Baaghi TV

Blog

  • آبنائے  ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے امریکا ٹیکس وصول کرے گا،ٹرمپ

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے امریکا ٹیکس وصول کرے گا،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اب امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے خود ٹیکس وصول کر سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کی جانب سے جہازوں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کے باوجود جنگ ختم کر دیں گے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیوں نہ ہم خود یہ ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیں؟ایران عسکری طور پر شکست کھا چکا ہے اور چونکہ امریکا اس جنگ میں فاتح بن کر ابھرا ہے، اس لیے اس راستے پر کنٹرول اور وہاں سے ہونے والی آمدنی پر بھی ہمارا حق ہونا چاہیے۔

    صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران اب صرف نفسیاتی حربے استعمال کر رہا ہے اور سمندر میں چند بارودی سرنگیں بچھا کر ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ہار چکا ہے کسی بھی امن معاہدے کی پہلی شرط یہ ہوگی کہ تیل کی ترسیل کے لیے سمندری راستہ مکمل طور پر آزاد اور محفوظ ہو۔

    واضح رہے کہ ایران نے حال ہی میں ایک ایسا نظام اپنایا ہے جس کے تحت وہ چند مخصوص جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے بدلے ان سے بھاری رقم وصول کرتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو یہ فائدہ اٹھانے دینے کے بجائے خود یہ نظام سنبھالنا پسند کریں گے۔

    اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا اس ٹیکس کی وصولی کا آغاز کب اور کیسے کرے گا، لیکن اس بیان نے عالمی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

  • اوکاڑہ: ترقیاتی منصوبوں پر تیزی لانے کی ہدایت، نئی غلہ منڈی اور سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح

    اوکاڑہ: ترقیاتی منصوبوں پر تیزی لانے کی ہدایت، نئی غلہ منڈی اور سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈاکٹر آصف طفیل کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں احمد عثمان جاوید، تینوں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ حماد یوسف سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ حماد یوسف نے غلہ منڈی، چرچ روڈ اور اکبر روڈ کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔کمشنر ساہیوال نے عوامی سہولت کے منصوبوں پر فوری پیشرفت کے احکامات جاری کرتے ہوئے 54 ایکڑ رقبے پر نئی غلہ منڈی کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے نئی غلہ منڈی کے ساتھ سبزی و فروٹ منڈی کی مشترکہ تعمیر کے لیے بھی ورکنگ پلان تیار کرنے کا حکم دیا۔
    انہوں نے غلہ منڈی میں دکانوں کی الاٹمنٹ کے لیے کاروباری افراد کے لائسنس کے از سر نو جائزے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ الاٹمنٹ کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنایا جائے۔کمشنر ساہیوال کا کہنا تھا کہ چرچ روڈ اور اکبر روڈ کی جلد از جلد تعمیر سے شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی میسر آئے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے فریم ورک کو مکمل کر کے ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے۔

  • اوکاڑہ: ترقیاتی منصوبوں پر تیزی لانے کی ہدایت، نئی غلہ منڈی اور سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح

    اوکاڑہ: ترقیاتی منصوبوں پر تیزی لانے کی ہدایت، نئی غلہ منڈی اور سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں بارے اجلاس، اجلاس میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، تینوں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ حماد یوسف سمیت دیگر افسران نے شرکت کی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ حماد یوسف نے غلہ منڈی، چرچ روڈ، اکبر روڈ کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں بارے تفصیلی بریفنگ دی، کمشنر ساہیوال نے عوامی سہولت کے منصوبوں پر فوری پیشرفت کے احکامات جاری کیے، انہوں نے 54 ایکٹر کے وسیع رقبہ پر نئی غلہ منڈی کی تعمیر کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے اور مجوزہ نئی غلہ منڈی کی جگہ پر سبزی و فروٹ منڈی کو بھی تعمیر کرنے کے لیے ورکنگ پلان پر تیاری کی بھی ہدایات دیں، کمشنر ساہیوال کے غلہ منڈی میں دکانوں کی الاٹمنٹ کے لیے کاروباری افراد کے لائسنس کے از سر نو جائزے کے احکامات دیے، انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر ترقیاتی کاموں کے فریم ورک کو مکمل کیا جائے، سبزی و فروٹ اور غلہ منڈی کی ایک ہی جگہ تعمیر سے عوام کو آسانی ہوگی، مشترکہ منڈی کی فیزیبلٹی کے لیے جامع انداز میں پلان ترتیب دیا جائے، کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل نے کہا کہ غلہ منڈی میں میرٹ کی بنیاد پر حقداروں میں دکانوں کی الاٹمنٹ کو یقینی بنایا جائے، آمد و رفت کے لیے چرچ روڈ اور اکبر روڈ کی جلد از جلد تعمیر کے لیے بھی لائحہ عمل بنایا جائے، دونوں روڈز کی تعمیر سے عوام آسانی میسر آئے گی۔

  • امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس وقت سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے ہیں، جب 6 اپریل 2026 کو کی گئی ان کی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیو ہے۔

    انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین اس ویڈیو کلپ کو تیزی سے شیئر کر رہے ہیں اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دورانِ تقریر ایک ایسی آواز سنائی دی جو بظاہر ’ریح خارج‘ ہونے کی معلوم ہوتی ہے،فی الحال یہ واضح نہیں کہ پیٹ ہیگسیتھ کی وائرل ہونے وا لی ویڈیو اصلی ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔

    اس وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وزیرِ دفاع امریکی حکومت کے عسکری موقف اور ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر بات کرنے کے لیے پوڈیم پر آئے تو اسی دوران ایک ناگوار آواز سنائی دیتی ہے۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور وزیرِ دفاع ایران پر حملوں اور امریکی پائلٹس کی بحالی جیسے انتہائی حساس موضوعات پر بریفنگ دے رہے تھے۔

    پیٹ ہیگسیتھ کی اس ویڈیو کو کینیا میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی شیئر کیا اور ساتھ میں طنزیہ لکھا: ”آبنائے کھل گئی“۔

    جس پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی رد عمل دیا اور ایرانی سفارتخانے کی اس حس مزاح کی تعریف بھی کی،ایک ’ایکس‘ صارف نے لکھا کہ مریکی ہونے کو باوجود وہ ایران کی حسِ مزاح سے لطف اٹھاتے ہیں،ایک نے لکھا کہ ہیگستھ نے آبنائے ہرمز پر ایسی شدید بمباری کی کہ اسے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا، ایک صارف نے لکھا کہ کیا ایران نے اپنے بہترین سوشل میڈیا ماہرین مختلف سفارت خانوں میں تعینات کیے ہیں یا پھر تمام سفارت خانوں کا عملہ ہی پوسٹنگ کرنے میں بہت ماہر ہے؟-

  • لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا،  5 اہلکار زخمی،اسپتال منتقل

    لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 5 اہلکار زخمی،اسپتال منتقل

    خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانہ شہبازخیل کی حدود میں پولیس موبائل کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکے سے اے ایس آئی سمیت 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، جسے قریب لا کر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

    زخمی ہونے والوں میں اے ایس آئی جمال الدین، کانسٹیبل عارف اور ڈرائیور میر حسن شامل ہیں، جبکہ ایک راہگیر بھی دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوا تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، علاقے میں سیکیورٹی مزید بڑھا کر تفتیش کا عمل جاری ہے۔

  • امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکا میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ، خواتین جوڑے مردوں سےزیادہ

    امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پہلی بار خواتین پر مشتمل ہم جنس جوڑے مردوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سن 2005 میں ہم جنس جوڑوں میں مردوں کا تناسب زیادہ تھا، جہاں 54 فیصد جوڑے مردوں پر مشتمل تھے جبکہ خواتین کا حصہ 45 فیصد تھا۔ اس وقت قانونی طور پر ہم جنس شادی صرف ایک ریاست میساچوسٹس میں تسلیم شدہ تھی۔تاہم دو دہائیوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ 2024 تک خواتین ہم جنس جوڑوں کا تناسب بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا جبکہ مرد جوڑوں کا تناسب 46 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی میں سن 2015 میں ہم جنس شادی کو ملک بھر میں قانونی حیثیت ملنا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق 2024 تک امریکہ میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی تعداد تقریباً 1.4 ملین تک پہنچ گئی، جو کہ 2005 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ تعداد ملک کے مجموعی گھرانوں کا تقریباً 1 فیصد بنتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ شرح اب بھی اس مجموعی آبادی سے کم ہے جو خود کو LGBTQ+ شناخت کرتی ہے، جس کا اندازہ تقریباً 9 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 5 فیصد امریکی خود کو بائی سیکسوئل قرار دیتے ہیں۔

    اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو معاشی عدم مساوات بھی سامنے آیا۔ خواتین ہم جنس جوڑوں کی اوسط سالانہ گھریلو آمدنی تقریباً 108,500 ڈالر رہی، جبکہ مرد جوڑوں کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ یعنی 140,500 ڈالر رہی۔تاہم ملازمت کے حوالے سے دونوں اقسام کے جوڑوں میں تقریباً یکساں شرح دیکھی گئی، جہاں تقریباً 64 فیصد جوڑوں میں دونوں پارٹنرز ملازمت پیشہ تھے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم جنس جوڑے تعلیمی اعتبار سے اپنے مخالف جنس ہم منصبوں سے آگے ہیں۔ تقریباً 32.5 فیصد ہم جنس غیر شادی شدہ جوڑوں میں دونوں افراد کم از کم بیچلر ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.1 فیصد ہے۔مزید برآں، ہم جنس شادی شدہ جوڑوں میں نسلی تنوع بھی زیادہ پایا گیا، جہاں 31.3 فیصد جوڑے مختلف نسلی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ مخالف جنس جوڑوں میں یہ شرح 19.5 فیصد ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شادی شدہ ہم جنس جوڑے اوسطاً کم عمر ہیں (49 سال) جبکہ شادی شدہ مخالف جنس جوڑوں کی اوسط عمر 53.2 سال ہے۔ غیر شادی شدہ جوڑوں میں عمر کا فرق تقریباً برابر رہا۔اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہم جنس جوڑوں کے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، جس سے اس شہر کی بطور LGBTQ+ کمیونٹی کے مرکز کی شہرت مزید مستحکم ہو گئی۔یہ اعداد و شمارامریکن کمیونٹی سروے کے تحت 2005 سے 2024 تک جمع کیے گئے، تاہم 2020 میں کووڈ-19 وبا کے باعث ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ماہرین کے مطابق یہ رجحانات نہ صرف سماجی قبولیت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ امریکی معاشرے میں خاندانی ساخت میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

  • اوکاڑہ میں ایل پی جی قیمتوں پر سختی، اوورچارجنگ اور غیر قانونی ری فلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی

    اوکاڑہ میں ایل پی جی قیمتوں پر سختی، اوورچارجنگ اور غیر قانونی ری فلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی

    اوکاڑہ میں ایل پی جی قیمتوں پر سختی، اوورچارجنگ اور غیر قانونی ری فلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی، مزید تفصیلات جانتے ہیں فیضان شیخ ساوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی کی زیر صدارت ایل پی جی ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور مختلف ایل پی جی پلانٹ ہولڈرز کا اجلاس، اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی بھی موجود تھے، اجلاس میں گیس کی قیمتوں پرعمل درآمد کے احکامات جاری کیے گئے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی نے کہا کہ تمام پلانٹ ہولڈرز اور ڈسٹری بیوٹرز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت کو یقینی بنائیں، دکانوں اور پلانٹس پر قیمتوں کی فہرست واضح جگہ پر آویزاں کی جائے تاکہ صارفین کو سرکاری نرخوں کا علم ہو سکے، غیر معیاری سلنڈرز کی فروخت اور غیر قانونی ری فلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انہوں نے سول ڈیفنس آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ مارکیٹ کی مسلسل مانیٹرنگ کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موقع پر بھاری جرمانے اور دکانیں سیل کریں۔

  • کوٹلی ستیاں،نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے بھرپور توجہ حاصل کر لی

    کوٹلی ستیاں،نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے بھرپور توجہ حاصل کر لی

    تحصیل مری کے خوبصورت پہاڑی علاقے کوٹلی ستیاں میں قائم ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (ٹی ڈی سی پی) کے نئے سیاحتی منصوبے چیوڑا بیس ریزارٹ نے ملکی میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے مختلف معروف الیکٹرانک میڈیا چینلز کے ٹورازم بیٹ رپورٹرز نے ریزارٹ کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر بیس سے زائد صحافیوں نے ریزارٹ میں موجود جدید سہولیات سے آراستہ گلمپنگ پوڈز اور دلکش ٹری ہاؤسز میں کا دورہ کیا اور قدرتی حسن سے بھرپور ماحول کو خوب سراہا۔ ریزارٹ میں جدید طرز اور منفرد فن تعمیر پر سات گلمپنگ پورڈذ اور چار ٹری ہائوسز تیار کئے گئے ہیں اور ریسٹورنٹ بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اس کے علاؤہ آرچری، اے ٹی وی رائیڈرز ، سٹار گیزنگ جیسی تفریحی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے،اس موقع پر صحافیوں کو ریزارٹ میں فراہم کی جانے والی جدید رہائشی سہولیات، ماحولیاتی ہم آہنگی پر مبنی تعمیرات، اور سیاحت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے ریزارٹ کے منفرد تصور، اعلیٰ معیار اور سیاح دوست سہولیات کو بے حد سراہتے ہوئے اسے پنجاب میں سیاحت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    صحافیوں کا کہنا تھا کہ چیوڑا بیس ریزارٹ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام ثابت ہوگا، جو خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ٹی ڈی سی پی نے پٹریاٹہ ٹاپ پہ بھی چار نئے ٹری ہاؤسسز قائم کئے ہیں جن کا مقصد ماحول دوست سیاحت کا فروغ اور سیاحوں کو منفرد انداز میں قیام کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ تمام منصوبے اس خطے میں سیاحت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہونگے،محکمہ سیاحت ایسے منصوبوں کے ذریعے پنجاب کے خوبصورت اور کم دریافت شدہ علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لانے اور معیاری سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

  • کویت میں علی السالم ایئر بیس پر ایران کا حملہ، 15 امریکی فوجی زخمی

    کویت میں علی السالم ایئر بیس پر ایران کا حملہ، 15 امریکی فوجی زخمی

    کویت میں رات گئے ایران کے جوابی ڈرون حملوں میں 15 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    کویتی حکام کے مطابق یہ حملہ ایک حساس فوجی تنصیب، علی السالم ایئر بیس، پر کیا گیاامریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون ایئر بیس کے احاطے میں گرا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی اہلکار زخمی ہوئے زخمی ہونے والے تمام فوجیوں کو معمولی نوعیت کے زخم آئے ہیں اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے حملے کے بعد بیس پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں نگرانی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

    ادھر امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 375 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    دوسری جانب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان قطر نے شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے عمل کی شدید مذمت کی ہےقطری وزیراعظم و وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران شیخ محمد بن عبدالرحمان نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ریاستوں، خصوصاً ان ممالک پر حملے کسی صورت مناسب نہیں جو خود کو جاری تنازع سے الگ رکھے ہوئے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیاقطری وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ بحران کا واحد حل مستقل اور جامع سفارتی کوششیں ہیں، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    شادی میں جانے والے پر تشدد،سر و بھنوؤں کے بال مونڈ دیئے،اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل

    سعودی عرب میں بھی ایک بڑے صنعتی سانحے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں الجبیل کے صنعتی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ میزائل حملے کا نشانہ بنا، حملے کے بعد پلانٹ میں شدید آگ بھڑک اٹھی جبکہ متعدد بڑے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

  • بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    بھارت میں شادیوں کے بڑھتے اخراجات، سماجی دباؤ اور قرضوں کا بوجھ

    بھارت کے شہر ممبئی میں 26 سالہ نویِنا وانامالا اپنی زندگی کے سب سے اہم دن کی تیاری میں مصروف ہیں، مگر خوشیوں کے اس موقع پر پریشانیوں کا سایہ بھی نمایاں ہے۔ میک اپ آرٹسٹ جب ان کے چہرے پر باریک سفید نقطے بنا رہی ہے، اسی دوران ان کا فون مسلسل بج رہا ہے . کہیں پھول غائب ہیں، کہیں انتظامات ادھورے ہیں۔

    یہ ذمہ داریاں عام طور پر دلہن کے والد سنبھالتے ہیں، مگر نویِنا کے والد کا چھ ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے، جس کے بعد وہ خود ہی اپنی شادی کے تمام فیصلے لینے پر مجبور ہیں ، وہ بھی ایسی شادی جس کے اخراجات ان کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہیں۔نویِنا، جو ایک سوشل میڈیا مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں، ماہانہ تقریباً 145 ڈالر کماتی ہیں۔ ان کی شادی کا ابتدائی بجٹ 3,200 ڈالر تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوگنا ہو گیا۔ مجبوراً انہوں نے بینک سے قرض لیا، جبکہ ان کے منگیتر، سائی کرن دوسا، پہلے سے موجود ہاؤس لون کے باوجود مزید قرض لینے پر مجبور ہو گئے۔نویِنا کہتی ہیں "اتنا قرض لینا مناسب نہیں تھا، مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہمیں یہ شادی کرنی ہی تھی۔”

    بھارت میں شادیاں ایک وسیع سماجی روایت ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں شادیوں کی صنعت تقریباً 130 ارب ڈالر کی ہے۔ یہاں شادیوں میں کئی دنوں تک تقریبات جاری رہتی ہیں اور اکثر دلہن کے خاندان پر اخراجات کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سماجی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ دلہن کے خاندان کو شاندار تقریب منعقد کرنی ہوتی ہے،سونے کے زیورات، نقد رقم اور گھریلو سامان دینا عام بات ہے،جہیز قانونی طور پر ممنوع ہونے کے باوجود اب بھی رائج ہے،یہ مسئلہ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں۔ ایک طرف غریب خاندان بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں، تو دوسری جانب امیر طبقے میں شاہانہ شادیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

    نئی دہلی میں کاویری مہتا کی شادی اس کی مثال ہے، جہاں سینکڑوں مہمان شریک ہوئے،مہنگی سجاوٹ، بین الاقوامی مہمان اور شاندار کھانے کا اہتمام کیا گیا،تقریب کے لیے تقریباً 150 افراد پر مشتمل ٹیم نے کام کیا،ویڈنگ پلانر وکرم جیت شرما کے مطابق "بعض کلائنٹس شادی پر 5 لاکھ سے 30 لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے ہیں۔”کاویری مہتا کا کہنا ہے کہ وہ سادہ شادی چاہتی تھیں، مگر سماجی روایات کے باعث مہمانوں کی فہرست کم کرنا ممکن نہیں تھا۔”لوگوں کو بلانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنی شادی میں بلایا ہوتا ہے۔”یہی وہ سماجی دباؤ ہے جو خاندانوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔بھارت کے شمالی علاقوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شادی ایک بڑا مالی بحران بن چکی ہے۔ 19 سالہ انامیکا اپادھیائے کی مثال سامنے آتی ہے، جو ایک اجتماعی شادی میں شریک ہوئیں کیونکہ ان کی والدہ اکیلے شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

    اگرچہ بھارت میں جہیز لینا دینا غیر قانونی ہے، مگر اس کے باوجود یہ روایت مضبوطی سے قائم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 6,000 سے زائد خواتین جہیز سے متعلق تنازعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ماہر قانون کنال مدن کہتے ہیں "یہ مطالبات معمولی نہیں ہوتے، بلکہ بھاری رقم، جائیداد اور سونا مانگا جاتا ہے، جو اکثر خواتین فراہم نہیں کر سکتیں۔”31 سالہ پریانکا ڈابلا کے مطابق، ان کے والد نے شادی پر 32,000 ڈالر خرچ کیے، مگر اس کے باوجود سسرال کی جانب سے مزید مطالبات جاری رہے۔ انہوں نے گھریلو تشدد کا بھی الزام عائد کیا۔

    ممبئی میں، نویِنا کی شادی میں 500 سے زائد مہمان شریک ہوئے۔ تقریب شاندار رہی، مگر اس کے بعد کا مالی بوجھ انہیں پریشان کر رہا ہے۔وہ کہتی ہیں "شادی ویسی ہی تھی جیسی میں نے خواب میں دیکھی تھی، مگر قرض ختم ہونے تک میں پریشان رہوں گی۔”

    بھارت میں شادی ایک خوشی کا موقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مالی چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔ سماجی دباؤ، مہنگی روایات اور جہیز جیسی غیر قانونی رسمیں لاکھوں خاندانوں کو قرض کے بوجھ تلے دبا رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس رجحان کو کنٹرول نہ کیا گیا تو شادی جیسی خوشی کی تقریب مزید خاندانوں کے لیے مالی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے