Baaghi TV

Blog

  • خدا ئی کا دعوٰی کرنے والا بھارتی جنسی درندہ گرفتار

    خدا ئی کا دعوٰی کرنے والا بھارتی جنسی درندہ گرفتار

    بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں خدا ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک 40 سالہ شخص کو خاتون سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ خاتون نے کافی عرصے بعد ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس میں جعلی بابا کے خلاف شکایت درج کروائی،خاتون نےجعلی گرو پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ملزم نے روحانی اثر و رسوخ اور مذہب کا استعمال کرتے ہوئے اس کا جنسی استحصال کیا، جعلی بابا نے خود کے خدا ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا،بھارتی میڈیا کے مطابق یہ شکایت اس وقت سامنے آئی جب ناسک میں خود ساختہ مذہبی شخصیت اشوک کھرات کی گرفتاری کی خبر منظرِ عام پر آئی جس کے بعد متاثرہ خاتون کو قانونی کارروائی کے لیے حوصلہ ملا،پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملزم کو حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ کیس سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

  • نورولی محسود کو کابل کے حساس علاقے میں پناہ دیئے جانے کا انکشاف

    نورولی محسود کو کابل کے حساس علاقے میں پناہ دیئے جانے کا انکشاف

    قابلِ اعتماد سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کو افغان طالبان کی جانب سے کابل کے حساس علاقے گرین زون (ڈپلومیٹک انکلیو) میں ایک کثیر المنزلہ عمارت میں پناہ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت میں دیگر افراد بھی موجود ہیں جنہیں مبینہ طور پر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ نور ولی محسود کو کسی بھی ممکنہ کارروائی سے محفوظ رکھا جا سکے۔سکیورٹی حکام کے مطابق کابل کا گرین زون انتہائی محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سفارتی مشنز اور اہم سرکاری تنصیبات واقع ہیں، پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان ایک طرف مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کر رہا ہے تو دوسری جانب دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے اپنے اہداف پر مکمل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

    افغان طالبان حکومت کی جانب سے نور ولی محسود کو پاکستان کے حوالے کرنے کے بجائے اسے سفارتی ڈھال فراہم کرنا ایک خطرناک پیش رفت ہے، جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات خطے میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

  • مشرق وسطیٰ جنگ،پاکستان دنیا کے لئے تجارتی حب بن چکا

    مشرق وسطیٰ جنگ،پاکستان دنیا کے لئے تجارتی حب بن چکا

    مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث نیٹ سکیورٹی اسٹیبلائزرکے ساتھ ساتھ پاکستان دنیا بھرکے لیے اب تجارتی حب بن چکا ہے۔

    کاروباری جریدے کے مطابق کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ سمیت پاکستانی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، کراچی پورٹ پر سال 2025u میں تقریباً 8,300 کنٹینرز جبکہ صرف گزشتہ 24 دنوں میں 8,313 کنٹینرز کے برابر مال پہنچا،عرب نیوز کے مطابق؛خلیجِ عرب میں شپنگ رکاوٹوں کے باعث روٹس کی تبدیلی سے پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا،پاکستان نے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قواعد میں ترمیم کر کے سمندری اور فضائی بندرگاہوں میں کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی، ٹریڈ کرونیکلس کے مطابق جنوبی ایشیا پاکستان ٹرمینل نے 5,286، ہچیسن پورٹ نے 1,827 اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل نے 1,200 کنٹینرز کی ترسیل و کارروائی مکمل کی

    عالمی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ جنگ نے پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ کا مستقل مرکز بننے کا سنہری موقع دیا،قریبی متبادل کی تلاش میں دنیا کا پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ کیلئے بہترین مقام سمجھنا اہم کامیابی ہے، پاکستان میں مضبوط سیاسی و اقتصادی استحکام اور قیادت کی حکمت عملی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے ، سی پیک کے وسیع مواقع اور جدید انفراسٹرکچر پاکستان کو خطے میں تجارتی و لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کر رہے ہیں ،پاکستان محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مقام بن گیا ہے

  • امریکا کا 250 ویں سالگرہ پر ٹرمپ کی تصویر والے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ

    امریکا کا 250 ویں سالگرہ پر ٹرمپ کی تصویر والے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ

    امریکا نے اپنی 250 ویں سالگرہ پر نئے کرنسی نوٹ چھاپنے کا منصوبہ بنا لیا۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے دستخط والے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے،امریکی محکمۂ خزانہ نے پہلی بار موجودہ صدر کے دستخط والے نوٹوں کے اجراء پر کام شروع کر دیا ہے،امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایک غیر معمولی روایت قائم کرے گا، کیونکہ ماضی میں امریکی کرنسی پر صرف وزیرِ خزانہ اور خزانچی کے دستخط شامل کیے جاتے رہے ہیں، نہ کہ کسی برسرِ اقتدار صدر کے،علاوہ ازیں رواں ماہ کے اوائل میں ایک وفاقی آرٹس کمیشن نے ٹرمپ کی تصویر والے 24 قیراط سونے کے یادگاری سکے کے حتمی ڈیزائن کی منظوری بھی دی، یہ سکہ بھی 4 جولائی کو امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر جاری کیا جائے گا۔

  • اقوام متحدہ میں ایرانی اسکول پر  فضائی حملے پر اہم بحث متوقع

    اقوام متحدہ میں ایرانی اسکول پر فضائی حملے پر اہم بحث متوقع

    نیویارک: اقوام متحدہ میں آج ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک فضائی حملے کے معاملے پر اہم پیش رفت متوقع ہے، جہاں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس روس کی درخواست پر بلایا گیا ہے جس میں شہری تنصیبات پر مبینہ امریکی،اسرائیلی حملوں پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا، جس کی صدارت اس وقت امریکا کے پاس ہے۔ اجلاس میں ایران میں حالیہ کشیدگی اور شہری ہلاکتوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھی آج ایک اہم اجلاس میں ایران کے جنوبی شہر میناب میں واقع "شجرہ طیبہ” پرائمری اسکول پر ہونے والے فضائی حملے پر بحث کرے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں 168 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔یہ حملہ 28 فروری کو ایران میں جاری تنازع کے پہلے ہی دن پیش آیا تھا۔ ابتدائی امریکی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ حملے کی ذمہ داری ممکنہ طور پر امریکا پر عائد ہوتی ہے۔تحقیقات سے جڑے ماہرین کے مطابق اسکول پر جو ہتھیار استعمال کیا گیا وہ امریکی ساختہ "ٹوم ہاک کروز میزائل” تھا، جو صرف امریکی افواج استعمال کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ میزائل ہدف سے نہیں بھٹکا بلکہ پرانی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جسے ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا اڈہ سمجھا جاتا تھا۔

    امریکی ذرائع اور رپورٹ سے واقف افراد کے مطابق مذکورہ عمارت 2017 تک ایک فوجی کمپاؤنڈ کا حصہ تھی، تاہم بعد ازاں اسے اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عمارت کو واضح طور پر اسکول کے طور پر شناخت کیا جا سکتا تھا، جبکہ اس کے اردگرد رنگ برنگی دیواریں اور بچوں سے متعلق نقش و نگار بھی موجود تھے۔مزید برآں، یہ اسکول آن لائن نقشوں میں واضح طور پر درج تھا اور اس کی اپنی ویب سائٹ بھی موجود تھی، جس میں طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کی مکمل تفصیلات دستیاب تھیں۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کا  پنجاب میں 28 مارچ کو "ارتھ آور” منانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب میں 28 مارچ کو "ارتھ آور” منانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں 28 مارچ کو "ارتھ آور” منانے کا اعلان کر دیا

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبہ بھر کی عوام سے ارتھ آور منانے کی اپیل کی۔28 مارچ کو پنجاب بھر میں رات ساڑھے آٹھ سے ساڑھے نو تک روشنیاں بند کی جائیں گی۔ارتھ آور منانے کی مہم میں اشتراک کے لیے سیکرٹری ماحولیات کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔سینیئر وزیر مریم اورنگزیب صوبہ بھر میں ارتھ آور مہم کی نگرانی کریں گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ نئی نسل کو محفوظ اور صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ارتھ آور مہم کا مقصد توانائی کے محفوظ استعمال کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔مریم نواز شریف نے WWF کی ماحولیات کے لیے کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا۔عوام اور نوجوانوں سے توانائی کی بچت کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔

  • نفرت، جھوٹ اور سنسنی : بھارت کا گودی میڈیا عالمی سطح پر بے نقاب

    نفرت، جھوٹ اور سنسنی : بھارت کا گودی میڈیا عالمی سطح پر بے نقاب

    نفرت، جھوٹ اور سنسنی ، بھارت کا گودی میڈیا عالمی سطح پر بے نقاب ہو گیا

    بھارتی میڈیا سنسنی خیزی اور شور شرابے کے ذریعے گمراہ کن دعوؤں اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے،امریکی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے بھارتی میڈیا کو عالمی سطح پر بے نقاب کر تے ہوئے واضح کیا کہ بھارتی میڈیا بی جے پی کے زیراثر غیر جانبداری کا لبادہ اتار چکا ہے جبکہ حقائق دکھانے سے بھی گریزاں ہے،بی جے پی کی مسلمان دشمنی پرمبنی اصلاحات، نفرت آمیزمیڈیا پر بار بار دہرائی جاتی ہیں،رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق بھارت میں صحافتی آزادی نچلی ترین سطح پر برقرارہے،مسلمانوں کیخلاف جرائم کی رپورٹنگ پرصحافیوں کو مقدمات، حراست اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،

    ماہرین کےمطابق گودی میڈیا نےلوگوں کی عقل سلب کر لی،بھارتی میڈیا کے متاثرین اب مودی کے ہر جھوٹ کو سچ مان کر فخر محسوس کرتے ہیں،بھارتی میڈیا کی سنسنی خیزی،شرانگیزی اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈے کے باعث معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے،ریاستی سرپرستی میں گمراہ کن پراپیگنڈا اور ہندوتوا نظریے کی ترویج کرنے والا گودی میڈیادنیا بھر میں بے نقاب ہو چکا ہے

  • بہترین اور مؤثر سفارتکاری ، پاکستان عالمی امن کا ضامن،امریکی نمائندہ خصوصی کی تصدیق

    بہترین اور مؤثر سفارتکاری ، پاکستان عالمی امن کا ضامن،امریکی نمائندہ خصوصی کی تصدیق

    بہترین اور مؤثر سفارتکاری ، پاکستان عالمی امن کا ضامن بن کر ابھر رہا ہے

    پاکستان نے دنیا میں امن اور استحکام کیلئے کامیاب سیاسی اور ملٹری ڈپلومیسی کا لوہا منوایا ،امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بطور ثالث پاکستان کے اہم کردار پر مہر ثبت کر دی ،امریکی کابینہ میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اعتراف کرتے ہوئے اسٹیووٹکوف نے کہا کہ؛ امن معاہدے کے فریم ورک کیلئے 15نکالتی ایکشن لسٹ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی ہے،پاکستان ایران اور امریکا میں بطور ایک ثالث کے اہم کردار ادا کر رہاہے ،پاکستان کے ذریعے ایران کیساتھ مضبوط اور مثبت پیغامات اور مذاکرات سامنے آئے ہیں

    عالمی ماہرین کے مطابق ؛پاکستان اپنی مدبرانہ پالیسیوں اور بہترین حکمت عملی کے باعث پوری دنیا کو متاثر کرنے والی جنگ کو رکوا رہاہے ،امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار پاکستان کی اہمیت اور عالمی سطح پر بھر پور اعتماد کا عکاس ہے ، پاکستان متوازن تعلقات اور کامیاب سیاسی و ملٹری ڈپلومیسی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کر رہاہے ،

  • افغانستان میں انسانی حقوق کی  پامالی انتہا کو پہنچ گئی، طالبان رجیم کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی انتہا کو پہنچ گئی، طالبان رجیم کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں نے افغانستان کو شدید معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے

    انسانی حقوق کی افغان تنظیم رواداری نےطالبان رجیم میں بڑھتےمظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاپردہ چاک کردیا ،انسانی حقوق کی تنظیم رواداری کی تازہ رپورٹ کے مطابق؛گذشتہ سال شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی، خواتین اور اقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ،گذشتہ سال میں ہی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے واقعات میں 40.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 611 افراد اس کا نشانہ بنے،سال2025 میں آمرانہ پابندیوں اور جبری قوانین میں اضافے سے خواتین کے حقوق پامال کئے گئے،طالبان کی عدالتوں نے کوڑوں سمیت مختلف جسمانی اور تذلیل آمیز سزائیں نافذ کیں جو عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، نسلی گروہ اور مذہبی اقلیتیں روزگار، معاشی مواقع، عوامی وسائل اور خدمات تک رسائی سے محروم ہیں،انسانی حقوق کے آزاد اداروں اور آزاد عدلیہ کی عدم موجودگی سے انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ اور انصاف کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں،

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان کو ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں قانون کی جگہ بندوق اور رواداری کی جگہ وحشت نے لے لی ہے،افغان طالبان رجیم کا موجودہ طرزِ حکمرانی بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر اور بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہے

  • جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے حس دنیا اور سسکتی انسانیت
    جنگ کے سائے میں خاموش عالمی طاقتیں
    انصاف کی تلاش میں بے بس انسان

    دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی، طاقت اور ٹیکنالوجی کے تمام دعوے انسانی جان کے سامنے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں نہ صرف جغرافیہ کو بدل رہی ہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی شدید زخمی کر رہی ہیں۔ معصوم شہری، بچے، عورتیں اور بزرگ اس کشمکش کا ایندھن بن چکے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اب بھی تذبذب، مفادات اور خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں اخلاقیات کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ وہ ممالک جو امن کے داعی اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، عملی طور پر یا تو خاموش تماشائی ہیں یا پھر اس کشمکش کو اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس رویے نے عالمی سطح پر انصاف کے تصور کو کمزور کر دیا ہے اور عام انسان کے دل میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے، جو عالمی امن کے ضامن سمجھے جاتے تھے، آج اپنی افادیت پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر زمین پر حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی نظام کو ازسرِ نو دیکھنے اور مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    دنیا بھر کا عام آدمی اس صورتحال سے شدید ذہنی دباؤ اور بے بسی کا شکار ہے۔ میڈیا کے ذریعے جب وہ روزانہ تباہی کے مناظر دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر اس ناانصافی کا ازالہ کون کرے گا؟ کس کے دروازے پر جا کر فریاد کی جائے؟ اور کون ہے جو اس آگ کو بجھانے کی حقیقی کوشش کرے گا؟

    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ یہ صرف نفرت کو بڑھاتی ہے، معاشروں کو تقسیم کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت ذاتی اور قومی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی انسانی بھلائی کو ترجیح دے۔

    آخرکار، جب زمینی قوتیں ناکام نظر آئیں تو انسان کی امید ایک اعلیٰ طاقت کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ یقین کہ خدا دلوں میں رحم پیدا کر سکتا ہے اور حالات کو بدل سکتا ہے، آج بھی انسان کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کو خود بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

    اگر دنیا نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ اسے ایک بے حس اور ناکام دور کے طور پر یاد رکھے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جنگ کے بجائے امن کو، نفرت کے بجائے انسانیت کو، اور طاقت کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے۔