Baaghi TV

Blog

  • بھارتی ریاست منی پور میں بےرحم بی جے پی سرکار کی سفاکیت

    بھارتی ریاست منی پور میں بےرحم بی جے پی سرکار کی سفاکیت

    بھارتی ریاست منی پور بےرحم بی جے پی سرکار کی سفاکیت ۔بے گناہ عوام کےگھروں کو نذر آتش کر دیا

    بھارتی جریدہ انڈیا ٹوڈے کے مطابق ضلع کانگپوکپی کے گاؤں کھارام وائپھیئی میں لگنے والی آگ سے پانچ مکانات مکمل تباہ ہو گئے ہیں۔منی پور کے علیحدگی پسند گروہوں کے سامنے بے بس بھارتی فوج اب نہتے شہریوں پر طاقت آزمانے لگی ۔۔ تنظیموں نے واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے تعین کا مطالبہ کر دیا۔واقعہ چرچ رہنماؤں کے قتل میں انصاف اور 14 یرغمال افراد کی رہائی کیلئے جاری کوکی زو تنظیموں کی احتجاجی ریلیوں کے دوران پیش آیا۔منی پور کے مزاحمتی گروہ کے ٹوئٹ کے مطابق بھارتی عسکری گروہ آسام رائفلز نے منی پور کے علاقہ اُکھرول میں بے گناہ لوگوں پر فائرنگ کر کے گھروں کو آگ لگا دی

    عالمی ماہرین کے مطابق منی پورمیں اندرونی خلفشار کے باعث بدامنی عروج پر اور امن و امان کی صورتحال بے قابو ہو چکی ہے

  • وفاقی آئینی عدالت ، پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

    وفاقی آئینی عدالت ، پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

    وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دیدی

    وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا اور قرار دیا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔فیصلہ کے مطابق حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔فیصلہ میں مزید بتایا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے مطابق رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا، پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے

    نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے

    وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمن، کاظم پیرزادہ بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں گلگت پہنچنے پر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر پارٹی راہنمائوں نے پارٹی صدر کا استقبال کیا ،محمد نواز شریف پارٹی راہنمائوں اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے والے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے

    قبل ازین سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گلگت بلتستان کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت مل گئیمالیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں نواز شریف کو این او سی جاری کیا گیا ہے۔

  • موسماتی تبدیلیوں کے خطرات،چار بڑے ڈیموں کے تعمیر ی کام کو تیز کر دیاگیا

    موسماتی تبدیلیوں کے خطرات،چار بڑے ڈیموں کے تعمیر ی کام کو تیز کر دیاگیا

    حکومتِ پاکستان اور واپڈا (WAPDA) نے پانی کے بڑھتے ہوئے بحران اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ملک بھر میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کی رفتار تیز کر دی ہے۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 8 ملین ایکڑ فٹ (MAF) سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل ہوگی۔

    پاکستان میں اس وقت بارشوں کے بدلتے ہوئے نظام اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ملک میں پانی کی مانگ اور سپلائی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نئے ڈیم بنانا قومی ترجیح بن چکا ہے تاہم موسماتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چار بڑے ڈیموں کی تعمیر کے کام کو تیز کر دیا ہے جس سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 80 لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ کا اضافہ ہوگا.

    سرکاری خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم اور نئی گاج ڈیم شامل ہیں ان ڈیموں کی تعمیر سے نا صرف پانی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ سیلاب کی روک تھام اور سستی بجلی پیدا کرنےکی صلا حیت میں بھی بڑا اضافہ ہوگا اس وقت چار اہم منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی زندہ صلاحیت 8.136 ملین ایکڑ فٹ ہے.

    رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں سب سے اہم دیامر بھاشا ڈیم (دریائے سندھ)ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا کنکریٹ کا ڈیم ہوگا جو اکیلا ہی 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا، تقریباً 4,800 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرے گا۔

    مہمند ڈیم (دریائے سوات) یہ 0.676 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا اور کثیر المقاصد ڈیم سیلاب کی روک تھام اور زراعت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گاجبکہ کرم تنگی ڈیم 0.90 ملین ایکڑ فٹ اور نئی گاج ڈیم 0.16 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا.

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے تین بڑے ذخائر موجود ہیں جن میں تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج شامل ہیں واپڈا نے موجودہ دور کو ڈیموں کی دہائی قرار دیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے،واپڈا نے دریاؤں کے بہاؤ، سرحد پار سے آنے والے پانی، ڈیموں کی صورتحال اور بارشوں کا بروقت ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے اپنے مانیٹرنگ اور ٹیلی میٹری سسٹم کو بھی وسیع کر دیا ہے.

    رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل کے لیے مزید کئی ڈیموں کی منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ پر کام ہو رہا ہے جن کی مجموعی صلاحیت 15 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ ہے، جن میں سندھ بیراج (2.0 ملین ایکڑ فٹ)، شیوک کثیر المقاصد ڈیم منصوبہ (5.5 ملین ایکڑ فٹ)، اکھوری ڈیم (7.0 ملین ایکڑ فٹ)، چنیوٹ ڈیم (0.93 ملین ایکڑ فٹ) اور مرنج ڈیم (0.45 ملین ایکڑ فٹ) شامل ہیں۔

    حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور پانی کو محفوظ کرنے کے لیے دریائے چناب پر 4 نئے ڈیموں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہےان ڈیموں کی مجموعی مالیت تقریباً 300 ارب روپے ہے،ان کی تعمیر سے 45 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اور 330 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی، ان میں چنیوٹ اور شاہ جیوانہ کے مقامات پر ڈیمز شامل ہیں ان تمام ڈیموں کی بروقت تکمیل کے لیے حکومت فنڈز کے اجراء اور مقامی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

    اس سے قبل حکومت نے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس صرف 90 دنوں کی ضرورت کے برابر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے،جبکہ گزشتہ سال وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈیم اور آبی ذخائر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کو سیلا ب کی تباہ کاریوں سے بچانے اور زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے نئے ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے.

  • صدر مملکت کی اطالوی قومی دن پر اٹلی کی قیادت اور عوام  کو  مبارکباد

    صدر مملکت کی اطالوی قومی دن پر اٹلی کی قیادت اور عوام کو مبارکباد

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دی ہے-

    ​ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ​صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

    ​صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دوسری جانب وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بھی اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    اپنے بیان میں محمد حنیف عباسی نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی، انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ اٹلی کا یومِ جمہوریہ ہر سال 2 جون کو منایا جاتا ہے یہ دن 1946 میں ہونے والے اس تاریخی ریفرنڈم کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس میں اطالوی عوام نے بادشاہت کو ختم کر کے جمہوری نظامِ حکومت کا انتخاب کیا تھا مرکزی تقریب دارالحکومت روم میں منعقد ہوتی ہے، جہاں اطالوی صدر کی جانب سے ‘تومبے دی آلتارے’ (Altar of the Fatherland) پر پھولوں کی چادر چڑھائی جاتی ہے، اس موقع پر ایک شاندار فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اطالوی فضائیہ کے جیٹ طیارے آسمان پر اٹلی کے پرچم کے رنگ (سرخ، سفید اور سبز) بکھیرتے ہوئے کرتب دکھاتے ہیں-

  • اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا کہنا ہے کہ ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے-

    عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.

    مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے“ جبکہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“

    اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے،جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے،تاہم اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.

    اب یہ قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.

  • صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہےاس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ،ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی. تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

    پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات اسپیچ رائٹرز خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پر یس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہےروایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔

    گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہوبعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم امریکی حکومت نےاس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

    امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہےتنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے،پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ  پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

    اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس 24 گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھےابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.

    اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.

    تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نےاندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کےاعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھےخاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے.

    اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.

    اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.

  • ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ افسوس اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں، انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نےفریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی،پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عزم کا اعاد ہ کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

    اسی دوران، سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر را بطہ کیا ہےایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتےہوئے سفارتکاری میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی.

    اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ کو موجودہ صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیااسحاق ڈار نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور موجودہ مفاہمت کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل خطے میں مزید کشیدگی اور بحران سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے.

    اس معاملے پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی اپنے ملک کا مؤقف سامنے لائے ہیں،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، کسی ایک محاذ پر کارروائی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی ،ایرانی وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی.

    دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا.

    ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہےاس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نما ئندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں لبنان کی صورت حال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق اس گفتگو کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے تھے انہیں انہیں بھی واپس بلا لیا گیا ہے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں فائرنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

    امریکی صدر نے اپنے بیان میں اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اسرائیلی حکومت، حزب اللہ یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے اس دعوے کی فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • شانگلہ: گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق

    شانگلہ: گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق

    شانگلہ کی تحصیل الپوری کے علاقے رحیم آباد میں گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق چھت گرنے سے ملبے تلے 7 بچے دب گئے جن میں سے 6 چل بسے جبکہ ایک بچی زندہ نکال لی گئی جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔