Baaghi TV

Blog

  • دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے عالمی پیشگوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکا ن 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیا تی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے، بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکا میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے،ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر 2سے7 سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

    صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتےعوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی، یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی، اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا،بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا،اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سپیئر پارٹس کی دکان پر ڈکیتی،ڈاکو لاکھوں روپیہ لوٹ کر فرار

    سپیئر پارٹس کی دکان پر ڈکیتی،ڈاکو لاکھوں روپیہ لوٹ کر فرار

    قصور
    اسلحہ بردار ڈاکوؤں کی سپیئر پارٹس کی دکان اور شہریوں سے لاکھوں روپے کی لوٹ مار

    قصور کے تھانہ صدر قصور کے علاقے دیپالپور روڈ پر واقع ایک سپیئر پارٹس کی دکان اور قریبی شہریوں سے نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر لاکھوں روپے نقدی، موبائل فون اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

    درخواست گزار کمال چشتی کے مطابق وہ 31 مئی 2026 کو شام تقریباً 5 بجے اپنی مزدا سپیئر پارٹس کی دکان پر موجود تھا کہ تین نامعلوم مسلح ملزمان اچانک وہاں پہنچ گئے۔ ملزمان نے پہلے ہمسایہ دکاندار علی حیدر سے 28 ہزار روپے اور ناصر سے 10 ہزار روپے نقدی چھین لی۔ بعد ازاں ایک گاہک احمد علی سے 3 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون بھی چھین لیا۔

    درخواست کے مطابق ملزمان بعد ازاں سپیئر پارٹس کی دکان میں داخل ہوئے اور اسلحہ کے زور پر دکان کے گلے سے 3 لاکھ 75 ہزار روپے نقدی لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ملزمان فرار ہوتے وقت بنگلہ کمیواں کی جانب روانہ ہوئے۔

    متاثرین کے مطابق ملزمان کی عمریں تقریباً 28 سے 30 سال کے درمیان تھیں جبکہ انہیں سامنے آنے پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔ درخواست گزار نے پولیس سے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی فوری گرفتاری اور لوٹا گیا مال برآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفانی بارش،20 سے زائد افراد زخمی

    سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفانی بارش،20 سے زائد افراد زخمی

    سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفان اور بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا –

    رپورٹس کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید مٹی کے طوفان اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے شدید گرمی کی لہر کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے اس موسم کی تبدیلی کے نمایاں اثرات سامنے آئے ہیں-

    اسلام آباد ،لاہور ،جہلم،سرگودھا ،گجرات ،رحیم یار خان ، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی ہے خیبرپختونخوا میں تیز ہوا ئیں،طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئےتھرپارکر میں بارش اور سکھر میں ژالہ باری ہوئی جبکہ لاڑکانہ ،حیدرآباد، مٹیار ی، ہالہ،نیو سعیدآباد ، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچائی، جبکہ تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پارا چنار، ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی، تھرپارکر اور دیگر علاقوں میں بھی متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں۔

  • قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں –

    آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.

    ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا،ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا، ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

    امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے،یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.

    اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.

  • 
کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور

    
کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور

    ‎وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت جاری ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس قوانین میں مجوزہ ترامیم کے تحت کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے منافع پر 15 سے 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا مقصد ڈیجیٹل معیشت سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیجیٹل کاروباروں اور ورچوئل اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کرپٹو کرنسی کے شعبے کو قانونی اور ریگولیٹری دائرہ کار میں لانے کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی نے بھی متعدد سفارشات مرتب کی ہیں۔ اتھارٹی کی جانب سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ملک میں کرپٹو صارفین کی تعداد، لین دین کے حجم اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نظام کا جائزہ لے رہی ہے۔
    ‎حکومتی سطح پر ورچوئل اثاثوں کو باضابطہ قانونی حیثیت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک جامع ڈیجیٹل کرنسی فریم ورک متعارف کرایا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے اور کرپٹو کرنسیوں کے تبادلے کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں کرپٹو مارکیٹ کو پہلی مرتبہ ایک واضح قانونی اور ٹیکس ڈھانچہ مل جائے گا۔ اس سے سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان شفافیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 
ایران جنگ بندی معاہدے پر غور میں مصروف، امریکا سے مذاکرات جاری

    
ایران جنگ بندی معاہدے پر غور میں مصروف، امریکا سے مذاکرات جاری

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر غور جاری ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق تہران امریکی تجویز کردہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی تنازع کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا اور صورتحال تعطل کا شکار ہے۔ اس دوران عبوری معاہدے کے لیے ہونے والی بالواسطہ بات چیت بھی تاحال فیصلہ کن پیش رفت نہیں کر سکی۔
    ‎ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران مجوزہ معاہدے کا سختی سے جائزہ لے رہا ہے کیونکہ ایران کو ماضی میں امریکا کی جانب سے معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے تحفظات اور عدم اعتماد کا سامنا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی قیادت کسی بھی نئے معاہدے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے کے دوران جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے حوالے سے معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران ایک محدود عبوری معاہدے کا خواہاں ہے جس کے ذریعے اقتصادی دباؤ میں کمی لائی جا سکے، جبکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر رعایتیں دینے سے گریز کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ایران خطے میں تمام محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے، تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی، بعض پابندیوں میں نرمی اور بندرگاہوں پر عائد رکاوٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    ‎ادھر لبنان میں بھی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں محدود فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کریں گے۔

  • 
پاکستان اسٹیل ملز میں 284 ارب کے مبینہ نقصان کی تحقیقات تیز

    
پاکستان اسٹیل ملز میں 284 ارب کے مبینہ نقصان کی تحقیقات تیز

    ‎وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان اسٹیل ملز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور اربوں روپے کے نقصان سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو طلب کر لیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایف آئی اے پاکستان اسٹیل ملز میں مبینہ طور پر 284 ارب روپے کے نقصان کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ تحقیقات انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جاری ہیں، جن کا مقصد مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔
    ‎اس سلسلے میں ایف آئی اے نے پاکستان اسٹیل ملز کے فوکل پرسن کو باضابطہ خط جاری کیا ہے، جس میں متعلقہ افسران کی پیشی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادارے کی جانب سے تحقیقات میں مکمل تعاون کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے 12 افسران کو طلب کیا ہے، جو ماضی میں پاکستان اسٹیل ملز میں پیش آنے والے چھ بڑے واقعات اور ان سے متعلق انکوائریوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان افسران سے مختلف معاملات پر معلومات اور ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔
    ‎تحقیقاتی ذرائع کے مطابق انکوائری کا مقصد یہ جاننا ہے کہ مبینہ مالی نقصان اور انتظامی بے ضابطگیوں کے اسباب کیا تھے، اور آیا کسی مرحلے پر قوانین یا ضابطوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ اس مقصد کے لیے ماضی کی رپورٹس، دستاویزات اور انکوائری ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎پاکستان اسٹیل ملز کئی برسوں سے مالی مشکلات اور انتظامی مسائل کا شکار رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی ادارے کی بحالی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے معاملات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

  • 
گھوٹکی میں حاملہ خاتون غیرت کے نام پر قتل

    
گھوٹکی میں حاملہ خاتون غیرت کے نام پر قتل

    ‎سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں ایک 19 سالہ حاملہ خاتون کے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش مبینہ طور پر قتل کے بعد دریائے سندھ میں پھینک دی گئی، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ آندل سندرانی کے علاقے میں چند روز قبل پیش آیا، تاہم اس کی اطلاع بعد میں موصول ہوئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    ‎ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو دورانِ گشت ایک مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ حمیدان نامی خاتون، جن کی شادی خادم نامی شخص سے ہوئی تھی، کو مبینہ طور پر "کاروکاری” کے الزام میں قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون پر ایک شخص کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
    ‎پولیس کے مطابق الزام ہے کہ خاتون کو ان کے شوہر اور دیگر رشتہ دار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں دریائے سندھ کے کنارے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا اور لاش دریا میں پھینک دی گئی۔
    ‎تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ حاملہ تھیں اور ان کی ابھی کوئی اولاد نہیں تھی۔ واقعے نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں نے بھی اس نوعیت کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    ‎مدعی کے بیان کے مطابق پولیس نے لاش کی تلاش کے لیے کارروائی کی، تاہم دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے تاحال لاش برآمد نہیں ہو سکی۔ تلاش کا عمل جاری ہے اور مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن تمام ملزمان فی الحال مفرور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔