Baaghi TV

Blog

  • سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم

    سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس منگل کے روز سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعدد استحقاقی تحریکوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا، جبکہ خاص طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کیبن کریو سے متعلق مبینہ بدسلوکی کو زیر غور لایا گیا۔

    اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، سینیٹر عطا الرحمٰن ،سینیٹر جان محمد اور سینیٹر دوست علی جیسر نے شرکت کی۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کے کیبن کریو کے رویے کی تحقیقات وزارت دفاع کے ذریعے کسی تیسرے فریق سے کروائے۔ یہ ہدایت سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل کی جانب سے 12 فروری 2026 کو پیش کی گئی تحریکِ استحقاق کی بنیاد پر دی گئی، جس میں 7 فروری کو کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-326 میں کیبن کریو کی رکن مس صائمہ رانا کی مبینہ بدسلوکی کو رپورٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 17 فروری 2026 کو جاری کی گئی سفارشات میں کیبن کریو کی رکن اور متعلقہ پائلٹ دونوں کو گراؤنڈ کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پی آئی اے نے ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ سینیٹر مندوخیل نے اس عدم تعمیل مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہدایات کے باوجود عملے کو ڈیوٹی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے غیر جانبدار دو فریقی انکوائری کے بجائے صرف اپنی ادارہ جاتی تحقیقات پر انحصار کیا اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی رکن کو غلطی کی صورت میں معافی مانگنے کے کئی مواقع دیے گئے، مگر عملے اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کی جانب سے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششوں کے باوجود کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔

    سینیٹر مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے سفر کے لیے بھاری کرایہ ادا کیا، مگر انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر جہاز کا دروازہ بند کیا گیا، مسافروں کو اترنے سے روکا گیا اور اے ایس ایف اہلکاروں کو طلب کیا گیا، جبکہ کوئی جرم یا غیر قانونی عمل سرزد نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سینیٹر کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام مسافر سے ایسے معاملے میں مزید تشویشناک سلوک ہوسکتا ہے، اور ایسے حالات میں کسی عام شہری کو حراست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔

    سینیٹر بلال نے کیبن کریو کی رکن اور پائلٹ دونوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی، تاہم کمیٹی کی اجتماعی رائے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ وزارت دفاع کے ذریعے تھرڈ پارٹی انکوائری کرائی جائے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک عملہ کے دونوں ارکان کو گراؤنڈ رکھا جائے۔

    سینیٹ کمیٹی نے متعدد استحقاقی معاملات پر غور کیا، جوابدہی کا مطالبہ
    ایک اور معاملے میں سینیٹر عطا الرحمٰن نے سینیٹ سیکریٹریٹ کے سیکیورٹی عملے کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بارش کے دوران خراب موسم سے بچنے کی کوشش کے دوران انہیں گیٹ نمبر 5 سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے چیئرمین سینیٹ کی ہدایات کا حوالہ دیا، جبکہ اسی دوران ایک اور سینیٹر کی گاڑی کو بغیر رکاوٹ گزرنے دیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔

    کمیٹی نے چیئرمین وقار مہدی کی جانب سے اٹھائی گئی ایک اور استحقاقی تحریک پر بھی غور کیا، جو کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کے سیکریٹری بیرسٹر نبیل احمد اعوان کے مبینہ رویے سے متعلق تھی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ جواب اور معذرت نامہ جمع کرا دیا گیا ہے۔

    تحریری جواب میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹر وقار مہدی کی کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب نہ دینے کی شکایت کو تسلیم کیا۔ جواب میں کہا گیا کہ بیرسٹر نبیل اے اعوان پارلیمنٹیرینز کا انتہائی احترام کرتے ہیں اور سینیٹ کے آئینی مقام کو تسلیم کرتے ہیں۔

    جواب میں اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں کسی قسم کی دانستہ غفلت شامل نہیں تھی۔ بیرسٹر اعوان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوتاہی غیر ارادی تھی اور اس دوران وہ محکمانہ ترقیاتی کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کے اجلاسوں سمیت دیگر اہم سرکاری مصروفیات میں مصروف تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران پہلی بار تقریباً 500 افسران کی ترقی کے کیسز نمٹائے گئے، جس کی وجہ سے وہ معزز سینیٹر سے رابطہ نہیں کرسکے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر اعوان نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ارکان پارلیمنٹ سے بروقت رابطے کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دوبارہ معذرت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کمیٹی اس معاملے پر درگزر کرے گی۔

    کمیٹی کا وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ، وزیر مواصلات کی عدم جواب دہی پر تشویش
    ایک علیحدہ معاملے میں، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف بدسلوکی کے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
    کمیٹی نے اس صورتحال کو افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھا جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ ایسے معاملات میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔

    کمیٹی نے اسلام آباد میں واقع مکان نمبر 622 سے متعلق گمشدہ فائل کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ یہ کیس اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔عدالتی کارروائی کے پیش نظر چیئرمین وقار مہدی نے اس معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، اور متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ اور رپورٹ بھی فراہم کی جائے۔

  • خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن

    خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ صدرِ مملکت کی مشاورت کے بعد غریب کسانوں کے لیے بڑا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں، اور یہ عمل بینظیر ہاری کارڈ کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیزی سے جاری ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اسی طرح موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ بائیک پر 2000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں 67 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ٹرانسفر فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ عوامی سہولت کے لیے ایکسائز دفاتر کو ہفتے کے ساتوں دن صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا رکھا گیا ہے۔سندھ واحد صوبہ ہے جو سرکاری ٹرانسپورٹ ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی فراہم کر رہا ہے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ایکسائز ایپ کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں پریس کانفرنس کے دوران ہی 1500 رجسٹریشنز ہوئیں، جبکہ ایک ہی دن میں 15,000 سے زائد افراد نے اندراج کروایا، اور ہزاروں شہریوں کو ادائیگیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔مزید برآں، منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں 500 کلو سے زائد آئس (مالیت تقریباً 5 ارب روپے) ضبط کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات جاری ہیں۔یہ تمام اقدامات عوامی ریلیف، سہولت اور ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال سندھ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • تارکین وطن کی  ایک اورکشتی ڈوب گئی، 6 پاکستانی لاپتہ

    تارکین وطن کی ایک اورکشتی ڈوب گئی، 6 پاکستانی لاپتہ

    لیبیا سے اٹلی جانے کی کوشش میں تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی تحصیل پھالیہ سے تعلق رکھنے والے 6 نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ کشتی 4 اپریل کو لیبیا سے روانہ ہوئی تھی جس میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے لاپتہ ہونے والے 6 نوجوانوں میں سے چار کا تعلق ایک ہی گاؤں ٹھٹہ کدھیوالہ سے ہے جن میں طیب عباس گھمن، عرفان ورک، تنویر صادق اور فیضان ساجد شامل ہیں ان کے علاوہ پنڈی لالہ کے رہا ئشی اقبال ارشد اور سعد ظفر بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    ان نوجوانوں کے والدین اور اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کی تلاش اور واپسی کے لیے فوری طور پر سفارتی سطح پر اقدامات کیے جائیں اس حادثے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 افراد اپنی جانیں بچا کر اٹلی کے پناہ گزین کیمپ پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں جن میں زیادہ تر افغان باشندے بتائے جاتے ہیں۔

    ان بچ جانے والوں میں پھالیہ کا ایک نوجوان عمران اصغر گھمن بھی شامل ہے جس نے پہلے پاکستان سے قطر کا ویزا لگوایا اور پھر وہاں سے غیر قانونی راستے کے ذریعے اٹلی کے لیے روانہ ہوا ،تاہم 75 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے واقعے کے پیچھے مبینہ طور پر ایک انسانی اسمگلر ملوث ہے جس کا نام عمران بتایا جا رہا ہے اور وہ خود بھی پھالیہ کے گاؤں کدھیوالہ کا ہی رہائشی ہےمتاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ لاپتہ نوجوانوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔

  • سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ

    سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ

    سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ ہوا جہاں بڑے پیمانے پر آگ لگی – آخر ایران چاہتا کیا ہے ؟

    ایران کی جانب سے سعودی عرب پر یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امن مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاکستان امریکہ سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل اور انتہائی سطح کے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے،ایسے ماحول میں سعودی عرب کو نشانہ بنانا امن عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،قابل غور بات یہ ہے کہ نشانہ فوجی نہیں بلکہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس بنایا گیا، جو معاشی انفراسٹرکچر ہے،یہ اقدام نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے

    سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کچھ عناصر دانستہ طور پر امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ، ایسے اقدامات خود ایران کے مفادات کے بھی خلاف جا سکتے ہیں،بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر کسی بھی جارحیت سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ جاری سفارتی کوششیں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں

  • مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے حالات اور خطے پر تباہ کن جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، پاکستان خطے میں امن کیلئے ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر نظر آرہا ہے۔

    پاکستان کا اب تک کا کردار کسی شاندار سفارت کاری سے کم نہیں، اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمی برف پگھلانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، جن کا اعتراف امریکا اور ایران سمیت پوری دنیا نے کیا۔پاکستان اپنی بے مثال کوششوں سے دونوں ممالک کو اسلام آباد اکارڈ تک لے آیا اور امن کیلئے قابل عمل نکات امریکا اور ایران کے سامنے رکھ دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اکیلا پاکستان یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے؟، چین کی مکمل حمایت، ترکیہ اور مصر کی ہم قدم کوششیں اپنی جگہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی، پاکستان کی یہ کوششیں تبھی بار آور ثابت ہوں گی جب دو بڑے اسٹیک ہولڈرز امریکا اور ایران اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔

    امن کیلئے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، حملوں کا سلسلہ روکنا ہوگا اور ان قوتوں کے ہاتھ روکنے ہوں گے جو اس جنگ کو طول دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    آج کا دن اور آنے والی رات بہت اہم مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی کوششیں حساس مرحلے میں داخل ہوگئیں۔امریکا ایران جنگ رکوانے کیلئے ممکنہ اسلام آباد اکارڈ کو حتمی شکل دینے کی تگ و دو جاری ہے، حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بڑا بیان بھی سامنے آگیا، کہتے ہیں پاکستان نیک نیتی اور خیرسگالی کے تحت جدوجہد کررہا ہے، مزید تفصیلات کا انتظار کیا جائے۔

    پاکستان کی جانب سے اسلام آباد اکارڈ کے نام سے دو مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطہ ہوا، سپہ سالار کی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی۔پلان کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اس کے بعد ایک جامع معاہدہ ہوگا، پاکستان مذاکرات میں واحد رابطہ چینل ہے، مفاہمت کی صورت میں پاکستان کے ذریعے ہی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔آبنائے ہرمز کی بحالی کی بھی تجویز، معاہدے میں ایران کی جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا امکان ہے، بدلے میں پابندیاں نرم اور منجمد اثاثے بحال ہوسکتے ہیں۔

  • پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے،رانا ثنااللہ کی نواز شریف کہ تجویز

    پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے،رانا ثنااللہ کی نواز شریف کہ تجویز

    ن لیگ کے صوبائی صدر اور مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے پارٹی قائد نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے-

    نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف پارٹی کے مختلف عہدوں پر بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں، اس حوالے سے جلد ہی پارٹی کا مرکزی اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آپ مرکزی پارٹی کو دیکھیں، احسن اقبال اپنی وزرات کے اندر مصروف ہیں اور بہت سے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مجھے آفر کروائی گئی کہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل بن جائیں لیکن میں اس عہدے کے لیے تیار نہیں ہوں –

    ایران کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کےشدید فضائی حملے

    ان کے مطابق میں نے پارٹی صدر میاں نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے، پارٹی صدر بھی پنجاب سے ہو اور مرکزی سیکریٹری جنرل بھی پنجاب سے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس عہدے پر تبدیلی لائے جائے،اگر پارٹی نے مجھے مرکزی جنرل سیکریٹری بنایا تو میں قائم مقام سیکرٹری جنرل بنوں گا کیونکہ میں وفاق میں بہت مصروف ہوں ،پارٹی کا اگر مرکزی سیکریٹری جنرل مجھے بنایا گیا تو میرے لیے پنجاب میں بیٹھنا بہت ضروری ہوگا-

    رانا ثنا اللہ بتایا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ پنجاب کے حد تک نئی تنظیم سازی کی جائے، پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، جنوبی پنجاب، وسطحی پنجاب کا الگ سے پارٹی صدر ہو اور سنٹرل پنجاب میں الگ سے تاکہ منظم طریقے سے پارٹی کو چلایا جا سکے ڈویژن اور ضلعی صدور کو تبدیل کیا جائے اور تمام عہدوں کی مدت 5 سال کی جائے تاکے جس سطح پر عہدے دیے جائیں وہاں پر کام ہو سکے ، حمزہ شہباز شریف پنجاب کے صدر کے لیے بہترین چوائس ہیں اگر وہ مان جائیں تو یہ پارٹی کے لیے بہت اچھا ہوگا، پارٹی کے لوگوں کے جو مسائل ہیں وہ با آسانی حل ہو سکیں گے۔

    تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر

  • چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا لی

    چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا لی

    چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا کر ریکارڈ قائم کردیا-

    چینی میڈیا کے مطابق چین کی شینجیانگ نمبر 1 ٹنل بورنگ مشین نے دنیا کا ریکارڈ قائم کیا ہے، جس نے 113 میٹر گہرائی پر زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل تعمیر کیا یہ ٹنل جنوبی چین کے پرل ریور ایسچوری میں واقع ہے اور طویل شینزین جیانگمن ریلویز کے ایک اہم منصوبے کا حصہ ہے مکمل ہونے پر یہ ٹنل گوا نگ ڈونگ، ہانگ کانگ، میکاؤ گریٹر بے ایریا میں ریل نیٹ ورک کو مزید بہتر بنائے گا۔

    ٹنل بورنگ مشین کے اگلے حصے میں ایک بڑا کٹر ہیڈ موجود ہے جو مستقل گردش کرتے ہوئے چٹان اور مٹی کو توڑتا ہے کٹر ہیڈ کے پیچھے مشین کا اسمبلی سیکشن ہوتا ہے، جہاں مزدور قریباً 2 میٹر چوڑائی کے ٹنل لائننگ کے سیکشن نصب کرتے ہیں، اس طرح کھدائی اور لائننگ بیک وقت کی جاتی ہے تاکہ کام کی رفتار بڑھائی جا سکے،حال ہی میں شینجیانگ نمبر 1 نے 4 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کیا، اور 113 میٹر گہرائی تک پہنچا۔ ٹنل کا سب سے گہرا حصہ 116 میٹر زیرِ آب ہے، جہاں پانی کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔

  • نیدرلینڈز میں گزشتہ سال میوزیم سے چوری ہونے والا ڈھائی ہزار سالہ قدیم سونے کا ہیلمٹ برآمد

    نیدرلینڈز میں گزشتہ سال میوزیم سے چوری ہونے والا ڈھائی ہزار سالہ قدیم سونے کا ہیلمٹ برآمد

    نیدرلینڈز میں گزشتہ سال میوزیم سے چوری ہونے والا 2 ہزار 500 سال قدیم سونے کا نایاب ہیلمٹ برآمد کر لیا گیا ہے۔

    ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق حکام نے مشرقی ڈچ شہر اسن میں پریس کانفرنس کے دوران رومانیا کے تاریخی ورثے سے تعلق رکھنے والا ‘کوٹوفینیستی’ ہیلمٹ میڈیا کے سامنے پیش کیا یہ ہیلمٹ قدیم ڈیشیا تہذیب سے منسوب ایک قیمتی قومی خزانہ تصور کیا جاتا ہے،استغاثہ کی نمائندہ کورین فاہنر نے بتایا کہ ہم اس کامیابی پر بے حد خوش ہیں، یہ ایک مشکل اور طویل مرحلہ تھا، خاص طور پر رومانیا کے لیے-

    یہ ہیلمٹ جنوری 2025 میں ڈرینٹس میوزیم میں نمائش کے دوران چوری کیا گیا تھا، جہاں نامعلوم چور اسے 3 سونے کے کنگنوں سمیت لے گئے تھےحکام کو خدشہ تھا کہ اپنی منفرد ساخت اور شہرت کے باعث اسے فروخت کرنا مشکل ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر پگھلا دیا جائے گا۔

    پولیس نے واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں دو کنگن بھی برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ تیسرے کنگن کی تلاش جاری ہے ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت اپریل کے آخر میں شروع ہوگی۔

    میوزیم کے ڈائریکٹر رابرٹ وان لانگھ کے مطابق ہیلمٹ کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور اس پر ہلکی سی ڈینٹ آئی ہے، تاہم اسے مستقل نقصان نہیں پہنچا، جبکہ کنگن بالکل محفوظ حالت میں ہیں،تحقیقات کے مطابق چوروں نے میوزیم میں داخل ہونے کے لیے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور ہتھوڑے کا استعمال کیا، جبکہ سیکیورٹی فوٹیج میں 3 افراد کو دروازہ توڑتے اور دھماکا کرتے دیکھا گیا تھا-

  • ایئر انڈیا کے سی ای او مستعفیٰ

    ایئر انڈیا کے سی ای او مستعفیٰ

    ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمپبل ولسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ ایئرلائن مسلسل مالی خسارے اور ریگولیٹری تحقیقات کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرلائن گزشتہ سال ہونے والے ایک مہلک حادثے کے بعد سخت نگرانی میں ہے، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے،ادھر حریف ایئرلائن انڈیگو نے حال ہی میں ہوا بازی کے ماہر Willie Walsh کو اپنا نیا سی ای او مقرر کیا ہے، جس سے مسابقتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، ولسن 6 ماہ کے نوٹس پیریڈ پر ہیں اور نئے سی ای او کی تقرری تک کمپنی کے ساتھ رہیں گے۔

    واضح رہے کہ کیمپبل ولسن کو 2022 میں Tata Group کی جانب سے ایئر انڈیا کی بہتری کے لیے تعینات کیا گیا تھا، جب کمپنی کو سرکاری ملکیت سے نکال کر نجی شعبے میں لایا گیا ایئرلائن کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، جن میں طیاروں کی تاخیر سے فراہمی، حفاظتی قواعد کی خلاف ورزیاں، اور آپریشنل کمزوریاں شامل ہیں ریگولیٹرز نے ایئرلائن کو ایسے معاملات پر بھی سرزنش کی، جیسے بغیر مکمل حفاظتی جانچ کے پروازیں چلانا۔

    اگرچہ ولسن نے اپنے دور میں کچھ اصلاحات متعارف کروائیں، جیسے طیاروں کی مرمت اور سروس میں بہتری، مگر کمپنی مسلسل خسارے میں رہی مالی سال 2024-2025 میں ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی سروس نے مجموعی طور پر قریباً 98 ارب روپے کا نقصان رپورٹ کیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر انڈیا کی مکمل بحالی کے لیے موزوں قیادت تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی اور علاقائی حالات ایوی ایشن انڈسٹری پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

  • تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ  ملبے کا ڈھیر

    تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر

    ایرانی دارالحکومت تہران کی فضا میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق تہران میں کم از کم 3 زوردار دھماکے سنے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے صوبے لورستان میں خرم آباد ایئر پورٹ کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں

    ایران میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں یہودی عبادتگاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، یہودی عبادت گاہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر بن گئی۔رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیاء میں یہودیوں کی دوسری بڑی آبادی ایران میں مقیم ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں، کویت میں امریکی ایئربیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، امریکی میڈیا کے مطابق حملے میں 15 فوجی زخمی ہوگئے۔ پینٹاگون کے مطابق جنگ میں زخمی ہونیوالے فوجیوں کی تعداد 373 ہوگئی۔ایران نے اسرائیل کے شہر حیفا میں طیاروں کو ایندھن فراہم کرنیوالی ریفائنری ملیا میٹ کردی۔ سعودی عرب نے 7 بلیسٹک میزائل تباہ کردیے، میزائل کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی۔کویت، یواے ای اور بحرین میں بھی تیل کی تنصیبات پر میزائل برساددیے گئے، کویت میں امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے کیے گئے۔ایران نے قطر کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا۔