Baaghi TV

Blog

  • 
ایران میں کریک ڈاؤن: اسرائیل سے مبینہ روابط پر 97 افراد گرفتار

    
ایران میں کریک ڈاؤن: اسرائیل سے مبینہ روابط پر 97 افراد گرفتار

    
ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے کے الزام میں 97 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک وسیع سکیورٹی کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں، جس کے تحت جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل اور امریکا سے مبینہ روابط کے شبے میں سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد اندرونی سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور بیرونی اثر و رسوخ کو روکنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
    ‎اس سے قبل بھی صوبہ البرز میں درجنوں افراد کو غیر ملکی اپوزیشن میڈیا کو ویڈیوز فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جسے حکام نے قومی سلامتی کے خلاف اقدام قرار دیا۔

  • 
ایران کی سخت وارننگ: توانائی تنصیبات پر حملے کا بھرپور جواب جاری

    
ایران کی سخت وارننگ: توانائی تنصیبات پر حملے کا بھرپور جواب جاری

    
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کی جارحانہ اور دفاعی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔
    ترجمان کے مطابق ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا دشمن کی سنگین غلطی ہے، جس کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ کیے گئے تو ایران نہ صرف جواب دے گا بلکہ دشمن اور اس کے اتحادیوں کی توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اپنی دفاعی حکمت عملی پر مکمل عمل کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا سختی سے مقابلہ کرے گا۔

  • 
ایران جنگ کے تناظر میں ٹرمپ کا 200 ارب ڈالر دفاعی بجٹ بڑھانے کا عندیہ

    
ایران جنگ کے تناظر میں ٹرمپ کا 200 ارب ڈالر دفاعی بجٹ بڑھانے کا عندیہ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پینٹاگون کے لیے 200 ارب ڈالر تک اضافی فنڈنگ طلب کر سکتے ہیں، جسے انہوں نے فوجی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا۔
    اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنی فوج کو بہترین حالت میں رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے بڑے وسائل مختص کرنا ایک معمولی قیمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فنڈنگ صرف ایران سے متعلق صورتحال تک محدود نہیں ہوگی بلکہ دیگر دفاعی ضروریات بھی اس میں شامل ہوں گی۔
    ‎صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہو، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکہ کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ حکومت دفاعی اخراجات میں احتیاط برت رہی ہے اور موجودہ وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

  • 
سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت

    
سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت

    
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے ملک میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
    سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد ملک سے روانہ ہو جائیں، کیونکہ سعودی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ‎بیان کے مطابق ریاض، جدہ اور دمام کے ائیرپورٹس بدستور فعال ہیں اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی وارننگ سسٹم اور حکومتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
    ‎امریکی حکام نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج نہیں بھیجی جا رہی: ٹرمپ

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج نہیں بھیجی جا رہی: ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستے تعینات نہیں کر رہے۔
    اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کہیں بھی فوج نہیں بھیج رہے، اور اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا بھی تو وہ اس کا اعلان نہ کرتے، تاہم فی الحال ایسی کوئی تعیناتی زیر غور نہیں۔
    ‎وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بھی کہا کہ اس وقت زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم تمام آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایک میرین ایکسپڈیشنری یونٹ کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ مستقبل میں زمینی فوج بھیجے گا یا نہیں۔

  • ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جمعرات کے روز حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کمپلیکس پر ایرانی میزائل حملہ کیا گیا، جس کی تصدیق تین اسرائیلی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو کی ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملہ مرکزی ریفائنری کمپلیکس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو اسرائیل کی سب سے بڑی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور حیفہ بے کے علاقے میں ایندھن اور کیمیکل پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔حملے کے فوری بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور نقصان کا جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی، تاہم صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی کے مطابق فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ دیگر ٹیمیں ممکنہ خطرناک کیمیکل مواد کے اخراج کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کے پاس صرف دو ریفائنریاں ہیں۔حیفا ریفائنری (بازان) اسرائیل کی سب سے بڑی اور انتہائی اہم ریفائنری ہے جو ملک کے تقریباً 50–60 فیصد ایندھن کی فراہمی کرتی ہے (60% ڈیزل اور 50% پٹرول)۔ یہ روزانہ تقریباً 197,000 بیرل تیل پروسیس کرتی ہے، یعنی اسرائیل کی نقل و حمل، ہوا بازی اور فوجی ایندھن کا بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ابھی اس کو نشانہ بنایا ہے۔

  • 
یورپی ممالک اور جاپان کی ایران پر شدید تنقید، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

    
یورپی ممالک اور جاپان کی ایران پر شدید تنقید، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

    
متعدد یورپی ممالک اور جاپان نے مشترکہ بیان میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کی شدید مذمت کی ہے۔
    بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں نے کہا کہ غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کو متاثر کر دیا ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دھمکیوں، بارودی سرنگوں کی تنصیب، ڈرون اور میزائل حملوں اور بحری راستے کی بندش جیسے اقدامات بند کرے۔
    ‎مشترکہ بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ شہری تنصیبات، خصوصاً تیل و گیس کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے جامع اقدامات کریں۔
    ‎ممالک نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر پیداوار بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

  • ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

    ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

    
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی ذخائر، کھپت اور پیٹرولیم کارگوز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
    ‎شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مزید بچت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
    ‎اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ مثال قائم کرتے ہوئے بچت کو فروغ دیں۔
    ‎حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔
    ‎اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

  • امریکی F-35 لڑاکا طیاہ ایرانی حملے کی زد میں ،ہنگامی لینڈنگ

    امریکی F-35 لڑاکا طیاہ ایرانی حملے کی زد میں ،ہنگامی لینڈنگ

    ایرانی حملے کی زد میں آ کر امریکی فضائیہ کا جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ایف-35 ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گیا۔طیارے کوقریبی امریکی فضائی اڈے پر اتارا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پانچویں نسل کا یہ جدید طیارہ ایران کے اوپر جنگی مشن پر تھا جب اسے تکنیکی اور ممکنہ حملے کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔کیپٹن ہاکنز کے مطابق "طیارہ محفوظ طریقے سے اتر گیا ہے اور پائلٹ مکمل طور پر ہوش میں ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔”

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے کہ ایران نے براہِ راست کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہو، جس سے خطے میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں اس تنازع میں ایف-35 جیسے جدید ترین لڑاکا طیارے استعمال کر رہے ہیں، جن کی قیمت 100 ملین ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔دوسری جانب امریکی حکام بدستور اپنی فوجی مہم کو کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکہ "فیصلہ کن برتری” حاصل کر چکا ہے اور ایران کے فضائی دفاعی نظام کو "بڑی حد تک تباہ” کر دیا گیا ہے۔

  • 
پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد

    
پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد

    
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
    ترجمان کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد صرف قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے دفاع کو یقینی بنانے کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر مصدقہ الزامات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔