Baaghi TV

Blog

  • بھارت میں مسلم مخالف جرائم رپورٹ کرنے والے صحافی نشانے پر

    بھارت میں مسلم مخالف جرائم رپورٹ کرنے والے صحافی نشانے پر

    دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں صحافتی آزادی تشویشناک حد تک کم ہو چکی ہے اور خاص طور پر مسلم مخالف جرائم کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایسے صحافیوں کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور بعض اوقات قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے باعث نہ صرف آزاد صحافت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اقلیتوں سے متعلق حقائق بھی عوام تک صحیح طور پر نہیں پہنچ پا رہے۔

    دوسری جانب امریکی غیر سرکاری تنظیم جینو سائیڈ واچ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی میڈیا حکمران جماعت بی جے پی کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق میڈیا میں حکومتی بیانیے کو ترجیح دی جاتی ہے اور مسلم مخالف پالیسیوں اور بیانات کو بار بار نشر کیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا کا غیر جانبدار نہ رہنا جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور اس سے معاشرے میں عدم برداشت کو فروغ ملتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی کانگریس کے اراکین اور امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور حکومت سے اس حوالے سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع نہ ملا تو نہ صرف جمہوریت کمزور ہوگی بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی چھپایا جا سکتا ہے، جو عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

  • شادی کی خوشی،دلہن کی ہوائی فائرنگ،دلہا فرار،دلہن گرفتار

    شادی کی خوشی،دلہن کی ہوائی فائرنگ،دلہا فرار،دلہن گرفتار

    راولپنڈی پولیس نے تھانہ مندرہ کے علاقے گوہڑہ میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے والی دلہن کو گرفتار کرلیا، جبکہ دلہا موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق دلہن ثناء شہریار کے پاس اسلحہ کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔ واقعہ گزشتہ رات پیش آیا جب دلہن لہنگا پہنے تقریب کے دوران پستول سے فائرنگ کرتی پائی گئیں، جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دلہن کی فائرنگ کی ویڈیو بھی موصول ہوگئی ہے، جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران دلہن کے قبضے سے پستول اور گولیاں بھی برآمد کرلی گئی ہیں۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق دلہا نے دلہن کو پستول فراہم کیا، جبکہ موقع پر موجود فوٹوگرافر کی ہدایت پر دلہن نے فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق دلہن نے گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہونے کی کوشش بھی کی، تاہم موقع پر موجود لیڈی کانسٹیبل نے انہیں قابو کرلیا۔ذرائع کے مطابق پولیس کو اس واقعے کی خفیہ اطلاع ایک مخبر کے ذریعے ملی تھی، جس پر فوری ایکشن لیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ دلہن کے اہل خانہ نے ان کی ضمانت کے لیے درخواست بھی دائر کردی ہے۔

  • خبردار کر رہی ہوں کہ اداکارہ ریشم سےہوشیار اور بچ کررہیں،اداکارہ دیدار

    خبردار کر رہی ہوں کہ اداکارہ ریشم سےہوشیار اور بچ کررہیں،اداکارہ دیدار

    اداکارہ دیدار نے نامور اداکارہ ریشم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریشم لوگوں کی زندگیاں خراب کرتی ہیں۔

    حال ہی میں اداکارہ دیدار نے ایک نجی ٹی وی سے نشر ہونے والے عید کے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف سوالات کے جواب دیے ہیں،اداکارہ سے میزبان کی جانب سے ساتھی اداکارہ نرگس اور ریشم سے متعلق سوال کیا گیا جس کے جواب میں دیدار نے کہا کہ اداکارہ نرگس ایک بہترین اداکارہ ہیں لیکن منفی انداز میں،انہوں نے نامور اور سینئر اداکارہ ریشم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ریشم بہت اچھی اداکار ہیں، وہ منفی چیزوں کو پیش کرنے میں بہترین ہیں، ریشم نے بہت سی زندگیوں کو خراب کیا ہے، وہ حقیقی زندگی میں بہت منفی ہیں۔

    ریشم کے فلاحی کاموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دیدار کا کہنا تھا کہ ان کے کھانا پکانے اور خیراتی کام کے بارے میں جانتی ہوں، مجھے ڈر ہے کہ ایک دن وہ اس کھانے میں نہ گر جائیں جو وہ دوسروں کے لیے بناتی ہیں، میرا ریشم کے ساتھ ذاتی تجربہ ہے، وہ سالوں تک میری دوست رہ چکی ہیں اسی لیے میں بتارہی ہوں اور ان کے موجودہ دوستوں کو خبردار کر رہی ہوں کہ وہ اس سے ہوشیار رہیں اور بچ کررہیں

  • آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران شدید، ایران کو اسٹریٹجک برتری حاصل

    آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران شدید، ایران کو اسٹریٹجک برتری حاصل

    خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز گزشتہ تقریباً چار ہفتوں سے عملی طور پر بند ہے، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے جبکہ صورتحال کے جلد معمول پر آنے کے امکانات بھی غیر واضح ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی پانیوں میں جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں نے اس راستے کو اس قدر خطرناک بنا دیا ہے کہ بیشتر بحری ٹریفک تقریباً رک چکی ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنگ آبی راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل، قدرتی گیس اور زرعی کھاد کی ترسیل کا مرکزی ذریعہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب اس بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کا دعویٰ کیا ہے، تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کرنے اور تیل بردار جہازوں کو بحریہ کی سیکیورٹی فراہم کرنے جیسے اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔تاہم ایران اب بھی کئی حوالوں سے برتری رکھتا ہے، جس کی بڑی وجہ اس کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی اور جغرافیائی پوزیشن ہے۔

    ایران کی جغرافیائی برتری کیوں اہم ہے؟
    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اپنی تنگی کے باعث ایک خطرناک "چوک پوائنٹ” (Chokepoint) ہے، جہاں بحری جہازوں کے لیے متبادل راستہ موجود نہیں۔ اس کی چوڑائی بعض مقامات پر صرف 24 میل رہ جاتی ہے اور زیادہ تر جہاز مخصوص تنگ راستوں سے گزرتے ہیں۔ایسے میں ایران کو اپنے اہداف تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ باآسانی انتظار کر سکتا ہے، جس سے یہ علاقہ ایک ممکنہ "کل زون” میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں حملے کا وقت چند سیکنڈز تک محدود ہو سکتا ہے۔ایران کے پاس تقریباً ایک ہزار میل طویل ساحلی پٹی ہے، جہاں سے وہ اینٹی شپ میزائل، ڈرونز، بارودی سرنگیں اور چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے حملے کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے آبدوز بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکہ نے ایران کی روایتی بحری صلاحیت کو کسی حد تک کمزور کیا ہے، لیکن غیر روایتی ہتھیار اب بھی بڑا خطرہ ہیں، جن سے مکمل طور پر بچاؤ تقریباً ناممکن ہے۔

    اب تک ایران کم از کم 19 جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ خطرات کے باعث بیشتر شپنگ کمپنیاں اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ کچھ جہاز، خاص طور پر ایران، چین، بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے، محدود تعداد میں گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایران نے اعلان کیا ہے کہ "غیر دشمن” جہاز اس کی اجازت سے گزر سکتے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق چند جہازوں نے محفوظ گزر کے لیے بھاری فیس بھی ادا کی ہے۔عالمی بحری تنظیم کے مطابق تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور توانائی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

    امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھاتے ہوئے میرین یونٹس اور بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں، یہ پیش رفت ممکنہ زمینی کارروائیوں کی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دے رہی ہے، تاہم امریکی حکومت نے ایران میں براہ راست زمینی کارروائی کو فی الحال مسترد کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطرات کم نہیں ہوتے، عالمی بحری ٹریفک کی بحالی مشکل ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا معاشی اور جغرافیائی چیلنج بن چکی ہے۔

  • زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران میں 10 لاکھ فوجی تیار

    زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران میں 10 لاکھ فوجی تیار

    واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار تک زمینی فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں امریکی دفاعی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون خطے میں فوجی آپشنز کو وسعت دینے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف ایران کے ساتھ "مثبت” امن مذاکرات کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب تہران ان دعوؤں کو مسترد کر چکا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی دھمکی کو 6 اپریل تک مؤخر کر دیا ہے۔ اس سے قبل امریکا نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے ممکنہ زمینی جنگ کے پیش نظر 10 لاکھ سے زائد افراد کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان بڑی تعداد میں بسیج، پاسدارانِ انقلاب اور فوجی مراکز کا رخ کر رہے ہیں۔فوجی ذرائع کے مطابق زمینی افواج کو منظم کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے اور اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سفارتی پیشکش کو عوامی سطح پر مسترد کر دیا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ادھر امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے جلد مشرقِ وسطیٰ پہنچیں گے جبکہ ہزاروں میرینز پہلے ہی تعینات ہیں۔ علاوہ ازیں کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر امریکا کو تیل سے بھرے 10 جہاز لینے کی اجازت دی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جاری کشیدگی امریکا کے اسلحہ ذخائر پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ ابتدائی 16 دنوں میں امریکا اور اس کے اتحادی تقریباً 11 ہزار ہتھیار استعمال کر چکے ہیں جن کی لاگت 26 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امریکا کو اپنے پرانے ہتھیار استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔

  • آبنائے ہرمز میں حملے کا شکار تھائی جہاز ایران کے قریب ریت میں پھنس گیا

    آبنائے ہرمز میں حملے کا شکار تھائی جہاز ایران کے قریب ریت میں پھنس گیا

    تہران: ایک تھائی پرچم بردار کارگو جہاز جو رواں ماہ کے آغاز میں آبنائے ہرمز میں نامعلوم حملے کا نشانہ بنا تھا، ایران کے جزیرے قشم جزیرہ کے قریب جا کر ریت میں پھنس گیا ہے۔ یہ خبر ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے جاری کی۔

    رپورٹس کے مطابق “میوری ناری” نامی اس جہاز کو 11 مارچ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد اس کے انجن روم میں زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے کے باعث جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور عملے کو ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔تھائی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے فوری بعد عمانی بحریہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے 20 افراد پر مشتمل عملے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا، تاہم اب بھی تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔واقعے کے بعد جہاز کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن شدید نقصان کے باعث یہ ایرانی ساحل کے قریب بہہ کر قشم جزیرے کے نزدیک ریت میں پھنس گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی نوعیت اور حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے بارے میں تاحال واضح معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

  • طالبان کی جانب سے داعش کیخلاف کاروائیوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب

    طالبان کی جانب سے داعش کیخلاف کاروائیوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب

    طالبان کی جانب سے داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کے دعوے یَکہ خاجی، فاریاب، افغانستان کے واقعات سے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

    شفیق اللہ المعروف قاری حکمت کی قیادت میں ایک فعال داعش مرکز جی ڈی آئی (GDI) کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے، جہاں ہر وقت 20 سے 30 جنگجو موجود رہتے ہیں۔ عید کے اجتماع کے دوران داعش خراسان کے سینئر رہنما، سیف البحر المعروف شیخ مقبول اور ابو بکر العراقی المعروف ابو سعد العراقی بھی وہاں موجود تھے۔فاریاب میں داعش کے اس اڈے نے منظم گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    قاری حکمت کے زیرِ انتظام کیمپ کنڑ، نورستان اور ننگرہار سے منتقل کیے گئے دہشت گردوں کی افغانستان کے اندرونی علاقوں تک نقل و حرکت میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔اس نیٹ ورک سے منسلک ناموں میں معاویہ ابو سعد ازبکی، شاہ زور خیری، اور حاجی جان سید المعروف مومن شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت بھی اسی نیٹ ورک کے ذریعے ہو رہی ہے۔ طالبان داعش کا خاتمہ نہیں کر رہے بلکہ اسے منظم اور پناہ فراہم کر رہے ہیں۔

    فاریاب میں عید کے اجتماع میں اعلیٰ درجے کے دہشت گرد، عمر الخراسانی، لقمان الخراسانی، محمد ابو حمزہ ترکستانی، اور ابو یاسر بھی شریک تھے۔یہ کیمپ مستقل طور پر 20 سے 30 جنگجوؤں کی میزبانی کرتا ہے اور طالبان کی سرپرستی میں ایک لاجسٹک اور رابطہ مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ جب داعش کے کمانڈر جی ڈی آئی کی نگرانی میں کھلے عام سرگرم ہوں تو طالبان کا بیانیہ خود بخود بے اثر ہو جاتا ہے۔حقیقت واضح ہے؛ افغانستان کو علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

  • کرکٹ میچ میں “فری عمران خان” شرٹ پہننے پر مداح کو روک دیا گیا

    کرکٹ میچ میں “فری عمران خان” شرٹ پہننے پر مداح کو روک دیا گیا

    کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ شیفیلڈ شیلڈ کے فائنل کے دوران ایک شائقِ کرکٹ کو “فری عمران خان” والی ٹی شرٹ پہننے پر اسے داخلے سے روک دیا گیا

    جمعرات کو ہونے والے میچ کے دوران لوک براؤن نامی مداح کو اس وقت مشکل پیش آئی جب سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کی شرٹ کو سیاسی پیغام قرار دیتے ہوئے انہیں اسے ڈھانپنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں انہوں نے دوسری شرٹ پہن کر اسٹیڈیم میں داخلہ حاصل کیا۔تاہم میڈیا سے رابطے پر کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ سیکیورٹی عملے نے قواعد کے مطابق کارروائی کی، مگر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کی حمایت کو سیاسی معاملہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ سمجھا جائے گا، لہٰذا ایسی شرٹس انٹری قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرتیں۔

  • تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب بمباری،عملہ محفوظ

    تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب بمباری،عملہ محفوظ

    ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی گئی ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کے سامنے ایرانی فوج کا مرکز "ارتش” واقع ہے جبکہ پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو پاسداران کے علاقے میں مقیم ہیں،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رات تقریباً 8 بجے دونوں علاقوں میں بھرپور بمباری کی گئی تاہم پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا،سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو تہران میں بیس کے قریب سفارتی عملے کے ساتھ معمول کے مطابق فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    ایک سینئر سفارتکار نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ بمباری کی شدید آوازیں سنائی دیں اور عملہ دھماکوں کی آوازوں سے پریشان ضرور ہوا تاہم تمام اہلکار محفوظ ہیں اور عملہ خطرناک ماحول میں ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے چند لمحے قبل لی گئی آخری تصویر جاری

    آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے چند لمحے قبل لی گئی آخری تصویر جاری

    ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے چند لمحے قبل لی گئی ایک اہم اور جذباتی تصویر ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کر دی گئی ہے، جس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تصویر ایک سی سی ٹی وی کیمرے سے حاصل کی گئی، جس میں آیت اللہ خامنہ ای کو نہایت سکون کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اسے بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور صارفین کی جانب سے مختلف جذباتی ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے مبینہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے۔

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آخری لمحات میں بھی آیت اللہ خامنہ ای عبادت میں مصروف تھے، جسے ان کے پیروکار ایک روحانی اور قابلِ احترام پہلو کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تصویر کے اجرا کا مقصد عوامی جذبات کو ابھارنا اور داخلی یکجہتی کو فروغ دینا بھی ہو سکتا ہے۔