Baaghi TV

Blog

  • مارگلہ ہلز کے ٹریلز غیر معینہ مدت کے لیے بند

    مارگلہ ہلز کے ٹریلز غیر معینہ مدت کے لیے بند

    اسلام آباد انتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر مارگلہ ہلز کے متعدد ٹریلز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق ٹریل 2، ٹریل 3، ٹریل 4، ٹریل 5 اور سیدپور گاؤں کے عقب میں واقع ٹریل 23 جون 2026 سے آئندہ احکامات تک عوام کے لیے بند رہیں گے،ٹریلز کو بند رکھنے کا فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور عوام کو کسی بھی قسم کی زحمت سے بچنے کے لیے پیشگی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل تعاون کریں اور مذکورہ علاقوں کا رخ کرنے سے گریز کریں۔

    مارگلہ ہلز کے ہائیکنگ ٹریلز فطرت سے محبت کرنے والوں اور ٹریکرز کے لیے بہترین اور مقبول ترین مقامات ہیں۔ یہاں کل 6 باقاعدہ ٹریلز موجود ہیں، جو پیر صہبائی روڈ اور مارگلہ روڈ سے شروع ہوتے ہیں ٹریل 3 سب سے پرانا اور مقبول ترین ٹریک ہے۔ یہ پیر صہبائی روڈ سے شروع ہوتا ہے یہ نسبتاً مشکل اور کھڑی چڑھائی والا ہے، لیکن اوپر پہنچ کر پورے اسلام آباد کا خوبصورت نظارہ ملتا ہے، ٹریل 5 مارگلہ روڈ (ایف فائیو) کے قریب سے شروع ہوتا ہے یہ ٹریل 3 کے مقابلے میں زیادہ لمبا لیکن کم کھڑا ہے، اس لیے یہ ابتدائی ہائیکرز کے لیے بہت موزوں ہے۔

    ٹریل 2 نسبتاً چھوٹا اور آسان ٹریک ہے جو دامنِ کوہ کی طرف جاتا ہے 4 اور 6 ٹریلز بھی جنگلات اور پہاڑی سلسلوں سے گزرتے ہیں، اور ٹریل 6 خاص طور پر وائلڈ لائف اور پرندوں کے مشاہدے کے لیے مشہور ہے،پی اے ٹی سی ٹریل ٹریل 3 اور 5 کے درمیان واقع ہے اور ہائیکنگ کلب کے زیرِ انتظام ہے-

    بعض اوقات شدید بارشوں یا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ضلعی انتظامیہ ٹریلز کو عارضی طور پر بند بھی کر دیتی ہے۔

  • کینیڈا : یہودی بستی میں فائرنگ کا واقعہ، پولیس اہلکار سمیت 2 افراد ہلاک

    کینیڈا : یہودی بستی میں فائرنگ کا واقعہ، پولیس اہلکار سمیت 2 افراد ہلاک

    کینیڈا میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ہوگئے، یہ واقعہ دوپہر کے وقت پیش آیا جب علاقے میں مسلح شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی مشتبہ شخص اور اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ایک شہری بھی ہلاک ہوا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈا کے شہر مانٹریال میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوگیا،پولیس کی جوابی کارروائی میں مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا،ہلاک ہونے والوں میں ایک 34 سالہ پولیس اہلکار بھی شامل ہے 2021 سے فورس میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا جب کہ شہری کی شناخت مائیکل میزراہی کے نام سے ہوئی ہے فائرنگ کا واقعہ یہودی بستی میں پیش آیا، تاہم تاحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ حملہ مذہبی بنیادوں پر کیا گیا تھا یا کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے گریز کریں کیونکہ حملے کے محرک کا تعین ابھی نہیں ہو سکا مونٹریال پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت، اس کے پس منظر، اسلحے کے ذرائع اور حملے کے مقصد سمیت تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہےجیسے ہی مزید مصدقہ معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

  • غیر ملکی وفود کی آمد، اسلام آباد میں ریڈ زون سیل، متبادل ٹریفک پلان جاری

    غیر ملکی وفود کی آمد، اسلام آباد میں ریڈ زون سیل، متبادل ٹریفک پلان جاری

    غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت رات 12 بجے سے اگلے حکم تک اسلام آباد میں کسی بھی سمت سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق رات 12 بجے سے اگلے حکم تک اسلام آباد میں کسی بھی جانب یا کسی بھی شاہراہ سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا ماسوائے میریٹ اور مارگلہ روڈ ریڈ زون کے تمام داخلی راستے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔

    کورال سے فیض آباد تک ایکسپریس وے، مری روڈ، کلب روڈ پر ٹریفک کے لئے ڈائیورشنز ہوں گی سری نگر ہائی وے زیروپوائنٹ سے ڈھوکری چوک تک مکمل بند رہے گی اسلام آباد کے رہائشی مختلف سڑکیں بند ہونے کی صورت میں ذیل متبادل ٹریفک پلان پر عمل درآمد کریں۔ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے جانے والی ٹریفک 9th ایونیو کی طرف موڑ دی جائے گی۔

    زیروپوائنٹ سے کورال چوک بند ہونے کی صورت میں سری نگر ہائی وے سے 9th ایونیو استعمال کرتے ہوئے اسٹیڈیم روڈ کے ذریعے مری روڈ چاندنی چوک سے راول روڈ استعمال کرتے ہوئے کورال جاسکتے ہیں، پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک ترامڑی چوک کی طرف موڑ دی جائے گی بھارہ کہو سے راولپنڈی آنے جانے والے شہر ی کورنگ روڈ،بنی گالہ،لہتراڑ روڈ استعمال کریں۔

    راولپنڈی صدر سے اسلام آباد آنے جانے والے شہری کرنل شیرخان روڈسے فقیر ایپی روڈ یا 9th ایونیو میں سے کوئی بھی شاہراہ استعمال کریں جی ٹی روڈ پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک ٹیکسلا سے موٹروے، چکری انٹرچینج ، چک بیلی روڈ سے روات جی ٹی روڈ استعمال کریں، جی ٹی روڈ لاہور سے پشاور جانے والی ہیوی ٹریفک جی ٹی روڈ روات سے چک بیلی روڈسے چکری انٹر چینج استعمال کرتے ہوئے براستہ موٹروے ،ٹیکسلا کی جانب سفر کریں۔

  • امریکا  اقدامات کی بنیاد پر ڈیلنگ کرے گا، نہ کہ ایران کے بیانات پر

    امریکا اقدامات کی بنیاد پر ڈیلنگ کرے گا، نہ کہ ایران کے بیانات پر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ اس کے اقدامات کی بنیاد پر ڈیلنگ کرے گا، نہ کہ اس کے بیانات پر۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن متعدد حساس فائلوں میں ایران کے رویے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے مستقبل کے تعلقا ت یا اقدامات کا کوئی بھی جائزہ سیاسی بیان بازی پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ اس کا تعلق زمینی حقائق سے ہوگا۔

    جے ڈی وینس کے یہ بیانات امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، ایسے وقت میں جب تہران کی علاقائی سرگرمیوں اور اس کے میزا ئل پروگرام پر گہرے اختلافات برقرار ہیں امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ موقف حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بنیادی معیار کے طور پر ایرانی رویے کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکی نائب صدر کے بیانات ایرانی فائل سے نمٹنے کے لیے زیادہ محتاط اور عملی انداز کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر سفارتی یقین دہانیوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایک "عملی امتحان” پر مبنی ہے۔

    قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے انہوں نے ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے پہلے دور کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ، اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام اور تکنیکی سطح کے مزید مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

  • عالمی تنازعات کا ذمہ دار امریکا ہے،شمالی کوریا

    عالمی تنازعات کا ذمہ دار امریکا ہے،شمالی کوریا

    شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ دنیا کے پردے پر ناقابل تصور اور حیران کن واقعات رونما ہورہے ہیں اور یہ واقعات سامراجی قوتوں کے گینگسٹر اور لالچی جیسے رویوں کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمراں ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ ان نے کہا کہ -عالمی تنازعات میں اضافے کے مدنظر ملک کو ایک جوہری ریاست کے طور پر قائم رکھنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ملک کی پوزیشن بطور جوہری ریاست برقرار رکھنا عالمی سلامتی کی صورتحال سے نمٹنے کا واحد طریقہ ہے دنیا کے پردے پر ناقابل تصور اور حیران کن واقعات رونما ہورہے ہیں اور یہ واقعات سامراجی قوتوں کے گینگسٹر اور لالچی جیسے رویوں کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں جس سے دنیا بھر میں تصادم مزید پرتشدد ہو رہے ہیں اور اس کا ذمہ دار امریکا ہے۔

    شمالی کوریا کے لیڈر نے امریکا اور جنوبی کوریا پر الزام لگایا کہ وہ دونوں جزیرہ نما کوریا کی سلامتی کو اپنی مشترکہ جوہری پوزیشن کو اپ گریڈ کر کے خطرناک بنا رہے ہیں اور اس کا واحد مقصد شمالی کوریا پر حملہ کرنا ہے۔

  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان پہنچیں گے

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان پہنچیں گے

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق یہ دورہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ہو رہا ہے، جن میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا ایرانی صدر کے دفتر کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ حبیب اللہ عباسی کے مطابق صدر پزشکیان اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے کردار پر شکریہ ادا کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایرانی صدر کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسعود پزشکیان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آئے گا، جس میں وزر ا اور دیگر سینیئر حکام شامل ہوں گے دورے کےدوران ایرانی صدر صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گےجبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق صدر پزشکیان اپنے منصب سنبھالنے کے بعد دوسری مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیں گے اور تعاون کے نئے مواقع پر بھی غور کریں گے اس دورے کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے بعد ہونے والی سفارتی پیشرفت، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ادھر سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری مذاکر ات کے بعد دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے ایک طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہ راست رابطے کا نظام قائم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے انہوں نے ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

  • قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری و اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں

    قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری و اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں

    قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری اور اسٹریٹ کرائم کی تین مختلف وارداتیں ،شہری لاکھوں روپے نقدی ، موبائل فونز و دیگر قیمتی سامان سے محروم ۔ پہلی واردات میں چک 27 ڈھولن کا رہائشی ندیم موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ چک 25 کھوکھر کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر اس سے 1 لاکھ 16 ہزار روپے چھین لیے اور فرار ہو گئے۔ دوسری واردات تھانہ کوٹ رادھا کشن کے علاقے الباز میرج ہال کے قریب پیش آئی، جہاں چھینہ اوتاڑ کا رہائشی اکبر علی مرغیوں والے ڈالے پر جا رہا تھا کہ کالی ہونڈا 125 پر سوار دو نامعلوم مسلح ملزمان نے گن پوائنٹ پر اس سے 40 ہزار روپے نقدی چھین لی۔ تیسری واردات تھانہ گنڈا سنگھ والا کے علاقے مہالم خورد کے قریب ہوئی، جہاں پیرو والا کا رہائشی علی احمد موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ چار نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک کر 16 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے

  • غزہ میں اسرائیلی حملہ، امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید

    غزہ میں اسرائیلی حملہ، امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید

    ‎غزہ: غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائی میں اسرائیلی فوج نے خان یونس میں ایک چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید ہو گئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق حملے کے وقت وہ انسانی امداد سے متعلق فرائض انجام دے رہے تھے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہوئے۔ حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
    ‎فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیاں نہیں رکیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,021 فلسطینی شہید جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام نے ان حملوں کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎خان یونس اور دیگر متاثرہ علاقوں میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں، جبکہ انسانی امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ امدادی اداروں نے شہریوں کے تحفظ اور امدادی کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
    ‎دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر غزہ میں بڑھتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی ادارے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • فوجی بھرتی کے خلاف اسرائیل میں احتجاج، گرفتاریاں بھی شروع

    فوجی بھرتی کے خلاف اسرائیل میں احتجاج، گرفتاریاں بھی شروع

    ‎اسرائیل میں فوج میں لازمی بھرتی سے انکار کرنے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے فوجی حراستی مرکز کے باہر جمع ہو کر حکومت کی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع بیت لید فوجی اڈے کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ احتجاج میں شریک افراد نے فوجی بھرتی کی مخالفت کرتے ہوئے "مر جائیں گے مگر فوج میں نہیں جائیں گے” کے نعرے لگائے اور حکومت سے جبری بھرتی کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
    ‎مظاہرین کا کہنا تھا کہ فوجی خدمت سے انکار کرنے والے افراد کو گرفتار کرنا بنیادی شہری آزادیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
    ‎احتجاج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر موجود رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
    ‎اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا قانون طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقے اس قانون پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ گرفتاریوں کے بعد اس معاملے پر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیلی حکومت کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف ملک کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب لازمی فوجی بھرتی کے خلاف عوامی احتجاج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔