Baaghi TV

Blog

  • ایران،اسرائیل کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا

    ایران،اسرائیل کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا

    پیر کی صبح مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’تمام محاذوں پر وسیع پیمانے کی کارروائیوں‘‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں جاری آپریشن محض ایک عارضی ردعمل نہیں بلکہ ’’مسلسل ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائیوں‘‘ کا آغاز ہے۔ ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا کہ آئندہ سات دنوں تک اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کی لہروں میں حملے جاری رہیں گے اور اگر ایرانی سرزمین کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب توقعات سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اصفہان، کرج، تبریز اور تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی، تاہم نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان حملوں میں فضا سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔

    اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں واقع ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری اور لاجسٹک صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا، تاہم ایرانی حکام نے تاحال اس دعوے پر تفصیلی ردعمل نہیں دیا۔

    کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ایران نے رات گئے جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان تمام میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں صبح کے اوقات میں بھی ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے، جن کے باعث اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا گیا جسے روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے کیا گیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

    ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایران اور لبنان کے پرچموں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد سخت ردعمل خطے میں ایک وسیع تر محاذ آرائی کا اشارہ دے رہا ہے۔

    عالمی منڈیوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے ہیں۔ ایشیائی تجارت کے دوران عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 95.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.5 فیصد بڑھ کر 92.75 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم مزید بڑھا تو توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کو فوری جوابی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اسرائیل نے اس کے باوجود ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بحران ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • جے یو آئی کا گلگت بلتستان انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار

    جے یو آئی کا گلگت بلتستان انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار

    جمعیت علماء اسلام (ف) نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پارٹی رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ فارم 45 سے متعلق سامنے آنے والے معاملات انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔عبدالغفور حیدری نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار کی واضح کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ ووٹرز کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، اور اگر انتخابی نتائج پر سوالات برقرار رہے تو عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    جے یو آئی (ف) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ انتخابی نتائج سے متعلق تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں اور فارم 45 سمیت تمام انتخابی ریکارڈ کی شفاف جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ آزاد امیدواروں نے 5 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 3 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔

  • خطے میں کشیدگی،دبئی کے شاہانہ ہوٹلز عارضی بند ،کئی نے رعایتی پیکجزمتعارف کروا دیئے

    خطے میں کشیدگی،دبئی کے شاہانہ ہوٹلز عارضی بند ،کئی نے رعایتی پیکجزمتعارف کروا دیئے

    خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سیاحتی صنعت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث دبئی کے لگژری ہوٹلوں کو غیر ملکی سیاحوں کی کمی کا سامنا ہے اور اب وہ بڑی حد تک مقامی رہائشیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں سیکیورٹی خدشات، فضائی آپریشنز اور سفری غیر یقینی صورتحال کے باعث دبئی آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں میں سست روی کے نتیجے میں کئی معروف ہوٹلوں کی بکنگ متاثر ہوئی ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق بعض لگژری ہوٹلوں نے کم کاروباری سرگرمیوں کو جواز بنا کر تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کے نام پر عارضی طور پر اپنے دروازے بند کر دیے ہیں، جبکہ کئی دیگر ہوٹلوں میں اخراجات کم کرنے کے لیے عملے کی تعداد میں کمی اور تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کی سیاحتی معیشت کا بڑا انحصار بین الاقوامی سیاحوں پر ہے، تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی نے سیاحتی شعبے کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ متعدد ہوٹل مالکان اور انتظامیہ اس امید پر ہیں کہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی بحالی کے بعد سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ سکیں گی۔دوسری جانب پام جمیرہ، دبئی مرینا اور دیگر معروف سیاحتی مقامات پر قائم پانچ ستارہ ہوٹلوں نے مقامی رہائشیوں کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی رعایتی پیکجز، ویک اینڈ آفرز اور خاندانی تفریحی پیکجز متعارف کروا دیے ہیں۔ ان رعایتوں کے باعث اب ایسے مقامی افراد بھی لگژری ہوٹلوں میں قیام اور سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو ماضی میں ان کی بلند قیمتوں کے باعث ایسا کرنے سے قاصر تھے۔

    سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر علاقائی صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو ہوٹل انڈسٹری کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ سیاحتی بحالی کا انحصار خطے میں امن و استحکام اور بین الاقوامی سفری اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔

  • اسرائیل کا ٹرمپ کے منع کرنے کے باوجود ایران پر حملہ

    اسرائیل کا ٹرمپ کے منع کرنے کے باوجود ایران پر حملہ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیل نے ایران پر جوابی حملہ کر دیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کرج کے قریب بھی دھماکے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مغربی اور وسطی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملوں میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکام نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    یاد رہے کہ اتوار کی شب ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اسرائیل پر متعدد میزائل داغے تھے، جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، اس لیے امید ہے کہ اسرائیل مزید فوجی کارروائی سے اجتناب کرے گا۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران پر حملے کے اپنے ارادے سے امریکی صدر کو آگاہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل ایران کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو امریکا اس حملے میں شریک نہیں ہوگا۔

  • اسرائیل پر حملہ ایک وارننگ تھا، جارحیت دہرائی گئی تو جواب مزید وسیع ہوگا،ایران

    اسرائیل پر حملہ ایک وارننگ تھا، جارحیت دہرائی گئی تو جواب مزید وسیع ہوگا،ایران

    ایران کے اسرائیل پر جوابی میزائل حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر حملہ ایک وارننگ تھا، جارحیت دہرائی گئی تو جواب مزید وسیع ہوگا۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ائیر بیس کو آئی آر جی سی ایروسپیس فورس کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہو، امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے روک دے، ورنہ نتائج مزید تباہ کن ہوں گے،خطے میں تمام امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب سینئر ایرانی ذرائع نےبتایا ہے کہ اسرائیل نےحملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے اہداف ہوں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کو مشورہ دوں گا، آپ نے اپنے میزائل داغ دیے بس اتنا کافی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی بارک راوڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میز پر واپس آئے اور معاہدہ کرے، امریکی فوج الرٹ ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت پر آج کے حملے پر خوش نہیں ہوں، میں ابھی نیتن یاہو کو فون کرنے جا رہا ہوں، اسرائیلی وزیر اعظم سے کہوں گا کہ جوابی حملہ نہ کرے۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے بعد ایران کے مغربی حصے کی فضائی حدود غیر معینہ مدت تک بند کردی گئی۔حکام عراقی سول ایوی ایشن کے مطابق فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی گئی۔شام نے بھی جنوبی فضائی حدود کو 12 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا اور دمشق ایئرپورٹ پر آپریشن معطل کردیا گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایران کی جانب سے تازہ حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک سنگین غلطی کی ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسرائیل فوج کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ کے لیے منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج لبنان بھر میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔بعد ازاں اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ حکم ملتے ہی دشمن پر بھرپور حملہ کریں گے۔

  • راولا کوٹ،کالعدم کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کےشرپسندوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار شہید

    راولا کوٹ،کالعدم کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کےشرپسندوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار شہید

    آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں سکیورٹی کی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک شرپسند عناصر کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار شہید جبکہ 20 سے زائد پولیس اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق واقعے کے دوران شرپسند عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔آئی جی پولیس آزاد جموں و کشمیر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام امن و امان کی صورتحال اور ریاستی سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا۔دوسری جانب کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے،

  • گلگت بلتستان انتخابات،نتائج کا سلسلہ جاری،پیپلز پارٹی 9 سیٹیں جیت کر پہلے نمبر پر

    گلگت بلتستان انتخابات،نتائج کا سلسلہ جاری،پیپلز پارٹی 9 سیٹیں جیت کر پہلے نمبر پر

    گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 9 نشستوں پر میدان مار لیا ہے۔

    گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے اتوار کو مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش رہا اور لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے، پولنگ بغیر کسی وقفےکے شام 5 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔، اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے9، آزاد امیدواروں نے5، مسلم لیگ (ن) نے 3 اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشت حاصل کرلی۔

    گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 1،4،5،7،9،10،11،12،19 پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی جبکہ جی بی اے20، 22 اور 18 پر ن لیگ اور جی بی اے 8 پر ایم ڈبلیو ایم جیتی اور جی بی اے 3،23،24,21 اور 6 پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے۔

    حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے تمام 80 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10594 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پاکستان مسلم ليگ ن کے محمد شفیق الدین 6312 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2584 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے تمام 88 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6360 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 5381 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10474 ووٹ لیکرجیت گئے، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 6582 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان 4667 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 5944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان مسلم ليگن کے سید محسن رضوی 4589 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے12 شگر کے تمام 71 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ محمد اعظم خان 8682 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 4300 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3865 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1426 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1302 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 1069 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2244 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ایف کے رحمت خالق 1128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے تمام 34 پولنگ اسٹیشنز میں سے 33 کے نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے کفایت الرحمن 5527 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 5059 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے تمام 78 پولنگ اسٹیشنز غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9613 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 8210 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے تمام 69 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے عبدالجہاں 6917 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 6758 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے تمام 60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے آزاد امیدوار امان علی 9938 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 6643 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے تمام 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12117 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 4119 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

  • پولیس کا سخت کریک ڈاؤن ،3 منشیات فروش ،3 ڈاکو گرفتار

    پولیس کا سخت کریک ڈاؤن ،3 منشیات فروش ،3 ڈاکو گرفتار

    قصور
    چونیاں میں پولیس کا کریک ڈاؤن، 3 منشیات فروش اور 3 عادی ڈاکو گرفتار

    قصور ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کی ہدایت پر چونیاں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق ایس ایچ او سٹی چونیاں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 بدنام زمانہ اور ریکارڈ یافتہ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا۔ ملزمان کے قبضے سے ڈیڑھ کلو گرام چرس، 150 لیٹر کچی شراب اور 65 لیٹر تیار شراب برآمد کر لی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان چونیاں اور گردونواح میں منشیات فروشی کے ذریعے نوجوان نسل کو نشے کی لعنت میں مبتلا کر رہے تھے۔ ملزمان کے خلاف امتناعِ منشیات کی مختلف دفعات کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران 3 عادی ڈاکوؤں کو بھی گرفتار کر لیا گیا، جن سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے کہا ہے کہ ضلع کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون شکن عناصر کے لیے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی

  • 
امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب

    
امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب

    ‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے پُرعزم ہیں جو امریکی مفادات کا تحفظ کرے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر کر دے۔
    ‎اپنے بیان میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے دیگر تمام آپشنز استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎امریکی وزیر دفاع کے مطابق جب بھی ایران بین الاقوامی تجارتی راستوں یا بحری گزرگاہوں کو نشانہ بناتا ہے تو امریکی فوج مناسب جواب دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام اور عالمی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔
    ‎دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدے سے قبل نہ تو منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے اور نہ ہی اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان معاملات پر صرف اسی صورت غور کیا جائے گا جب معاہدہ مکمل ہو جائے گا۔
    ‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران مثبت رویہ اختیار کرتا ہے اور طے شدہ شرائط پر عمل کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وہ لبنان کو ایران کے ساتھ کسی ممکنہ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ بنانے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
    ‎امریکی صدر نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
    ‎ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں، اگر اس سے خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں مدد مل سکتی ہو۔

  • 
ٹرمپ کا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود حملوں کا مطالبہ

    
ٹرمپ کا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود حملوں کا مطالبہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید محدود اور ہدفی نوعیت کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں جو خطے میں استحکام اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
    ‎امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان میں حالات کو بہتر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مزید "سرجیکل اسٹرائیکس” کی جائیں۔ ان کے مطابق ایسے حملے مخصوص اہداف تک محدود ہونے چاہئیں تاکہ وسیع پیمانے پر تباہی اور شہری نقصانات سے بچا جا سکے۔
    ‎ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں حالیہ اسرائیلی حملوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کے حوالے سے ان کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ حزب اللہ اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف سخت رویے کے حامی رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مزید فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
    ‎لبنان میں حزب اللہ ایک طاقتور سیاسی اور عسکری قوت سمجھی جاتی ہے، جبکہ اسرائیل اور کئی مغربی ممالک اسے سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں نے دونوں جانب کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ مسلسل فوجی کارروائیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔