Baaghi TV

Blog

  • امریکہ اور اسرائیل خلیج میں مسافر جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،تہران

    امریکہ اور اسرائیل خلیج میں مسافر جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،تہران

    ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے خلیج فارس میں غیر فوجی اور مسافر جہازوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

    ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا،”امریکی،صہیونی دشمن، مسلسل شکستوں اور جمہوری اسلامی ایران کی مسلح افواج کے طاقتور حملوں کا مقابلہ نہ کر پانے کی وجہ سے، خلیج فارس میں نجی جہازوں اور مسافر ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔””ہم انتباہ دیتے ہیں کہ اگر یہ بزدلانہ جارحیت دہرائی گئی تو سخت اور جوابی کارروائی کی جائے گی۔”

    جمعرات کے روز، امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں نے ایرانی بندرگاہ کو نشانہ بنایا، کمپنی نے کہا کہ تجارتی جہازوں کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔تاہم، ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ حملے میں کم از کم 16 تجارتی جہاز تباہ ہو گئے۔

    دوسری جانب ایران میں رہائشی مکان پر امریکی و اسرائیلی حملے سے ماں باپ بچے سمیت شہید ہوگئے،ایران کے شہر رامسر میں امریکا اسرائیل نے رہائشی مکان پر حملہ کیا، جس میں میاں بیوی اور ان کا بچہ شہید ہوگیا،ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا دشمن کی بے بسی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے، ایسے بزدلانہ حملے ایرانی شہریوں کی ہمت میں کمی نہیں بلکہ قومی اتحاد میں اضافہ کریں گے

  • ہمیں ہرحال میں تیل کی بچت کو ممکن بنانا ہے،عطا تارڑ

    ہمیں ہرحال میں تیل کی بچت کو ممکن بنانا ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید اوپرجاسکتی ہیں، ہم سب کو مل کر بچت کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

    وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، علی پرویز ملک کا کہنا تھاکہ خطے میں اس وقت کشیدگی کا سامنا ہے، وزیراعظم نے اپنی پوری ٹیم کو اکٹھا کرکے کفایت شعاری کی، وزیراعظم کی ٹیم کی مراعات میں کٹوتیاں کی گئیں، کفایت شعاری کے باعث اس ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے آگے بند باندھاگیا، وزیراعظم نے عید کی خوشیوں کومد نظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھا، حکومت اور عوام دونوں کو توانائی کی بچت میں بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا،عوام کو بھی مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت سے مضبوط نظام قائم کریں گے، حکومت کمزور طبقے کا مضبوط سہارا بننا چاہتی ہے، ہم سب کو مل کر ملک کو اس بحران سے نکالنا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ عالمی منڈی کے حساب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیاجاتا ہے، ہمیں ہرحال میں تیل کی بچت کو ممکن بنانا ہے،اس ہفتے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، وزیراعظم کو تجویز دی گئی کہ پٹرول 77 روپے اور ڈیزل 176 روپے بڑھائے جائیں، مگر وفاقی حکومت نے 69 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے، اس ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 150 اور ڈیزل کی قیمت میں 250روپے اضافہ روکاگیا، آنے والےدنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید اوپرجاسکتی ہیں، ہم سب کو مل کر بچت کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل بنانا ہوگا،وزیر اعظم صاحب نے وقت سے پہلے کمیٹی تشکیل دی اور روزانہ جائزہ اجلاس کرتے رہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں تیل کے ذخائر مناسب مقدار میں موجود رہے۔پاکستان میں دستیاب تیل کی قیمت عالمی منڈی کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ بھرپور کوشش کی گئی کہ پہلے 55 روپے کے اضافے کے بعد عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے۔

  • اسکاٹ لینڈ کے جوہری بحری اڈے میں داخلے کی کوشش ایرانی شہری سمیت دو گرفتار

    اسکاٹ لینڈ کے جوہری بحری اڈے میں داخلے کی کوشش ایرانی شہری سمیت دو گرفتار

    اسکاٹ لینڈ میں واقع برطانیہ کے اہم جوہری بحری اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے پر ایک ایرانی مرد اور ایک رومانیہ کی خاتون کو گرفتار کر کے ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی شام تقریباً 5 بجے پیش آیا، جب دو افراد نے مذکورہ حساس فوجی تنصیب میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں 34 سالہ ایرانی مرد اور 31 سالہ رومانیہ کی خاتون شامل ہیں، جن کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

    واضح رہے کہ یہ بحری اڈہ، جسے فاسلین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانیہ کے جوہری آبدوز بیڑے کا مرکزی مرکز ہے اور اسے انتہائی حساس دفاعی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔حکام نے واقعے کی نوعیت اور ممکنہ مقاصد جاننے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جبکہ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • سپر مائیکروکا شریک بانی اربوں ڈالر کی جی پی یوز چین اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار

    سپر مائیکروکا شریک بانی اربوں ڈالر کی جی پی یوز چین اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار

    امریکی ٹیک کمپنی سپر مائیکروکے شریک بانی Yih-Shyan “Wally” Liaw کو امریکی حکام نے مبینہ طور پر 2.5 ارب ڈالر مالیت کے جدید سرورز اور جی پی یوز چین اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 71 سالہ لیاؤ اور ان کے دو ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ منصوبے کے تحت کمپنی کے اے آئی سرورز چین منتقل کیے، جو امریکی برآمدی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس کیس میں دیگر ملزمان میں Ruei-Tsang “Steven” Chang شامل ہیں جو تاحال مفرور ہیں، جبکہ تیسرے ملزم Ting-Wei “Willy” Sun کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔استغاثہ کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران ایک پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے سرورز چین پہنچائے گئے۔ اس میں ایک جنوب مشرقی ایشیائی کمپنی کو بطور "خریدار” استعمال کیا گیا۔سرورز امریکہ میں تیار کیے جاتے،پھر تائیوان بھیجے جاتے،وہاں سے مذکورہ کمپنی کے نام پر شپمنٹ کی جاتی بعد ازاں پیکجنگ تبدیل کر کے اصل منزل یعنی چین بھیج دیا جاتا

    حکام کے مطابق اس پورے عمل کے دوران جعلی دستاویزات اور جھوٹی معلومات فراہم کی گئیں تاکہ کمپنی کے کمپلائنس سسٹم کو دھوکہ دیا جا سکے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گوداموں میں ہزاروں جعلی (ڈمی) سرورز رکھے گئے تاکہ معائنہ کرنے والی ٹیموں کو دھوکہ دیا جا سکے۔کیمرہ فوٹیج میں مبینہ طور پر ملزمان کو ہیئر ڈرائر کی مدد سے سیریل نمبر اسٹیکرز تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

    حکام کے مطابق ان سرورز میں موجود جدید Nvidia جی پی یوز اس اسمگلنگ کا اصل مقصد تھے، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔سپر مائیکرو نے وضاحت کی ہے کہ کمپنی خود اس مقدمے میں فریق نہیں ہے۔لیاؤ کو عہدے سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا،چانگ کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا،سن کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا،کمپنی نے کہا ہے کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور برآمدی قوانین کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔

    اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سپر مائیکرو کے شیئرز میں آفٹر آورز ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 12 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پھیل گئی ہے۔حکام کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک اربوں ڈالر منافع کمانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جبکہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • امریکی فوجی جدید بمبار طیارہ برطانیہ کے فوجی اڈے پر پہنچ گیا

    امریکی فوجی جدید بمبار طیارہ برطانیہ کے فوجی اڈے پر پہنچ گیا

    برطانیہ میں واقع فوجی اڈے پر امریکی فضائیہ کا ایک جدید بمبار طیارہ اتار دیا گیا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کا بی-1 بی (B-1B) بمبار طیارہ B-1B Lancer برطانیہ کے علاقے گلوسٹرشائر میں قائم RAF Fairford پر لینڈ کر گیا۔ جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عملہ طیارے کی دیکھ بھال اور اسلحہ کی منتقلی میں مصروف ہے۔یہ فوجی اڈہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنی "دفاعی کارروائیوں” کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات ہیں کہ بحرِ ہند میں واقع مشترکہ امریکی و برطانوی فوجی اڈہ ڈیاگو گارشیا ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنا۔دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی بمبار طیارے کی برطانیہ آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو فعال کر رہا ہے۔

  • جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور دنیا کا مستقبل.تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عالمی معیشت، سیاست اور انسانی بقا کے تناظر میں بھی ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہیں۔ حالیہ بیانات، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے متضاد اشارے، اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ آیا دنیا جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے یا ایک بڑے تصادم کی دہلیز پر کھڑی ہے۔

    توانائی، جو جدید دنیا کی شہ رگ ہے، اس تنازع کا سب سے پہلا اور بڑا نشانہ بن رہی ہے۔آبنائے ہرمزجیسے اہم بحری راستے خطرے میں ہوں تو اس کے اثرات صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، گیس کی قلت اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے عالمی بحران کو جنم دے رہی ہیں جس کے اثرات ہر ملک، ہر شہر اور ہر فرد تک پہنچ سکتے ہیں۔

    معیشت کے ایوانوں میں بے چینی واضح ہے۔ عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں، سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہیں اور ترقی پذیر ممالک ایک نئے مالی طوفان کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ مہنگائی، جو پہلے ہی کئی خطوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی، اب مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو کساد بازاری کا خطرہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔

    لیکن یہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ گہرا سیاسی بھی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اتحادی کمزور ہو رہے ہیں، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور دنیا ایک نئے جغرافیائی سیاسی نقشے کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان اس عالمی توازن کو ہو رہا ہے جو دہائیوں کی محنت سے قائم کیا گیا تھا۔

    انسانی المیہ اس سب سے بڑھ کر ہے۔ جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات گھروں، شہروں اور عام انسانوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ نقل مکانی، جانی نقصان اور عدم تحفظ کا احساس ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔

    سوال یہ نہیں کہ یہ جنگ کہاں تک جائے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اسے کہاں روکنا چاہتی ہے۔ اگر فوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع ایک ایسے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔یہ وقت طاقت کے اظہار کا نہیں بلکہ بصیرت، تدبر اور اجتماعی دانش کا ہے۔ کیونکہ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کا اندھیرا بھی اتنا ہی گہرا ہوگا ، اور اس اندھیرے میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

  • بغداد میں ڈرون حملے سے ایک افسر ہلاک،امریکہ کا عراق سے بڑا انخلا آپریشن شروع

    بغداد میں ڈرون حملے سے ایک افسر ہلاک،امریکہ کا عراق سے بڑا انخلا آپریشن شروع

    امریکہ نے 2011 کے بعد عراق سے اپنا سب سے بڑا انخلا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے تحت تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو دارالحکومت بغداد سے جرمنی کے جنوبی شہر ڈرمسٹڈ میں قائم فوجی اڈے منتقل کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ انخلا سکیورٹی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا جا رہا ہے،بغداداور دیگر علاقوں میں امریکیوں پر پے در پے حملوں کے بعد ممکنہ طور پر امریکی انخلا شروع ہوا ہے،

    دوسری جانب عراق کے دارالحکومت بغداد میں انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک افسر ہلاک ہو گیا ہے۔ عراقی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون نامعلوم “ گروہوں” کی جانب سے داغا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ان گروہوں کا تعلق ایران سے ہے یا نہیں۔بیان کے مطابق حملہ حساس سیکیورٹی تنصیبات کے قریب ہوا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب نیٹو نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے عراق میں اپنے مشاورتی مشن سے تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔ اس کے علاوہ پولینڈ، اسپین اور کروشیا سمیت کئی ممالک بھی حالیہ دنوں میں اسی نوعیت کے انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔

  • مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔ٹرمپ

    مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی مشن ختم کرنے پر غور، جنگ کے اہداف حاصل کرنے کے قریب ہیں، آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اس کی حفاظت خود کرنا ہوگی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا اہم اہداف میں شامل ہے۔ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو کمزور کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، امریکا ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں آنے دے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا، امریکہ اپنے اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا ،جو ممالک آبنائے ہرمز استعمال کرتے ہیں اس کی حفاظت انھیں خود کرنی ہوگی، ان ممالک کی آبنائے ہرمز میں مدد کریں گے، لیکن اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے‏۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر گزشتہ رات کی گئی پوسٹ کو ماہرین نے ایران جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔امریکی صحافی مارک اسٹون کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ سے پیچھے ہٹنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق اس پوسٹ میں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے تحفظ کا ذکر تو کیا گیا، تاہم اصل اہم نکتہ آبنائے ہرمز سے متعلق بیان ہے۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور سکیورٹی کی ذمہ داری ان ممالک کو اٹھانی چاہیے جو اس راستے کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ امریکہ اس میں براہ راست شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد ایسی ضرورت باقی نہیں رہنی چاہیے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے تحت واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنی براہ راست عسکری ذمہ داریوں کو کم کرنا چاہتا ہے اور خطے کے ممالک کو زیادہ کردار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

    قبل ازیں امریکہ نے ایرانی تیل پر 30 دنوں کے لیے پابندیاں اٹھا لی ہیں، جس سے پہلے سے سمندر میں موجود تیل کو عالمی منڈیوں میں فروخت اور فراہم کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران نے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اس اقدام کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنا اور تیل کی مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس مدت کے دوران تقریباً 140 ملین بیرل ایرانی تیل مارکیٹ میں داخل ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ ریلیف عارضی ہے اور صرف اس تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ٹرانزٹ میں ہے۔ نئی پیداوار یا نئے سودوں پر اب بھی پابندی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک قلیل مدتی حل ہے، مکمل پالیسی تبدیلی نہیں۔ یہ فیصلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں، بشمول بنجمن نیتن یاہو کے زیرِ اثر اسرائیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ جنگ عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کاعید پر کرم کا دورہ،پاک فوج کے بہادر جوانوں سےملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کاعید پر کرم کا دورہ،پاک فوج کے بہادر جوانوں سےملاقات

    آرمی چیف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عیدالفطر کے موقع پر کرم کا دورہ کیا اور جوانوں و افسران کے ساتھ عید منائی۔ انہوں نے نمازِ عید ادا کی اور پاکستان کے استحکام و خوشحالی کے لیے دعا کی۔

    فیلڈ مارشل نے جوانوں کے بلند حوصلے، غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں عید کی مبارکباد دی۔ آپریشن "غضبُ الحق” میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور سرحدی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے ان کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے سرگرم دہشتگردوں کو پاکستان کی سلامتی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔فیلڈ مارشل نے کامیابیوں کو شہداء کی عظیم قربانیوں اور افسران و جوانوں کے عزم کا نتیجہ قرار دیا، اور مسلح افواج کے پاکستان کی خودمختاری و سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

  • امریکہ و اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیب نطنز پرحملہ

    امریکہ و اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیب نطنز پرحملہ

    امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے، ایران کی جوہری تنصیب نطنز کو نشانہ بنایا گیا

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے آج صبح ایران کی اہم جوہری تنصیب نطنز پر مشترکہ فضائی حملہ کیا۔رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد فوری تحقیقات کی گئیں تاہم کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نطنز کے قریبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔یہ تنصیب ایران کے سب سے بڑے یورینیم افزودگی مراکز میں شمار ہوتی ہے اور ماضی میں بھی متعدد بار حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس کمپلیکس کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکہ کا ایک بنیادی مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔واضح رہے کہ نطنز کی یہی تنصیب گزشتہ سال جون میں امریکی آپریشن آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے دوران بھی نشانہ بنی تھی، جس کے نتیجے میں اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔