اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی، چاہے وہ کراچی کا ہو یا لاہور کا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت جرائم، منشیات اور دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بعض ارکان نے کراچی میں منشیات کے ایک مبینہ کردار کا ذکر کیا، تاہم حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جو بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوگا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد انسداد منشیات کے بیشتر معاملات صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، اس لیے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی انسداد منشیات فورسز قائم کریں اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کریں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم کی منظوری سے انسداد منشیات فورس (اے این ایف) میں مزید 500 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا سکیں۔
طلال چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں صوبوں کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1890 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ بڑی تعداد افغان شہریوں پر مشتمل تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے 95 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے، جن میں 783 شہری شہید اور 1767 افراد زخمی ہوئے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کی جدید جیل بھی تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں خواتین اور بچوں کے لیے بھی الگ اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
Blog
-

قانون توڑنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، طلال چوہدری
-

رومبور، نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج
رومبور (فتح اللہ) لوئر چترال کی وادی رمبور میں نوک تھوں چشمہ سے آیون کے لیے واٹر سپلائی پائپ لائن منصوبے کے خلاف مقامی عوام نے احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی اجتماع سے برزنگی کالاش، میر گجر، اقلیتی کونسلر نور شالی، دوردن صوبیدار، ریاض احمد، رحمت حاصل ودا، آبی حیات، قادر نواز، مولانا اسحاق، صورم خان صوبیدار، شیر تاج، سابق چیئرمین ویلج کونسل رمبور، نائب چیئرمین، رحمت زار، موجودہ چیئرمین ویلج کونسل رمبور سلطان، خواتین نمائندہ رکیم گل، فلم، رابی گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نوک تھوں چشمہ سے گومبیک تک آباد کالاش اور مسلم برادری صدیوں سے اس پانی پر انحصار کرتی آرہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چشمہ صرف پینے کے پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ گھریلو ضروریات، زرعی آبپاشی، پن چکیوں، مقامی توانائی ذرائع اور روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی عوامی مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق چند افراد کی رضامندی کو پورے علاقے کی اجتماعی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس موقع پر برزنگی کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوک تھوں چشمہ کیلاش برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور مقامی لوگوں کے نزدیک یہ محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ وادی کے طرزِ زندگی اور شناخت سے جڑا ہوا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کے باوجود منصوبہ نافذ کیا گیا تو عوام خود کو اپنی ہی وادی میں غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کریں گے اور ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے لوگوں میں اپنے آبائی علاقے سے محرومی یا نقل مکانی کا احساس جنم لے۔
احتجاجی شرکاء نے متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر آیون کے لیے پانی درکار ہے تو نوک تھوں سے نیچے موجود دیگر چشموں اور متبادل آبی ذرائع کا تکنیکی جائزہ لے کر اجتماعی حل تلاش کیا جائے، تاہم مکمل نوک تھوں چشمے کا رخ بڑی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبے سے مستقبل میں پانی کی دستیابی، مقامی زراعت، ماحولیاتی توازن، بجلی کی پیداوار اور کالاش مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل آزادانہ ماحولیاتی، سماجی اور قانونی جائزہ ناگزیر ہے۔
اس موقع پر خواتین مقررین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے خواتین بھی اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کو نظر انداز کیا گیا تو خواتین اور بچیاں بھی احتجاجی عمل میں شامل ہوں گی اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ معاملے کو مزید کشیدہ ہونے سے پہلے مقامی تجاویز اور متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے غور کرے۔احتجاجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد روکا جائے، تمام قانونی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، منتخب نمائندوں، عمائدین، خواتین، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ جرگہ یا اجلاس بلایا جائے اور وادی کے دیرپا آبی حقوق اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت نہ ہوئی تو عوام آئینی اور پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید لائحہ عمل اختیار کریں گے، جبکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔
-

امریکا نے ایرانی تیل پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے لیے ایک جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر عائد تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے سے متعلق بعض پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی فضا کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جاری کیے گئے جنرل لائسنس کے تحت ایران کو خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اجازت 21 اگست 2026 تک مؤثر رہے گی، جس کے دوران ایران عالمی منڈی میں تیل فروخت کر سکے گا۔
لائسنس کے مطابق ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی بھی عارضی اجازت دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس پالیسی میں اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ امریکا گزشتہ کئی برسوں سے ایرانی تیل کی فروخت اور برآمدات پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے تھا۔
چند روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مجوزہ امریکا ایران معاہدے کے تحت واشنگٹن مخصوص مدت کے لیے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کرنے کی اجازت ملے گی۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ -

عظیم ترین سپہ سالار اور ہمدرد حکمران،تحریر: غنی محمود قصوری
اس نے خلافت کا جھنڈا تھاما تو اس کے 5 سالہ عہد میں جب عوام کے حالات بہتر ہو رہے تھے تو پھر اچانک سے برسات ہونا بند ہو گئی
بہت دیر تک برسات نا ہوئی،جانور مرنے لگے اور خشک سالی نے ڈیرے جما لئے تھے حتی کہ تیز ہوائیں چلتیں جو راکھ کو اڑا کر ساتھ لے کر آتیں،ہر کوئی پریشان ہو گیا کہ الہی یہ کیا ماجرہ ہے ابھی تو ہم نے خوشحالی کی طرف قدم جمائے ہی تھے کہ شہر و گردونواح میں شدید قحط پڑ گیا جو لگ بھگ 9 ماہ تک رہا تھا،تب ہر کوئی پریشان تھا اب کیا ہو گا زندگیاں تو ختم ہو جائیں گیں ،ہر کوئی سوچ رہا تھا موجودہ کمانڈر انچیف جو وقت کا حاکم بھی تھا، خوب عیاشی کر رہا ہو گا مگر اس حاکم وقت اور کمانڈر انچیف نے یہ تاریخی الفاظ کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیں اور ہر گزرے اور آنے والے حاکم وقت کیلئے نصیحت ہیں،
انہوں نے کہا تھا
میں گھی، دودھ اور گوشت کا ذائقہ اس وقت تک نہیں چکھوں گا جب تک کہ عام مسلمان پہلی بارش سے فیض یاب نہ ہوں اور معمولات زندگی ٹھیک نا ہو جائیںوہ بہت نڈر،بےباک جرآت مند ہونے کیساتھ بہت زیادہ سخی اور ذہین بھی تھا
لوگوں کی زندگیوں کی خاطر قحط سے نمٹنے کیلئے اس نے اپنی سلطنت کے تمام گورنروں کو حکم بھیجا کہ وہ متاثرین کی کھانے پینے کی اشیاء اور اموال کے ساتھ ہر ممکن مدد کریں،اس کے حکم کی تعمیل ہوئی اور ہر گورنر نے اپنی استطاعت کے مطابق مال بھیجا تو کمانڈر انچیف نے وہ مال لوگوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جس سے فکر و فاقہ کم ہوا اور آخرکار قحط بھی دور ہو گیا
دوران قحط اس نے ایک بات کہی تھی جو قیامت تک آنے والی ہر آفت و مصیبت میں رول ماڈل رہے گی
انہوں نے کہا تھا کہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالیٰ اس قحط کو دور نہ فرماتا تو میں مسلمانوں کے گھروں میں سے کسی گھر کو نہ چھوڑتا جن کو اللہ تعالیٰ نے (مالی) وسعت دی ہے مگر یہ کہ ان کے ساتھ ان کے شمار کے مطابق فقراء میں سے بھی داخل کر دیتا
اس طرح سے اس کھانے سے دو آدمی ہلاک نہ ہوتے جو کھانا ایک آدمی کے لئے کافی ہوتا ہے
یعنی انہوں نے کفایت شعاری کی ایک اعلیٰ ترین مثال قائم کی اور تاریخ نے دیکھا کہ قحط میں ہر امیر نے ہر غریب کو کھانا کھلایاپھر جب قحط ختم ہوا اور پہلی برسات ہوئی تو لوگ بارش سے فیضاب ہونا شروع ہوئے
نیز بازار میں غلہ آنا شروع ہوا تو ان کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ ان کے لئے 40 درہم میں خریدا
بقول غلام آپ نے جو عہد کیا تھا قحط کے آغاز میں، وہ پورا ہوا تھا لہذہ اب نا کا حق بنتا تھا اچھا کھانا پینا
اس غلام نے ان کو بتایا کہ ان کا عہد پورا ہو گیا ہے اسی لئے وہ آپ کے لئے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے تو اس پر انہوں نے غلام کو کہا کہ
تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں
مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہوگا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے؟
پھر انہوں نے باوجود خوشحالی کے وہ اشیاء صدقہ کروا دیں اور خود سادہ خوراک سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرتے رہے
میں جن کی بات کر رہا ہوں وہ خلیفتہ المسلیمین جناب حصرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں
وہ عمر جو کہ 13 ہجری کو 25 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت اور کمانڈر انچیف بنے اور محض 24 ہجری کو اپنی شہادت کے وقت لگ بھگ 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت تھے اور ان کی عمر 63 سال تھی
مگر ان کی سادگی کا یہ عالم تھا 16 ہجری کو بیت المقدس کی فتح پر عیسائیوں نے بیت المقدس کی چابیاں حوالے کرنے کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ مسلمانوں کو خلیفتہ المسلیمین خود تشریف لائے تو جناب عمر رضی اللہ تعالی نے اپنے غلام کیساتھ انتہائی عام سواری پر سفر کیا اور کبھی خود سواری پر سوار ہوتے تو کبھی اپنے غلام کو سواری کرواتے اور خود پیدل چلتے
اور جب انہوں نے بیت المقدس کی چابیاں عیسائی پادری سوفرونیوس سے حاصل کیں تو ان کے کپڑوں پر 17 پیوند لگے ہوئے تھے
آپ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت میں 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر حکومت کی لیکن آپ کا عدل و انصاف اتنا بے باک تھا کہ ایک عام دیہاتی بھی آپ کو سرعام ٹوک سکتا تھا اور آپ اپنے فیصلوں میں کسی امیر، غریب، رشتے دار یا گورنر کی رعایت نہیں کرتے تھےحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موافقت میں قرآن نازل ہوا بہت سی آیات ان کی موافقت میں جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے
اسی لئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہی کے بارے میں فرمایا تھا کہ لَوْکَانَ نَبِیٌ بَعْدِی لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ ہوتے
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دوران خواب جنت میں سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا محل دیکھا تھا نیر
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے غیور ہونے کا تذکرہ فرمایا
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آداب کا بہت خیال رکھتے تھے جب قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بلند آواز میں گفتگو کرنے سے روکا گیا تو اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی اتنی آہستگی سے گفتگو کرتے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دینا پڑتا تھا کہ ذرا اونچی آواز میں بولو تاکہ بات سمجھ آجائےنبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خواب میں دودھ پیا جس کی سیرابی آپ نے اپنے ناخنوں تک محسوس کی پھر وہ دودھ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی کو تھما دیا جس کی صحابہ کرام نے تعبیر پوچھی تو نبی رحمت ارشاد فرمایا تھا کہ اس سے مراد علم ہے اور وقت نے ثابت کیا وہ بہت بڑے عالم دین بھی تھے اور انہوں نے دین کو عام کرنے کیلئے جہاں پولیس،فوج،ڈاکخانہ آبپاشی،ٹیکس کا نظام متعارف کروایا،وہاں انہوں نے سب سے زیادہ نظام مدارس کیلئے متعارف کروایا تھا
آج کا ہر انسان عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہے کیونکہ تاریخ میں اس سے قبل نا تو کوئی محکمانہ نظام موجود تھا نا ہی اس قدر عادلانہ نظام تھا
26 ذی الحجہ 23 ہجری کو نماز فجر کی امامت کرواتے ہوئے ملعون و مردود ابولولو فیروز نامی مجوسی نے خنجر کے وار سے آپ کو شدید زخمی کیا اور تین دن تک زخمی رہتے ہوئے یکم محرم الحرام 24 ہجری کو آپ نے جام شہادت نوش کیا -

لبنان اپنے فیصلے خود کرے گا، صدر جوزف عون
بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے، تاہم لبنان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں صدر جوزف عون نے واضح کیا کہ لبنان کی خودمختاری اور قومی فیصلے صرف لبنانی ریاست کا اختیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی جانب سے کسی بھی معاملے پر مذاکرات کرنے کا حق صرف ریاست کو حاصل ہے اور کوئی فرد یا گروہ ریاست کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔
لبنانی صدر نے کہا کہ ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک جماعت یا گروہ پر۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی اور داخلی استحکام کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
جوزف عون نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ ان کے مطابق سیاسی مسابقت جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن اس مسابقت کو ریاست کی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت متعدد سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس لیے تمام قومی قوتوں کو اتحاد، ذمہ داری اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔
صدر جوزف عون کا کہنا تھا کہ لبنان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہر مثبت سفارتی کوشش کی حمایت کرتا ہے، لیکن قومی خودمختاری اور آزادانہ فیصلوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ -

ثریا عظیم ہسپتال،علاج کیلیے سارا سال چندہ مانگ کر بھی شہریوں کو لوٹا جانے لگا
لاہور کے علاقے چوبرجی چوک میں واقع ثریا عظیم ہسپتال کے بارے میں ایک شہری نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربے کی بنیاد پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے علاج کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
شہری کے مطابق ہسپتال کی عمارت پر نصب بورڈز اور تشہیری مہم میں زکوٰۃ، صدقات اور فطرانے کی اپیل کے ساتھ فری علاج کی بات کی جاتی ہے، تاہم عملی طور پر مریضوں سے مختلف مدات میں فیس وصول کی جاتی ہے۔ثریا عظیم ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہسپتال میں موٹر سائیکل پارکنگ فیس 30 روپے ، ایمرجنسی پرچی فیس 100 روپے، معمولی پٹی کی فیس 300 روپے اور درد کا انجیکشن لگانے کی فیس 500 روپے وصول کی گئی،اس طرح ایک عام مریض کو علاج کے لیے قابلِ ذکر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات قریبی مارکیٹ یا دیگر فارمیسیوں سے دستیاب نہیں ہوتیں اور مریضوں کو ہسپتال کی فارمیسی سے ہی ادویات خریدنے کا کہا جاتا ہے،ثریاعظیم کی انتظامیہ ایک طرف سارا سال صدقات ، زکواۃ مانگتی رہتی لیکن علاج کے لئے شہریوں کو لوٹ رہی ہے
شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ ثریا عظیم ہسپتال کاسالانہ آڈٹ کروایا جائے،آمدن و اخراجات کا حساب قوم کے سامنے رکھا جائے، قوم سے چندہ بھی اور پھر شہریوں کے جیبوں پر ڈاکہ،اگر اتنی بھاری فیسیں لینی ہیں تو پھر سارا سال چندہ کیوں مانگا جاتا ہے، اگر ہسپتال واقعی فلاحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے تو فیسوں اور چارجز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ فری علاج کے دعووں اور عملی صورتحال کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔
اس حوالے سے ثریا عظیم ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف لینے کے لئے ہسپتال کی ویب سائٹ پر دیئے گئے نمبر +92 321 888 0 755 پر رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا، ہسپتال انتظامیہ اگر مؤقف دینا چاہے تو خبر کو اپڈیٹ کر دیا جائے گا
-

شیر باغ چڑیا گھر میں شیرنی نے تین بچوں کو جنم دے دیا
بہاولپور: شیر باغ چڑیا گھر میں خوشی کی ایک اور خبر سامنے آئی ہے جہاں شیرنی سامسن نے تین صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق نومولود بچوں اور ان کی ماں کی حالت تسلی بخش ہے اور دونوں کو خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
شیر باغ چڑیا گھر کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فیاض نے بتایا کہ شیرنی اور اس کے تینوں بچوں کو انتہائی نگہداشت کے لیے ایک علیحدہ انکلوژر میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ماہر عملہ مسلسل ان کی صحت اور نشوونما پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انتظامیہ کے مطابق شیرنی کو غذائیت سے بھرپور قیمہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ صحت مند رہے اور اپنے بچوں کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کر سکے۔ دوسری جانب نومولود بچے اپنی ماں کا دودھ پی رہے ہیں اور ان کی نشوونما معمول کے مطابق جاری ہے۔
چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈھائی ماہ قبل ایک اور شیرنی مانو نے بھی دو بچوں کو جنم دیا تھا۔ تازہ پیدائش کے بعد شیر باغ چڑیا گھر میں شیروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے، جو چڑیا گھر کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق جانوروں کی افزائش نسل کے کامیاب پروگرام اور بہتر نگہداشت کے باعث چڑیا گھر میں جنگلی حیات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نومولود بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہو کر عوام کی توجہ کا مرکز بن سکیں۔
شیر باغ چڑیا گھر بہاولپور ملک کے اہم چڑیا گھروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف اقسام کے جنگلی جانوروں کی افزائش، نگہداشت اور تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ -

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بلامقابلہ منتخب
گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے درمیان سیاسی اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ تینوں جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے، جس سے حکومت سازی کا عمل مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق اسپیکر نذیر احمد نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم بلامقابلہ نئے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ایڈووکیٹ بلامقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔
اسپیکر کے انتخاب کے بعد سابق اسپیکر نذیر احمد نے نومنتخب اسپیکر عمران ندیم سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد انہوں نے اسمبلی کی کارروائی نئے اسپیکر کے حوالے کر دی، جس کے ساتھ ہی نئی پارلیمانی قیادت نے اپنے فرائض سنبھال لیے۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا، جس کے باعث دونوں عہدوں پر بلا مقابلہ انتخاب ممکن ہوا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے انتخاب میں بھی کسی مقابلے کا امکان کم ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی اتحاد کے امیدوار کو بلا مقابلہ کامیابی حاصل ہو جائے گی۔
حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو پہلے مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی نے بھی اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت بنانے کی دعوت دی تھی، جسے عبدالعلیم خان نے قبول کر لیا۔
عبدالعلیم خان نے گفتگو کو خوشگوار اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر آئینی عہدوں کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کرے گی تاکہ گلگت بلتستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کی جا سکے۔ -

نعیم قاسم کا اسرائیل کو لبنان چھوڑنے کا مطالبہ
بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اسرائیل اور امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف حملے پر آمادہ تو کر لیا، لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ان کے بقول ایران آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہے۔
اپنے بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتا اور اسے جنوبی لبنان سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو لبنان ہر قسم کی جارحیت کا مناسب جواب دے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کو خطے کا جارح فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اسرائیلی کارروائیوں کا جواب دیا جائے گا۔
نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شہری علاقوں پر حملے، بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں اور گھروں کی تباہی اس کی طاقت کی علامت نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی کمزوری اور تنہائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے الطاہر خاندان کے واقعے سمیت حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی رائے عامہ کے سامنے اسرائیل کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا لبنان کی قومی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور حزب اللہ کو اپنی قیادت، عوام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور اسرائیل، لبنان اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

خیبر میں فرانسیسی خاتون بچوں سمیت بازیاب
خیبر: باڑہ پولیس نے ضلع خیبر میں ایک گھر پر کارروائی کرتے ہوئے فرانسیسی خاتون کو ان کے بچوں سمیت بازیاب کرا لیا۔ پولیس کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر گھریلو تشدد اور بدسلوکی کی شکایت کی تھی، جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق 54 سالہ فرانسیسی خاتون نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے اور وہ پانچ بچوں کی والدہ ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر کی جانب سے انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور انہیں گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
اطلاعات کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد باڑہ پولیس نے متعلقہ مقام پر چھاپہ مار کر خاتون اور ان کے بچوں کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا۔ بعد ازاں متاثرہ خاتون کو بچوں سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحفظ کی غرض سے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور خاتون کے الزامات کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ حکام متاثرہ خاتون اور ان کے بچوں کو ہر ممکن تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ گھریلو تشدد جیسے واقعات پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ متاثرہ افراد کو فوری تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔