Baaghi TV

Blog

  • کوئٹہ میں فائرنگ

    کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر خالق شہید تھانے کی حدود میں دکان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی اطلاعت کے مطابق ایک شخص جاں بحق جبکہ تین شخص زخمی ہوگئے ہیں۔

  • ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟

    نہیں جانتے؟

    چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ

    "امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔

    اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔

    لیکن ایسا حقیقت میں کبھی بھی نہیں ہونے والا اور نہ ہی کبھی ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہے جس کی توثیق آپ کو کچھ اس طرح سے بھی مل سکتی ہے اگر آپ آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل حمید گل کی گفتگو سن لیں یا ان کا کوئی انٹرویو پڑھ لیں جس میں اس بابت بات کی گئی ہو جیسے کہ جنرل حمید گل صاحب مرحوم فرما گئے کہ

    "بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”

    حمید گل صاحب نے یہ بات یوں ہی ہوا میں تکا مار کے نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے ان کی زندگی کا ایک اچھا خاصا تجربہ ہے۔

    جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔

    میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔

    لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔

    ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔

    کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔

    ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔

    جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔

    اور ایران؟

    ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟

    ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔

    کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔

    جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔

    اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟

    ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔

    اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔

    سی پیک۔ ۔ ۔

    جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔

    اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔

    اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔

    مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔

    اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔

    اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔

    درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔

    یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔

    اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔

    لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔

    آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔

    اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
    امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔

    اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟

    سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔

    یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔

    میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔

    وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں "ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی "بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل "بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔

    مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ

    "بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”

    مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔

    باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔

    بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔

  • ڈپٹی کمشنر حافظ آباد سے بد تمیزی، سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں خاتون ٹیچر گرفتار،

    حافظ آباد(نمائندہباغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر حافظ آباد سے بد تمیزی، سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور دفتر میں زبردستی داخل ہو کر کار سرکار میں مداخلت کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون سکول ٹیچرزہرہ جبیں کو جوڈیشل کرکے جیل بھجوادیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے پی ایس او عبدالقدوس نے پولیس تھانہ صدر کو درخواست دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھاکہ سکول ٹیچر زہرہ جبیں نے دو روز قبل زبردستی ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اُسے روکنے کی کوشش کی تو اُس نے ملازمین کو گالم گلوچ کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں اور ڈپٹی کمشنر کو بُرا بھلا بھی کہا۔بعدازاں سکول ٹیچر زہرہ جبیں ڈپٹی کمشنر آفس آئی جہاں اس نے زبردستی کار سرکاری میں مداخلت کرتے ہوئے دفتر میں داخل ہو کر غلیظ گالیاں دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ جس پر پولیس تھانہ صدر نے سکول ٹیچر زہرہ جبیں کو گرفتار کرکے اُس کے خلاف زیر دفعہ 452/506/186/189 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر نے کے بعدا سے جوڈیشل کرکے جیل بھجوادیا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ ڈبل سیکشن گرلز ہائی سکول کی ٹیچر زہرہ ٹیچر زہرہ جبیں کوچند روز قبل نا مناسب رویہ اور ساتھی اساتذہ سے لڑائی جھگڑا کرنے پر گورنمنٹ ہائی سکول ٹھٹھہ خیرو مٹمل ٹرانسفر کیا گیاتھا۔

  • سی۔پیک کا منصوبہ ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہورہا،کرنل ر علی احمد اعوان

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)سابق ضلع ناظم کرنل ر علی احمد اعوان نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگر حملے نہایت تشویشناک صورت حال اختیار کرچکے ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی روزپزیر ہے۔خصوصی طور پر بلوچستان میں حالیہ چند ہفتوں میں دہشت گردنئے سرے سے سرگرم ہوچکے ہیں کیونکہ جوں جوں سی۔پیک منصوبہ تکمیل کے مراحل طے کررہا ہے۔ اسے سبوتاژکرنے کے لئے ملک دشمن عناصرکی مذموم کاروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام ملک دشمن عناصر تنظیموں کی تربیت، فنڈنگ اور پشت پناہی بھارت کررہا ہے۔گذشتہ دو تین ماہ کے دوران گوادر اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات سے عیاں ہے کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل بالخصوص سی۔پیک کا منصوبہ ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہورہا اور وہ خوف وہراس کی فضا پیدا کررہے ہیں تاکہ پاکستان اور چین کے انجینئر اور دیگر اہلکار بددلی کا شکار ہوکر گوادر میں کام جاری رکھنا ترق کردیں۔ لیکن دشمن کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاک فوج ایک بار پھر انکی تمام سازشوں کوناکام بنادے گی۔

  • محکمہ خزانہ کے سئنیر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر برطرف

    کوئٹہ ۔ حکومت بلوچستان نے کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر محکمہ خزانہ کے سئنیر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر اور سب اکاؤنٹنٹ کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے دونوں افسران نے 3.400ملین روپے کے ریلیز آرڈر میں جعل سازی کرتے ہوئے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور دونوں افسران کے خلاف قائم محکمانہ انکوائری میں الزام ثابت ہوگیا ہے اور سیکرٹری خزانہ نے برطرفی احکامات جاری کر دئیے ۔ برطرف ہونے والوں میں سئنیر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر نصیر آباد محمد فضل اور سب اکاؤنٹنٹ لورالائی محمد اکبر شامل ہیں ۔

  • ضلع بھر کے رمضان بازاروں میں عوام کو معیاری اور سستی اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے،ڈپٹی کمشنر

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)ڈپٹی کمشنر حافظ آباد نوید شہزاد مرزا کا کہنا ہے کہ ضلع بھر کے چاروں رمضان بازاروں میں عوام کو معیاری اور سستی اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ان رمضان بازاروں میں آٹا،چینی،دالیں،سبزیاں،فروٹ،بیسن،چاول،آلو،ٹماٹر،لیموں سمیت سیگر عام استعمال کی چیزیں سستے داموں دستیاب ہیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ رمضان بازاروں میں اب تک دس کلو گرام آٹے کے 7338تھیلے فروخت ہوئے جن میں حافظ آباد کے رمضان بازار میں 3615،پنڈی بھٹیاں میں 1422،جلاپور بھٹیاں میں 1601،اور سکھیکی میں 700تھیلے فروخت ہوئے۔انکا کہنا تھا کہ چاروں رمضان بازاروں میں 19800کلو گرام چینی بھی فروخت ہوئی۔حافظ آباد میں 10200کلو،پنڈی بھٹیاں میں 4850،جلاپور بھٹیاں میں 2000،اور سکھیکی میں 2750کلو گرام سبسڈائز چینی فروخت کی گئی۔انکا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر عوام کو رمضان المبارک کے دوران سستی اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ ضلع بھر کے تمام رمضان بازاروں میں جاری ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر ان سستے رمضان بازاروں سے خریداری بھی کر رہی ہے۔

  • حافظ آبادسٹی پولیس نے بڑی کاروائی کرکے 3 ڈکیت گینگز گرفتار کر لیے،

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی) حافظ آباد سٹی پولیس نے دہشت کی علامت سمجھے جانے والے چوہدری، حیدر شاہ، سکندر وڑائچ ڈکیت گینگز کے 18ملزمان گرفتار کر لیئے۔ملزمان نے دوران ڈکیتی قتل، ہائی وے رابری، ڈکیتی، راہزنی، موٹرسائیکل چھیننے اور نقب زنی کی 40سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ ملزمان سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور لاکھوں روپے نقدی برآمدکر لی گئی۔تفصیلات کے مطابق حافظ آبادسٹی پولیس نے ایس ایچ او اعجاز احمد بٹ کی سربراہی میں بڑی کاروائی کرکے 3 ڈکیت گینگز گرفتار کر لیے ہیں۔ گرفتار ملزمان میں 5 اے کیٹگری کے اشتہاری بھی شامل ہیں۔تھانہ سٹی پولیس نے چوہدری ڈکیت گینگ، سکندر ڈکیت گینگ اور حیدر شاہ ڈکیت گینگ گرفتار کر لیے۔ تینوں گینگز کے سر غناوں سمیت 18 ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ملزمان نے دوران ڈکیتی قتل، ہائی وے رابری، راہزنی، موٹر سائیکل چھیننے اور نقب زنی کی 40 سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ چودھری ڈکیت گینگ کے سرغنہ ذو الفقار چودھری نے انکشاف کیا ہے کہ تین سال قبل اس نے دیگر 3 ملزمان کے ساتھ ملکر ڈکیتی کے دوران مدد کیلئے پکارنے والے عاشق حسین نامی شخص کو چھت سے نیچے پھینک کر ہلاک کر دیا تھا۔ سکندر ڈکیت گینگ کے ملزمان دن دیہاڑے ہائی وے کے اوپر مسافر وین لوٹنے میں بھی ملوث تھے اس دوران انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکر سے ایک لاکھ روپے لوٹ لیے تھے۔ ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی میں راہزنی، نقب زنی، ناجائز اسلحہ کے درجن سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ملزمان نے اپنی کاروائیوں سے علاقے میں خوف وہراس پھیلا رکھا تھا۔ ملزمان کے قبضہ سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور لاکھوں روپے نقدی بر آمد کر لی گئی ہے۔پولیس کی اس کاروائی پر شہریوں نے ڈی پی او حافظ آباد اور انکی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    حافظ آباد(بیورورپورٹ) ڈپٹی کمشنر حافظ آباد سے بد تمیزی، سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور دفتر میں زبردستی داخل ہو کر کار سرکار میں مداخلت کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون سکول ٹیچرزہرہ جبیں کو جوڈیشل کرکے جیل بھجوادیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے پی ایس او عبدالقدوس نے پولیس تھانہ صدر کو درخواست دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھاکہ سکول ٹیچر زہرہ جبیں نے دو روز قبل زبردستی ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے اُسے روکنے کی کوشش کی تو اُس نے ملازمین کو گالم گلوچ کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں اور ڈپٹی کمشنر کو بُرا بھلا بھی کہا۔بعدازاں سکول ٹیچر زہرہ جبیں ڈپٹی کمشنر آفس آئی جہاں اس نے زبردستی کار سرکاری میں مداخلت کرتے ہوئے دفتر میں داخل ہو کر غلیظ گالیاں دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ جس پر پولیس تھانہ صدر نے سکول ٹیچر زہرہ جبیں کو گرفتار کرکے اُس کے خلاف زیر دفعہ 452/506/186/189 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر نے کے بعدا سے جوڈیشل کرکے جیل بھجوادیا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ ڈبل سیکشن گرلز ہائی سکول کی ٹیچر زہرہ ٹیچر زہرہ جبیں کوچند روز قبل نا مناسب رویہ اور ساتھی اساتذہ سے لڑائی جھگڑا کرنے پر گورنمنٹ ہائی سکول ٹھٹھہ خیرو مٹمل ٹرانسفر کیا گیاتھا۔

    حافظ آباد(بیورورپورٹ)سابق ضلع ناظم کرنل ر علی احمد اعوان نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگر حملے نہایت تشویشناک صورت حال اختیار کرچکے ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی روزپزیر ہے۔خصوصی طور پر بلوچستان میں حالیہ چند ہفتوں میں دہشت گردنئے سرے سے سرگرم ہوچکے ہیں کیونکہ جوں جوں سی۔پیک منصوبہ تکمیل کے مراحل طے کررہا ہے۔ اسے سبوتاژکرنے کے لئے ملک دشمن عناصرکی مذموم کاروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام ملک دشمن عناصر تنظیموں کی تربیت، فنڈنگ اور پشت پناہی بھارت کررہا ہے۔گذشتہ دو تین ماہ کے دوران گوادر اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات سے عیاں ہے کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل بالخصوص سی۔پیک کا منصوبہ ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہورہا اور وہ خوف وہراس کی فضا پیدا کررہے ہیں تاکہ پاکستان اور چین کے انجینئر اور دیگر اہلکار بددلی کا شکار ہوکر گوادر میں کام جاری رکھنا ترق کردیں۔ لیکن دشمن کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاک فوج ایک بار پھر انکی تمام سازشوں کوناکام بنادے گی۔

    حافظ آباد(بیورورپورٹ)گورنمنٹ پرائمری سکول دولو باورے میں زیر تعلیم پانچویں کلاس کے طالبعلم کو کرنٹ لگنے سے اسکی حالت غیر ہوگئی جس پر اسے تشویشناک حالت میں ٹراما سنٹر منتقل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق زین ولد عبدالستار جو کہ گورنمنٹ پرائمری سکول دولو باورے میں پانچویں کلاس کا طالبعلم تھا وہ گذشتہ روز سکول کی لیٹرین میں رفع حاجت کے لئے گیا تو لیٹرین شارٹ تھی۔جہاں اسے اچاناک کرنٹ لگا جس سے اسکی حالت غیر ہوگئی۔طالبعلم کو فوری طور پر ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    حافظ آباد(بیورورپورٹ)حافظ آباد کے نواحی قصبہ سکھیکی میں بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے ملبہ تلے دب کر دو افراد شدیدذخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق محمد ستار کے گھر کی بیٹھک میں اسکاملازم شکیل احمد اور انور علی دونوں سموسے تیار کررہے تھے کہ اچانک کمرے کی چھت بوسیدہ ہونے کی وجہ سے نیچے آگری۔جس کے ملبہ تلے دب کر شکیل اور انور دونوں شدید ذخمی ہوگئے۔ ریسکیو کی ٹیم اور دیہاتیوں نے انہیں ملبہ سے نکال کر ذخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا۔

    حافظ آباد(بیورورپورٹ)ڈپٹی کمشنر حافظ آباد نوید شہزاد مرزا کا کہنا ہے کہ ضلع بھر کے چاروں رمضان بازاروں میں عوام کو معیاری اور سستی اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ان رمضان بازاروں میں آٹا،چینی،دالیں،سبزیاں،فروٹ،بیسن،چاول،آلو،ٹماٹر،لیموں سمیت سیگر عام استعمال کی چیزیں سستے داموں دستیاب ہیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ رمضان بازاروں میں اب تک دس کلو گرام آٹے کے 7338تھیلے فروخت ہوئے جن میں حافظ آباد کے رمضان بازار میں 3615،پنڈی بھٹیاں میں 1422،جلاپور بھٹیاں میں 1601،اور سکھیکی میں 700تھیلے فروخت ہوئے۔انکا کہنا تھا کہ چاروں رمضان بازاروں میں 19800کلو گرام چینی بھی فروخت ہوئی۔حافظ آباد میں 10200کلو،پنڈی بھٹیاں میں 4850،جلاپور بھٹیاں میں 2000،اور سکھیکی میں 2750کلو گرام سبسڈائز چینی فروخت کی گئی۔انکا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر عوام کو رمضان المبارک کے دوران سستی اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ ضلع بھر کے تمام رمضان بازاروں میں جاری ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر ان سستے رمضان بازاروں سے خریداری بھی کر رہی ہے۔

    undefined

  • ڈی پی او گجرات کا رمضان بازار کا اچانک دورہ، سیکورٹی اور قیمتوں کا جائزہ

    ڈی پی او گجرات کا رمضان بازار کا اچانک دورہ، سیکورٹی اور قیمتوں کا جائزہ

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈی پی او گجرات سید علی محسن کا رمضان بازارکا اچانک دورہ،اشیا ء خردو نوش کی قیمتوں اور رمضان بازار کی سیکورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات سید علی محسن نے رمضان المبارک کے حوالے سے لگائے گئے رمضان بازارکا اچانک دورہ کیا،دورہ کے دوران مختلف اشیاء خردونوش کی قیمتوں اور ان کے معیار کو چیک کیا گیا دوکانداروں کو معیاری اشیاء فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی اس کے علاوہ رمضان بازار میں تعینات اہلکاروں کو بہترین انداز میں ڈیوٹی سر انجام دینے پر شاباش دی۔

  • وزیراعلی پنجاب سرگودھا کی عوام کو پھر اچکما دےکر نکل گئے

    وزیراعلی پنجاب سرگودھا کی عوام کو پھر اچکما دےکر نکل گئے

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی)وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سرگودہا کی عوام کو ایک دفعہ پھر اچکما دے کر نکل گئے سردار عثمان بزدار نے جنوری سے سرگودھا کے دورے کا اعلان کر رکھا ہے جو مسلسل تاخیر کا شکار ہے آج جب وہ مختلف شہروں کے دورہ جات پر نکلے تو زرائع کٹ کہنا تھا کہ وہ سرگودھا بھی آئیں گے اس سلسلے میں ظلعی انتظامیہ نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی صحافی خضرات بھی دن بھر تیاریوں میں مصروف رہے حکومتی مشینری کو صفائی ستھرائی میں لگائے رکھا مگر وزیر اعلی کا اڑن کٹھولا ہوا میں ہی آگے نکل گیا وزیراعلی نے اپنے سرائیکی علاقوں نور پور تھل , بھکر کا دورہ کر کے فیصل آباد کا روانہ ہو گئے جس سے تاثر یہ جا رہا ہے کہ وزیر اعلی صرف جنوبی پنجاب اور سرائیکی علاقوں کے ہی وزیر اعلی ہیں اور انہی کی طرف توجہ مبزول کئےہوئے ہیں

  • کم سن چوروں کی سی سی ٹی وی باغی ٹی وی نے حاصل کرلی

    کوٹ ادو میں کم سن چور دکاندار کو باتوں میں الجھا کر لاکھوں روپے چوری کرکے لے گئے،چوری کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی.مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو میں کم سن لڑکی تعمیراتی سامان کی دکان میں خریدار بن کر آئی اور خریداری کے بہانے کم سن لڑکی نے دکان کے مالک کو دکان سے باہر نکالابعدازاں لڑکی کا ساتھی ایک کم سن لڑکا دکان میں داخل ہوا اور دکان کے کاؤنٹر سے 3 لاکھ روپے سے زائد رقم چوری کرکے رفوچکر ہوگیا،چوری کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی۔فوٹیج میں کم سن چوروں کو دکاندار میں واردات کرتے صاف دیکھا جاسکتا ہے.متاثرہ دکاندار کیمطابق چوری کرنے والے کم سن چوروں کیخلاف کاروائی کے لیے تھانہ کوٹ ادو کو درخواست دیدی ہے جبکہ پولیس کیمطابق تعمیراتی سامان کی دکان میں ہونے والی چوری کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.