Baaghi TV

Blog

  • 
تربت میں ٹھیکیدار کی گاڑی پر بم حملہ، 3 افراد جاں بحق

    
تربت میں ٹھیکیدار کی گاڑی پر بم حملہ، 3 افراد جاں بحق

    ‎بلوچستان کے شہر تربت میں ایک تعمیراتی کمپنی کے ٹھیکیدار کی گاڑی کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس ذرائع کے مطابق حملہ تربت مند روڈ پر مینو کلاتک کراس کے قریب گزشتہ شام پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے ٹھیکیدار کی گاڑی کو دھماکے سے نشانہ بنایا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار افراد متاثر ہوئے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق حملے میں تین افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک زخمی شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت اور حملے کے محرکات سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ بم ڈسپوزل اور فرانزک ٹیموں نے بھی موقع کا معائنہ کیا تاکہ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
    ‎بلوچستان کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی تعمیراتی منصوبوں، سرکاری تنصیبات اور ترقیاتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا گیا ہے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخاب: پہلا مکمل نتیجہ، اسکردو میں پیپلز پارٹی کامیاب

    
گلگت بلتستان انتخاب: پہلا مکمل نتیجہ، اسکردو میں پیپلز پارٹی کامیاب

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کا پہلا مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ سامنے آ گیا ہے، جس کے مطابق حلقہ جی بی 7 اسکردو ون میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار توقیر مہدی شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
    ‎تمام 31 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق توقیر مہدی شاہ نے مجموعی طور پر 4337 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان کو شکست دی۔ راجہ جلال 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے انتخابات میں پہلی مکمل نشست اپنے نام کر لی ہے۔
    ‎دوسری جانب صوبے بھر سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مجموعی طور پر سب سے آگے دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار مختلف حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 امیدوار آگے ہیں۔
    ‎استحکام پاکستان پارٹی بھی کئی حلقوں میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے 3 امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5 حلقوں میں آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت سازی کے مرحلے میں آزاد امیدوار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے 24 انتخابی حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی اور بغیر کسی تعطل کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
    ‎انتخابات میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 396 امیدوار میدان میں تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بھی غیر متوقع نتائج دے رہے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں، جبکہ 6 نشستیں خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

  • 
چیف الیکشن کمشنر کی تمام حلقوں میں فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت

    
چیف الیکشن کمشنر کی تمام حلقوں میں فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت

    ‎گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے اسمبلی انتخابات کے بعد تمام 24 حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو مصدقہ فارم 45 فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ فیصلہ انتخابی نتائج کے عمل میں شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ فارم 45 کے اجرا کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کی متعلقہ دفعات کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی کہ انتخابی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر نتائج کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر نہ ہونے دی جائے۔
    ‎الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق جن پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں فارم 45 جاری کیے جا رہے ہیں۔ کمیشن نے اس حوالے سے تمام انتخابی افسران کو دوبارہ واضح ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ بعض حلقوں میں فارم 45 کے اجرا سے متعلق افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اس لیے میڈیا ادارے تصدیق کے بغیر ایسی خبریں نشر کرنے سے گریز کریں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نتائج کی تیاری اور دستاویزات کی فراہمی کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔
    ‎یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف، کی جانب سے بعض حلقوں میں فارم 45 کی فراہمی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو انتخابی قوانین کے مطابق ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں گی۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

  • 
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    ‎آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
    ‎منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    ‎تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
    ‎انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
    ‎حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
    ‎مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔

  • 
چین نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا

    
چین نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے سفارتی کردار کو چین کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ہے۔ ایران میں چین کے سفیر کانگ پیوو نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث قرار دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔
    ‎چینی سفیر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی کوششیں نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔
    ‎کانگ پیوو کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کا راستہ بات چیت، باہمی احترام اور سفارتی رابطوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
    ‎چینی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے مختلف مواقع پر تنازعات کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، جس کی بین الاقوامی سطح پر بھی قدر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ اسے خطے میں ایک مؤثر سفارتی شراکت دار بناتا ہے۔
    ‎انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ کا خطے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں بلکہ چین ہمیشہ تعمیری سفارت کاری، باہمی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کے کردار کی یہ تعریف ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے مختلف پہلوؤں پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پاکستان کی ثالثی اور رابطہ کاری کی کوششوں کو علاقائی امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے کے ممالک مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں تو نہ صرف کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ طویل المدتی امن اور اقتصادی استحکام کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

  • 
وسطی افریقہ میں ایبولا سے 84 اموات، عالمی ایمرجنسی نافذ

    
وسطی افریقہ میں ایبولا سے 84 اموات، عالمی ایمرجنسی نافذ

    ‎عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 84 تک پہنچ چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 471 ریکارڈ کی گئی ہے۔
    ‎ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق جمہوریہ کانگو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں اب تک 452 مصدقہ کیسز اور 82 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا میں 19 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں جبکہ دو اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک دن کے دوران 100 نئے کیسز اور 20 اموات کا اضافہ سامنے آیا، جس سے وبا کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ وبا ماضی کی تباہ کن عالمی وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے۔
    ‎امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال 2014 کی مغربی افریقہ کی ایبولا وبا سے مماثلت اختیار کر سکتی ہے۔ اس وبا کے دوران 28 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ 11 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
    ‎طبی ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس قریبی جسمانی رابطے اور متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران افریقہ میں اس مہلک وائرس کے باعث 15 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق موجودہ وبا پہلی مرتبہ 15 مئی کو شمال مشرقی کانگو میں سامنے آئی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ وائرس اس سے قبل بھی خاموشی سے مختلف علاقوں میں پھیل رہا تھا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ وائرس کی اس مخصوص قسم کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔
    ‎صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت اور افریقی سی ڈی سی نے آئندہ چھ ماہ کے لیے 518 ملین ڈالر کے ہنگامی منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، لیبارٹری ٹیسٹنگ میں اضافہ کرنے اور انفیکشن کی روک تھام کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

  • 
نائجیریا میں 360 مغوی افراد بازیاب، دو بچے جان کی بازی ہار گئے

    
نائجیریا میں 360 مغوی افراد بازیاب، دو بچے جان کی بازی ہار گئے

    ‎نائجیریا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شمال مشرقی ریاست بورنو میں اغوا کاروں کے قبضے سے 360 مردوں، خواتین اور بچوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ فوج کے مطابق یہ کامیاب آپریشن خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے دوران مغویوں کو ایک پہاڑی ٹھکانے سے آزاد کرایا گیا۔
    ‎نائجیریا کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ مغوی افراد کو مندارا پہاڑی سلسلے کے ایک دور دراز علاقے میں قید رکھا گیا تھا۔ یہ علاقہ ریاست بورنو کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
    ‎فوج کے مطابق مغویوں کو جماعۃ اہل السنہ للدعوۃ والجہاد (جے اے ایس) نامی گروہ نے مختلف علاقوں سے اغوا کیا تھا۔ جے اے ایس دراصل بوکو حرام کے مرکزی دھڑے کا عربی نام ہے، جو کئی برسوں سے نائجیریا اور پڑوسی ممالک میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
    ‎بازیابی کی کارروائی مشترکہ ٹاسک فورس نے انجام دی، جس میں خصوصی فورسز بھی شامل تھیں۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے دباؤ کے باعث شدت پسند جنگجو اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہو گئے، جس کے بعد مغویوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
    ‎فوجی حکام کے مطابق قید کے دوران دو بچے شدید تھکن، غذائی قلت اور سخت موسمی حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ حکام نے بتایا کہ باقی مغویوں کو طبی امداد، خوراک اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎نائجیریا گزشتہ کئی برسوں سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اغوا برائے تاوان، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں، کسانوں اور چرواہوں کے تنازعات اور مسلح گروہوں کی کارروائیاں حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا کی وارداتیں آئندہ صدارتی انتخابات میں اہم سیاسی موضوعات میں شامل ہوں گی۔ عوام کی بڑی تعداد حکومت سے مؤثر سیکیورٹی اقدامات اور مسلح گروہوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

  • گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ

    گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج نے ایک دلچسپ سیاسی مقابلے کی تصویر پیش کی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کئی اہم حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی متعدد نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں نے بھی کئی حلقوں میں غیر متوقع کارکردگی دکھائی ہے۔
    ‎اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق جی بی اے 1 گلگت 1، جی بی اے 3 گلگت 3، جی بی اے 4 نگر 1، جی بی اے 9 اسکردو 3، جی بی اے 10 اسکردو 4، جی بی اے 11 کھرمنگ، جی بی اے 12 شگر، جی بی اے 13 استور 1 اور جی بی اے 17 دیامر 3 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب مسلم لیگ (ن) جی بی اے 2 گلگت 2، جی بی اے 14 استور 2، جی بی اے 18 دیامر 4، جی بی اے 19 غذر 1 اور جی بی اے 22 گھانچے 1 میں آگے دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان حلقہ جی بی اے 2 میں نمایاں برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔
    ‎انتخابات میں آزاد امیدوار بھی بھرپور انداز میں سامنے آئے ہیں۔ جی بی اے 5 نگر 2، جی بی اے 6 ہنزہ، جی بی اے 20 غذر 2، جی بی اے 23 گھانچے 2 اور جی بی اے 24 گھانچے 3 میں آزاد امیدوار ابتدائی نتائج کے مطابق سبقت لیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھانچے 3 میں آزاد امیدوار اسد شفیق کی نمایاں برتری سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎دیگر جماعتوں میں استحکام پاکستان پارٹی جی بی اے 7 اسکردو 1 اور جی بی اے 16 دیامر 2 میں مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین جی بی اے 8 اسکردو 2 میں ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی جی بی اے 15 دیامر 1 میں سب سے آگے ہے۔
    ‎ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کی جانب بڑھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ تمام نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں اور حتمی تصویر مکمل نتائج آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

  • 
سرجانی ٹاؤن میں چار بچوں کے باپ کی پھندا لگی لاش برآمد

    
سرجانی ٹاؤن میں چار بچوں کے باپ کی پھندا لگی لاش برآمد

    ‎کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گھر سے ایک شخص کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت عبدالرحمٰن کے نام سے ہوئی ہے، جو چار بچوں کے والد تھے۔
    ‎پولیس اور اہل خانہ کے ابتدائی بیانات کے مطابق عبدالرحمٰن کی اہلیہ تقریباً چار ماہ قبل گھریلو اختلافات کے باعث ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی تھیں۔ خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ عبدالرحمٰن اس دوران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اپنی ازدواجی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
    ‎متوفی کے بھائی کے مطابق عبدالرحمٰن ایک ہفتہ قبل اپنی اہلیہ کو واپس گھر لانے کے لیے ان کے میکے بھی گئے تھے، تاہم تمام کوششوں کے باوجود وہ رضامند نہ ہوئیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے عبدالرحمٰن کو شدید مایوسی اور پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن نے ذاتی اور خاندانی مسائل سے دل برداشتہ ہو کر انتہائی قدم اٹھایا۔ تاہم واقعے کی حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات اور ذہنی دباؤ بعض اوقات افراد کو انتہائی خطرناک فیصلوں کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں خاندانی تعاون، ذہنی صحت کی معاونت اور بروقت مشاورت انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

    
گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ برقرار ہے۔ ابتدائی نتائج سے مختلف حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎جی بی 4 نگر ون کے وٹرنری اسپتال چھلت پائین پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر 76 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 70 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد تیسرے نمبر پر رہے۔
    ‎اسی طرح جی بی 5 نگر ٹو کے بوائز ہائی اسکول ہوپر نگر پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 45 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 34 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
    ‎تاہم اسی حلقے کے ایک خواتین پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 88 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 36 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جس سے حلقے میں سخت مقابلے کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔
    ‎دوسری جانب جی بی 2 گلگت ٹو کے ابتدائی سات پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان 858 ووٹ حاصل کرکے نمایاں برتری لیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 383 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان 83 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
    ‎اس انتخابی معرکے میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 396 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔