Baaghi TV

Blog

  • امریکی ملازمتی ویزوں کاحصول، بڑے پیمانے پربھارتیوں کی درخواستیں اور ڈگریاں جعلی نکلیں

    امریکی ملازمتی ویزوں کاحصول، بڑے پیمانے پربھارتیوں کی درخواستیں اور ڈگریاں جعلی نکلیں

    امریکا میں عارضی ملازمت کا خصوصی ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے کے لیے بھارتی شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور فراڈ سامنا آیا ہے-

    امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2015 سے اب تک امریکا میں کل 70 لاکھ ایچ ون بی ویزا درخواستیں پراسس کی گئی ہیں، جن میں سے حیرت انگیز طور پر 70 فیصد درخواستیں اکیلے بھارتی شہریوں کی طرف سے جمع کرائی گئی تھیں،رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت سے اس ویزا کے لیے درخواست دینےوالے 80 سے 90 فیصد افراد یا تو مکمل طور پر جعلی دستاویزات کےحامل پائے گئے یا پھر وہ اس مخصوص ملازمت کے لیے مطلوبہ اہلیت اور معیار پر پورا ہی نہیں اترتے تھے۔

    تحقیقات کے دوران یہ پریشان کن انکشاف بھی سامنے آیا کہ بھارت میں قائم کئی جامعات باقاعدہ طور پر جعلی ڈگریوں کے دھندے اور غیر قانونی کار و بار میں ملوث ہیں اس حوالے سے ایک ایسی یونیورسٹی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جس نے اکیلے کم سے کم 36 ہزار جعلی ڈگریاں جاری کر کے ریکارڈ قا ئم کیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا کا یہ مخصوص ویزا ان غیر ملکی ماہرین کو دیا جاتا ہے جنہیں امریکی کمپنیاں کچھ خاص شعبوں میں عارضی طور پر ملازمت کے لیے اپنے پاس بلانا چاہتی ہیں۔

  • بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    بہروپیا(افسانہ) :میمونہ فرحت

    صبح کا وقت تھا اور موسم بڑا خوشگوار تھا لیکن کمرے میں سگنلز کی عدم موجودگی نے خوشگواری کا تسلسل توڑنا چاہا سگنلز ضروری تھے کیونکہ آج میری پسندیدہ انفلوئنسر نے لائیو آنا تھا میں چائے کا کپ اٹھائے بالکونی میں جا کھڑا ہوا کیونکہ وہاں نیٹ بہتر چلتا تھا ۔۔۔میرے فون پہ نوٹیفیکیشن آیا ۔۔۔۔۔” دی سوپر اسٹار اسمارا اپلوڈڈ آ سٹوری ” میں نے جلدی سے کھولی تو اس میں درج تھا کہ ابھی کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے وہ لائیو نہیں آسکتیں شاہد شام میں آئیں بحرحال آپکو آگاہ کردیا جائیگا مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موبائل سائڈ پہ رکھتے ہوئے چائے کی ایک اور چسکی لی تو میری نظر برابر والے گھر سے نکلتی ہوئی اسما پر پڑی جو نہایت عام سی شکل وصورت ،قمیص شلوار میں ملبوس سفید چادر اوڑھتی ہوئی موٹر سائیکل پر سوار ہوئی ،وہ بہت اکڑو تھی کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔اور پھر مجھ سے مزاج کا انسان تو اس سے بلکل بات کرنا بھی پسند نہ کرے ۔مجھے تو اسمارا جیسی لڑکیاں بھاتیں۔۔۔میں کچھ دیر وہاں ٹہلتا رہا پھر دفتر جانے کی تیاری میں مشغول ہو گیا ۔شام کے قریباً چار بج رہے تھے میں دفتر سے واپس آرہا تھا کہ مجھے رستے میں اسما نظر آئی اسکی موٹر سائیکل غالباً چوری ہوچکی تھی اور اب ٹیکسی کے انتظار میں تھی ،جتنی وہ عجیب اور نخرے باز تھی میرا دل تو نہیں تھا مدد کا مگر میرے اندر موجود انسانیت کی دکان اسے قرض دیے بغیر رہ نہ سکی میں نے بریک لگائی اور کہا : اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ سکتا ہوں میرا گھر آپکے گھر کے برابر میں ہی ہے ۔پہلی دفعہ تو اس نے بات سنی ان سنی کر دی میں نے دو تین مرتبہ اصرار کیا پھر جا کر وہ پچھلی سیٹ پر آ کر براجمان ہوئی،اور بیٹھتے اپنے موبائل میں لگ گئی۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو میرے فون پہ نوٹیفکیشن آیا۔دی اسمارا اپلوڈڈ سٹوری میں نے دیکھا تو اس میں درج تھا فکس آدھے گھنٹے کے بعد وہ لائیو آئیں گی میں نے غصے سے اسما کی طرف دیکھا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اگر وہ میرا وقت ضائع نہ کراتی تو میں اب تک گھر ہوتا۔جیسے تیسے میں نے بیس منٹ میں اسما کو گھر چھوڑا اپنی گاڑی پارک کی اور سیدھا بالکنی کی طرف روانہ ہوا موبائل وہاں سیٹ کیا چائے منگوا لی ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ لائیو آگئی ۔۔ سو سوری گائز میں نے صبح لائیو آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ مسائل کی وجوہات پر میں نہ سکی تو کیسے ہیں آپ سب ؟

    سیاہ بال جو کبھی لمبے ہو جاتے تو کبھی چھوٹے کبھی سیدھے اور کبھی گھنگریالے ہر روز فیشن کے نام پر نیا تجربہ اور ہر بار تجربہ ثمر پار ثابت ہوتا وہ ہر طرح کے حلیے میں حسین ترین لگتی تھی۔کبھی کبھار ہی لائیو آتی لوگ اس سے سوال پوچھتے ہیں جواب دیتی اس سے جواب پا لینا بھی کسی کی خوش قسمتی ہی ہوتی تھی میں نے بھی کئی دفعہ پیغام چھوڑا لیکن مجھ پہ قسمت کبھی اتنی مہربان نہیں ہوئی۔اچھا تو اگلا سوال ہے اسماء کا انہوں نے کہا ہے کہ آپ بہت پیاری ہیں تھینک یو سو مچ اسما آپ بھی بہت پیاری ہیں ہم سب ہی پیارے ہوتے ہیں۔یہ بات اس نے کہہ تو دی تھی لیکن شاید اس نے اسماء کو حقیقت میں نہیں دیکھا تھا اگر وہ دیکھتی تو کبھی یہ نہ کہتی کہ سب حسین ہوتے ہیں

    اچھا گائز پھر کبھی لائیو آؤں گی اور ڈھیر ساری باتیں کریں گے اللہ حافظ۔ابھی وہ گئی تھی کہ امی آ گئی تم ہر وقت اس موبائل میں گھسے رہتے ہو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔کیا بات کرنی ہے اماں ؟دیکھو لمبی چوڑی باتیں کرنا مجھے پسند نہیں سیدھا کہتی ہوں۔۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجے میں دروازہ کھولنے گیا تو دروازے پہ موجود موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکیاں تھی جو غالباً پولیو کے قطرے پلانے آئیں تھیں موٹر سائیکل کچھ دیکھا دیکھا لگ رہا تھا اور ان میں سے ایک لڑکی کی آواز بھی جانی پہچانی تھی لیکن میں نے غور نہیں کیا اور انہیں یہ بتا کر دروازہ بند کر دیا کہ یہاں میں سب سے چھوٹا بچہ ہوں۔

    واپس آیا ہاں تو اماں اپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔اب میں نے کیا کہنا ہے ساری بات کا تسلسل خراب کر دیا صبح بات کریں گے۔۔
    صبح ناشتے کی میز پر ہی میں نے اماں سے پوچھا۔
    اماں آپ نے کچھ کہنا تھا شام میں، کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے نا, بات تو میں بتاتی ہوں پر پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ تو میری بات مانے گا۔۔ اماں شادی کے علاوہ جو بات منوانی ہے منوا لو۔۔
    نہیں نہیں اس دفعہ بس تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔بس دس منٹ کے لیے ،وعدہ شادی کی بات نہیں کروں گی ۔۔لیکن اماں جانا کہاں ہے؟ زیادہ سوال نہیں کرو میرے ساتھ چلو۔

    اچھا اماں آپ چلیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔ میں اماں کے بتائے ہوئے رستے پر ان کے ہمراہ چل پڑا کچھ دیر کے بعد ہم ایک آستانے پر پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ گھنگریالے بال، بڑی بڑی آنکھوں میں بہت زیادہ سرمہ پیلے دانت ،سیاہ رنگ کا کرتا گلے میں رنگ برنگی تسبیحات ڈالے ایک عورت نما کوئی جاندار چیز بیٹھی دم درود پڑھ رہی تھی۔ خوف اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ میں نے اماں کی طرف دیکھا۔۔تو اماں نے اسکے جواب مجھے ڈانٹنے والی نظروں سے دیکھا۔۔اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہمارا نمبر آیا اماں نے اسے بتایا کہ میں شادی نہ کرنے پر بضد تو اس نے اماں کو کوئی کاغذ پکڑایا جس پر نہ جانے کیا لکھا تھا اور ان کے کان میں کوئی بات کی جو بہر حال مجھے سنائی نہیں دے سکی۔۔۔اماں نے ان سے اجازت چاہی ۔۔ویسے میرا دل تو معذرت چاہنے کا تھا۔۔۔۔وہاں سے ہم گھر کے لیے روانہ ہوئے اور اسمارہ نے دوبارہ لائیو آنا تھا گھر پہنچے موسم کچھ خراب ہو گیا ، ایک دم آندھی آگئی جو کپڑے چھت پر پھیلائے تھے وہ پڑوسیوں کے گھر جاگرے تو میں نے اماں کو بتایا کیونکہ اسما کے گھر جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا گھر میں بس وہ ماں بیٹی ہی رہتی ہیں تو یوں مناسب نہیں لگتا اماں نے مجھے مجبور کیا کہ جاگ کر میں کپڑے لے آؤں تجھے کیا کہنا ہے ان لوگوں نے اتنی دیر میں نوٹیفیکیشن آیا پندرہ منٹ بعد لائیو آؤں گی ۔ ۔۔میں نے جلدی جلدی پڑوسیوں کا دروازہ بچایا تو اس کی اماں نے دروازہ کھولا میں نے بتایا کہ ہوا کی وجہ سے کپڑے گر گئے تھے وہ پکڑا دیں انہوں نے مجھے اندر بلا لیا بیٹھنے کو کہا میں نے منع کیا اور کہا کہ مجھے کپڑے دے دے اب کیونکہ میں ان کے گھر پہلی دفعہ گیا تھا تو وہ کپڑے لینے کے بجائے کچن میں چلی گئی مجھے جلدی تھی اور ان کے منصوبے لمبے نظر آرہے تھے لیکن میں مجبور تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ کپڑے گندی جگہ پر گر گئے تھے تو اسمإ نے دوبارہ دھو کر چھت پر پھیلا دیے ہیں اب بیٹا میری ٹانگوں میں تو اتنی جان نہیں کہ میں چھت پر جاؤں اور اسما کسی کام میں مصروف ہے اپنا ہی گھر ہے چھت سے میرا بیٹا جا کر کپڑے لے آؤ۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں ان کو کیا کہوں ؟ مجھے دیر ہو رہی تھی اور وہ میری امی کی طرح بات نہیں سمجھ رہی تھیں میں بھاگتا بھاگتا چھت پر جا رہا تھا برآمدے میں کمرے کے آگے سے گزرا اس کا دروازہ آد کھلا تھا سامنے دیوار پہ مجھے ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی جو آدھی دکھ رہی تھی اور تصویر لگ بھی دیکھی دیکھی رہی تھی تو میں نے لاشعوری طور پر کمرے کا دروازہ کھول دیا اس وقت مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کہاں جاؤں ،پیروں تلے زمین نکلنا اس سے پہلے تک میرے لیے صرف ایک محاورہ تھا۔۔اس دن میرے لیے ایک عجیب قسم کا تجربہ تھا وہ تصویر وہی تصویر تھی جو اسمارا کے سٹوڈیو میں لگی نظر آتی تھی جب بھی وہ لائیو آتی تھی،اور وہاں شیشے کے سامنے ایک لڑکی جو میرا خواب تھی کائنات کی حسین ترین لڑکی اپنے حسن کو مزید سنوار رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کی چابی، سفید چادر ،پولیو کے قطرے پلانے والا نیلے رنگ کا ڈبہ سیاہ رنگ کا کرتا ایک طرف لٹکا تھا اور اسی کے ساتھ رنگ برنگی تسبیحات پڑی تھیں ،ایک جانب لینز کی ڈبی پڑی تھی جو اکثر اسمارہ لگایا کرتی تھی اور دوسری جانب ایک ڈبیا میں پیلے دانت یہ سارا منظر کچھ لمحوں کا بھی نہیں تھا میں کیسے وہاں سے گھر پہنچا نہیں معلوم کپڑے لائے نہیں لائے لیکن سوال بہت سارے لے آیا تھا۔
    مجھے نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے مجھ پر اس طرح مہربان ہونا تھا۔

  • آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔

    صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی، جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔

    سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔

    عدالت نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے رائے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق 4 کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

    اس ریفرنس کی سماعت ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن جاری رہی سماعت کے دوران راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی سربمہر آئینی رائے ایوانِ صدر ارسال کی، جسے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے صدر کے دفتر تک پہنچایا۔

    آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ 12 نشستیں جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں مقیم کشمیری ووٹ ڈالتے ہیں۔

    انتخابات سے قبل ان 12 مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت پر اختلافات سامنے آئے تھے، جس کے بعد حکومت نے قانونی ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کی ریفرنس میں عدالت سے رائے مانگی گئی تھی کہ آیا ان نشستوں کو ختم کیا جا سکتا ہے یا انہیں محض علامتی نمائندگی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

    یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں ان کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شامل ہیں، ان نشستوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کے نتائج اکثر حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی حالیہ رائے کے بعد مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے اور حکومت کا مؤقف قانونی طور پر درست قرار پانے کے ساتھ ساتھ ان نشستوں سے متعلق جاری سیاسی تنازع کو بھی ایک اہم آئینی سمت مل گئی ہے

  • تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،امریکا کا ایران کے فنڈزخلیجی ممالک کو دینے کا فیصلہ

    تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،امریکا کا ایران کے فنڈزخلیجی ممالک کو دینے کا فیصلہ

    ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ سفارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے کویت اور بحرین پر حملوں کے بعد مزید ڈرونز بھی لانچ کیے ہیں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگائے۔

    امریکی حکام مستقبل میں ہونے والی ممکنہ تباہی کے ازالے کے لیے بھی ایرانی اثاثوں کے استعمال پر غور کر رہے ہیں یہ انکشاف ایک روز بعد سامنے آیا جب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی ایک اہم شرط امریکا میں منجمد 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی رہائی ہے۔

    ہفتے کے روز ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کن نوعیت کے اثاثوں کا جائزہ لے رہا ہے تاہم استعمال کی گئی اصطلاحات سے یہ تاثر نہیں ملا کہ یہ اقدام صرف منجمد اثاثوں تک محدود ہوگا۔

    مبصرین کے مطابق ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے کی امریکی تجویز واشنگٹن اور تہران کے درمیان نازک جنگ بندی کے لیے ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز تہران پہنچے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک خصوصی خط بھی ساتھ لائے۔

    ادھر امریکی افواج نے ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے ایرانی ساحلی ریڈار مراکز پر حملے کیے امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کارروائی سے قبل ایران کی جانب سے لانچ کیے گئے ایسے ڈرونز مار گرائے گئے تھے جو سمندری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے،امریکی فوج نے بعد ازاں مزید دو ایرانی حملہ آور ڈرونز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے تھے۔

    بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہےکویتی فوج کے مطابق ہفتے کے روز اس نے سات بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا جو رہائشی علاقوں کے اوپر سے گزرے، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بحرین میں حملوں کے دوران خطرے کے سائرن بجائے اٹھے تھے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، کویت اور بحرین دونو ں نے ان حملوں کی مذمت کی تھی،بعد ازاں ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا تھا کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

  • سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2  ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2 ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    تونسہ: سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تونسہ اور گرد و نواح کے علاقوں کو ممکنہ دہشت گردی سے محفوظ بنا لیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک ہدفی آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دو دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ دہشت گرد تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے آباد علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کے پیش نظر ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق رات بھر جاری خفیہ مانیٹرنگ، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور زمینی نگرانی کے بعد تقریباً رات 12 بج کر 30 منٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہدفی ڈرون کارروائی قبائلی علاقہ تونسہ کے درہ واہوا سیکٹر میں کچی لکھانی کے قریب کی گئی۔ابتدائی زمینی جائزوں کے مطابق کارروائی انتہائی درست ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد موقع پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ کارروائی کے بعد باقی دہشت گرد اپنے زخمی ساتھی کو ساتھ لے کر قریبی دشوار گزار علاقوں کی جانب فرار ہو گئے۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ مختلف راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا، جس سے تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے علاقوں کو ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور علاقے کے امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد متحرک ،بلوچستان سے آنے والے دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اسمگل شدہ سامان اتار لیا،گاڑیاں بھی قبضہ میں لے لیں،علاقے میں دہشتگردی کا خدشہ،شہریوں نے سیکورٹی فورسز سے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

    باخبر ذرائع کے مطابق 25 سے 30 کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد تونسہ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع بارڈر ملٹری پولیس اسٹیشن چتروٹہ کی حدود میں موجود تھے۔دہشت گردوں نے بلوچستان سے آنے والے نان کسٹم پیڈ سامان لے جانے والی دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں دونوں گاڑیوں سے اسمگل شدہ سامان اتار لیا گیا۔ان پیش رفتوں کے پیش نظر اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ٹی ٹی پی کے عناصر ضبط شدہ گاڑیوں کو تونسہ کے علاقے میں سرحدی سکیورٹی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے فوری طور پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کریں، تمام قریبی چیک پوسٹوں کو مضبوط بنائیں،ٹی ٹی پی دہشتگردوں‌کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ علاقہ میں امن و امان قائم رہے.

    واضح رہے کہ 19 مئی کو خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر قائم بارڈر ملٹری پولیس کے تھانہ چتروٹہ پر ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، دھماکہ خیز مواد سے تھانے کی عمارت کو شدید نقصان۔ دھماکوں کے بعد مسلح افراد کی جانب سے تھانے کا محاصرہ بھی کیا گیا تھا

  • امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ، کم از کم 12 افراد زخمی

    امریکا میں فیسٹیول کے دوران فائرنگ، کم از کم 12 افراد زخمی

    امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں دو حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہےمتاثرین کی عمریں 14 سے 61 سال کے درمیان ہیں، اس واقعے میں دو افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔

    پولیس لیفٹیننٹ ڈین گرکن نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے (جرائم کے) بہت سے مناظر دیکھے ہیں، لیکن یہ واقعہ حد سے زیادہ سنگین ہے،تفتیش کار متعدد افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں-

    ڈپٹی چیف جوزف ہیفرنن نے اسے ایک “انتہائی سرگرم” تحقیقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے ہیفرنن نے بتایا، ہمارے پاس کچھ شواہد موجود ہیں اور ہم کچھ اہم سراغوں پر کام کر رہے ہیں-

    ٹولیڈو کے ڈائریکٹر پبلک سیفٹی جارج کرال نے عوام سے موبائل فون کی فوٹیج فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ پولیس کو مشتبہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے پاس معلومات موجود ہیں، براہ کرم ہماری مدد کریں تاکہ ہم آپ کی مدد کر سکیں، اس تقریب میں چند سو لوگ موجود تھےیہ ٹولیڈو کے سب سے تاریخی اور معروف تہواروں میں سے ایک ہے، اور یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس طرح کے واقعے نے اسے خراب کر دیا۔

    ٹولیڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ‘اولڈ ویسٹ اینڈ فیسٹیول’ کے قریب ایک شخص کو گولی لگنے کی اطلاع پر شام تقریباً 5:37 بجے اہلکاروں کو روانہ کیا گیا ،متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے-

    ‘گن وائلنس آرکائیو’ ویب سائٹ کے مطابق، ٹولیڈو کے واقعے کے علاوہ، رواں سال امریکہ میں بڑے پیمانے پر فائرنگ (ماس شوٹنگ) کے 171 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں یہ ویب سائٹ بڑے پیمانے پر فائرنگ کی تعریف ایک ایسے واقعے کے طور پر کرتی ہے جس میں حملہ آور کے علاوہ کم از کم چار افراد گولی لگنے سے زخمی یا ہلاک ہوئے ہوں۔

  • تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے 14 سے 15 مسلح دہشتگرد بارڈر ملٹری پولیس (BMP) تھانہ چتروٹہ کی حدود میں واقع کچی لکھانی کے علاقے کی ایک مسجد میں موجود ہیں، جہاں وہ مقامی آبادی کے ساتھ ملاقاتیں اور اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر مقامی لوگوں کو بارڈر ملٹری پولیس میں جاری بھرتی مہم میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے عوامی اعلانات کے ذریعے نوجوانوں کو رضاکارانہ بھرتی سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے،اور کہا جا رہا ہے کہ علاقے پر ان کا اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔

    اطلاعات کے مطابق شدت پسند اپنے خطابات میں مقامی آبادی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عوام کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم وہ لوگوں کو اپنی تنظیم اور نظریات کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    سکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • بیرونِ ملک جانے کی کوشش، صوبائی وزیر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    بیرونِ ملک جانے کی کوشش، صوبائی وزیر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر تعلیم وبلدیات مینا خان آفریدی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم وبلدیات میناخان آفریدی کو ایف آئی اے حکام نے پشاور ائیرپورٹ سے بیرون ملک جانے سے روک دیا میناخان جرمنی میں ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کےلئے جارہے تھے،میناخان آفریدی کو پشاورباچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ایف آئی اے حکام نے اس وقت بیرون ملک جانےسےروکا جبکہ وہ ابوظہبی کے لئے روانہ ہورہے تھے میناخان آفریدی کی ابوظہبی سے جرمنی پروازشیڈول تھی، وہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہے تھے انہیں ایف آئی اے حکام نے امیگریشن سے پہلے ہی روکا۔

    صوبائی وزیر نے ایکس پر بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کی واضح اجازت کے باوجود انہیں ایف آئی اے امیگریشن نے فلائٹ پر سوار ہونے سے روکا وہ جرمن یونیورسٹی کی خصوصی دعوت پر بیرون ملک جا رہے تھے، جہاں دورے کے دوران کئی اہم سرکاری و تعلیمی معاملات طے کیے جانے تھے۔

    انہوں نے ایئرپورٹ پر روکے جانے پر شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک مقام ہے کہ اب ملک میں ہائیکورٹ کے احکامات کو بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران صوبائی وزیر مینا خان کو اپنے سرکاری فرائض کے سلسلے میں بیرون ملک دورے کی اجازت دے رکھی تھی، دو روز قبل جاری کیے گئے عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ مینا خان کا نام پی این آئی ایل میں شامل ہے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کو جرمنی میں تقریب میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے، درخواست گزار یونیورسٹی تقریب میں شرکت کے بعد 16 جون کو واپس آ ئیں گے، ایف آئی اے عارضی طور پر درخواست گزار کا نام لسٹ سے نکال دے۔

  • چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔