امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سنجیدگی ظاہر کرنے کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے یہ اقدام ایک ’تحفے‘ کے طور پر کیا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے اور کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایران نے آٹھ بڑے تیل بردار جہازوں کو گزرنے دیا اور بعد ازاں مزید دو ٹینکرز کو بھی آبنائے ہرمز عبور کرنے کی اجازت دی گئی۔
یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اہم سمجھی جا رہی ہے اور ممکنہ طور پر مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
Blog
-

ایران کی امریکا کو تحفے کے طور پر 10 تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت
-

جنوبی لبنان میں جھڑپ، اسرائیلی فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا۔
فوج نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت اسٹاف سارجنٹ اوری گرین برگ کے نام سے ہوئی ہے جو گولانی بریگیڈ کی ریکی یونٹ سے وابستہ تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری نئی زمینی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والا یہ تیسرا فوجی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق رات تقریباً 2 بجے گولانی بریگیڈ کے اہلکاروں نے اپنے آپریشن کے علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی موجودگی کا پتہ لگایا، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
اس جھڑپ میں گرین برگ ہلاک جبکہ ایک اور اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہوا۔ -

کراچی میں فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن، گاڑیاں ضبط کرنے کا فیصلہ
کراچی میں رنگ برنگی اور فینسی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے سخت وارننگ جاری کر دی گئی ہے، ٹریفک پولیس نے ایسے عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکام نے واضح کیا ہے کہ اب سڑکوں پر نظر آنے والی کسی بھی غیر قانونی یا فینسی نمبر پلیٹ والی گاڑی یا موٹر سائیکل کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق فینسی اور غیر معیاری نمبر پلیٹس سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں کیونکہ جرائم پیشہ افراد اکثر وارداتوں کے دوران انہی پلیٹس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔
ریکارڈ کے مطابق لاکھوں چالان کیے جانے کے باوجود شہری اس قانون کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے بعد اب سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب صرف جرمانے تک محدود نہیں رہا جائے گا بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں موقع پر ہی ضبط کر لی جائیں گی اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔
ٹریفک پولیس نے ہدایت کی ہے کہ شہری فوری طور پر اپنی گاڑیوں سے فینسی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹس ہٹا دیں اور صرف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ سرکاری نمبر پلیٹس استعمال کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ -

ایران سے متعلق حکمت عملی پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلاف، بغاوت کی تجویز مسترد
ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان حکمت عملی میں اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی عوام کو بغاوت پر اکسانے کی تجویز مسترد کر دی۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دو امریکی حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کی اپیل کرنا چاہتے تھے، تاہم ٹرمپ نے اس اقدام کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے فون پر ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کی، مگر امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایسی اپیل عوام کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا کہنا درست نہیں جب انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔
ایگزیوس کے مطابق امریکا اور اسرائیل زیادہ تر فوجی اہداف پر متفق ہیں، لیکن ایران میں رجیم چینج اور اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے دونوں کے مؤقف میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بعض اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا مقصد بھی ایران میں عوامی ردعمل کو ابھارنا تھا، تاہم اس حکمت عملی کے نتائج محدود رہے۔
بعد ازاں ایرانی تہوار کے موقع پر بھی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نہیں آئی، جس کی بڑی وجہ حکومتی ردعمل کا خوف قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے معاملے پر اتحادی ممالک کے درمیان بھی پالیسی سطح پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ -

ٹرمپ ایران جنگ جلد ختم کرنے کے خواہاں، 4 سے 6 ہفتوں میں خاتمے کا عندیہ
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو جلد ختم کرنے کے خواہاں ہیں اور اسے 4 سے 6 ہفتوں میں نمٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا کہ وہ اس جنگ کو طویل نہیں کرنا چاہتے اور ان کے خیال میں یہ تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے چینی صدر کے ساتھ مئی میں بیجنگ میں ہونے والی سمٹ اسی بنیاد پر طے کی ہے کہ اس سے پہلے جنگ ختم ہو جائے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی توجہ بعض اوقات دیگر سیاسی معاملات جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن پالیسی کی طرف بھی منتقل ہو جاتی ہے، اور انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو کہا کہ یہ جنگ ان کی دیگر ترجیحات سے توجہ ہٹا رہی ہے۔
قریبی مشیروں کے مطابق ٹرمپ آئندہ بڑے چیلنجز کی طرف بڑھنے کے لیے بے چین ہیں، جبکہ بعض اتحادیوں کو امید ہے کہ وہ مستقبل میں کیوبا کی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ -

ایران کی جنگ بندی ڈیل میں لبنان کو شامل کرنے کی خواہش، حزب اللہ پر حملے روکنے کا مطالبہ
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کرنے کی خواہش ظاہر کر دی ہے اور اس حوالے سے رابطہ کاروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ علاقائی ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جس کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق تہران نے حزب اللہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسے کسی بھی وسیع تر ڈیل کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ اس کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ایک ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں مشاورت کا عمل جاری ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے اور ممکنہ امن معاہدے کی سمت میں ایک نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔ -

کام سے کام رکھنا ضروری کیوں؟تحریر:مبشر حسن شاہ
آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے اور ٹیکنالوجی ہر لمحہ ہمیں دوسروں کی زندگیوں سے جوڑے ہے، وہاں کام کا ایک بنیادی اصول تیزی سے نظرانداز ہو رہا ہے۔
اپنے کام سے کام رکھنا۔ بظاہر یہ جملہ سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر زندگی کو پرسکون اور متوازن بنانے کا ایک مکمل فلسفہ چھپا ہوا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی توانائی دوسروں کے معاملات میں مداخلت کر کے ضائع کرتے ہیں۔ کئی بار یہ مداخلت محض دوسروں کی زندگی پر نظر رکھنے تک محدود نہیں رہتی۔ (حالانکہ یہ بھی غلط) بلکہ ہم ان کے کاموں میں دخل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کی اس دخل اندازی کو اپنے حق میں استعمال کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دفاتر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ساتھی اپنا کام ٹال دیتا ہے اور دوسرے ساتھی کو یہ محسوس کراتا ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب کوئی ہمیں اہمیت دکھاتا ہے۔ہمارا دماغ سکون محسوس کرتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں ڈوپامین ریلیز ہونے کے بعد ہمارا جو ایکشن ہوتا ہے، وہ اکثر سیروٹونن ریلیٹڈ انرجی ری ایکشن میں بدل جاتا ہے۔ یعنی وقتی خوشی کے بعد دماغ میں ایک لمبی دورانیے کی توانائی یا سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے
تو ہم خوشی محسوس کرتے ہیں، اور اپنا کام چھوڑ کر یا اوور برڈنائز ہوکر دوسرے کا کام گلے ڈال لیتے ہیں۔ کئی لوگوں کو یہ روحانی سکون بھی لگتا ہوگا کیونکہ دوسروں کے کام آنا بھی عبادت ہے۔*( وہ عبادت اور کام مجبور و لاچار کے لیے ہیں) ، ہم اپنا اصل کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں کود پڑتے ہیں ۔یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ جو ہمیں سمجھنا پڑے گا۔ ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ کر سکتا ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں "یہ کام میں کر دوں گا” صرف اس لیے کہ یہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں، تو آپ اپنے کسی شخص کے ہاتھوں استعمال ہونے جا رہے ہوتے ہیں اور اسے آپ اسے مستقل عادی بنا رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کام نہ کرے ۔ آپ خود یہ راستہ کھول دیتے ہیں کہ یہ کام مستقبل میں آپ کی ذمہ داری بن جائے۔ چھوٹا سا تعاون وقتی سکون تو دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ آپ کے لیے اضافی دباؤ، توجہ کی تقسیم، اور وقت کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ جو کام کبھی آپ نے کسی کو امپریس کرنے یا مروت میں دوسرے کا کیا تھا ایک وقت آتا ہے کہ اسی کام کو درست نہ کرنےپر آپ باقاعدہ قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ شخص آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ کام کرانااس کا حق ہے اور ہمیشہ آپ سے کرایا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں مداخلت کر دیں، چاہے وہ تھوڑے بہت رد و بدل یا بہتری کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، ہم اسے مکمل کر دیتے ہیں اور نتیجتاً دوسروں کے کام کو آسان بناتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی آسانی تو فراہم کرتا ہے، لیکن آپ کو اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔دوسرا جاری کام کو اچکنا اور جلدی سے مکمل کر لینا آپ کی محنت کرنے اور فوکس کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے ۔
معاشرتی طور پر ایک اور رجحان بڑھ رہا ہے: ہم فوراً مشورہ دینے لگتے ہیں اور ہر کام میں مداخلت کرتے ہیں، چاہے ہمیں اس کی بیسکس بھی نہ معلوم ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی گاڑی خراب ہے اور آپ کو خرابی نہیں پتا پھر بھی اسے دیکھنا یا اندازے لگانا وہ عادت ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ، مہذب معاشروں میں ایک اصول ہے جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے، آپ نے نہیں بولنا ۔یہاں ہم پورے مکینک بن بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ کو خرابی کا علم ہے تو کیونکہ آپ کا بنیادی کام گاڑی ٹھیک کرنا نہیں ہے۔لہذا بغیر اوزاروں کے غیر ضروری مداخلت اسی ضمرے میں آئے گی جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ہاں، اگر ایمرجنسی صورتحال ہو تو ضرور مدد کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت سے یہ چیز عادت بن جاتی ہے ، اور انسان اپنے ذمہ مستقل طور پر غیر ضروری کام لے لیتا ہے۔
اصل افیشینسی یہ نہیں کہ آپ کم وقت میں زیادہ کام کر لیں اور ہر لمحے مصروف دکھائی دیں۔ جو کام آپ کر رہے ہیں اسے یکسوئی سے مکمل کرنا اور باقی وقت کو اپنے آپ کو آرام دینے، اپنی فیملی کو وقت دینے اور اپنی زندگی کو توازن میں رکھنے کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ میں کم وقت میں زیادہ کام کر لیتا ہوں تو میں دوسروں سے بہتر ہوں، تو وہ غلط فہمی میں ہیں؛ یہ افیشینسی نہیں بلکہ ایک "اوور افیشینسی” ہے، جو تعریف کی کوٹنگ میں لپیٹ کر ہمیں درست دکھائی جاتی ہے۔
یہی رجحان سوشل میڈیا میں بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمارے فون میں موجود نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرنا ایک عام عادت ہے۔ بظاہر یہ صرف معلومات حاصل کرنا بے ضرر محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم گھر بیٹھے بیٹھے پچاس یا اس سے زائد لوگوں کے بارے میں ایکٹو معلومات حاصل کر لیتے ہیں: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، اور کیا ہو رہا ہے۔ اس طرح سوشل میڈیا کے سٹیٹس اور اپڈیٹس میں وقت گزارنا بھی غیر ضروری معلومات میں انوال ہونا ہے، جو ہماری توجہ کو منتشر کرتا ہے، ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے اور اصل اہم کاموں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ریسرچ بھی یہی بتاتی ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو (2021) کے مطابق، جو ملازمین اپنی توانائی دوسروں کے کاموں میں ضائع کرتے ہیں، ان کی پروڈکٹیوٹی تقریباً 30٪ کم ہو جاتی ہے۔ ہارورڈ بزنس ریویو کی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ غیر ضروری ملٹی ٹاسکنگ ذہنی دباؤ، تھکن اور کام کی کوالٹی میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی ایگزیکٹو پروڈکٹیویٹی اسٹڈی (2020) میں بتایا گیا کہ جو لوگ بار بار دوسروں کے ضروری کام خود سے سنبھالتے ہیں، ان کے اپنے اہم کام مکمل کرنے کی صلاحیت 25٪ کم ہو جاتی ہے۔ایک دفتر کا واقعہ: احمد ہمیشہ ہر ساتھی کے کام میں مداخلت کرتا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ "یہ کام میں کر دوں گا، مسئلہ نہیں ہے”۔ چند مہینوں میں اس کی اپنی اہم ذمہ داریوں میں تاخیر ہونے لگی، ذہنی دباؤ بڑھ گیا اور وہ اکثر تھکا ہوا محسوس کرنے لگا۔ اس کے ساتھی نے بھی اس رویے کو معمول سمجھ لیا اور ہمیشہ احمد پر انحصار کرنے لگا، جس سے احمد کا وقت اور توانائی مستقل ضائع ہونے لگی۔جب اس نے اس چیز کا شکوہ کیا تو سب نے اسے ذمہ دار ٹھہرایا۔ کیونکہ تمام اضافی کام اسے نہیں دیے جاتے تھے بلکہ وہ خود لیتا تھا۔
گھر کی مثال: سارہ ہر وقت فون پر نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرتی تھی، یہ دیکھتی رہتی تھی کہ دوست یا رشتہ دار کیا کر رہے ہیں۔ دن کے آخر میں اس کے پاس اپنے بچوں یا خود کے لیے صرف چند لمحے رہ جاتے تھے، اور وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کا وقت مکمل طور پر منتشر ہو گیا ہے۔
انٹرفیئر کا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں تھوڑا بہت رد و بدل کر کے اسے مکمل کر دیتے ہیں، تو ہم فوری آسانی حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ ہمیں اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
مشورے اور غیر ضروری مداخلت: اگر کوئی شخص بغیر پوچھے ہی ہر مسئلے پر مشورہ دے یا ہر کام میں مداخلت کرے، تو وہ خود اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھاتا ہے اور اپنے اصل کام پر فوکس نہیں کر پاتا۔ ایمرجنسی کی صورت میں مدد ضرور کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت طویل عرصے میں نقصان دہ ہوتی ہے۔آج کی تیز رفتار زندگی میں کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنی سمت واضح رکھتے ہیں، اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرتے ہیں اور غیر ضروری مداخلت یا سوشل میڈیا کی جزوی مصروفیات میں الجھے نہیں رہتے۔ ارے "میں کر دوں گا” فوری فیصلے، غیر ضروری مشورے یا سوشل میڈیا انگیجمنٹ وقتی اطمینان تو دیتے ہیں، مگر لانگ رن میں یہ آپ کی صحت، توجہ، اور ذاتی وقت کو متاثر کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ کا پیشہ ایک سرکاری دفتر میں ملازمت ہے جہاں فائل رورک یا دماغی کام آپ کو سونپا جاتا ہے تو چاہے آپ کتنے ہی اچھے ڈرائیو ہوں کبھی دفتر میں اپنی خدمات بطور ڈرائیو پیش نہ کریں۔ آپ کو الیکٹرک فالٹس اور دیگر فنی مہارت ہے تو اپنے کام کے دوران کبھی استعمال نہ کریں کیونکہ تمام اضافی مہارت اور توانائی آپ کے اپنے کام کرنے کے لیے ہے نہ کہ ربورٹ بن کر پبلک سروسز دینے کے لیے۔ اپنے اردگرد دیکھیں تو بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صرف وہ کام کرتے ہیں جس کے لیے انہیں مقرر کیا جائے۔ اس دوران بجلی چلی گئی ہے تو وہ سکون سے انتظار کریں گے جبکہ کچھ لوگ فورا لائن مین کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ اب بجلی کی خرابی درست ہو گی جو ورکر خاموش پرسکون تھے وہ فوری کام پر توجہ دیں گے جبکہ اپنے کام سے بجلی کی خرابی دور کرنے والے کئی منٹ مطلوبہ ردھم سے محروم رہیں گے ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر معاملے میں سپاٹ رویہ رکھیں۔ انسانی ہمدردی اور ایمرجنسی حالات میں ضرور اپنی تمام خدمات دیں لیکن عام زندگی کو ایمرجنسی نہ ڈکلئیر کریں۔ اس کا ایک بہت اہم حصہ ہماری زندگی سے جڑا ہے۔ انسان کے جسم میں پوشیدہ توانائی قدرت نے بیماری، بھوک اور دباو سے مقابلے کے لیے رکھی ہے جو کبھی کبھار ہی درکار ہوتے۔ لیکن ملٹی ٹاسکنگ میں جوں ہی دماغ پر دباو بڑھتا وہ جسم کو الرٹ کا میسج بھیج دیتا۔ اور جونہی یہ اوور برڈن روٹین لمبی ہوتی دماغ جسم کی ایمرجنسی توانائیاں طلب کرکے انہیں بھی اوور ورکنگ کے لیے جھونک دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ کام مختلف کام اور افراتفری کا شکار لوگ بیمار جلد ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ان پر اچانک کسی بڑی بیماری کے حملے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
کام سے کام رکھنا اور اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ ایک کامیاب، مؤثر اور پرسکون زندگی کی کنجی بھی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارے مسائل کم ہوں گے بلکہ ہم اپنے وقت، توانائی اور صحت کو بہتر استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کے حامل بھی بنیں گے۔
مبشر حسن شاہ -

روس ایران کو ڈرونز اور امداد فراہم کر رہا ہے، برطانوی اخبار کا دعویٰ
ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو ڈرونز، ادویات اور خوراک فراہم کر رہا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے مارچ کے مہینے سے ایران کو ڈرونز کی فراہمی شروع کی جبکہ سیٹلائٹ امیجنگ اور انٹیلی جنس معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
اخبار کے مطابق تہران نے روس سے جدید فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم روس نے ایران کی ایس 400 سسٹم سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔
دوسری جانب کریملن نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں، تاہم ایران کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ پیش رفت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کے اثرات خطے کی سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔ -

بحیرۂ عرب میں امریکی طیارہ بردار جہاز پر حادثہ، نیوی اہلکار زخمی
بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہازیو ایس ایس ابراہم لنکن (CVN 72) پر فلائٹ آپریشن کے دوران ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔
امریکی بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ واقعہ 25 مارچ کو اس وقت پیش آیا جب جہاز معمول کی فلائٹ آپریشنز انجام دے رہا تھا۔امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ چوٹ کسی جنگی کارروائی کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی اہلکار کی حالت تشویشناک ہے۔ بیان کے مطابق زخمی اہلکار کو فوری طور پر ساحل پر منتقل کر کے مزید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور اس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
یو ایس نیول فورسز سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث امریکی افواج اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کیے ہوئے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار بیڑے اس وقت اہم سمندری راستوں میں فضائی کارروائیوں اور اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں،
-

امریکا ریاستی دہشت گردی پر اتر آیا، کم جونگ ان کا الزام
شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اب ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور جارحیت کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ مخالف قوتیں شمالی کوریا پر دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے اور اس کے بدلے میں کسی قسم کی ادائیگی یا مراعات قبول کرے، تاہم انہوں نے اس راستے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنے دفاعی مؤقف پر قائم رہے گا۔
کم جونگ ان کے اس بیان کو عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں مزید تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔