Baaghi TV

Blog

  • آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار آم ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خبروں میں ہیں ماہرین کے مطابق فروٹ فلائیز (پھلوں پر حملہ کرنے والی چھوٹی مکھیاں) آموں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور گھریلو صفائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحال ہی میں بھارت میں آموں کے سیزن کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب جاپان نے وہاں سے آموں کی درآمد پر عارضی پابندی لگا دی۔

    یہ فیصلہ بھارت میں آموں کی برآمد کے لیے منظور شدہ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مرکز کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی اور حفظانِ صحت سے متعلق خامیوں کے بعد کیا گیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھلوں کو کیڑوں سے پاک کرنے والے مراکز کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگن پلی جیسی مشہور اقسام کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جاپانی قرنطینہ حکام نے مارچ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے رحمان پور میں واقع وی ایچ ٹی مرکز کا معائنہ کیا، جہاں دھونی کاری اور جراثیم کشی کے طریقۂ کار میں بعض خامیاں پائی گئیں دوطرفہ برآمدی معاہدے کے تحت جاپان بھیجے جانے والے تمام آموں کے لیے وی ایچ ٹی عمل سے گزرنا لازمی ہے تاکہ پھل کیڑوں اور فروٹ فلائی کے لاروؤں سے پاک ہو۔

    معائنے کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد جاری ہونے والے تصدیقی سرٹیفکیٹس کے حامل آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جاپانی حکام مطمئن نہیں ہو جاتے کہ متعلقہ مرکز مطلوبہ عملی اور نباتاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے مالی سال 25-2024 کے دوران قریباً 30 ہزار ٹن آم عالمی منڈیوں کو برآمد کیے، جن سے لگ بھگ 5 کروڑ 65 لاکھ ڈالر آمدنی حاصل ہوئی جاپان کو تازہ اور پراسیس شدہ آموں کی برآمدات کا حجم قریباً 15 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہا، جس میں گجرات کے کیسر آم کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔

    واضح رہے کہ جاپان نے 1986 میں بھی فروٹ فلائی کے خدشات کے باعث بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی طویل سائنسی جائزوں، نگرانی کے نظام اور وی ایچ ٹی سہولیات کی بہتری کے بعد 2006 میں بھارتی آموں کو دوبارہ جاپانی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

    موجودہ برآمدی انتظامات کے تحت بھارت کو الفانسو، کیسر، بنگان پلی، لنگڑا، چونسہ اور مالیکا سمیت 6 اقسام کے آم جاپان برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے یہ آم آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں قائم منظور شدہ مراکز سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

    ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی مکھیاں صرف آموں کو ہی خراب نہیں کرتیں بلکہ ان کے ذریعے پوشیدہ انڈے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں این ڈی ٹی وی کے مطابق اکلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ مکھیاں میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو سے بہت تیزی سے راغب ہوتی ہیں ایک مادہ مکھی ایک وقت میں پانچ سو تک انڈے دے سکتی ہے گرمی اور حبس کے موسم میں یہ انڈے بہت تیزی سے بچے بنتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر ان مکھیوں سے بھر جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور جب یہ زیادہ پک جاتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی خوشبو فروٹ فلائیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے آم ان کے لیے بہترین افزائش گاہ بن سکتے ہیں،بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فرو ٹ فلائیز صرف پھلوں کے قریب رہتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان مکھیوں کی افزائش کے لیے کچن کی سنک، کچرے کے ڈبے اور گیلے کپڑے یا اسفنج سب سے بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ مکھیاں گھروں کے گرم اور نمی والے ماحول جیسے کہ گٹر کے دہانے، کچرا تلف کرنے والی جگہوں اور ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں بہت زیادہ پھلتی پھولتی ہیں، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مکھیاں کاٹتی نہیں ہیں اس لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ فلائیز مچھروں کی طرح کاٹتی نہیں، لیکن یہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

    یہ مکھیاں گندی جگہوں، نالیوں اور خراب کھانے سے خطرناک جراثیم جیسے کہ ای کولائی اور سالمونیلا اپنے ساتھ لاتی ہیں اور جب یہ ہمارے تازہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو یہ جراثیم وہاں منتقل کر دیتی ہیں اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کچن میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں یا اسفنج پر اگر تھوڑا سا بھی کھانا یا مائع رہ جائے تو یہ مکھیاں وہاں کھینچی چلی آتی ہیں، اس لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

    ان مکھیوں سے گھر پر نجات پانے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آم، کیلے یا دیگر پھل جیسے ہی پک جائیں، انہیں باہر رکھنے کے بجائے فریج میں رکھ دیں کیونکہ ٹھنڈا درجہ حرارت ان مکھیوں کو دور رکھتا ہےپھلوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کریں جوس، شربت یا میٹھی اشیاء کے گرنے کی صورت میں فوراً صفائی کریں اس کے علاوہ کچن کو صاف ستھرا رکھنا، گندے برتن جلد دھونا اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر گھر میں فروٹ فلائیز کی تعداد بڑھ جائے تو سیب کے سرکے سے آسان جال تیار کیا جا سکتا ہے ایک چھوٹے پیالے یا بوتل میں سیب کا سرکہ ڈالیں اور اس میں برتن دھونے والے صابن کے چند قطرے ملا دیں۔

    اس پیالے کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ دیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کے سرکے کی میٹھی خوشبو ان مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جیسے ہی وہ سوراخوں کے راستے اندر جاتی ہیں، صابن کے محلول میں پھنس جاتی ہیں یوں چند دنوں میں فروٹ فلائیز کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    گلگت:صدر مسلم لیگ ن نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے علاوہ کسی جماعت نےگلگت بلتستان میں کام نہیں کیا، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا-

    گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔

    انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو، گلگت ائیر پورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کر کے یہاں کے ائیر پورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔

    صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ 2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کر دیاگیا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا،کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے

    انہوں نے کہا کہ یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی،لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے-

    انہوں نے کہا کہ سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی،دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔

  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگادی

    رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگادی

    حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگادی۔

    پولیس کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کاچالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگادی رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

    دوسری جانب ڈی پی او حافظ آباد کامران حمید کا ٹریفک چالان پر شہری کی جانب سے رکشے کو آگ لگانے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا،ڈی پی او کامران حمید نے واقعہ کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا،ڈی پی او کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

  • کراچی سے راولپنڈی جانیوالی تیزگام ایکسپریس  کی  پاور وین میں آتشزدگی

    کراچی سے راولپنڈی جانیوالی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آتشزدگی

    کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق آتشزدگی کا واقعہ خانیوال کے قریب پیش آیا پاور وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا پاور وین کو ٹرین سے الگ کیا گیا اور ریسکیو ٹیموں نے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کرآگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔

    چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

  • گوگل کا  3 کروڑ 20 لاکھ  مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں، گوگل کا یہ منصوبہ “ڈی بگ“ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہےمچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا ،رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔

    فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔

    ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعا ت میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

  • کراچی،بیٹوں کے ساتھ ملکر گھناؤنا دھندہ کرنے والی خاتون گرفتار

    کراچی،بیٹوں کے ساتھ ملکر گھناؤنا دھندہ کرنے والی خاتون گرفتار

    کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مطلوب ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ کو کامران چورنگی کے قریب کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ شیریں عرف شیرینہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث تھی اور طویل عرصے سے علاقے میں سرگرم تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ ماضی میں بھی گرفتار ہو چکی ہے اور سزا کاٹنے کے بعد چند سال قبل جیل سے رہا ہوئی تھی۔ دو سال قبل رہائی کے بعد اس نے دوبارہ منشیات کے کاروبار میں سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق شیریں عرف شیرینہ کے خلاف مختلف نوعیت کے تقریباً 35 مقدمات درج ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک مقدمے میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا، جس کے باعث اس کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات بھی موجود ہیں۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن اور دیگر منشیات سپلائی کرتی تھی، جس سے اس کا غیر قانونی کاروبار علاقے میں جاری تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور اس کے بیٹوں سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ان کے نیٹ ورک اور دیگر ساتھیوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

  • روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر  حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر شدید فضائی، میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی صبح دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز حملوں میں جنوب مشرقی شہر دنیپرو اور شمال مشرقی شہر خارکیف سمیت کئی علاقے نشانہ بنے حملوں سے رہائشی عمارتوں، گاڑیوں اور توانائی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جب کہ ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے پناہ گاہوں اور زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں منتقل ہو گئے۔

    دنیپرو کے گورنر اولیکساندر ہانژا نے بتایا کہ میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق دارالحکومت کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں کیف کے میئر وٹالی کلچکو کے مطابق ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت پر مبینہ میزائل حملے کے بعد عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

    یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف کے میئر کے مطابق، وہاں بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک روز قبل ہی اپنے رات گئے ویڈیو خطاب میں انٹیلی جنس الرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی وقت ایک بڑے روسی حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا نٹیلی جنس اداروں کی جانب سے روسی حملوں کے حوالے سے موصول ہونے والی وارننگز برقرار ہیں اور ایک بڑے حملے کا امکان موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ کیف میں یوکرین کے فوجی اہداف پر منظم حملے کرے گا روس نے غیر ملکی شہریوں کو بھی کیف چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا روس نے ان تازہ حملوں کو گزشتہ ماہ روس کے زیرِ قبضہ علاقے لوہانسک میں ہونے والے اس مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کا جواب قرار دیا ہے جس میں 21 افراد مارے گئے تھے، تاہم یوکرین نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

    اُدھر روسی حکام کے مطابق جنوبی علاقے کراسن ودار میں واقع ایلسکی آئل ریفائنری بھی ڈرون حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں واقع بحری اڈے سیواستوپول پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں مقامی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام حملوں کو روکنے کے لیے متحرک رہا-

  • شیخ رشید کی بیرونِ ملک سفر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شیخ رشید کی بیرونِ ملک سفر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی بیرونِ ملک سفر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت میں درخواست کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی۔ دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کا نام وفاقی حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا ہے، لہٰذا کابینہ کے فیصلے کی موجودگی میں عدالت کے حکم سے نام فہرست سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت عدالت پہلے ہی درخواست گزار کا پاسپورٹ ضبط کر چکی ہے، جبکہ ان کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس میں چالان بھی جمع کروایا جا چکا ہے۔

    سماعت کے دوران شیخ رشید کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے معاملہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کو بھجوایا ہے، اس لیے عدالت کم از کم پاسپورٹ کی رہائی کے حوالے سے فیصلہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نام ای سی ایل میں شامل ہے تو درخواست گزار اس معاملے پر متعلقہ فورم سے رجوع کرے گا۔دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس سے متعلق بعض اہم دستاویزات کا حصول ابھی باقی ہے، اس لیے مزید وقت دیا جائے۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے شیخ رشید کی بیرونِ ملک سفر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔

  • سول سر ونٹس اپنی، شریک حیات، زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت کی تفصیل دینے کے پابند

    سول سر ونٹس اپنی، شریک حیات، زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت کی تفصیل دینے کے پابند

    تمام سول سر ونٹس اپنی، شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت کی تفصیل دینے کے پابند بنا دیئے گئے

    وزیراعظم کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ’’سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026‘‘ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا،وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی غیر ملکی اور دہری شہریت سے متعلق نئے اور سخت قواعد نافذ کر دیئے ہیں،سرکاری افسر پاسپورٹ سمیت دیگر غیر ملکی وابستگیوں سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے،کوئی بھی سول سرونٹ بغیر پیشگی اجازت غیر ملکی شہریت حاصل نہیں کر سکے گا، اگر کوئی افسر غیر ملکی شہریت ظاہر نہیں کرتا تو محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، نئے رولز کے تحت غیر ملکی شہریت چھپانا ’’مس کنڈکٹ‘‘ تصور ہو گا ،غلط معلومات دینے یا حقائق پوشیدہ رکھنے والے افسران کی ملازمت بھی ختم کی جا سکے گی