Baaghi TV

Blog

  • نیدرلینڈز میں گزشتہ سال میوزیم سے چوری ہونے والا ڈھائی ہزار سالہ قدیم سونے کا ہیلمٹ برآمد

    نیدرلینڈز میں گزشتہ سال میوزیم سے چوری ہونے والا ڈھائی ہزار سالہ قدیم سونے کا ہیلمٹ برآمد

    نیدرلینڈز میں گزشتہ سال میوزیم سے چوری ہونے والا 2 ہزار 500 سال قدیم سونے کا نایاب ہیلمٹ برآمد کر لیا گیا ہے۔

    ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق حکام نے مشرقی ڈچ شہر اسن میں پریس کانفرنس کے دوران رومانیا کے تاریخی ورثے سے تعلق رکھنے والا ‘کوٹوفینیستی’ ہیلمٹ میڈیا کے سامنے پیش کیا یہ ہیلمٹ قدیم ڈیشیا تہذیب سے منسوب ایک قیمتی قومی خزانہ تصور کیا جاتا ہے،استغاثہ کی نمائندہ کورین فاہنر نے بتایا کہ ہم اس کامیابی پر بے حد خوش ہیں، یہ ایک مشکل اور طویل مرحلہ تھا، خاص طور پر رومانیا کے لیے-

    یہ ہیلمٹ جنوری 2025 میں ڈرینٹس میوزیم میں نمائش کے دوران چوری کیا گیا تھا، جہاں نامعلوم چور اسے 3 سونے کے کنگنوں سمیت لے گئے تھےحکام کو خدشہ تھا کہ اپنی منفرد ساخت اور شہرت کے باعث اسے فروخت کرنا مشکل ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر پگھلا دیا جائے گا۔

    پولیس نے واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں دو کنگن بھی برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ تیسرے کنگن کی تلاش جاری ہے ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت اپریل کے آخر میں شروع ہوگی۔

    میوزیم کے ڈائریکٹر رابرٹ وان لانگھ کے مطابق ہیلمٹ کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور اس پر ہلکی سی ڈینٹ آئی ہے، تاہم اسے مستقل نقصان نہیں پہنچا، جبکہ کنگن بالکل محفوظ حالت میں ہیں،تحقیقات کے مطابق چوروں نے میوزیم میں داخل ہونے کے لیے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور ہتھوڑے کا استعمال کیا، جبکہ سیکیورٹی فوٹیج میں 3 افراد کو دروازہ توڑتے اور دھماکا کرتے دیکھا گیا تھا-

  • ایئر انڈیا کے سی ای او مستعفیٰ

    ایئر انڈیا کے سی ای او مستعفیٰ

    ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمپبل ولسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ ایئرلائن مسلسل مالی خسارے اور ریگولیٹری تحقیقات کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرلائن گزشتہ سال ہونے والے ایک مہلک حادثے کے بعد سخت نگرانی میں ہے، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے،ادھر حریف ایئرلائن انڈیگو نے حال ہی میں ہوا بازی کے ماہر Willie Walsh کو اپنا نیا سی ای او مقرر کیا ہے، جس سے مسابقتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، ولسن 6 ماہ کے نوٹس پیریڈ پر ہیں اور نئے سی ای او کی تقرری تک کمپنی کے ساتھ رہیں گے۔

    واضح رہے کہ کیمپبل ولسن کو 2022 میں Tata Group کی جانب سے ایئر انڈیا کی بہتری کے لیے تعینات کیا گیا تھا، جب کمپنی کو سرکاری ملکیت سے نکال کر نجی شعبے میں لایا گیا ایئرلائن کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، جن میں طیاروں کی تاخیر سے فراہمی، حفاظتی قواعد کی خلاف ورزیاں، اور آپریشنل کمزوریاں شامل ہیں ریگولیٹرز نے ایئرلائن کو ایسے معاملات پر بھی سرزنش کی، جیسے بغیر مکمل حفاظتی جانچ کے پروازیں چلانا۔

    اگرچہ ولسن نے اپنے دور میں کچھ اصلاحات متعارف کروائیں، جیسے طیاروں کی مرمت اور سروس میں بہتری، مگر کمپنی مسلسل خسارے میں رہی مالی سال 2024-2025 میں ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی سروس نے مجموعی طور پر قریباً 98 ارب روپے کا نقصان رپورٹ کیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر انڈیا کی مکمل بحالی کے لیے موزوں قیادت تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی اور علاقائی حالات ایوی ایشن انڈسٹری پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

  • تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ  ملبے کا ڈھیر

    تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر

    ایرانی دارالحکومت تہران کی فضا میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق تہران میں کم از کم 3 زوردار دھماکے سنے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے صوبے لورستان میں خرم آباد ایئر پورٹ کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں

    ایران میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں یہودی عبادتگاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، یہودی عبادت گاہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیاء میں یہودیوں کی دوسری بڑی آبادی ایران میں مقیم ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں، کویت میں امریکی ایئربیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، امریکی میڈیا کے مطابق حملے میں 15 فوجی زخمی ہوگئے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ میں زخمی ہونیوالے فوجیوں کی تعداد 373 ہوگئی۔ایران نے اسرائیل کے شہر حیفا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنیوالی ریفائنری ملیا میٹ کردی۔ سعودی عرب نے 7 بلیسٹک میزائل تباہ کردیے، میزائل کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی۔کویت، یواے ای اور بحرین میں بھی تیل کی تنصیبات پر میزائل برساددیے گئے، کویت میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے کیے گئے۔ایران نے قطر کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا۔

  • پاکستانی باکسر سمیر خان کی  بھارتی جھنڈا زمین سے اٹھا نے کی ویڈیو وائرل

    پاکستانی باکسر سمیر خان کی بھارتی جھنڈا زمین سے اٹھا نے کی ویڈیو وائرل

    پاکستانی باکسر سمیر خان کی ایک ایونٹ کے دوران بھارتی جھنڈا زمین سے اٹھانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    یہ ایونٹ چند ماہ قبل ہوا تھا جس میں سمیر خان نے بھارتی جھنڈا زمین سے اٹھا کر میز پر رکھ دیا تھا،ان کے اس قدم نے سب کے دل جیت لیے،ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سمیر خان کی نظر زمین پر پڑے بھارتی پرچم پر پڑتی ہے، جسے وہ فوراً اٹھا کر احترام کے ساتھ میز پر رکھ دیتے ہیں۔

    پاکستانی ایتھلیٹ نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو دکھایا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اور اسپورٹس دشمنی ایک طرف لیکن کسی ملک کے جھنڈے کو احترام کے ساتھ اٹھانا یہ ثابت کرتا ہے پاکستانی ایتھلیٹ کھیل کو صرف کھیل سمجھتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے مقابلے عموماً جذبات سے بھرپور ہوتے ہیں مگر اس واقعے نے ثابت کیا کہ اصل کھیل دوستی اور احترام کا نام ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کے سلسلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔

    نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت سلمان صفدر نے 31 مارچ کے عدالتی حکم کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ متفرق درخواست کیا ہے، جس پر عمران خان سے ملاقات کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ وکیل کی ملاقات یقینی بنائیں۔ عدالت نے سلمان صفدر سے ملاقات کا وقت پوچھا تو انہوں نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جس پر عدالت نے اگلے روز دو بجے ملاقات کرانے کا حکم جاری کر دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر ہفتے دو دن اپیل مقرر کر کے وکیل کو اپنے مؤکل سے ملاقات کا موقع دیا جا سکتا ہے، تاہم سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے جیل میں ملاقات کے بعد ہی وہ عدالت کی معاونت کریں گے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ خاتون ملزمہ کے حوالے سے سزا معطلی درخواست پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور اگر اپیل پر دلائل شروع ہو جائیں تو سات دن میں فیصلہ بھی ممکن ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کو پیر کے دن کی مصروفیات کا پیشگی علم نہیں ہوتا اور معاملے کو غیر ضروری طور پر اچھالا جانا مناسب نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  • ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات تیز

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سوات اور مردان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق بھی شریک تھے۔

    ذیلی کمیٹی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے انکوائری کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب تک اس معاملے میں متعلقہ 20 افسران اور اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ چوری ہونے والے کارٹنوں میں سے 1,262 کارٹن کسان ٹوبیکو برانڈ کے ہیں جو پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی کارٹنوں کی ملکیت کا تعین کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ذیلی کمیٹی کے ارکان نے اس معاملے میں ایف بی آر کی سنجیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ واقعے کے وقت تعینات آر ٹی او، چیف کمشنر اور ممبر (ٹوبیکو) کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں۔

    کمیٹی نے لاہور میں تعیناتی کے دوران ممبر (ٹوبیکو) کے خلاف ہونے والی سابقہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ایف بی آر افسران اور اہلکاروں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے۔ مزید برآں متعلقہ افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے ایک رکن نے تجویز دی کہ تحقیقات میں تمباکو کارٹیل یا کسی ممکنہ گٹھ جوڑ کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تمباکو کمپنی کی فیکٹری اور قیمتی مشینری پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہے اور برآمد شدہ کارٹن ٹیکس چوری کے مقدمے میں بطور ثبوت رکھے گئے تھے۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو اس پہلو کی بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔

    پارلیمانی نگرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کی آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتی ہیں جو قومی اہمیت کے معاملات کی باریک بینی سے جانچ یقینی بناتی ہیں۔ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کو حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ ذخائر پر زیادہ قیمتوں سے ممکنہ طور پر کس کو فائدہ پہنچا۔ مزید برآں ایف آئی اے ٹیم کو اس مقام کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی جہاں سے سگریٹ چوری ہوئے۔بریفنگ کے دوران ایف آئی اے نے مبینہ تمباکو کمپنی کی بینک ٹرانزیکشن ہسٹری بھی پیش کی۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر فیکٹری 2024 سے سیل ہے تو 2024–25 کے دوران مالی لین دین کیسے ریکارڈ ہوا۔ اس پر کنوینر نے ایف آئی اے کو ٹرانزیکشن کی تفصیلات دوبارہ تصدیق کرنے کی ہدایت دی۔

    ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے اپنے گوداموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے معیاری طریقہ کار (SOPs) اور حفاظتی پروٹوکول وضع کر کے نافذ کر دیے ہیں۔ تاہم کنوینر نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ سگریٹ چوری کے مقدمے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کی جائیں۔

    اجلاس میں دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کیا گیا جن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال، فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد اور بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ شامل ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ان علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ علاقے اسمگلنگ کے مراکز بنتے جا رہے ہیں جس سے قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں خام مال کی درآمد سے متعلق تفصیلی ڈیٹا پیش کیا جائے، جبکہ ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ بلوچستان میں داخل ہونے والے ایرانی تیل کے حوالے سے متعلقہ معلومات پیٹرولیم ڈویژن سے حاصل کی جائیں۔

  • شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ یہ مصنوعی موسم ہے، قدرتی بادل نہیں ،مشی خان

    شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ یہ مصنوعی موسم ہے، قدرتی بادل نہیں ،مشی خان

    پاکستانی ٹی وی میزبان اور اداکارہ مشی خان نے موجودہ موسم کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قدرتی موسم نہیں بلکہ مصنوعی بادل ہیں۔

    مشی خان نے کہا کہ وہ شرط لگانے کے لیے بھی تیار ہیں کہ یہ قدرتی بادل نہیں ہیں، قدرتی موسم میں اس طرح کی غیر معمولی تبدیلیاں نہیں ہوتیں، عام طور پر قدرتی بارش کے بعد موسم صاف ہو جاتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ پانچ منٹ میں اندھیرا چھا جاتا ہے، بارش شروع ہو جاتی ہے اور آد ھے گھنٹے میں دھوپ نکل آتی ہے یہ قدرتی بادل نہیں ہیں، موسم میں گڑ بڑ ہے اور اس کا کچھ دن میں پتہ چل جائے گا۔

    اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    صارفین مشی خان کے اس بیان کے بعد ان پر تنقید کرتے نظر آئے،ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ مشی خان کو اب تو بادلوں اور بارشوں میں بھی پنجاب حکومت کی سازش نظر آنے لگی ہے،لیکن آ پ Believe کریں کہانی یہیں تک نہیں رکے گی کیونکہ مشی خان کا اس پر وضاحتی بیان آ نا ابھی باقی ہے،کچھ صارفین نے کہا کہ اسی لیے کہتے ہیں تعلیم بہت ضروری ہے جبکہ بعض صارفین نے کہا کہ مشی خان کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے،یہ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

  • اسلام آباد میں موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم

    اسلام آباد میں موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم

    حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لیے موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ پیٹرول سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے شہری آسانی سے اپنی بائیک اپنے نام پر منتقل کروا سکیں۔

    ڈی جی ایکسائز عرفان میمن کے مطابق شہری ایکسائز آفس اسلام آباد سے بغیر کسی فیس کے اپنا بائیک ٹرانسفر کروا سکیں گے سہولت بڑھانے کے لیے محکمہ ایکسائز کے دفاتر 24 گھنٹے کھلے رہیں گے اور اضافی کاؤنٹرز بھی لگائے گئے ہیں،یہ فیصلہ عوام تک حکومتی ریلیف پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ رجسٹریشن اور پیٹرول سبسڈی کے فوائد شہریوں کے لیے آسان اور شفاف ہوں۔

    ڈی جی محکمہ ایکسائز عرفان میمن نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ حکومتی ریلیف سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری طور پر اپنی موٹرسائیکل اپنے نام پر منتقل کرائیں،رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل کو تیز کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز میں اضافی کاؤنٹرز بھی فعال کیے جائیں گے ۔

  • اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،پاکستان اور مصر نے صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

  • جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاصم منیر کی قیادت: سفارتکاری کا نیا باب
    دنیا جنگ کے قریب، پاکستان امن کے ساتھ

    تجزیہ: شہزادقریشی

    جنگ کے دہانے پر دنیا اور پاکستان کی خاموش سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جس کے لاوے نے عالمی امن، معیشت اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی عالمی ترسیل پر خطرات، اور خطے میں پھیلتی ہوئی بے یقینی نے دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک وقت میں پاکستان نے جس دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری ٹیم نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو بظاہر منظرِ عام پر کم نظر آتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سیاست میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاموش سفارتکاری، بیک چینل رابطے اور طاقتور ممالک کے درمیان اعتماد سازی یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لایا ہے۔

    امریکہ، ایران، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات رکھنا کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے یہ توازن برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف خود کو ممکنہ جنگ سے دور رکھا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس وقت پاکستان کے اسی کردار پر مرکوز ہے، جہاں اسے ایک “میڈی ایٹر اسٹیٹ” یعنی ثالثی کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک سوچے سمجھے وژن، مربوط حکمت عملی اور مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ چند سال پہلے تک عالمی تنہائی کا تاثر رکھنے والا پاکستان آج عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں “متوازن غیر جانبداری” کی پالیسی اپنائی یعنی نہ کسی ایک فریق کا حصہ بننا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر رہ جانا، بلکہ فعال سفارتکاری کے ذریعے امن کی راہ تلاش کرنا۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنا، اندرونی سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنا، معاشی دباؤ کا سامنا کرنا، اور علاقائی طاقتوں کی ممکنہ مخالفت یہ تمام عوامل پاکستان کے لیے ایک مستقل امتحان ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے جس تدبر، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    آج دنیا ایک بار پھر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں دنیا جنگ کے بادلوں میں گھری ہوئی ہے، وہاں پاکستان نے امن، توازن اور دانشمندی کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے