ایرانی تیل پر پابندیاں ہٹ جائیں گی ؟؟؟
Blog
-

مری میں بارش،عوام کو احتیاط کا مشورہ
مری میں گزشتہ 48گھنٹوں سےمسلسل بارش ہورہی ہے جس کے باعث عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ڈی پی او مری نے ہدایت کی ہے کہ ژالہ باری اور بارش سے سڑکیں پھسلن کا شکار ہیں، شہری،سیاح غیرضروری سفر سےمکمل اجتناب کریں، ژالہ باری کےباعث حادثات کےخطرات میں اضافہ ہوا ہے،ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ مری میں پھسلن کےباعث ڈرائیونگ انتہائی خطرناک ہوچکی ہے، موسم کی شدت میں اضافے پرمری میں سفر پرمزید پابندیاں لگائی جارہی ہیں،ڈی پی او مری کے مطابق مری میں موجود سیاح غیرضروری نقل وحرکت سےگریز کریں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں، دھند،بارش اور ژالہ باری کےباعث مختلف مقامات پرحدِ نگاہ کم ہے،ڈی پی او کے مطابق سیاح سفرسےپہلےموسم اور روڈ کنڈیشن ضرور چیک کریں،سیاح اور عوام پولیس اورانتظامیہ کےساتھ مکمل تعاون کریں۔
ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ شہری پہاڑی اور ڈھلوانی سڑکوں پر سفر سےپرہیز کریں،شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہےانتہائی ضرورت کےعلاوہ سفر نہ کریں،
-

اسرائیل ایران میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام
ایران کے خلاف اسرائیل کی ناکامی، نیتن یاہو نے زمینی فوج کی ضرورت پر زور دیا
اکیس دن کی مسلسل بمباری، اہم تنصیبات پر حملوں اور ایران کی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے باوجود، اسرائیل اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں زمینی فوج اتارنا اب ضروری ہو گیا ہے تاکہ ملک کی حکومت پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔کئی روز منظرِ عام سے غائب رہنے کے بعد نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے ایران کی میزائل سازی اور یورینیم افزودگی کی صلاحیتوں کو کمزور کیا، لیکن فوجی قدم اٹھائے بغیر حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ زمینی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں، اور ساؤتھ پارس پر اسرائیل نے پہلے ہی حملے کیے، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں سے روک دیا تھا۔
دوسری جانب، امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فورسز بڑھانے کی تیاری کر لی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کے کم از کم تین بحری بیڑے سان ڈی ایگو سے روانہ ہو چکے ہیں، اور 4 ہزار امریکی میرین اور سیلرز بھی بھیجے جانے والے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا کی ریپڈ رسپانس فورس کی تعیناتی سے ایران پر زمینی حملے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی اعتراف کیا کہ امریکا کو ایران کے خلاف مزید حملوں پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
-

جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں اعتدال سے حکمت سے اور آسانیوں کا درس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی تہواروں پر یا پھر کئی دنوں کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں گردش کرتی ہیں جن کا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا ہے نہ ہی قرآن و حدیث میں اور نہ ہی حضور نبی کریم ﷺ اور اصحابہ اکرام کی حیات مبارکہ کے مطابق کہی پر کوئی تفصیل بیان کی گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں سنی سنائی باتوں کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کے لوگ آنکھیں موند کر اس پر سر تسلیم خم کر کے بھروسہ کر لیتے ہیں اور اس کے برعکس حقیقت کیا ہوتی ہے اسے جانچنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں۔یہ باتیں اتنی سفاک گوئی سے پیش کی جاتی ہیں کے انسانی دلوں و دماغ میں پختگی اختیار کر کے اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی ان من گھڑت باتوں پر اپنے یقین کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ان سب باتوں میں سے ہی ایک من گھڑت بات جمعہ کا دن اور عید کے حوالے سے بھی پختگی سے سننے میں آتی ہے۔جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا گیا ہے کیوں کہ تمام اہل ایمان اس دن عید کی طرح لباس،خوشبو اور وقت مقرر پر مسجد کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے اس دن کو عید کے دن سے مشابہت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اہل اسلام نے غیر مسلموں کی باتوں کو حقیقت کا روپ دے کر ماننا شروع کر دیا ہے۔اگر جمعہ کے دن عید کا تہوار آ جائے تو یہ ملک کے حکمران کے حق میں نحوست کی علامت ہوتا ہے اور ایک ہی دن میں دو خطبات کا ہونا مناسب نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کیا واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے یا پھر یہ صرف من گھڑت کہانیاں ہیں؟
اگر اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کے عید اور جمعہ کا ایک ہی دن آنا کوئی غیر معمولی یا تشویش ناک بات نہیں ہے۔بل کہ یہ ایک فطری امر ہے جو قمری کلینڈر کی گردش کے باعث کبھی کبھار رونما ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام کے اگر پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں اور اس میں کسی قسم کی نحوست کی پیش گوئی یا خطرے کا تصور بیان نہیں کیا گیا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے واضح رہنمائی ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن وقوع پذیر ہوتے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ:”جو شخص عید کی نماز ادا کر لے وہ چاہے تو جمعہ کی نماز میں شرکت نہ کرے البتہ امام پر لازم ہے کے وہ جمعہ کا خطبہ اور نماز ادا کرے تاکہ جو لوگ شرکت کرنا چاہیں ان کے لیے ادا کرنے کا موقع مل سکے۔اس بات سے اندازہ ہوتا ہے اسلام میں مسلمانوں کے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے "دو خطبات” کا مسئلہ دراصل ایک غلط فہمی ہے۔عید اور جمعہ دونوں کی اسلام میں الگ الگ اہمیت کے حامل ہیں عید کا خطبہ ایک خوشی اور اپنے رب کے حضور شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے اور جمعہ کا خطبہ ہفتہ وار تربیت اور نصیحت کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کے یہ غیر مستند روایات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ عوام میں پھیل گئی ہیں۔اسلام ہمیں ایسی افواہوں سے دور رہنے اور ہر بات کو دلیل اور تحقیق کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن پاک سے بہترین کوئی اور مستند کتاب نہیں ہے جو اہل ایمان کو سچ اور جھوٹ کا فرق سمجھا سکے۔سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے سے بہتر ہے قرآن پاک کو مع ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور روزانہ ایک آیت سمجھ کر پڑھنے سے اپنے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اللّٰہ پاک ہمیں صحیح بات سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔
-

وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے
پاکستان اور ملائیشیا نے ایران اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا،خطے میں تناؤ کم کرنے کی ضرورت پر زور، امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا،عالمی امن کے لیے پاکستان اور ملائیشیا کا مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا،دونوں رہنماؤں کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا تبادلہ کیا گیا،شہباز شریف اور انور ابراہیم نے امتِ مسلمہ کے لیے امن، سلامتی اور ہم آہنگی کی دعا کی،
-

اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کو نمازِ عید ادا کرنے سے روک دیا
اسرائیلی فوج نے سفاکی کی انتہا کردی، مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کو نمازِ عید ادا کرنے سے روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1967ء کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا، جس کے باعث فلسطینیوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی،رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مسجد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور نمازیوں کو اندر جانے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو پرانے شہر کے باہر نمازِ عید ادا کرنا پڑی۔اسرائیلی حکام نے اس اقدام کی وجہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔ تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایک خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں بھی ایسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
رمضان کے اختتام پر جمعہ کے روز سب سے حساس مقدس جگہ، مسجدِ اقصیٰ، 1967 کے بعد پہلی بار بند رہی، اسرائیلی حکام نے مسجد کے دروازے بند کر دیے، جس کی وجہ سے نمازیوں کو عید کی نماز مسجد کے قریب ترین مقام پر ادا کرنی پڑی۔جمعہ کی صبح سینکڑوں نمازی پرانے شہر کے باہر نماز پڑھنے پر مجبور ہوئے، کیونکہ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیا تھا۔اسرائیلی حکام نے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر رمضان کے دوران زیادہ تر مسلم نمازیوں کے لیے مسجد کا کمپلیکس مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا۔ حکام نے اس اقدام کو سیکیورٹی کے نام پر بتایا، لیکن فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک وسیع اسرائیلی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مسجدِ اقصیٰ پر کنٹرول مضبوط کرنا اور پابندیاں بڑھانا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ، جسے مسلمانوں کے لیے قبلہ اول کہا جاتا ہے، میں ساتویں صدی کے عیسوی گنبدِ صخرہ بھی شامل ہے۔ یہودی اسے ٹمپل ماؤنٹ کہتے ہیں، جہاں قدیم اور رومی دور میں پہلے اور دوسرے مندروں کی تاریخی جگہ موجود تھی۔ہیزن بلبول، 48 سالہ رہائشی، نے گارڈین سے کہا "کل مسلمانوں کے لیے سب سے افسوسناک دن ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہے، لیکن شاید آخری نہ ہو۔ اسرائیلی مداخلت 7 اکتوبر 2023 کے بعد بڑھتی جا رہی ہے۔”
حالیہ مہینوں میں فلسطینی نمازیوں اور مذہبی عملے کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے، اور اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد میں بار بار داخلے کیے ہیں۔ پولیس نمازیوں کو نماز کے دوران بھی گرفتار کرتی رہی اور کئی فلسطینیوں کی داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔پرانے شہر کی گلیاں، جو عید سے قبل عام طور پر نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں، جمعہ کو غیر معمولی طور پر سنسان رہیں۔ دکانیں زیادہ تر بند رہیں، صرف فارمیسی اور ضروری خوراک کی دکانیں کھلی رہیں، جس سے فلسطینی تاجروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عرب لیگ نے بندش کو "بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے عبادت کی آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور افریقی یونین کمیشن نے بھی اس اقدام کی سخت مذمت کی، اور کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجدِ اقصیٰ کی بندش "اسلامی قوم کے مذہبی حقوق اور ورثے پر حملہ، مسلمانوں کے جذبات کی توہین اور عبادت کی آزادی کی خلاف ورزی” ہے۔
القدس یونیورسٹی کے میڈیا ڈائریکٹر خلیل عسالی نے کہا "مسجد کی بندش فلسطینیوں کے لیے ایک سانحہ ہے۔ جب اسرائیلی نوجوان فلسطینیوں کو نماز کے لیے قریب آنے سے روکتے ہیں، تو انہیں دھکیل دیتے ہیں۔”
-

واشنگٹن میں فوجی اڈے کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی پروازیں، اعلیٰ حکام میں تشویش
واشنگٹن: امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع فوجی اڈے کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی موجودگی نے سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ ڈرونز اس اڈے کے اوپر دیکھے گئے جہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ رہائش پذیر ہیں۔رپورٹ کے مطابق تین باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ حکام نے ان ڈرونز کی شناخت اور ان کے ماخذ کا تعین تاحال نہیں کیا۔ دو ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈرونز کہاں سے آئے اور کس مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
یہ واقعہ فوجی اڈے فورٹ میک نیئر کے اوپر پیش آیا، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مارکو روبیو اور پیٹ ہیگستھ کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر غور کیا۔ تاہم ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق دونوں حکام کو فی الحال منتقل نہیں کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے، جس کے تحت فوج ممکنہ خطرات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے نے اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، جبکہ پینٹاگون اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے ڈرونز کے معاملے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اعلیٰ حکام کی نقل و حرکت پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
-

قیشم جزیرے پر امریکی حملہ، ایرانی زیرِ زمین تنصیبات محفوظ
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے زیرِ کنٹرول جزیرہ قیشم پر واقع پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ٹنل کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔
حملے کے نتیجے میں سطح پر واضح نقصان دیکھا گیا، جس میں گڑھے (کریٹرز) بننا اور قریبی تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچنا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق حملے کے باوجود زیرِ زمین موجود مضبوط اور محفوظ ٹنلز کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حملہ ان گہرے اور مضبوط بنکر نما راستوں کو تباہ کرنے یا ان میں داخل ہونے میں ناکام رہا، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اہم عسکری اثاثے محفوظ رہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ٹنلز کے داخلی راستوں کے قریب گڑھوں کے نشانات دیکھے گئے ہیں، تاہم کسی بڑے ساختی انہدام یا زمین کے اندر گہرے نقصان کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کی زیرِ زمین عسکری تنصیبات کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید پیش رفت پر عالمی نظریں مرکوز ہیں۔
-

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں علی محمد نائینی کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حالیہ حملے میں جاں بحق ہوئے، جس کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی سن 2024ء سے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور اہم سیکیورٹی و عسکری معاملات پر مؤقف پیش کرتے رہے۔ اسرائیل کی جانب سے اس حملے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا،
-

سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ ،تجزیہ :شہزاد قریشی
موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور طاقت کے توازن میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ایک ایسے نازک مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں ہر ریاست کو نہایت دانشمندی اور محتاط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا متوازن اور محتاط رہنا ایک قابلِ غور پہلو ہے۔
وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے جس انداز میں سفارتی محاذ پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک سنجیدہ اور منظم حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے بیچ پاکستان کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھتے ہوئے ایک متوازن پوزیشن پر قائم رکھنا ایک مشکل مگر اہم کامیابی ہے۔
اسی طرح ریاستی سطح پر پاک فوج اور دیگر قومی اداروں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، جنہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملک کے استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم ذمہ داری نبھائی۔ یہ ہم آہنگی دراصل ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے ایسے نازک دور میں ناگزیر ہوتی ہے۔
اسحاق ڈار کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف شعبوں میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے دور میں ان کی مصروفیات، معیشت کی بہتری کے لیے ان کی کوششیں، اور اب بطور وزیر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرمی،یہ سب ان کی کثیرالجہتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ وہ پیشہ ور قانون دان نہیں، مگر قانون سازی کے عمل میں ان کی شمولیت اور سیاسی بصیرت ایک تجربہ کار سیاستدان کی پہچان ہے۔مزید برآں، نواز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی جیسے اہم سیاسی معاہدے میں ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حالات بلکہ ماضی کے اہم موڑ پر بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کی دانشمندانہ سمت، اداروں کی ہم آہنگی اور قیادت کی مسلسل کاوشیں وہ عوامل ہیں جو ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناً آج کے یہ اقدامات مستقبل میں ایک مثبت مثال کے طور پر تاریخ کا حصہ بنیں گے۔
