Baaghi TV

Blog

  • 
اٹلی میں چار پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار

    
اٹلی میں چار پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار

    ‎جنوبی اٹلی میں ایک افسوسناک واقعے میں جل کر تباہ ہونے والی منی وین سے چار پاکستانی زرعی کارکنوں کی لاشیں ملنے کے بعد اطالوی پولیس نے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
    ‎اطالوی اخبار کوریئرے ڈیلا سیرا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کالابریا میں پیش آیا، جہاں ایک منی وین مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی تھی۔ بعد ازاں گاڑی کے اندر سے چار پاکستانی شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق متاثرہ گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پیٹرول پمپ کے نزدیک کھڑی پائی گئی تھی۔ یہ علاقہ زرعی سرگرمیوں کے لیے معروف ہے اور یہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی مزدور کام کرتے ہیں۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیٹرول پمپ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث دیکھا گیا۔ مبینہ طور پر ویڈیو میں دونوں افراد منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور گاڑی کے اندر آتش گیر مادہ پھینکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فوٹیج میں بعد ازاں گاڑی میں آگ بھڑکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جبکہ دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہوتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ انہی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔
    ‎اطالوی حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ قتل کی ممکنہ وجوہات اور ملزمان کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔ تاحال مقتولین اور ملزمان کے درمیان تعلق یا واقعے کے پس منظر کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    ‎یہ واقعہ اٹلی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

  • 
وفاقی وزیر کے گھر میں چوری

    
وفاقی وزیر کے گھر میں چوری

    وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کے آبائی گھر میں چوری کی واردات پیش آنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واردات تھانہ سٹی کی حدود میں واقع وفاقی وزیر کے آبائی گھر میں ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کا جائزہ لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔
    ‎ابتدائی معلومات کے مطابق نامعلوم چور گھر میں داخل ہوئے اور وہاں نصب قیمتی سینٹری کا سامان اتار کر لے گئے۔ چوری ہونے والے سامان کی مالیت کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎گھر کے عملے کے مطابق یہ مکان وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا آبائی گھر ہے، جو ان کی غیر موجودگی کے باعث زیادہ تر بند رہتا ہے۔ اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوروں نے مبینہ طور پر واردات انجام دی۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ قریبی علاقوں میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ چوری میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں، فرانس

    
لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں، فرانس

    ‎فرانس نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور موجودگی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی سرزمین کے اندر اسرائیلی افواج کی مسلسل موجودگی یا طویل المدتی فوجی قبضے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے اندر جاری فوجی کارروائیوں اور وہاں طویل عرصے تک موجود رہنے کے لیے کوئی قانونی یا سیاسی جواز موجود نہیں۔ ان کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔
    ‎یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں واقع تاریخی قلعہ شقیف، جسے بیوفورٹ قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
    ‎فرانس نے ماضی میں بھی لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق پیرس موجودہ بحران کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دینے پر زور دے رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران نے بھی لبنان کی صورتحال کو مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تنازع سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی کسی بھی ایسے معاہدے کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے جو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ طے کیا جائے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان اور غزہ سمیت تمام تنازعات کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات ہی استحکام کی جانب راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

  • 
ملیر کینٹ کے قریب سلنڈر دھماکا، ایک شخص جاں بحق

    
ملیر کینٹ کے قریب سلنڈر دھماکا، ایک شخص جاں بحق

    ‎کراچی کے علاقے ملیر کینٹ کے قریب ایک دکان میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کر دیں۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ایک دکان کے اندر موجود سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں دکان کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس موجود افراد بھی خوفزدہ ہو گئے اور قریبی عمارتوں کے شیشے لرز اٹھے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات اور ممکنہ زخمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت اور دیگر قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
    ‎پولیس اور متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈرز کے استعمال میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے یا تکنیکی خرابی کی صورت میں ایسے حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس سلنڈرز اور متعلقہ آلات کے استعمال میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔

  • 
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی ضروری ہے

    
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی ضروری ہے

    ‎اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، رابطہ کاری کو فروغ دینے اور لبنانی مسلح افواج کی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کا کردار بدستور اہم ہے۔
    ‎اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ سال 2026 کے اختتام پر یونائیٹڈ نیشنز انٹرم فورس اِن لبنان (یونیفل) کا موجودہ مینڈیٹ ختم ہونے کے باوجود لبنان میں اقوام متحدہ کی موجودگی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی امن دستوں کی خدمات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
    ‎سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ اس وقت جنوبی لبنان میں تقریباً 7,500 اقوام متحدہ کے امن فوجی تعینات ہیں، جو جنگ بندی کی نگرانی، رابطہ کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ لبنان میں تعینات یونیفل کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گا۔ تاہم سلامتی کونسل نے سیکریٹری جنرل سے متبادل تجاویز طلب کی تھیں تاکہ مستقبل میں بھی لبنان میں امن مشن کی موجودگی برقرار رکھنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں انتونیو گوتریس نے تین مختلف آپشنز تجویز کیے ہیں۔ ان تجاویز کے تحت تقریباً 2,000 سے لے کر 5,500 سے زائد اقوام متحدہ کے اہلکار جنگ بندی کی نگرانی، کشیدگی میں کمی اور لبنانی فوج کی معاونت کے لیے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام مجوزہ منصوبوں کے تحت اقوام متحدہ کی وردی میں ملبوس فورس کی موجودگی ضروری ہوگی تاکہ فریقین کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جا سکے اور تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بلیو لائن، جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 120 کلومیٹر طویل عملی سرحد سمجھی جاتی ہے، حالیہ تنازعات اور عسکری سرگرمیوں کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔

  • 
بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

    
بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 17 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ کارروائیاں مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ کے علاقوں میں کی گئیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشنز کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 17 دہشتگرد مارے گئے۔
    ‎بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق "فتنہ الہندوستان” سے تھا اور وہ مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے مراکز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور ان کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے متعدد تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی قبضے میں لے لیے، جنہیں دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
    ‎فوج کے ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے میں سرچ اور سویپ آپریشنز بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "عزمِ استحکام” کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سے دہشتگردی اور اس کی بیرونی سرپرستی کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
    ‎سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں دہشتگرد عناصر کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ ہیں، جن کا مقصد امن و امان کو مستحکم کرنا اور دہشتگرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

  • 
محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں بغاوت کا مقدمہ درج

    
محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں بغاوت کا مقدمہ درج

    اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف بلوچستان کے شہر چمن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی، لاؤڈ اسپیکر کے مبینہ غلط استعمال اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقدمہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ولی خان غبیزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے ایک اجتماع کے دوران ایسے بیانات دیے جو متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
    ‎مقدمے کے اندراج کے بعد سیاسی حلقوں میں ردعمل سامنے آیا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور مخالف آوازوں کے خلاف مقدمات کا اندراج جمہوری روایات کے منافی ہے۔
    ‎تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق اختلاف رائے جمہوری نظام کا بنیادی جزو ہے اور سیاسی معاملات کا حل مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ مقدمہ قانون کے مطابق درج کیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی سیاسی شخصیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مبینہ خلاف ورزیوں کی قانونی جانچ کرنا ہے۔ متعلقہ ادارے مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائیں گی۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ مقدمہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہوتی ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا سیاسی کشیدگی سے بچا جا سکے۔

  • 
بدتمیز مسافروں پر سفری پابندی لگانے کی تجویز

    
بدتمیز مسافروں پر سفری پابندی لگانے کی تجویز

    ‎ہوائی سفر کے دوران نشے کی حالت میں عملے کے ساتھ بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے مسافروں کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ برطانیہ میں زیر غور منصوبے کے تحت ایسے افراد پر فضائی سفر کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے تاکہ پروازوں کے دوران عملے اور دیگر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں بعض پروازوں کے دوران نشے میں دھت مسافروں کی جانب سے فضائی میزبانوں اور دیگر عملے کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان واقعات کے بعد حکام نے سخت پالیسی متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
    ‎مجوزہ منصوبے کے تحت بدتمیزی، تشدد یا سنگین ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو ایک قومی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں اس فہرست میں شامل افراد کی معلومات مختلف ایئر لائنز کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ انہیں مستقبل کی پروازوں میں سفر کی اجازت نہ دی جا سکے۔
    ‎فی الحال مختلف ایئر لائنز اپنے طور پر ایسے مسافروں پر پابندی عائد کر سکتی ہیں، تاہم سخت ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے باعث ایک ایئر لائن دوسرے ادارے کے ساتھ مسافروں کا ریکارڈ شیئر نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کمپنی کی جانب سے پابندی کے باوجود بعض افراد دوسری ایئر لائن کے ذریعے سفر جاری رکھتے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق نئی تجاویز کا مقصد پروازوں کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار اور خطرناک واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر مختلف قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎گزشتہ ماہ ہونے والے ایک عوامی سروے میں تقریباً 75 فیصد افراد نے ایسے مسافروں کے خلاف سخت پابندیوں کی حمایت کی۔ عوام کی بڑی تعداد کا مؤقف تھا کہ فضائی سفر کو محفوظ اور پُرسکون بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ معروف ایئر لائن ریان ایئر کے سربراہ مائیکل اولیری کی جانب سے پروازوں سے قبل اور دورانِ سفر الکوحل کی فروخت اور استعمال پر مشروط پابندی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات نافذ ہو گئے تو فضائی سفر کے دوران نظم و ضبط اور مسافروں کی حفاظت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

  • 
آسٹریلیا کا پاکستان کو 232 رنز کا ہدف

    
آسٹریلیا کا پاکستان کو 232 رنز کا ہدف

    ‎قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جا رہے دوسرے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔ مہمان ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز اسکور کیے، جبکہ پاکستانی باؤلرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو بڑے مجموعے تک پہنچنے سے روک دیا۔
    ‎میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتدائی طور پر درست ثابت ہوا۔ اگرچہ آسٹریلوی بلے بازوں نے کچھ اہم شراکتیں قائم کیں، لیکن پاکستانی باؤلرز نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کر کے رنز کی رفتار کو قابو میں رکھا۔
    ‎آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور جوش انگلس نمایاں رہے۔ کیمرون گرین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 53 رنز بنائے جبکہ جوش انگلس نے 51 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ میٹ رینشا نے بھی 43 رنز کا اہم اضافہ کیا اور ٹیم کے مجموعے کو مستحکم بنانے میں کردار ادا کیا۔
    ‎آخری اوورز میں اولیور پیکے نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 32 گیندوں پر 31 رنز اسکور کیے۔ ان کی اننگز میں ایک چوکا اور دو چھکے شامل تھے، جس کی بدولت آسٹریلیا 230 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہا۔
    ‎پاکستانی باؤلرز میں عرفات منہاس نے ایک بار پھر متاثر کن کارکردگی دکھائی اور 27 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے بھی نپی تلی باؤلنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو آزادانہ کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
    ‎فاسٹ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی سب سے نمایاں رہے۔ انہوں نے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں اور درمیانی و آخری اوورز میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن پر دباؤ برقرار رکھا۔ حارث رؤف نے بھی اختتامی اوورز میں اپنی رفتار اور درست یارکرز سے بلے بازوں کو مشکلات میں رکھا اور اننگز کی آخری گیند پر اولیور پیکے کو بولڈ کر دیا۔
    ‎پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے اور آج کا میچ جیت کر گرین شرٹس سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے۔
    ‎میچ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ کے معروف مداح "چاچا کرکٹ” کو اختتامی تقریب میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف جاری سیریز کو اپنی آخری سیریز قرار دیا ہے۔

  • 
اے پی ایس شہداء پیکیج کیس، سپریم کورٹ کا وفاق سے جواب طلب

    
اے پی ایس شہداء پیکیج کیس، سپریم کورٹ کا وفاق سے جواب طلب

    ‎سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
    ‎کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے نشاندہی کی کہ درخواست مقررہ مدت سے 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی۔
    ‎یہ درخواست اے پی ایس شہداء کے لواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے اور توہین عدالت کے نکات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔
    ‎درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین کے لیے جس مالی اور فلاحی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، وہ تمام متاثرہ خاندانوں کو فراہم نہیں کیا گیا۔
    ‎سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت نے کسی پیکیج کی منظوری دی ہے تو اس کا فائدہ تمام مستحق لواحقین کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ عدالت کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے۔
    ‎عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت میں حکومت کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ اور جواب کا جائزہ لیا جائے گا۔