قصور اور پتوکی کے مختلف علاقوں میں چوری اور اسٹریٹ کرائم کی تین مختلف وارداتیں ،شہری لاکھوں روپے نقدی ، موبائل فونز و دیگر قیمتی سامان سے محروم ۔ پہلی واردات میں چک 27 ڈھولن کا رہائشی ندیم موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ چک 25 کھوکھر کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر اس سے 1 لاکھ 16 ہزار روپے چھین لیے اور فرار ہو گئے۔ دوسری واردات تھانہ کوٹ رادھا کشن کے علاقے الباز میرج ہال کے قریب پیش آئی، جہاں چھینہ اوتاڑ کا رہائشی اکبر علی مرغیوں والے ڈالے پر جا رہا تھا کہ کالی ہونڈا 125 پر سوار دو نامعلوم مسلح ملزمان نے گن پوائنٹ پر اس سے 40 ہزار روپے نقدی چھین لی۔ تیسری واردات تھانہ گنڈا سنگھ والا کے علاقے مہالم خورد کے قریب ہوئی، جہاں پیرو والا کا رہائشی علی احمد موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ چار نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک کر 16 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے
Blog
-

غزہ میں اسرائیلی حملہ، امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید
غزہ: غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائی میں اسرائیلی فوج نے خان یونس میں ایک چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید ہو گئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق حملے کے وقت وہ انسانی امداد سے متعلق فرائض انجام دے رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہوئے۔ حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیاں نہیں رکیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,021 فلسطینی شہید جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام نے ان حملوں کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
خان یونس اور دیگر متاثرہ علاقوں میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں، جبکہ انسانی امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ امدادی اداروں نے شہریوں کے تحفظ اور امدادی کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر غزہ میں بڑھتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی ادارے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ -

فوجی بھرتی کے خلاف اسرائیل میں احتجاج، گرفتاریاں بھی شروع
اسرائیل میں فوج میں لازمی بھرتی سے انکار کرنے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے فوجی حراستی مرکز کے باہر جمع ہو کر حکومت کی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع بیت لید فوجی اڈے کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ احتجاج میں شریک افراد نے فوجی بھرتی کی مخالفت کرتے ہوئے "مر جائیں گے مگر فوج میں نہیں جائیں گے” کے نعرے لگائے اور حکومت سے جبری بھرتی کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ فوجی خدمت سے انکار کرنے والے افراد کو گرفتار کرنا بنیادی شہری آزادیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
احتجاج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر موجود رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا قانون طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقے اس قانون پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ گرفتاریوں کے بعد اس معاملے پر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیلی حکومت کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف ملک کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب لازمی فوجی بھرتی کے خلاف عوامی احتجاج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ -

آسٹریلیا میں 2.7 ٹن کوکین برآمد، ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی
سڈنی: آسٹریلوی پولیس نے مغربی سڈنی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران زیر زمین بنکر سسٹم سے 2.7 ٹن کوکین برآمد کر لی، جسے ملک کی تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی برآمدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ضبط کی گئی منشیات کی مالیت 816 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 570 ملین امریکی ڈالر) ہے۔
حکام کے مطابق کارروائی جمعے کے روز لندنڈیری کے علاقے میں کی گئی، جہاں تین شپنگ کنٹینرز کے نیچے خفیہ طور پر بنائے گئے بنکروں سے کوکین برآمد ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ منشیات انتہائی منظم انداز میں چھپائی گئی تھیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکیں۔
آپریشن کے دوران 21 اور 25 سال عمر کے دو مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر موقع سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں ملزمان کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کوکین ایک منظم بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ کی ہدایت پر شمالی کوئنز لینڈ کے ساحلی قصبے مِج پوائنٹ کے ذریعے آسٹریلیا اسمگل کی گئی تھی۔
یہ کارروائی آپریشن من جیانگ کا حصہ تھی، جس کا آغاز مئی میں اس وقت کیا گیا تھا جب مِج پوائنٹ کے ایک بوٹ ریمپ کے قریب سمندر میں 40 کلوگرام کوکین تیرتی ہوئی ملی تھی۔ اسی واقعے کے بعد پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کیں، جو اس بڑی کامیابی پر منتج ہوئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا کوکین کی اسمگلنگ کے لیے دنیا کی منافع بخش منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایک گرام کوکین کی قیمت تقریباً 300 آسٹریلوی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کوکین کے استعمال کی شرح بھی دنیا کے بلند ترین ممالک میں شامل ہے۔ -

دس سال بعد گمشدہ منگنی کی انگوٹھی مالک کو واپس مل گئی
امریکا کی ریاست مشی گن میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا، جہاں تقریباً ایک دہائی قبل ٹوائلٹ میں گر کر گم ہونے والی منگنی کی انگوٹھی بالآخر اپنی اصل مالک تک پہنچ گئی۔ اس غیر معمولی واقعے نے نہ صرف انگوٹھی کی مالک بلکہ اسے تلاش کرنے والی ٹیم کو بھی جذباتی کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مقامی پلمبنگ کمپنی کے کارکن شاپنگ پلازہ میں سیوریج لائن کی مرمت کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک پائپ کے اندر انہیں ایک چمکتی ہوئی چیز نظر آئی۔ کمپنی کے مالک گریگ جانسن نے بتایا کہ جب انگوٹھی نکالی گئی تو ٹیم نے فیصلہ کیا کہ اس کے اصل مالک کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
اس مقصد کے لیے پلمبنگ کمپنی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انگوٹھی ملنے کی اطلاع دی گئی۔ یہ پوسٹ دیکھنے کے بعد ایک خاتون، جو ماضی میں اسی علاقے میں کام کرتی تھیں، نے کمپنی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ تقریباً دس سال پہلے ایک گاہک کی منگنی کی انگوٹھی ٹوائلٹ میں گر گئی تھی۔ اس وقت اسے نکالنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی لیکن کامیابی نہیں مل سکی تھی۔
خاتون نے انگوٹھی کی مالک کیرول اورم سے رابطہ کیا، جس کے بعد کیرول پلمبنگ کمپنی کے دفتر پہنچیں۔ کمپنی کے جنرل منیجر جیسن میٹزنک کے مطابق جیسے ہی کیرول نے انگوٹھی دیکھی، انہوں نے فوراً اسے پہچان لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی انگوٹھی ہے جو انہیں 1965 میں شادی کے موقع پر ملی تھی۔
سیوریج لائن میں دس سال تک رہنے کی وجہ سے انگوٹھی بری طرح آلودہ ہو چکی تھی اور اس کی اصل چمک ختم ہو گئی تھی۔ بعد ازاں ایک مقامی سنار نے اسے صاف کر کے دوبارہ پالش کیا، جس سے وہ اپنی پہلی جیسی خوبصورتی میں واپس آ گئی۔
جیسن میٹزنک کے مطابق جب کیرول نے دوبارہ اپنی انگوٹھی انگلی میں پہنی تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ پلمبنگ کمپنی کے عملے نے بھی اس یادگار لمحے کو اپنی زندگی کے خوشگوار ترین تجربات میں سے ایک قرار دیا۔ -

ٹک ٹاک کی 60 فیصد ویڈیوز اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹک ٹاک پر صارفین کو دکھائی جانے والی تقریباً 60 فیصد ویڈیوز مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔ امریکی کمپنی کیپ ونگ کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر اے آئی سے بننے والے مواد کی شرح دیگر ویڈیو پلیٹ فارمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی تعداد یوٹیوب کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک کا الگورتھم کم معیار یا خودکار طریقے سے تیار کیے گئے مواد کو بھی وسیع پیمانے پر صارفین تک پہنچا رہا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کم عمر صارفین اس رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں سے متعلق مواد میں اے آئی ویڈیوز کی بھرمار دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق کارٹون کڈز ہیش ٹیگ کے تحت موجود تقریباً تمام ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں، جبکہ ہر 100 ویڈیوز میں صرف 3 ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو حقیقی انسانوں نے بنائی ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے ٹک ٹاک کو تعلیمی یا تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان کی فیڈ میں بڑی تعداد میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز آنے لگتی ہیں۔ اگر کوئی صارف ایسے مواد میں دلچسپی ظاہر کرے تو ٹک ٹاک کا الگورتھم مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز دکھانے لگتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی مسلسل نمائش بچوں کی ذہنی نشوونما، تخلیقی صلاحیتوں اور حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔
واضح رہے کہ ٹک ٹاک نے نومبر 2025 میں ایسے نئے فیچرز متعارف کرائے تھے جن کے ذریعے صارفین اپنی فیڈ میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی مقدار کو اپنی پسند کے مطابق کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ -

امریکا، ایران مذاکرات میں پیشرفت، جے ڈی وینس کا اہم بیان
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے، تاہم ابھی کئی اہم مراحل طے ہونا باقی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت، جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے منجمد اثاثے جاری کیے جاتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ رقوم صرف ایرانی عوام کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی اور بنیادی ضروریات پر خرچ ہوں، نہ کہ کسی عسکری یا غیر قانونی سرگرمی کے لیے۔
جے ڈی وینس نے لبنان کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ ڈرون حملوں اور سرحدی کشیدگی کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے لیے تمام فریقین کا ذمہ دارانہ کردار ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا کو دھمکیاں دی گئیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقائق واضح کرنے اور امریکی مؤقف پیش کرنے کے لیے بیانات جاری کریں گے، جبکہ وہ خود بھی ضرورت پڑنے پر عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکا نے حال ہی میں ایران کے لیے 60 روزہ جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھانا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت ماحول پیدا کرنا ہے۔ -

پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کو تعطل سے بچا لیا
سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات ایک مرحلے پر تعطل کا شکار ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے مذاکراتی عمل کو ناکامی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی بروقت ثالثی کے باعث فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف شدید برہم ہو گئے تھے، جس کے باعث مذاکرات کا ماحول کشیدہ ہو گیا اور بات چیت کا جاری رہنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس نازک صورتحال میں پاکستان اور قطر کے نمائندے، جو سوئٹزرلینڈ میں بطور ثالث موجود تھے، سرگرم ہوئے اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماحول میں پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ایرانی وفد سے اہم رابطے کیے اور انہیں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی ناراضی کے باعث مذاکرات کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کرنا پڑی، جس کے بعد مختلف امور پر مرحلہ وار پیش رفت کا نیا فارمیٹ اختیار کیا گیا۔ اس حکمت عملی کے تحت ایک معاملے میں پیش رفت کے ساتھ دوسرے معاملات پر بھی بات چیت آگے بڑھائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کو دی جانے والی ابتدائی رعایت مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے، جبکہ آئندہ پیش رفت کا انحصار امریکی محکمہ خزانہ کے مزید اقدامات پر ہوگا۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیانات کو بھی مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے ایک مرتبہ پھر خطے میں دونوں ممالک کے ثالثی کردار کو نمایاں کیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور مستقبل میں مزید مثبت پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ -

قطر کے گیس پلانٹ میں دھماکا، 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی
دوحہ: قطر کے صنعتی شہر راس لفان میں واقع برزان گیس سپلائی پلانٹ میں اتوار کی شام ہونے والے زور دار دھماکے اور اس کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق جبکہ 66 افراد زخمی ہو گئے۔ قطری حکام نے پیر کے روز اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
قطر کے وزیر توانائی اور قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد بن شریدہ الکعبی کے مطابق دھماکا پلانٹ کی مرمت کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کرنے کے دوران پیش آیا۔ انہوں نے واقعے کو ایک تکنیکی حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق حادثہ اسٹارٹ اپ مرحلے میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں قطر، افریقی ممالک اور مختلف ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد کسی قسم کے گیس لیک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
برزان گیس پلانٹ قطر میں قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے بنیادی طور پر ملکی بجلی گھروں اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پلانٹ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث کچھ عرصے سے بند تھا اور مرمت کے بعد دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا۔
قطر انرجی نے واضح کیا ہے کہ اس حادثے کے باوجود ملک کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات متاثر نہیں ہوئیں اور راس لفان میں موجود دیگر تنصیبات معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ واقعہ توانائی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ -

امجد حسین ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب
گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر عمران ندیم نے ان کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے بعد وہ گلگت بلتستان کے پانچویں منتخب وزیراعلیٰ بن گئے۔
اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کسی دوسرے امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے، جس کے باعث امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ ایوان میں موجود تمام ارکان نے ان کی حمایت کا اظہار کیا اور ان کے انتخاب کو اتفاق رائے سے مکمل کیا گیا۔
امجد حسین ایڈووکیٹ حالیہ عام انتخابات میں حلقہ جی بی اے 1 گلگت سے کامیاب ہوئے تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر بھی ہیں اور خطے کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2010 سے 2015 تک گلگت بلتستان کونسل کے رکن رہ چکے ہیں، جبکہ 2020 کے انتخابات میں بھی انہوں نے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر باقاعدہ طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم بلامقابلہ گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ایڈووکیٹ بلامقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔ ان انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان حکومت سازی کا اتحاد مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اراکین کی درخواست پر اسپیکر عمران ندیم نے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمان کو اپوزیشن لیڈر قرار دے دیا ہے، جس کے بعد اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی صف بندی بھی مکمل ہو گئی ہے۔
