم کو کہلوا کر بغیر انکوائری کےمیرا مقدمہ خارج کروا دیا گیا سارے معاملے کی سٹوری ڈان میں چھپی معاملہ گرم ہوا لیکن انتظامیہ کی ملی بھگت سے پردہ ڈال دیا گیا۔ وقت گزرتا رہا لگ بھگ 3 ماہ کے بعد علاقہ مجسٹریٹ نے خارج ہونے والے مقدمات کو دیکھتے ہوئے میرے مقدمے کا نوٹس لیا اور اپنی عدالت میں ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے مجھے مدعو کر لیا پیش ہوکر میں نے بتایا کہ مقدمے کا اخراج میرے علم میں نہیں اور نہ ہی پولیس نے مجھے انکوائری کے لیے ایک سے زائد بار بلایا ہے اور یوں میرا مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا اور سماعت شروع ہوگئی

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی مقدمے کی انکوائری چل رہی تھی کہ نرسنگ سکول کی طلبہ نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی لیکن اس بار وہ صدر بازار لیہ میں دھرنا دینے کے لیے آئی تھیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نوجوان طلبات کو انتظامیہ کے بڑے آفیسرز اور سیاستدانوں کی کوٹھیوں اور رہائش گاہوں پر جانے کے لیے مجبور کرتی ہے ہمیں برے کام کی دعوت دی جاتی ہے ہمیں برائی سے بچایا جائے۔ یہ یقینا بہت پریشان کن اور حیران کن خبر تھی جس نے پورے پاکستان میں کھلبلی مچادی ہر انسان ادھر متوجہ تھا اس احتجاج میں اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب ایم پی اے افتخار بابر خان کھتران ، وزیر زراعت پنجاب ملک احمد علی اولکھ، مسلم لیگ ن کے ایم پی اے مہر محمد اعجاز اچلانہ سمیت بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے طلبات کا ساتھ دیا ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ فورا 3 ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے اور یہ دھرنا صدر بازار سے ختم ہو کر پریس کلب لیہ کے سامنے مسلسل 7 دن جاری رہا بلآخر انتظامیہ نے طلبات کے مطالبات مانے اور انہیں سکول واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا البتہ یہ کیس وفاق محتسب کے پاس چلا گیا

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ معاملے کو یہاں تک پہنچتے 2 سال لگ گئے اس دوران محکمہ ہیلتھ نے نئے صحافیوں کا ایک گروپ لانچ کیااخراجات کر کے انہیں مختلف اخبارات اور چینلز کی نمائندگی لے کر دی تاکہ محکمہ صحت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف جو صحافی خبریں لگائے اس کی تردید بھی کی جاسکے اور متعلقہ صحافی کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا جا سکے۔ انہیں دنوں ای ڈی او ہیلتھ کے چھوٹے بھائی سید گلزار حسین شاہ نے ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد بار ایسوسی ایشن لیہ کو جوائن کر لیااور میرے گواہ وکیلوں کو ووٹ کے لالچ پر پیش ہونے سے قاصر کر دیا گیا مجھے معاشرتی دباو پر صلح کے لیے آمادہ کیا گیا۔ میرے گواہ منحرف ہونے کے بعد میں صلح پر مجبور ہوگیا اس لیے کمرہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے معافی مانگنے پر انہیں معاف کردیا۔ معافی کے وقت علاقہ مجسٹریٹ مسلسل مجھے سوچنے کی مہلت لینے کا کہتے رہے اور بار بار کہا کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچنے دو لیکن گواہوں کی انحراف کی وجہ سے میں مجبور تھا اس لیے معاف کر دینا ہی واحد حل بچتا تھا

    سباق صدر پریس کلب لیہ محمد یعقووب مرزا نے اس معاملے پر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے زیادہ تر واقعات انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہوتے ہیں اس وقت ہم گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے عدم پیروی کاشکار ہوگئے تھے نرسنگ سکول کی طلبات والا معاملہ قائمہ کمیٹی ویمن رائٹس کے پاس چلا گیا تھا سیکٹری کے طلب نہ ہونے پر انکوائری کمیٹی کی انچارج اے این پی کی ایم این اے نے ایڈیشنل سیکرٹری کو ڈانٹ پلائی تھی اور معاملہ وفاقی محتسب کو بھیج دیا گیا تھا کیونکہ کیس بیورو کریسی کے خلاف تھا اور پیروی طلبات نے کرنی تھی اس لیے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رانا طاہرالرحمان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریداللہ چوہدری پر تشدد کا واقعہ مجھ سے پہلے کا ہے مجھے اس واقعے کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہے صحافیوں پر تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق ہمیں علم ہوتا ہے کہ اچھے اور برے صحافی کون کون ہیں آئندہ میٹنگ میں ایماندارصحافیوں کے ساتھ اچھے رویے کو زیر بحث لایا جائے گا فریداللہ چوہدری تربیت یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما عدم برداشت کا نتیجہ ہیں

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لیہ ڈاکٹر امیر عبداللہ نے اس واقعے کی متعلق سوال پر سماء کو بتایا کہ جن دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں فرید اللہ چوہدری کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آیا تو ان دنوں میں میڈیکل آفیسر تھا اس لیے وہ واقعہ مکمل طور پر یاد ہے عموما لیہ کے ہسپتالوں میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے یہ اس وقت اپنی نوعیت کا شاید پہلا واقعہ تھا جس پر سب حیران تھے ہماری پوری کوشش ہے اور تمام عملے کو ہدایت بھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات پیش نہ آئیں بلکہ صحافیوں کے معاملات با احسن طریقے سنے جائیں اور ان سے متعلق شکایات متعلقہ پریس کلب کو بھیجی جائیں اگر وہاں مسائل حل نہ ہوں تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ عبدالرحمان فریدی نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سماء کو بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کے پیش نظر ہم اپنے صحافی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں ڈاکٹرز کی جانب سے ہمارے سینئر بزرگ صحافی عارف نعیم ہاشمی پر تشدد کے واقعے پر ڈپٹی کمیشنر اور محکمہ صحت کے آفیسران سمیت ڈاکٹرز نے بھی صحافیوں سے معافی مانگی تھی مختلف این جی اوز کے تحت صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرواتے رہتے ہیں انشااللہ جلد صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشست کا اہتمام کریں گے

    اسی نوعیت کا ایک واقعہ 5 اپریل 2019 کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں نجی ٹی وی چینل کے نمائندے غضنفر ہاشمی کے ساتھ بھی پیش آیا غضنفر ہاشمی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کیس پر ڈاکٹرز میڈیکل رپورٹ کے لیے متاثرہ بچی کے لواحقین کو گزشتہ 14 گھنٹے سے ذلیل کر رہے تھے ہم متاثرین کی کال پر کوریج کرنے وہاں پہنچے تو ہمیں ڈاکٹرز کی جانب سے گالم گلوچ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ سارا معاملہ ڈپٹی کمیشنر کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے آج تک کوئی پیش رفت نہیں کی اور معاملہ سرد خانے کی نظر ہے۔ آئے دن صحافیوں کے ساتھ تشدد اور ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جلد ازجلد قانون سازی کی ضرورت ہے پریس کلبز کے رہنماوں کو چاہیے کہ صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں اور صحافیوں کو اطلاعات تک رسائی کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن لاء) کو استعمال کرنے کی بھی تربیت دی جائے تاکہ قانون کا اطلاق موثر ہوسکے ہر شہر کے پریس کلب کے صدر کو چاہیے کہ صحافیوں پر مقدمات اور صحافیوں کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے پولیس سٹیشنز حکام کے ساتھ میٹنگز کریں اور پریس کلب ممبر شپ کے لیے سکیورٹی اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی ہو سکے۔

  • لودھراں سلنڈر پھٹنے سے دو نوجوان زخمی

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) دنیاپور کے نواحی گاؤں چھتہ پہوڑ میں دوران ری فیلنگ گیس کا سلنڈر پھٹ گا جس سے کی وجہ سے دو نوجوان زخمی ہو گئے زخمی ہونے والے نوجوانوں کو دنیاپور ملک طیب اعوان تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

  • لودھراں ڈکیتی کرنے والے کیمرے کی آنکھ میں

    دنیاپور (نمائندہ باغی ٹی وی) میں دن دیہاڈے تین ڈکیت ساڑھے چار لاکھ لوٹ کر فرار

    تفصیلات کے مطابق محمد افضل آرائیں نے دوکوٹہ چوک دنیاپور میں گورمے ڈسٹری بیوٹر کا گودام بنایا ہوا ہے آج دوپہر تقریبا 2 بجے کے قریب چائنا موٹر سائیکل پر تین نقاب پوش افراد اسلحہ لے کر داخل ہوئے گودام پر موجود اکاؤنٹینٹ محمد اسلم سے اسلحہ کی نوک پر ساڑھے چار لاکھ لوٹ کر شہر کی طرف فرار ہو گئے دوکوٹہ چوک میں شہر کے داخلی رستے پر خبریں آفس کے کیمرے نے تین ڈکیت اپنی آنکھ میں محفوظ کر لئے ہیں اس دوران ایک ڈکیت بغیر نقاب کے ہے جو موٹرسائیکل چلا رہا ہے

    سٹی پولیس دنیاپور اطلاع ملتے ہی وہاں پہنچ گئی ڈکیت گروپ کی تلاش جاری ہے

  • پاکستانی نوجوان اور پاک فوج ۔۔۔ سلیم الله صفدر

    پاکستانی نوجوان اور پاک فوج ۔۔۔ سلیم الله صفدر

    متعدد محاز… متعدد دشمن….
    متعدد حملہ آور…. مگر صرف ایک دفاعی حصار….!

    نائن الیون کے بعد پاکستان مشرقی و مغربی بارڈر پر تو مصروف ہوا سو ہوا…. پاکستان کے دفاع کی سب سے مضبوط لکیر پاک فوج اپنوں کی ملامتوں اور غیروں کی سازشوں کا شکار ہونے لگی…
    آج کا پاکستانی نوجوان نائن الیون کے وقت سن شعور میں داخل نہیں ہوا تھا اس لیے آج کے نوجوان نے پاکستان میں مسلسل دہشت گردی، دھماکے، خونریزی، دیکھی. غیروں کی سازشوں نے اس کی وجہ پاک فوج کو قرار دیا…. اپنوں کے فتوؤں نے اسے مرتد اور امریکہ کا اتحادی جانا….!

    وقت گزرتا گیا… آج کا نوجوان سن شعور میں داخل ہوا تو اسے بتایا گیا کہ امریکہ جیسے طاغوت کا اتحادی بننا اور ایک کال پر "لیٹ” جانا کسے کہتے ہیں. اسے جتانے کی کوشش کی گئی کہ اپنے "مسلمان بھائیوں” کو کافروں کے حوالے کرنا… انہیں بیچنا کتنا بڑا گناہ ہے… اس پاکستانی نوجوان کو باور کرایا گیا کہ کافروں کے ساتھ بات چیت کرنے والے مسلمانوں کو کافر سے پہلے قتل کرنا کیوں ضروری ہے….!

    پانی کی طرح شفاف ہر عقیدہ ہر نظریہ وہم و سراب میں لپیٹ کر اس نوجوان کے سامنے پیش کر دیا گیا. پاکستانی نوجوان ہچکچاتا رہا مگر پاک فوج کا جوان ہاتھوں میں گن اٹھائے سینہ تان کر مشرقی بارڈر پر انڈین آرمی کے خلاف اور مغربی بارڈر پر امریکی فنڈڈ داعش.. ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار کے خلاف ڈٹا رہا.
    پاکستانی نوجوان کا ذہن تقسیم ہوتا رہا یہاں تک کہ سولہ دسمبر 2014 آ گیا. خارجی اپنا حقیقی چہرہ لیکر پاکستان کے افق پر ابھرے اور ایک ناقابلِ تلافی وار کرتے ہوئے اہل پاکستان کو زخمی کر گئے.

    امریکہ کے وہ تمام مہرے جو اس نے پاکستانی صفوں میں گھسائے تھے… طشت از بام ہو گئے. دوستوں آور دشمنوں کے درمیان فرق سمجھ آ گیا. اہل پاکستان کو سمجھ آ گئی کہ جسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کہا گیا تھا وہ کیا تھی اور اگر اس سے مزید پہلو تہی کی گئی تو اس جنگ کے اثرات کہاں تک جا پہنچیں گے.

    خارجیوں کے خلاف لڑائی کرنے والوں کو اخلاقی تخفط نہ دینے والے علماء کرام اب اسے افضل جہاد قرار دینے لگے. سوات آپریشن کے بعد ضربِ عضب اور پھر ردالفساد انہی علماء کرام کی نگرانی میں ہوئے اور پاکستان نے اپنے داخلی محاذ پر فتح حاصل کر لی. خارجی محاذ پر پاکستان کبھی فتح کا اعلان نہ کرتا لیکن ٹرمپ کی دہائی نے ساری دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے کس طرح امریکہ کو شکست دی.

    یہ نہیں کہ اس جنگ میں پاکستان صرف فتح ہی حاصل کرتا رہا. نہیں…! اسے زخم بھی لگے لیکن ان زخموں نے اس کے حوصلوں کو کم نہ ہونے دیا. ان زخموں نے اس کا نظریہ تبدیل نہ ہونے دیا…. اس کے موٹو ایمان تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ کو نقصان نہ پہنچایا. پاک فوج کے جوان اپنے خون سے پاک دھرتی کو سیراب کرتے رہے… ان کی وردیاں ان کے تابوت ان کے گھروں میں پہنچتے رہے. لیکن یہ نقصان ہر لمحے پر ایک فتح و نصرت کی امید دیتے رہے.

    بدگمانیاں پیدا کرنے والے آج بھی موجود ہیں جو پی ٹی ایم کی شکل میں مسلسل وردی والوں کو دہشت گرد ثابت کرنا چاہتے ہیں….. انتشار ڈالنے والے آج بھی مسنگ پرسنز کا رولا ڈال کر آئی ایس آئی اور پاک فوج پر الزام تراشی کرتے ہیں مگر عزتیں دینے والا وردی والوں کی جرات مندی سامنے لاتا رہتا ہے اور ان "مسنگ پرسنز” کی حقیقت کو "مس” نہیں ہونے دیتا. وہ مسنگ پرسنز وردی والوں کے ہاتھوں اللہ کی توفیق سے کسی نہ کسی موڑ پر سامنے آ ہی جاتے ہیں.

    ہر نئے دن کے ساتھ جہاں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کا جوان قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوتا ہے وہاں ان کا خلوص بھی چھپائے نہیں چھپتا. اور شاید یہ شہدا کے خون کی تاثیر ہی ہے کہ آج پورے پاکستان میں پاکستانی نوجوان پاک فوج کے شہداء اور غاذیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہے. پاکستانی نوجوان نہ صرف وردی پہنے سرد و گرم موسم میں اپنی "ڈیوٹی” ادا کرنے والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے بلکہ ان کی وردی اپنے جسم پر پہننا اپنے لیے باعث تکریم سمجھتا ہے. ہر آنے والا کل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ایمان تقوی جہاد فی سبیل اللہ کا موٹو رکھنے والے نہ صرف اس دھرتی کے محافظ و پہرے دار ہیں بلکہ اہل پاکستان کے دلوں کے حکمران بھی.

    اپنے ہی خوں سے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

    ہم نے خیرات میں یہ پھول نہیں پائے ہیں
    خون ِدل صرف کیا ہے تو بہار آئی ہے….!

  • وی آئی پی کلچرکاخاتمہ،شاہ محمودقریشی موٹر سائیکل پر اپنے حلقہ میں گھومتے رہے

    ملتان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موٹر سائیکل پرسوار ہوکر اپنے حلقہ انتخاب میں پہنچ گئے۔ملتان کےشہریوں نےوزیرخارجہ کوموٹرسائیکل پر دیکھ کرخوشگوارحیرت کااظہارکیا۔ شاہ محمود قریشی نے ملتان کے علاقہ شریف پورہ کی یونین کونسل 17،18کا دورہ کیااورحلقے میں لوگوں کے مسائل سنے بعدازاں وزیر خارجہ موٹر سائیکل پر ہی عثمان پورہ ، شاہین آباد، سمیت دیگر علاقوں میں گئے۔حلقہ کے عوام نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے عوام سٹائل اپنانے پر خوشی کا اظہارکیا۔واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے اس سے قبل 2018ءکے عام انتخابات میں موٹر سائیکل پر اپنی الیکشن مہم چلائی تھی۔

  • مستونگ سے بڑھی خبر 9 ہلاک

    کوئٹہ: مستونگ کے علاقے قابو کوہ مہران میں سی ٹی ڈی اور سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن مکمل سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 9 دہشت گرد ہلاک ہوۓ فائرنگ کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز کے 4 جوان بھی زخمی ہوگئے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
    سرچ آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا تھا آپریشن مکمل ہونے پر ریسکیو ٹیمیں طلب، سی ٹی ڈی
    لاشیں تحویل میں لیکر اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

  • سستے رمضان بازاروں پر عوامی اعتماد ان کی کامیابی کی واضح دلیل ہے۔ ڈپٹی کمشنر سیف اللہ ڈوگر

    فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر سردار سیف اللہ ڈوگر نے کہا ہے کہ سستے رمضان بازاروں پر عوامی اعتماد ان کی کامیابی کی واضح دلیل ہے لہذاڈیوٹی افسران صاف ستھری اور معیاری اشیاء ہمہ وقت دستیاب رکھیں تاکہ کسی صارف کو شکایت نہ ہو۔انہوں نے یہ بات تحصیل سمندری میں رمضان بازار کا معائنہ کرتے ہوئے کہی۔سی پی او اظہر اکرم بھی ان کے ہمراہ تھے۔اسسٹنٹ کمشنر سمندری سید تنویر مرتضی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے سستے آٹے اور سستی چینی کے سٹالز کو چیک کیا اور سیل ریکارڈ کاجائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ رمضان پیکج پر شفاف انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ طلب کی کچن آئٹیمز کی سپلائی میں تعطل نہ آنے دیں۔ڈپٹی کمشنر نے خریداری میں مصروف شہریوں سے اشیاء کی دستیابی اور معیار کے بارے میں دریافت کیاتو انہیں مطمئن پایا۔انہوں نے مختلف سٹالز پر پھل وسبزیوں کے معیار،دستیابی اور قیمتوں کا بھی جائزہ لیا اور کوالٹی کو ہمہ وقت برقرار رکھنے کی تاکید کی۔سی پی او نے رمضان بازارمیں سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کاجائزہ لیا اور سٹاف کو تاکید کی کہ وہ اپنے فرائض جانفشانی سے ادا کریں۔اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ رمضان بازار میں اشیاء کی دستیابی اورمعیارپر گہری توجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ عام مارکیٹ میں بھی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔