قصور
قتل اور اقدام قتل کیس میں بڑی پیش رفت، دو ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار
قصور میں تھانہ چھانگا مانگا پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے قتل اور اقدام قتل کے مقدمہ میں ملوث دو خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا
ایس ایچ او محسن سندھو کی سربراہی میں ہونے والی کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کو جدید ناجائز اسلحہ سمیت قابو کیا
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے وقوعہ میں استعمال ہونے والی دو رائفلیں اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی برآمد کر لی گئیں ہیں
یاد رہے کہ ملزمان نے تقریباً بیس روز قبل چک اٹھارہ تحصیل چونیاں میں اندھا دھند فائرنگ کر کے شہری عبدالرزاق کو قتل جبکہ دو افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا
پولیس نے گرفتار ملزمان کو قانونی کارروائی کے بعد جوڈیشل حوالات منتقل کر دیا ہے جبکہ مذید تفتیش جاری ہے
Blog
-

قتل اور اقدام قتل کے دو ملزمان بھاری اسلحہ سمیت گرفتار
-

امریکا کو ایران جنگ میں بھاری نقصان، 16امریکی جنگی طیارے تباہ ہونے کا دعویٰ
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں میں اب تک امریکا کو فضائی محاذ پر نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے، جہاں مجموعی طور پر 16 جنگی طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے طیاروں میں 10 بغیر پائلٹ MQ-9 Reaper اسٹرائیک ڈرون بھی شامل ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 6 امریکی جنگی جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 3 امریکی جنگی طیارے کویت کی فضاؤں میں تباہ ہوئے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ “فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنے۔اسی طرح ایک KC-135 Stratotanker ری فیولنگ طیارہ دورانِ آپریشن تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام 6 ارکان ہلاک ہو گئے۔مزید برآں، 5 دیگر KC-135 ری فیولنگ طیاروں کو سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق ایران نے امریکی بغیر پائلٹ ریپر ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا، جن میں سے 9 ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں ایک ڈرون کو اردن میں بیلسٹک میزائل کے ذریعے مار گرایا گیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکا کے لیے ایک بڑا عسکری اور اسٹریٹجک دھچکا ہوگا، جو خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
-

کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھانا،ٹی ٹی پی کا چہرہ بے نقاب،صوبائی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال
آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ملک میں کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھا کر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ساتھ اس نوعیت کی ویڈیوز دہشتگرد کسی بھی جگہ اسٹیج کر سکتے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل طور پر پھیلا کر کنٹرول کا جھوٹا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔
یہ فوٹیج ٹی ٹی پی خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے، جو ایک ایسا دہشتگرد گروہ ہے جو عوامی حمایت کے بجائے خوف، جبر اور اسٹیج کیے گئے پروپیگنڈے پر انحصار کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی خوارج کی جانب سے بچوں کا استعمال ایک سوچا سمجھا عمل ہے، جس کے ذریعے معصوم ذہنوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے اور معصومیت کو تشدد کے آلے میں بدلا جا رہا ہے۔ بچوں کے ذریعے درخت جلانا اور ہتھیار لہرانا تباہی کی علامت ہے، جو ٹی ٹی پی کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی جان کی قدر کو رد کرتی ہے، اور خوارج کی تباہ کن ذہنیت اور عوام دشمن، استحکام مخالف اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب ٹی ٹی پی خوارج دیکھتے ہیں، ایک ایسا معاشرہ جہاں نہ تعلیم ہو، نہ حکمرانی، اور نہ ہی بنیادی انسانی اقدار۔
خیبر پختونخوا سے سامنے آنے والے ایسے واقعات صوبائی حکومت کی رٹ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور اس ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ انتہاپسند عناصر کو کھلے عام سرگرم ہونے سے کیوں نہ روکا جا سکا۔ خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاسی قیادت کہاں ہے؟ اور جب شدت پسند بیانیہ معمول بنایا جا رہا ہے تو منتخب نمائندے خاموش کیوں ہیں؟ ٹی ٹی پی خوارج کا مقابلہ صرف سیکیورٹی فورسز پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس کے لیے مؤثر حکمرانی، قانون کا نفاذ اور ہر سطح پر ریاست کی واضح موجودگی ضروری ہے۔ اگر اس سوچ کا اجتماعی طور پر مقابلہ نہ کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور وحشی عناصر کو ریاست کی سمت متعین کرنے کا موقع دے سکتی ہے
-

خیبر میں اسلحہ اٹھائے کمسن بچوں کے ساتھ ویڈیو، سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ پروپیگنڈا حربہ
خیبر سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں کمسن بچوں کو اسلحہ تھامے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو درحقیقت ایک اسٹیجڈ میڈیا اسٹنٹ ہے جس کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے، نہ کہ زمینی حقائق کی عکاسی کرنا۔
مختصر ویڈیو کلپ میں بچوں کو ایک محدود اور چھوٹے سے علاقے میں دکھایا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کے مناظر محض تاثر قائم کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ چند فٹ کے اسٹیج کیے گئے مناظر کی بنیاد پر کسی خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا اندازہ لگانا درست نہیں۔اس ویڈیو میں شامل کمسن بچوں کو معمولی رقم یا عیدی دے کر شامل کیا گیا۔ ایک منظر میں ایک بچے کو ہتھیار کو چومتے ہوئے دکھایا گیا، جودہشت گردی کی خطرناک تشہیر ہے، یہ اقدام نہ صرف بچوں کا استحصال ہے بلکہ شدت پسندی کو جذباتی رنگ دے کر پھیلانے کی کوشش بھی ہے۔
اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا حکومت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔مقامی انتظامیہ کہاں ہے؟صوبائی حکومت کیوں خاموش ہے؟علاقے کے منتخب اراکین اسمبلی (ایم این ایز اور ایم پی ایز) نے اب تک کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا؟ماہرین کا کہنا ہے کہ سول اداروں کو فوری طور پر متحرک ہو کر ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر امن و امان کا مسئلہ فوج کا کام نہیں ہوتا۔مقامی حکومت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی بھی واضح ذمہ داریاں ہیں، اور سول نظام کی ناکامی کو سیکیورٹی اداروں پر منتقل کرنا مناسب نہیں۔
شدت پسند گروہ ماضی میں بھی اسی طرح کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وسیع رقبے (آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد) میں چند فٹ کے علاقے میں ویڈیو بنا کر اسے پورے ملک میں سیکیورٹی کی ناکامی کے طور پر پیش کرنا ایک پرانا طریقہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے گروہ اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے میڈیا تھیٹرکس پر انحصار کرتے ہیں، جن میں مختصر ویڈیوز،بچوں کا استعمال،جذباتی مناظر،کنٹرول کا جھوٹا تاثر شامل ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو دہشت گردی کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔یہ نہ صرف کمسن افراد کا استحصال ہے بلکہ ایک منظم نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہے، جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے، نہ کہ بغیر تحقیق کے پھیلانا۔
-

کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل
کچھ نام نہاد اعزاز سید جیسے”تحقیقی صحافی” درحقیقت صحافی نہیں ، نہ تحقیق، نہ تصدیق، نہ زمینی حقائق کی پڑتال، بس ایک جذباتی ویڈیو دیکھی، اس پر جھوٹ، پروپیگنڈا اور ڈرامہ چڑھایا، اور ریٹنگ و ویوز کے لالچ میں سوشل میڈیا پر کچرا پھینک دیا۔ کوئی ٹحقیق بھی فرما لیتے۔
“واقعہ ایک پرائیویٹ ھاؤسنگ سوسائیٹی کی بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر موجود دو کیفے مالکان (خاتون اور مرد) کے درمیان پلازہ کے سامنے والے خالی پلاٹ پر قبضہ کرنے اور میزیں لگانے کے معاملے پر پیش آیا۔ سیکیورٹی عملے نے موقع پر پہنچ کر دونوں پر واضح کیا کہ سامنے پلاٹ کسی کی ملکیت نہیں ہے، لہٰذا اس کا تجارتی استعمال ممنوع ہے۔لہذاٰ پلاٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ لوگ خبر نہیں بناتے، ب خبر کو سنسنی خیزی کا لبادہ پہناتے ہیں۔ انہیں نہ سچ سے دلچسپی ہے، نہ متاثرہ فریق سے، نہ قانون سے، نہ حقائق سے۔ ان کی پوری صحافت کا خلاصہ یہ ہے “پہلے پوسٹ کرو، بعد میں سوچو، یا بالکل نہ سوچو۔” افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اتنے سادہ لوح، نااہل اور غیر پیشہ ور لوگ خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں، حالانکہ ان کی “تحقیق” صرف اتنی ہوتی ہے کہ وائرل ویڈیو دیکھی، جذباتی کیپشن لگایا، دو لوگوں کو ٹیگ کیا اور جھوٹا بیانیہ بیچنا شروع کر دیا۔
یہ صحافت نہیں، یہ سستی شہرت کا گھناؤنا کاروبار ہے۔
نہ ریکارڈ چیک کیا، نہ متعلقہ ادارے سے مؤقف لیا، نہ زمین کی اصل قانونی حیثیت دیکھی ، بس ویوز کے نشے میں جو سامنے آیا، وہی پوسٹ کر دیا۔ ایسے لوگ دراصل سچ کے نہیں، سنسنی پھیلانے کے دلاّل ہیں۔ عقل وفہم سے عاری۔ ان کا مقصد حقائق سامنے لانا نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھڑکا کر اپنی دکان چمکانا ہے۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ صحافتی بددیانتی کی بدترین شکل ہے۔ جب صحافی تحقیق چھوڑ کر افواہ فروشی پر اتر آئے تو وہ معاشرے کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ گمراہی، اشتعال اور بے اعتمادی پھیلاتا ہے۔جو شخص تحقیق کے بغیر الزام اچھالے، وہ صحافی نہیں، فیکٹری میڈ پروپیگنڈسٹ ہے۔آج کل اعزاز سید جیسے صحافیوں کو سچ سے زیادہ اپنے ویوز عزیز ہیں، حقائق سے زیادہ اپنی ریچ پیاری ہے، اور پیشہ ورانہ دیانت سے زیادہ اپنی ریٹنگ کی فکر ہے۔ اسی لیے یہ لوگ ہر جذباتی ویڈیو کو “انویسٹی گیشن” اور ہر جھوٹے الزام کو “بریکنگ” بنا دیتے ہیں۔ اعزاز سید جیسے صحافی نہیں، ویوز کے بھوکے افواہ فروش ہیں۔ تحقیق ان کے بس کی بات نہیں، ڈرامہ بیچنا ان کا اصل ہنر ہے۔ ایک جھوٹ سے بھر پور جذباتی وائرل کلپ ملا اور یہ “تحقیقی صحافت” کے نام پر جھوٹ کی دکان کھول کر بیٹھ گئے۔ سچ کی تلاش نہیں، ریٹنگ کی تلاش ان کا اصل ایجنڈا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافی خبر نہیں دیتے، فساد کو فیڈ کرتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمار سولنگی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے اس پوسٹ کی طرف سےاعزاز سید
ہماری صحافت کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ایک تحقیقاتی صحافی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ صرف اس لیے حرکت میں آیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز ویڈیو دیکھی ہے۔ اور نام نہاد صحافی نے صدر پاکستان کے علاوہ کسی اور کو ٹیگ نہیں کیا اور اس میں کسی اور کو نہیں بلکہ صدر پاکستان کی بیٹی کو شامل کیا ہے۔اور یہ سب حقائق کو جانچے بغیر۔یہ کچھ حقائق ہیں جو مجھے سندھ کے صحافی ہونے کے ناطے چند منٹوں میں معلوم ہو گئے۔کیس کا تعلق زمین کے قبضہ یا اس کے پلاٹ یا اس سے متعلق کسی دھوکہ دہی سے نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کراچی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان کی مالک ہے۔ وہ اور اس کے پڑوسی دکان کے مالک، دونوں نئے قائم کردہ / تجدید شدہ کیفے ٹیریا کے مالک ہیں۔ دونوں باہر بیٹھنے کے لیے سامنے کا لان/سبز جگہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ہی سبز جگہ کے استعمال پر جھگڑا ہوا اور اسی وجہ سے خاتون کو پڑوسی کیفے کے مالک کے خلاف وضاحتیں/الزامات لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ پہلے ہی مداخلت کر چکی ہے اور دونوں فریقوں کو بتا چکی ہے کہ کسی کو بھی اس سبز جگہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔
-

نجی اسکولز کا مطالبہ: تعلیمی ادارے 24 مارچ سے کھولے جائیں
پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی ادارے 24 مارچ سے دوبارہ کھولے جائیں اور 31 مارچ تک تعطیلات کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
ایسوسی ایشن کے رہنما ابرار احمد خان کے مطابق پنجاب میں تدریسی دنوں کی تعداد صرف 124 ہے، جو عالمی اوسط 186 دنوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک جیسے سری لنکا، بھارت اور بنگلادیش میں تعلیمی ادارے بند نہیں کیے گئے، اس لیے پنجاب میں بھی اس فیصلے پر نظرثانی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صوبے بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں کو 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور نصاب کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
تعلیمی حلقوں کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ تعلیمی سال میں ہفتہ وار چھٹیوں میں کمی کی جائے، جبکہ موسم گرما اور سرما کی تعطیلات کو محدود کر کے تعلیمی دنوں کی تعداد کم از کم 180 تک بڑھائی جائے۔ ساتھ ہی طلبہ کے لیے سمر کیمپس متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ تعلیمی نقصان کا ازالہ ہو سکے۔ -

کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تنازعہ،ادھوری ویڈیو،تحقیقاتی صحافت پر سوالات
کراچی میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے حالیہ تنازعے کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے بعد حقیقت سامنے آ گئی ہے، جس نے نام نہاد تحقیقاتی صحافت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ دراصل دو کیفے کے کرایہ داروں کے درمیان ایک کھلے لان،میڈین کے غیر قانونی استعمال پر جھگڑے کا تھا۔ سوسائٹی قوانین کے تحت اس جگہ پر کسی قسم کی تعمیرات یا ذاتی استعمال کی اجازت نہیں ہے، جبکہ دونوں فریق اس اصول کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔سوسائٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں اطراف کو روک دیا اور واضح کیا کہ مذکورہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ اوپن ایریا ہے، جسے کسی بھی نجی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ادھوری ویڈیوز اور غیر مصدقہ دعوؤں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دے دیا۔ بعض صارفین اور نام نہاد تحقیقاتی صحافیوں نے بغیر تصدیق کے صدر مملکت آصف علی زرداری، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن اور سندھ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، حالانکہ اس واقعے کا سرکاری پالیسی یا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کراچی کے ہر جھگڑے کاصدر مملکت آصف علی زرداری کا قصور نہیں۔ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہر دلیل سندھ حکومت کا مسئلہ نہیں ہے۔ہر وائرل کلپ تحقیقات نہیں ہوتا۔کبھی کبھی یہ صرف غیر قانونی تجاوزات ہے.
یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ادھوری معلومات اور سنسنی خیزی کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر تنازعے کو حکومتی ناکامی قرار دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ صحافتی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ معروف ناموں جیسے اعزاز سید اور احمد فرہاد سمیت مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی مکمل حقائق کی تصدیق کیے بغیر اس معاملے کو بڑھایا۔حالانکہ اعزاز سید خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں اور بنا کسی تحقیق کے ویڈیو کو ایکس پر شیئر کر دیا اسی طرح احمد فرہاد اور دیگر نے بھی ویڈیو کو بنا کسی تحقیق کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور سندھ حکومت کو ٹیگ کیا،
موجودہ دور میں "تحقیقاتی صحافت” کے نام پر آدھی ویڈیوز دیکھ کر رائے قائم کرنا، حکومت کو ٹیگ کرنا اور سیاستدانوں پر الزام لگانا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عوامی رائے متاثر ہوتی ہے بلکہ اصل مسائل بھی پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کیس صرف تجاوزات کی لڑائی تھی،
-

پاکستان میں فائیو جی کا آغاز، تین ٹیلی کام کمپنیوں کو اسپیکٹرم لائسنس جاری
پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تین ٹیلی کام آپریٹرز کو فائیو جی اسپیکٹرم کے لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو جدید دور کا ایک بڑا سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی شفاف طریقے سے مکمل کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھولے گا، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں، دیہاتوں اور شہروں تک جدید سہولیات پہنچائی جائیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فائیو جی کے حوالے سے درپیش قانونی چیلنجز کو کامیابی سے حل کیا گیا اور اس میں متعلقہ اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس منصوبے کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا، جسے اب مؤثر انداز میں دور کر لیا گیا ہے۔ -

چین کا پاکستان افغانستان جنگ بندی کا خیرمقدم، مذاکرات پر زور
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں تاکہ مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی خطے کے امن اور استحکام کی ضمانت ہے، اور چین سمیت دیگر دوست ممالک اس حوالے سے ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان نے عیدالفطر کے موقع پر جاری کشیدگی میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے، جو چند روز تک نافذ العمل رہے گا۔ اس فیصلے کو خطے میں امن کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کی تصدیق کی ہے، جسے عیدالفطر کے موقع سے منسلک کیا گیا ہے۔ -

ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں تھا، سابق امریکی عہدیدار کا دعویٰ
واشنگٹن میں امریکی انسداد دہشتگردی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں تھا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایٹمی پروگرام کو کم شدت کی طرف لے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق ایران میں 2004 سے ایک مذہبی فتویٰ بھی موجود ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس انٹیلیجنس شواہد سامنے نہیں آئے۔
جو کینٹ نے مزید کہا کہ جون میں جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تب بھی ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں تھا۔
انہوں نے امریکی داخلی مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک نے بھی ایران کے ساتھ فوجی تصادم سے گریز کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق جن شخصیات کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا، ان میں علی لاریجانی جیسے سنجیدہ مذاکرات کار شامل تھے جو کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں تھے۔