Baaghi TV

Blog

  • سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں سنائیں کھری کھری

    سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں سنائیں کھری کھری

    سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں کھری کھری سُنادی۔

    امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے فیصلہ کن کردار سے بھارت اور گودی میڈیا میں صف ماتم بچھ گیا۔گودی میڈیا مودی حکومت کو خفت سے بچانے کیلئے پاکستان کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈے کا سہارا لینے پرمجبور ہوچکا ہے،پاکستان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی پر احمقانہ سوال کرنے پر بھارتی اینکرکو سابق امریکی سفارتکار جیفری گنٹر نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر پاکستان میں مکمل محفوظ ہیں،بھارتی میڈیا سکول کے بچوں والا طرز عمل دکھا رہا ہے۔یہ زندگیوں کا معاملہ ہے،یہ روزگار کا معاملہ ہے اوریہ مہنگے پٹرول کا معاملہ ہے،سابق امریکی سفارتکار نے کہا کہ بھارتی میڈیاکا اس نازک معاملے کو بھارت پاکستان تنازع میں تبدیل کرنا افسوسناک ہے۔میں بھارتی میڈیاکو اسکے شرمناک رویے پر بطور سزا 30 منٹ کیلئے کمرے میں بند کرنا چاہوں گا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کو بے کار بحث و مباحثے میں الجھنے کے بجائے جنگ بندی کو سراہنا چاہیئے۔

    ماہرین کےمطابق امن مذاکرات جیسے حساس معاملے کو متنازع بناکر گودی میڈیا خطے میں کشیدگی بڑھانے کی شرمناک روش پرقائم ہے۔پاکستان مخالف پروپیگیندےکی کوشش میں مودی حکومت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہوچکی ہے اور گودی میڈیا کی چیخیں اس کا واضح ثبوت ہیں۔

  • اتصالات سے واجبات کی فوری وصولی کا مطالبہ، رقم بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

    اتصالات سے واجبات کی فوری وصولی کا مطالبہ، رقم بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

    اسلام آباد: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی اتصالات کو فروخت کے بعد واجب الادا رقم کی فوری وصولی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، جو 2005 میں 80 کروڑ ڈالر تھی اور 20 سال تک عدم ادائیگی کے باعث بڑھ کر تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے اپنے 3.5 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، جسے 2019 سے مسلسل رول اوور کیا جا رہا تھا۔مشیرِ نجکاری کے نام لکھے گئے ایک خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے 2011 میں چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کر کے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی میسرز اتصالات 800 ملین ڈالر کی نادہندہ ہے جو اس وقت بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر ہوچکے تھے۔ اب مزید 15 سال گزرنے کے بعد یہ رقم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جسے خزانے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مالکان سے وصول کرنے کی ضرورت ہے، اس نے پی ٹی اے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو 2 فیصد جرمانے کے مد میں ہونے والے نقصان کے بارے میں خط لکھا ہے جس کا تخمینہ سات سال (2005 سے) کے دوران 1.5 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، اس کے ساتھ میسرز اتصالات کی جانب سے پی ٹی سی ایل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 800 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، پی ٹی اے کی جانب سے مبینہ طور پر میسرز اتصالات کو دی گئی غیر ضروری رعایت پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جب کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات پی ٹی سی ایل سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ حکومتِ پاکستان واجب الادا ادائیگیوں (ڈیفالٹڈ پیمنٹس) کا معاملہ اٹھائے

  • امن مذاکرات،پاکستان کی میزبانی اعزاز ہے، احسن اقبال

    امن مذاکرات،پاکستان کی میزبانی اعزاز ہے، احسن اقبال

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اسلام آباد امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے اور جنگ میں مصروف فریقین کو میدانِ جنگ سے مذاکرات کی میز تک لانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ میں پاکستان، ایران اور امریکہ کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور ان تمام برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی تعمیری کاوشوں نے امن کے اس موقع کو ممکن بنایا۔ ہماری کوشش ایک سادہ مگر مضبوط یقین سے رہنمائی حاصل کرتی رہی ہے کہ بداعتمادی کی جگہ مکالمہ لے، کشیدگی پر ضبط و تحمل غالب آئے، اور جنگ کے رجحان پر دانشمندی فتح حاصل کرے۔ مسلسل تنازع نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ بحران اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا۔ اس کے معاشی اثرات آسٹریلیا سے امریکہ تک، دنیا کے تمام 193 ممالک میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں مہنگائی کے دباؤ، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ، غیر مستحکم منڈیاں، اور بڑھتی ہوئی بے یقینی نے حالات کو متاثر کیا ہے۔ اگر یہ تنازع جاری رہا تو مزید لاکھوں افراد غربت کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔ ناکامی کا بوجھ صرف جنگ کرنے والے فریقین پر نہیں پڑے گا بلکہ دنیا بھر کے عام مرد، خواتین اور بچوں کو عدم تحفظ، مہنگائی اور عدم استحکام کی صورت میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔لہٰذا ہم خلوصِ دل سے امید کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں۔ ان کی کامیابی صرف علاقائی امن کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں خاندانوں کے معاشی تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے بھی اہم ہوگی۔ آخرکار تاریخ یہ یاد نہیں رکھے گی کہ سب سے سخت لہجہ کس نے اختیار کیا، بلکہ وہ ان لوگوں کو یاد رکھے گی جنہوں نے وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے دانائی، بصیرت اور اعلیٰ قیادت کا مظاہرہ کیا۔

  • مذاکرات نام ہوئے تو کیا ہو گا، ٹرمپ نے واضح کر دیا

    مذاکرات نام ہوئے تو کیا ہو گا، ٹرمپ نے واضح کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو واشنگٹن کے پاس کوئی متبادل منصوبہ موجود نہیں ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود آج اسلام آباد میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی جا سکے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جائیں یا تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے انکار کر دے تو کیا کوئی متبادل حکمتِ عملی موجود ہے،صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں، ایران کی فوج شکست کھا چکی ہے، ہم نے سب کچھ مربوط کر دیا ہے، ان کے پاس بہت کم میزائل رہ گئے ہیں اور ان کی پیداواری صلاحیت بھی محدود ہے،ہم نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ہماری فوج غیر معمولی ہے اور اس نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکا نے حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، تاہم دو ہفتے کی جنگ بندی نے خلیجی خطے میں شدید کشیدگی کے بعد نسبتاً سکون کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز آج ہو رہا ہے،ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وفد میں وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی بھی شامل ہیں،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے میں نسبتاً محتاط مؤقف رکھنے والوں میں شمار کیے جاتے ہیں، امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

  • پاکستانی وزیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

    پاکستانی وزیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس 13 سے 18 اپریل 2026 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوں گے۔

    وزیر خزانہ ان اجلاسوں میں شرکت سے قبل بوسٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خزانہ کانفرنس میں شریک ماہرین، پالیسی سازوں اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، اصلاحاتی اقدامات اور ترقی کے امکانات پر اظہار خیال کریں گے۔
    دورے کے دوران وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں سے وسیع پیمانے پر ملاقاتیں کریں گے۔اجلاسوں کے موقع پر وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) انا بیردے، آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوپ اور میگا کے منیجنگ ڈائریکٹر سوتومو یاماموتو شامل ہیں۔

    وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک اور مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد اظہور شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکہ کے دورے کے دوران وزیر خزانہ امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے سینئر حکام کے علاوہ امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر شامل ہیں۔
    وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرینکلن ٹیمپلٹن، روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی، سٹی بینک اور جے پی مورگن جیسے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اور پالیسی کے شعبوں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔

    ان مصروفیات کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ مختلف ممالک کے ہم منصب رہنماؤں اور اعلیٰ قیادت سے باہمی ملاقات کریں گے، جن میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور برطانیہ کے قائدین شامل ہیں۔
    وزیر خزانہ دیگر عالمی اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں آئی ایف اے ڈی، گیٹس فاؤنڈیشن، ایشیائی ترقیاتی بینک، جائیکا اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک شامل ہیں۔

    دورے کے دوران وزیر خزانہ جی-24 اجلاس، موسمیاتی اقدام کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد سمیت اہم عالمی فورمز میں شرکت کریں گے۔ وہ مختلف اعلیٰ سطحی مکالموں اور راؤنڈ ٹیبل اجلاسوں میں بھی حصہ لیں گے، جہاں عالمی معیشت، مالیاتی اصلاحات، موسمیاتی فنانس اور ترقیاتی امور پر گفتگو ہو گی۔دورے کا ایک اہم حصہ ان کی ورلڈ بینک کے زیر اہتمام ایک خصوصی اجلاس میں شرکت ہے جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے پاکستان میں سماجی تحفظ کے ڈیجیٹل نظام کے تجربات اور کامیابیاں پیش کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ وزیر خزانہ سرمایہ کاری فورمز اور گول میز اجلاسوں میں شرکت کریں گے، جن میں جیفریز، جے پی مورگن اور سٹی بینک کے زیر اہتمام نشستیں شامل ہیں، جہاں وہ پاکستان کے معاشی اشاریوں، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے۔وزیر خزانہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ترسیلات زر سے متعلق ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقد کی جائے گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں جیسے فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔
    وزیر خزانہ اٹلانٹک کونسل سمیت معروف تھنک ٹینکس سے خطاب کریں گے اور پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالیں گے۔اس کے علاوہ وہ یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے ارکان اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کریں گے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اپنے دورے کے دوران وزیر خزانہ 50 سے زائد اہم ملاقاتوں، اجلاسوں اور مکالموں میں شرکت کریں گے، جو عالمی اقتصادی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
    یہ دورہ پاکستان کے معاشی استحکام، اصلاحات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے.

  • اسلام آباد مذاکرات، جے ڈی وینس کا اہم کردار

    اسلام آباد مذاکرات، جے ڈی وینس کا اہم کردار

    اسلام آباد: ایک سینئر پاکستانی ذریعے نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو جنگ کے بجائے سفارتی حل کی جانب لانے میں ان کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس ان مذاکراتی کوششوں میں کلیدی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد میں آئندہ چند گھنٹوں میں اہم مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔امریکی نائب صدر وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل سے واقف حکام کا اندازہ ہے کہ مستقل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے چند روز درکار ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ وہ امریکی نائب صدر کو مزید کچھ عرصہ پاکستان میں قیام پر آمادہ کر سکیں گے تاکہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد خطے اور عالمی امن کے لیے ایک اہم سفارتی مرکز بن چکا ہے، جہاں دونوں فریقوں کو ایک میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان اس حساس مرحلے پر ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست کے لیے بھی ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگی۔ تمام نظریں اب پاکستان کے دارالحکومت پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈمارشل نے جے ڈی وینس کا استقبال کیا، سی این این

    ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈمارشل نے جے ڈی وینس کا استقبال کیا، سی این این

    پاکستان کے دارالحکومت میں ہفتے کے روز امریکی نائب صدر کی آمد پر اعلیٰ سطحی استقبال دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خود ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ آمد کے موقع پر جاری مناظر میں دیکھا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی۔

    جنرل عاصم منیر اس وقت پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے روابط میں اضافہ ہوا ہے اور دفاعی، سفارتی و علاقائی معاملات پر مشاورت کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے امریکی قیادت کے ساتھ اپنے روابط اور ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے حالیہ جنگ بندی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔اطلاعات ہیں کہ وہ آئندہ بات چیت میں بھی مرکزی کردار ادا کریں گے، جہاں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام پر غور کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پسندیدہ فیلڈ مارشل کہہ چکے ہیں،

    ایئرپورٹ پر استقبال کے دوران جنرل عاصم منیر سیاہ سوٹ اور سبز ٹائی میں ملبوس تھے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی وفد کے استقبال کے وقت وہ فوجی وردی میں نظر آئے تھے۔ اس تبدیلی کو سفارتی آداب اور مختلف مواقع کی مناسبت سے دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی و سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ثالثی اور امن کوششوں کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، اور عالمی طاقتوں کے اعلیٰ وفود کی آمد اس بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔

  • آرٹیمس 2 مشن کامیابی سے مکمل، چاروں خلا باز بحرالکاہل میں بحفاظت واپس اتر گئے

    آرٹیمس 2 مشن کامیابی سے مکمل، چاروں خلا باز بحرالکاہل میں بحفاظت واپس اتر گئے

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے تاریخی آرٹیمس 2 مشن نے کامیابی کے ساتھ اپنا سفر مکمل کر لیا، جب مشن کے چاروں خلا باز جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں بحفاظت اتر گئے۔ یہ مشن انسانی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ نے تقریباً 10 روزہ مشن کے دوران لگ بھگ 6 لاکھ 85 ہزار میل کا سفر طے کیا، چاند کے گرد چکر لگایا اور پھر کامیابی سے زمین پر واپس پہنچا۔ یہ 50 برس بعد پہلا موقع ہے جب انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر نکل کر دوبارہ چاند کے قریب پہنچے ہیں،اس سے قبل آخری بار دسمبر 1972 میں اپولو 17 مشن کے دوران انسان چاند کے قریب گئے تھے، جبکہ اب آرٹیمس پروگرام نے نئی نسل کی قمری مہمات کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ کی جانب سفر کی تیاری کا اہم مرحلہ ہے۔

    مشن کمانڈر ریڈ وائزمین نے بحفاظت واپسی کے بعد کہا کہ “ہم بالکل ٹھیک ہیں”، اور اس تاریخی سفر کو اپنی زندگی کا یادگار ترین تجربہ قرار دیا۔

    یاد رہے کہ اورین اسپیس کرافٹ میں چار خلا باز سوار تھے، جنہوں نے اپولو 13 کے 1970 میں قائم کردہ انسانی خلائی سفر کے فاصلے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اس دوران انہوں نے چاند کے اُس حصے کا بھی مشاہدہ کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔آرٹیمس 2 کی کامیابی کے بعد اب دنیا کی نظریں آرٹیمس 3 مشن پر مرکوز ہیں، جس کے تحت آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔

  • پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    اسلام آباد: ایران کے بعد امریکا کا اعلیٰ سطحی وفد بھی اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے، جسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی توجہ کا مرکز بننے والے ان مذاکرات سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کی سفارتی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وفد میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جو اہم سفارتی اور تزویراتی معاملات پر مشاورت کریں گے۔امریکی وفد کے نور خان ایئربیس پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مہمان وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ حکام اور سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات، اعتماد سازی اور دیرپا حل کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا داعی رہا ہے۔استقبالی تقریب کے بعد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امریکی وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت خطے اور دنیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

    سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق ایک ہی پلیٹ فارم پر ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود کی موجودگی پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے عالمی کردار، اعتماد اور ثالثی صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد ٹاکس کے دوران سیزفائر، علاقائی کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی کے اقدامات اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اگر ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • مذاکرات کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے،مفتی تقی عثمانی

    مذاکرات کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے،مفتی تقی عثمانی

    ممتاز عالمی دن مفتی تقی عثمانی نے کہا ہےکہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اس کی وجہ سےدنیا بھر میں پاکستان کا وقار غیرمعمولی طورپر بلند ہوا،انہوں نے کہا کہ آج جو مذاکرات ہونے والے ہیں ان کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے، وزیراعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی اپیل کی ہے، اس لیے ہم سب کو دعا میں مصروف رہناچاہیے۔