ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد صرف قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے دفاع کو یقینی بنانے کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر مصدقہ الزامات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
Blog
-

پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد
-

پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو ہوگی
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی۔
ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی مستند شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔
رویت ہلال کمیٹی کے مطابق مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
اعلان کے بعد ملک بھر میں عیدالفطر کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور شہری 21 مارچ کو عید منانے کے لیے پرجوش ہیں۔ -

ایران کے جنوبی پارس فیلڈ پر حملہ، امارات نے عالمی توانائی سلامتی کو خطرہ قرار دے دیا
متحدہ عرب امارات نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ حساس توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کرے تاکہ توانائی کے نظام کو محفوظ بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔
امارات نے سفارتی ذرائع کو مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مزید ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور عالمی معیشت کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ -

بھارت اور بنگلادیش کا عیدالفطر سے متعلق اعلان
بھارت اور بنگلادیش نے عیدالفطر 2026 کے پہلے دن کا اعلان کر دیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا اس لیے عیدالفطر 21 مارچ کو ہو گی۔ لکھنوؤ اور حیدرآباد میں مسلم علما کونسل نے عیدالفطر 21مارچ کو منانے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلادیش میں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا اور یہاں بھی عیدالفطر 21 مارچ کو ہو گی۔ بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، جس کے بعد رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر ہفتہ کے روز منائی جائے گی۔
رویت ہلال حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے چاند نظر آنے کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے روزے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
اعلان کے بعد ملک بھر میں عید کی تیاریاں ہفتہ کے دن کے حساب سے جاری رکھی جا رہی ہیں، جبکہ شہریوں نے بھی سرکاری اعلان کے مطابق اپنی سرگرمیاں ترتیب دینا شروع کر دی ہیں۔ -

قطر کی گیس تنصیبات پر مبینہ میزائل حملہ، راس لفان میں آگ بھڑک اٹھی
قطر کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان میں واقع گیس تنصیبات میں آگ لگ گئی ہے، جو مبینہ طور پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد بھڑکی۔
حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ہنگامی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تنصیبات کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور اس کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے، اور اس طرح کے واقعات سے توانائی کی عالمی سپلائی اور علاقائی امن پر اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ -

شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری
اسلام آباد میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کر رہے ہیں۔
اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہیں، جو مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک بھر سے چاند نظر آنے یا نہ آنے سے متعلق شواہد جمع کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ عیدالفطر کب منائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کا اعلان ہی عید کے تعین کے لیے حتمی سمجھا جائے گا، اور عوام اسی اعلان کے مطابق عیدالفطر کی تیاری کریں گے۔ -

کئی ممالک جدید ایٹمی میزائل صلاحیت بڑھا رہے ہیں: امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ
امریکی انٹیلیجنس ڈائریکٹر تلسی گیبرڈ نے کہا ہے کہ انٹیلیجنس اداروں کے مطابق روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جدید ایٹمی میزائل نظام پر کام کر رہے ہیں جن کی رینج امریکہ تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان ممالک کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرامز میں پیش رفت عالمی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی حکام اس صورتحال کو اپنی دفاعی حکمت عملی کے تناظر میں مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اور اسٹریٹجک توازن کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ مختلف ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ماضی میں کچھ ممالک پر میزائل پروگرام کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ خطے میں دیگر اتحادی ممالک کے دفاعی پروگرامز کی حمایت بھی جاری رہی ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔ -

ایران کے خدشات کے پیش نظر امارات اسرائیل سے تعلقات مضبوط کرے گا
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ ایران سے لاحق خطرات کے باعث امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے اقدامات نے امارات کو اپنی سیکیورٹی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کو دفاعی نقطہ نظر سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انور گرگاش نے مزید کہا کہ امارات اپنی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ امارات خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ -

اسحاق ڈار کی اسرائیل کی جانب سے جاری کارروائیوں اور اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت
ریاض:نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 18 مارچ 2026 کو ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں شرکت کی، جہاں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ اجلاس سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، قطر، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرا ئے خارجہ نے بھی شرکت کی، اجلاس کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور ان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کے خاتمے پر زور دیا۔
انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جاری تنازعات کے فوری خاتمے، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا، وزیر خارجہ نے خطے میں جاری بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور اسرائیل کی جانب سے جاری کارروائیوں اور اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے شہریوں، توانائی کے مراکز اور اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ ہیں، لہٰذا ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے، وزیر خارجہ نے شرکا کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پا کستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
اجلاس کے اختتام پر عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا،دورے کے دوران وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی اور حمایت کا پیغام بھی پہنچایا –
وزارتی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے ترکی اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا انہوں نے مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک چہار فریقی اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں مشترکہ علاقائی چیلنجز پر غور کیا گیا۔
-

چین نے امریکا کو کھاد کی فراہمی روک دی
چین کی جانب سے امریکا کو کھاد (فرٹیلائزر) کی ترسیل روکنے کی خبروں کے بعد امریکی زرعی شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کینیڈین صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے امریکہ کو کھاد کی ترسیل روک دی ہے، ذرائع کے مطابق نائٹروجن اور پوٹاشیم پر مشتمل کھاد کی سپلائی معطل ہونے سے پہلے ہی قلت کا شکار امریکی مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ چین نے اپنی داخلی ضروریات اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر کھاد کی برآمدات محدود یا روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا براہ راست اثر امریکا کے کسانوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں فصلوں کی پیداوار کا بڑا انحصار درآمدی کھاد پر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کی فراہمی میں رکاوٹ سے نہ صرف فصلوں کی لاگت بڑھے گی بلکہ زرعی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ امریکی کسان پہلے ہی مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی چین کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔