Baaghi TV

Blog

  • صدر مملکت کی اطالوی قومی دن پر اٹلی کی قیادت اور عوام  کو  مبارکباد

    صدر مملکت کی اطالوی قومی دن پر اٹلی کی قیادت اور عوام کو مبارکباد

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دی ہے-

    ​ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ​صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

    ​صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دوسری جانب وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بھی اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    اپنے بیان میں محمد حنیف عباسی نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی، انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ اٹلی کا یومِ جمہوریہ ہر سال 2 جون کو منایا جاتا ہے یہ دن 1946 میں ہونے والے اس تاریخی ریفرنڈم کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس میں اطالوی عوام نے بادشاہت کو ختم کر کے جمہوری نظامِ حکومت کا انتخاب کیا تھا مرکزی تقریب دارالحکومت روم میں منعقد ہوتی ہے، جہاں اطالوی صدر کی جانب سے ‘تومبے دی آلتارے’ (Altar of the Fatherland) پر پھولوں کی چادر چڑھائی جاتی ہے، اس موقع پر ایک شاندار فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اطالوی فضائیہ کے جیٹ طیارے آسمان پر اٹلی کے پرچم کے رنگ (سرخ، سفید اور سبز) بکھیرتے ہوئے کرتب دکھاتے ہیں-

  • اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا کہنا ہے کہ ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے-

    عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.

    مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے“ جبکہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“

    اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے،جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے،تاہم اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.

    اب یہ قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.

  • صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہےاس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ،ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی. تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

    پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات اسپیچ رائٹرز خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پر یس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہےروایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔

    گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہوبعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم امریکی حکومت نےاس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

    امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہےتنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے،پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ  پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

    اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس 24 گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھےابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.

    اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.

    تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نےاندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کےاعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھےخاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے.

    اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.

    اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.

  • ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ افسوس اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں، انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نےفریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی،پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عزم کا اعاد ہ کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

    اسی دوران، سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر را بطہ کیا ہےایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتےہوئے سفارتکاری میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی.

    اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ کو موجودہ صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیااسحاق ڈار نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور موجودہ مفاہمت کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل خطے میں مزید کشیدگی اور بحران سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے.

    اس معاملے پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی اپنے ملک کا مؤقف سامنے لائے ہیں،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، کسی ایک محاذ پر کارروائی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی ،ایرانی وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی.

    دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا.

    ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہےاس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نما ئندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں لبنان کی صورت حال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق اس گفتگو کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے تھے انہیں انہیں بھی واپس بلا لیا گیا ہے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں فائرنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

    امریکی صدر نے اپنے بیان میں اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اسرائیلی حکومت، حزب اللہ یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے اس دعوے کی فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • شانگلہ: گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق

    شانگلہ: گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق

    شانگلہ کی تحصیل الپوری کے علاقے رحیم آباد میں گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق چھت گرنے سے ملبے تلے 7 بچے دب گئے جن میں سے 6 چل بسے جبکہ ایک بچی زندہ نکال لی گئی جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔

  • اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔

    امریکی چینل اے بی سی نیوزکو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے حوالے سے واشنگٹن کو ابھی تک باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایران خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انتظار کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ بات کر چکے ہیں، اگر سچ پوچھیں تو خاموش رہنا بہتر ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے جارہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں گے، ہم صرف خاموش رہیں گے اور ناکہ بندی برقرار رکھیں گے تاہم فوری طور پر کسی نئی فوجی مہم کا ارادہ نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں،میرے خیال میں میں اتنا انتظار کر سکتا ہوں جتنا وہ کرنا چاہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکراتی رابطوں کا تبادلہ روک دیا ہے جب کہ ایران نے اس فیصلے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہے گا جب کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کی معطلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کسی ایک محاذ پر ہوتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ ،پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ ،پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔

    خیبر پختونخوا میں شدید گرمی سے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ ہےصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے صوبے کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے ، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں احتیاطی اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں جاری شدید گرمی کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث شمالی اضلاع میں گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھل رہے ہیں 4 جون کی شام سے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں، جو پہلے سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے ساتھ مل کر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سوات، چترال، دیر، کوہستان اور مانسہرہ کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ موجود ہے، نشیبی علاقوں اور دریا کنارے آباد آبادیوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ادارے نے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، خطرناک علاقوں میں بروقت وارننگ جاری کرنے اور کمیونٹی الرٹ سسٹم کو فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے مزید برآں نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو پیشگی خبردار کرنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے سیاحوں، مسافروں اور مقامی افراد کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی صورتحال کے دوران احتیا طی تدابیر اختیار کی جائیں، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جار ی کر دی گئی ہے۔

  • امریکا  میں شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    امریکا میں شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    امریکی ریاست آئیووا (Iowa) کے مشرقی شہر مسکاٹائن (Muscatine) میں ایک مسلح شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

    مسکاٹائن پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تحقیقاتی بیان کے مطابق بظاہر یہ ہولناک واقعہ ایک “گھریلو تنازع” کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم تاحال اس قتلِ عام کی اصل اور قطعی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی جب پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہیں ایک رہائش گاہ کے اندر سے 4 افراد کی لاشیں ملیں جنہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

    پولیس چیف نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ اگرچہ مشتبہ قاتل پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکا تھا، لیکن جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ویلیس میک فارلینڈ کے نام سے کر لی گئی پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا اور اسے شہر کے دریا کنارے واقع پل کے پاس ڈھونڈ نکالا، جب پولیس افسر ان اس سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    پولیس چیف کے مطابق ملزم کی خودکشی کے بعد جب مزید شواہد اور معلومات سامنے آئیں تو پولیس نے تلاشی کے دوران مزید دو مردوں کی لاشیں برآمد کیں جنہیں ملزم نے نشانہ بنایا تھا ان میں سے ایک لاش قریبی گھر اور دوسری ایک کاروباری مرکز سے ملی تمام مقتولین مبینہ طور پر حملہ آور کے خاندان کے ہی ارکان تھے جن کی تاحال باقاعدہ شناخت پبلک نہیں کی گئی، تاہم ایک امریکی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق مقتولین میں کم از کم دو بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہونے والے حملہ آور کا ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا، تاہم اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مسکاٹائن تقریباً 24 ہزار کی آبادی پر مشتمل ایک ساحلی شہر ہے جو ریاست آئیووا کے دارالحکومت ڈیس موئنز سے 155 میل مشرق میں واقع ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تاخیر اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت مزید اضافے کے بعد 94.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی مزید بڑھ گئی ہے امریکی خام تیل کے نرخ 91.41 ڈالر فی بیرل ہو گئے ہیں، اماراتی تیل مربان کی قیمت بھی مزید اضافے کے بعد 94.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    ماہرین نے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا ہے، واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، چند دن قبل حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔

    توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سےباہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کےراستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔