ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر غور جاری ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق تہران امریکی تجویز کردہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی تنازع کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا اور صورتحال تعطل کا شکار ہے۔ اس دوران عبوری معاہدے کے لیے ہونے والی بالواسطہ بات چیت بھی تاحال فیصلہ کن پیش رفت نہیں کر سکی۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران مجوزہ معاہدے کا سختی سے جائزہ لے رہا ہے کیونکہ ایران کو ماضی میں امریکا کی جانب سے معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے تحفظات اور عدم اعتماد کا سامنا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی قیادت کسی بھی نئے معاہدے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے کے دوران جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے حوالے سے معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران ایک محدود عبوری معاہدے کا خواہاں ہے جس کے ذریعے اقتصادی دباؤ میں کمی لائی جا سکے، جبکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر رعایتیں دینے سے گریز کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ایران خطے میں تمام محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے، تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی، بعض پابندیوں میں نرمی اور بندرگاہوں پر عائد رکاوٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ادھر لبنان میں بھی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں محدود فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایران جنگ بندی معاہدے پر غور میں مصروف، امریکا سے مذاکرات جاری
