Baaghi TV

Blog

  • 
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    ‎لندن: صنعتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی سے خلیجی ممالک کا وہ خام تیل بھی عالمی منڈی تک پہنچ سکے گا جو حالیہ کشیدگی کے باعث ٹینکروں میں رکا ہوا تھا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی سپلائی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
    ‎توانائی تجزیاتی ادارے کپلر (Kpler) کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے سے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل غیر ایرانی خام تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر خلیج میں رکا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اگر امریکا ایرانی خام تیل پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کرتا ہے تو ایران کا تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل بھی عالمی منڈی میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے سپلائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی (Ship-to-Ship Transfers) کے ذریعے برآمدات جاری رکھیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی اسپاٹ قیمتوں پر پہلے ہی دباؤ دیکھنے میں آیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ریفائنریوں نے جون سے اگست تک کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل کی خریداری پہلے ہی مکمل کر لی ہے، جبکہ ریفائننگ مارجن میں کمزوری کے باعث مستقبل میں نئی خریداری کی رفتار نسبتاً محدود رہ سکتی ہے۔
    ‎اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے اور ایران سے متعلق پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

  • آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پاکستان میں ہرسال لاکھوں آم کی گٹھلیاں کھانے کے بعد کچرے میں پھینک دی جاتی ہیں اور اس طرح ہم پورا سیزن یہی کام کرتے ہیں حالانکہ ہم ان گٹھلیوں سے آم کے درخت بنا سکتیں ہیں اور فری میں اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں
    آئیں آج ہم اس کے بارے میں آپ کو بتائیں ہیں یہ کیسے ممکن ہے ۔

    پاکستان کو آموں کا دیس کہا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم آتے ہی ملک بھر میں آم کی مختلف اقسام بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں۔ آم نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے پھلوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے ۔بلکہ غذائیت اور معاشی اہمیت کے لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی اکثر کوڑے دان کی نذر ہو جاتی ہیں، حالانکہ یہی گٹھلی ایک نئے درخت اور سرسبز مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور جنگلات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر فرد کا ایک پودا لگانا بھی ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگانا ایک آسان، کم خرچ اور دلچسپ عمل ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے فائدہ مند سرگرمی ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین زراعت کے مطابق آم کی گٹھلی کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اس کے سخت خول کو احتیاط سے کھول کر اندر موجود بیج نکالا جاتا ہے۔ اس بیج کو نم مٹی والے گملے میں تقریباً ایک انچ گہرائی میں لگایا جائے اور مٹی کو مناسب حد تک نم رکھا جائے۔ اگر گملے کو روشن اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے تو چند ہفتوں میں ننھا سا پودا نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ننھا پودا دراصل مستقبل کے ایک تناور درخت کا آغاز ہوتا ہے۔

    آم کا درخت صرف پھل ہی نہیں دیتا بلکہ ماحول کو آکسیجن فراہم کرتا، فضائی آلودگی کم کرتا اور پرندوں کے لیے مسکن کا کام بھی کرتا ہے۔ ایک بالغ آم کا درخت کئی دہائیوں تک پھل دیتا رہتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آم کے باغات مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے "مینگو مانیا ویک” جیسی سرگرمیوں کے ذریعے آم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر آم کی اقسام، اس سے تیار ہونے والی غذائیں، کوئزز اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آم کی گٹھلی سے پودا اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو لوگوں میں شجرکاری کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ایک نئے پودے میں تبدیل کریں۔ اگر ہر فرد اس موسم میں صرف ایک آم کا پودا لگا دے تو آنے والے برسوں میں ہزاروں نئے درخت ہمارے ماحول کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہوگا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگا۔

    آئیے عہد کریں کہ اس بار آم کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی گٹھلی سے ایک نئی زندگی بھی اگائیں گے، کیونکہ آج کا ایک پودا کل کا سایہ دار درخت بن سکتا ہے
    اس امید کے ساتھ یہ درخت لگائیں،یہ صدقہ جاریہ ہے اور آنے والی نسلوں کی بقا

  • 
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    ‎لندن: یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے پیش نظر ایمبر ہیٹ ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث صحت کے نظام اور سماجی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمبر ہیلتھ الرٹ کا اطلاق لندن، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ اور ایسٹ آف انگلینڈ میں منگل کی شام 8 بجے تک برقرار رہے گا۔ اس دوران متعلقہ اداروں کو ممکنہ طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب ویسٹ مڈلینڈز اور ایسٹ مڈلینڈز کے لیے اسی مدت تک یلو ہیٹ ہیلتھ وارننگ جاری کی گئی ہے، جہاں گرمی کی شدت نسبتاً کم ہونے کے باوجود حساس افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی خصوصاً عمر رسیدہ افراد، دل، سانس اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، ٹھنڈی جگہوں پر رہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
    ‎موسمی پیشگوئی کے مطابق لندن میں پیر کے روز درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ منگل کو 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    ‎برطانوی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور اپنے بزرگ عزیزوں، تنہا رہنے والے افراد اور صحت کے مسائل سے دوچار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘اسحاق ڈار

    بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘اسحاق ڈار

    ‎اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پر سندھ طاس معاہدے کو سیاسی اور سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ عالمی معاہدوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
    ‎ویڈیو بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور عالمی برادری کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے پُرامن حل کا واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر کے غیرقانونی اقدام کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے پورے خطے کے امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
    ‎اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عالمی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبی وسائل سے متعلق تمام معاملات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق حل ہونے چاہییں۔
    ‎نائب وزیراعظم نے خبردار کیا کہ پاکستان کا پانی روکنے یا اس کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام دوطرفہ تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے چاہتا ہے۔
    ‎اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام کو ان کے آبی حقوق سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

  • 
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    ‎تل ابیب: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کسی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر امریکا کے ساتھ سخت اور تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔
    ‎سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مختلف سفارتی اور سیکیورٹی امور پر مسلسل رابطے جاری ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس معاملے پر خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام سے جڑا ایک اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎تاحال امریکا یا لبنان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مذاکرات کے نتائج پر علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

  • 
فاطمہ ثنا دی ہنڈرڈ لیگ میں شامل ہونے والی پہلی پاکستانی ویمن کرکٹر بن گئیں

    
فاطمہ ثنا دی ہنڈرڈ لیگ میں شامل ہونے والی پہلی پاکستانی ویمن کرکٹر بن گئیں

    ‎پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے انگلینڈ کی معروف فرنچائز ٹورنامنٹ دی ہنڈرڈ میں جگہ بنا لی ہے۔ برطانوی کرکٹ لیگ میں ان کا معاہدہ برمنگھم فینکس کے ساتھ طے پا گیا ہے، جس کے بعد وہ اس ایونٹ میں شرکت کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کرکٹر بن گئی ہیں۔
    ‎کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق برمنگھم فینکس نے آسٹریلیا کی آل راؤنڈر لوسی ہملٹن کی جگہ فاطمہ ثنا کو اپنے اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ ان کی شمولیت کو نہ صرف پاکستان ویمن کرکٹ بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی خواتین کرکٹرز کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎دی ہنڈرڈ لیگ کا آغاز 21 جولائی سے ہوگا جبکہ ٹورنامنٹ کا فائنل 16 اگست کو کھیلا جائے گا۔ لیگ میں دنیا بھر کی صف اول کی خواتین کرکٹرز حصہ لیں گی، جہاں فاطمہ ثنا کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق فاطمہ ثنا کو اس معاہدے کے تحت کم از کم 15 ہزار برطانوی پاؤنڈ معاوضہ ملے گا۔ تاہم پاکستان ویمن ٹیم کے سری لنکا کے دورے کی وجہ سے ان کی دستیابی محدود میچز تک رہنے کا امکان ہے۔
    ‎پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم 23 جولائی سے 4 اگست تک سری لنکا کے خلاف وائٹ بال سیریز کھیلے گی، جس کے باعث فاطمہ ثنا لیگ کے تمام میچز میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔
    ‎فاطمہ ثنا کی دی ہنڈرڈ لیگ میں شمولیت کو پاکستانی خواتین کرکٹ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں دیگر پاکستانی ویمن کرکٹرز کے لیے بھی بین الاقوامی فرنچائز لیگز کے دروازے کھولنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

  • 
انکم ٹیکس ریٹرن صرف آن لائن جمع کرانا لازمی قرار دینے کی تجویز منظور

    
انکم ٹیکس ریٹرن صرف آن لائن جمع کرانا لازمی قرار دینے کی تجویز منظور

    ‎اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انکم ٹیکس ریٹرنز صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ اس فیصلے کے تحت تمام ٹیکس دہندگان کو اپنے انکم ٹیکس ریٹرنز ایف بی آر کے آئرس (IRIS) پورٹل کے ذریعے آن لائن جمع کرانا لازمی ہوگا۔
    ‎کمیٹی کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کمپنیوں کے مالیاتی گوشوارے بھی اب مشین ریڈ ایبل فارمیٹ میں جمع کرانا لازمی ہوں گے تاکہ ٹیکس ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور پراسیسنگ مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
    ‎ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ادارہ 2013 سے زیادہ تر انکم ٹیکس ریٹرنز الیکٹرانک طریقے سے وصول کر رہا ہے، تاہم گوجرانوالہ سمیت چند شہروں میں اب بھی بعض ریٹرنز دستی طور پر جمع کروائے جا رہے تھے۔ نئی تجویز کے بعد ملک بھر میں دستی ریٹرنز کا سلسلہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
    ‎قائمہ کمیٹی نے اجلاس کے دوران الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم سے متعلق ایک اہم تجویز بھی منظور کی۔ اس کے تحت جو ٹیکس دہندگان اس نظام کو اختیار کریں گے، انہیں ریوائزڈ ریٹرن جمع کرانے کی سہولت حاصل ہوگی۔
    ‎ایف بی آر حکام کے مطابق الگورتھمک سیٹلمنٹ کے تحت ریٹرن کی منظوری کے لیے کمشنر کی پیشگی اجازت درکار نہیں ہوگی، جس سے ٹیکس معاملات کو تیز اور آسان بنایا جا سکے گا۔
    ‎حکام نے مزید بتایا کہ اس نظام کو اختیار کرنے والے ٹیکس دہندگان پر الگ سے جرمانہ یا سرچارج بھی عائد نہیں کیا جائے گا، جس کا مقصد رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر پزشکیان کا رابطہ، تاریخی امن معاہدے پر تبادلہ خیال

    
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر پزشکیان کا رابطہ، تاریخی امن معاہدے پر تبادلہ خیال

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان آج دوپہر ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جو تیس منٹ سے زائد جاری رہا۔ تاریخی اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر، ایرانی قیادت اور برادر عوام کو تاریخی امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایران کی تعمیر نو اور پاکستان و ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
    ‎وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے ایران کی جانب سے امن معاہدے پر دستخط کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئندہ مذاکراتی مرحلے میں بھی اپنے برادر اور ہمسایہ ملک ایران کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔
    ‎ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم اور اپنی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے انتہائی دانشمندی، خلوص اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ثالثی کے عمل کو کامیاب بنایا، جس کے نتیجے میں یہ تاریخی معاہدہ ممکن ہو سکا۔
    ‎صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، مخلصانہ اور تعمیری حمایت کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
    ‎گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کا دورہ کریں گے تاکہ دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

  • 
لبنان کو امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری درکار ہے، صدر جوزف عون

    
لبنان کو امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری درکار ہے، صدر جوزف عون

    ‎بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ملک کو صرف انسانی امداد کی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو۔
    ‎صدر جوزف عون نے یہ بات قطر، فرانس اور برطانیہ کے وزارتی وفود سے ملاقات کے بعد جاری اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کا استحکام نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ کے امن اور سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ لبنان میں امن و امان کا قیام پورے خطے کے مفاد میں ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو ملک کی اقتصادی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مضبوط اور مستحکم لبنان خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎صدر عون نے قطر، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے لبنان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے نہ صرف انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی بلکہ لبنانی فوج اور سیکیورٹی اداروں کی معاونت بھی جاری رکھی، جس سے ملکی استحکام میں مدد ملی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ لبنان اب صرف امدادی پیکجوں کا خواہاں نہیں بلکہ ایسی سرمایہ کاری چاہتا ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے، معیشت کو مضبوط بنائے اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھے۔
    ‎جوزف عون کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک طرف عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے اور دوسری جانب لبنانی عوام کا اپنے ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط کیا جائے، تاکہ ملک معاشی اور سیاسی استحکام کی جانب بڑھ سکے۔

  • 
ٹرمپ کا ناقدین کو جواب، ایران پر میرا مؤقف سخت ہے

    
ٹرمپ کا ناقدین کو جواب، ایران پر میرا مؤقف سخت ہے

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر نرم مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ یا تو حسد کا شکار ہیں، بدنیتی رکھتے ہیں یا پھر حقیقت سے لاعلم ہیں۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کے معاملے پر ہمیشہ واضح اور مضبوط مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کے بیانات زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
    ‎امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی سے کمی آ رہی ہے، جو معیشت کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔
    ‎ٹرمپ نے اپنی حکومت کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور ایران سمیت تمام اہم بین الاقوامی معاملات پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
    ‎امریکی صدر کے حالیہ بیان کو ایران سے متعلق جاری سفارتی پیش رفت اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے درمیان مذاکرات اور سفارتی رابطے جاری ہیں۔