Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کا ’آپریشن غضب للحق‘ 44 افغان اہلکار ہلاک،افغان چیک پوسٹوں پر پاکستانی پرچم

    پاکستان کا ’آپریشن غضب للحق‘ 44 افغان اہلکار ہلاک،افغان چیک پوسٹوں پر پاکستانی پرچم

    پاک فوج کی افغان فورسز کی دراندازی پر بھرپورجوابی کارروائی جاری ہے

    سیکیورٹی فورسز نےکرم سیکٹر کے قریب افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کردیئے،8 مزید طالبان جنگجو جہنم واصل ہو گئے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی کیلئے پرعزم ہیں اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباََ 44 افغانی جہنم واصل ہو چکے ہیں،

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے ’آپریشن غضب للحق‘ شروع کردیا، چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب تک 44 طالبان کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔ ذرائع نے بتایا کہ چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چترال میں بھی بھرپور جواب دیا۔ فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔پاک افغان سرحد پر مہمند میں گرسال سیکٹر میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی جاری ہے، گرسال سیکٹر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کردیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے۔ ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔

    افغان چوکیوں پر پاکستانی فورسز کی یلغار،پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔واضح پیغام دیا گیا کہ سرحدی خلاف ورزی یا کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

  • افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے کھڑی ہے۔ اگر علاقائی کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ ذمہ دار ہے اور کون آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کرتا ہے۔

    2021 کے بعد قائم ہونے والی افغان عبوری حکومت کو عالمی سطح پر مکمل تسلیم تو نہیں کیا گیا، مگر عملی سطح پر مختلف ممالک اس کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور سیاسی رابطے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہی اثر و رسوخ خطے میں امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا؟ اگر معاشی تعاون جاری رہ سکتا ہے تو سیکیورٹی ضمانتوں اور انسدادِ دہشت گردی کے واضح اقدامات کو اس سے مشروط کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

    علاقائی سطح پر سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایسے بااثر ممالک ہیں جو نہ صرف معاشی طاقت رکھتے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر ثالثی کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ دوحہ سے لے کر دیگر علاقائی تنازعات تک، یہ ممالک بارہا مذاکرات کی میز سجانے میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ریاستیں محض تماشائی یا سرمایہ کار نہ رہیں بلکہ ضامنِ امن بن کر سامنے آئیں، مشترکہ علاقائی کانفرنس بلائیں، سرحدی سلامتی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف مربوط حکمت عملی طے کریں اور واضح پیغام دیں کہ خطے کو کسی نئی جنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑتا آیا ہے۔ بے شمار جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی دفاعی صلاحیت اور ریاستی عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، مگر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اصل ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کشیدگی کو سفارت کاری، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کم کیا جائے۔

    بین الاقوامی تناظر میں اگر افغانستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ وسط ایشیا کی ریاستیں، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ یورپی خطہ بھی مہاجرین کے نئے بحران، انتہا پسند عناصر کی نقل و حرکت اور تجارتی و توانائی راہداریوں پر دباؤ کی صورت میں اس کے اثرات محسوس کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ کسی ایک سرحد یا دو طرفہ کشیدگی کا نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کا سوال بن چکا ہے۔
    آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ علاقائی قیادت فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اپنائے، اقتصادی تعاون کو سیکیورٹی اقدامات سے جوڑے، اور عالمی طاقتوں کو بھی فعال سفارتی کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے۔ اگر خلا پیدا ہوا تو شدت پسند قوتیں اسے پُر کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بروقت فیصلہ نہیں کرتیں تو حالات ان کے لیے فیصلے کر دیتے ہیں۔

    جنگ کی گونج سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مگر دانشمندانہ قیادت تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ آج خطے کو اسلحے کی نمائش نہیں، بصیرت، تدبر اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ فیصلہ طاقت کا نہیں، قیادت کا ہے،اور یہی قیادت آنے والی نسلوں کے امن کی ضامن بن سکتی ہے۔

  • پاک فوج کی موثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی، افغان طالبان تورخم بارڈر چھوڑ کر فرار

    پاک فوج کی موثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی، افغان طالبان تورخم بارڈر چھوڑ کر فرار

    افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال جارحیت کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر حکمتِ عملی اور بھرپور ردعمل کے نتیجے میں افغان طالبان کے اہلکار تورخم بارڈر سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب افغان طالبان کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات دیکھنے میں آئے، جس کے بعد پاکستانی افواج نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں صورتحال کو سنبھالا اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ملکی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔سیکیورٹی حکام کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان کے جنگجو تورخم بارڈر پر اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر ٹرکوں میں سامان لوڈ کر کے فرار ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں افغان اہلکاروں کو جلدی میں مورچے خالی کرتے دیکھا گیا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی نے نہ صرف دشمن کی پیش قدمی کو روکا بلکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سرحدوں کے دفاع کے لیے پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جاتا رہے گا۔

  • جہاں سے گولی چلے گی تو جنگ وہاں ہوگی، مصدق ملک

    جہاں سے گولی چلے گی تو جنگ وہاں ہوگی، مصدق ملک

    وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاک افغان سرحد پر کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ایک اور ہمسایہ بھی یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے منہ کی کھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم اس پراکسی وار میں بھی منہ کی کھائیں گے۔

    پاک افغان سرحد پر کشیدگی پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک امن سے بات ہو رہی تھی تو ہم امن سے بات کر رہے تھے ، اب وہ بندوق سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آگے سے گولے سے بات ہوگی،ہمارا ایک اور ہمسایہ بھی یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے منہ کی کھا چکا ہے ، افغانستان میں کٹھ پتلی معاملہ چل رہا ہے ہم جانتے ہیں اس کے پیچھے کون ہے،افغان طالبان رجیم اس پراکسی وار میں بھی منہ کی کھائیں گے،گولی چلے گی اور جہاں سے گولی چلے گی تو جنگ وہاں ہوگی، ہم امن پسند قوم ہیں امن سے رہنا چاہتے ہیں یہ شاید اس کو کمزوری سمجھتے ہیں،دشمن کی طرف سے فیک ویڈیوز چلائی جارہی ہیں یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر تو نہیں ہوگی۔

    واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کردیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔

  • 36 طالبان اہلکار ہلاک،پاک فوج کے 2 جوان شہید،عطا تارڑ

    36 طالبان اہلکار ہلاک،پاک فوج کے 2 جوان شہید،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا.

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پرپیگینڈا کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.خوش فہمیوں پر مبنی ایسی تمام افواہیں خفت مٹانے کیلئے پھیلائی جارہی ہیں.عملی میدان میں شکست فاش کے بعد افغان طالبان رجیم جھوٹ اور پراپیگینڈے کا سہارا لے رہی ہے.
    افغان طالبان رجیم کو ہر گز جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے.الحمدللہ پاکستان کی پیشہ ورانہ افواج حملہ آوروں کے عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں.اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی کاروائی میں افغان طالبان رجیم کے چھتیس کارندے جہنم واصل ہو چکے. متعدد زخمی ہیں۔ وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے جبکہ تین جوان زخمی ہیں.پاکستان نے گزشتہ دنوں خطے بالخصوص پاکستان میں معصوم لوگوں کو شہید کرنے والے فتنہ الخوارج کے دھشتگردوں کے خلاف کامیاب کاروائی کی.افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کے دفاع میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ نے افغان طالبان رجیم کی دھشتگردوں کی پشت پناہی کو پوری دنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر سے بے نقاب کر دیا.افغانستان کو ماضی کی پسپائیوں سے سبق سیکھنا چاہیئے.پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے رہے گے.

  • پاک فوج نےچترال سیکٹر کے قریب  افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کو تباہ کردیا

    پاک فوج نےچترال سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کو تباہ کردیا

    پاک فوج کی افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت پر مؤثر کارروائی جاری ہے،

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نےچترال سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کو کامیابی سے نشانہ بنا کرتباہ کردیا ،پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کو ہرصورت یقینی بنائے گا ،

    افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، مسجد کو نشانہ بنا ڈالا،افغان طالبان کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی باجوڑ میں مسجد کو بھی نشانہ بنا ڈالا،افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے بری طرح متاثرہوئے ہیں،پاک فوج افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کسی بھی سرحدی جارحیت کا منہ توڑ اور موثر جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں

  • پاک افغان سرحد،پاک فوج کا منہ توڑ جواب،30 افغان طالبان اہلکار ہلاک

    پاک افغان سرحد،پاک فوج کا منہ توڑ جواب،30 افغان طالبان اہلکار ہلاک

    پاک افغان سرحد پر مہمند میں گرسال سیکٹر میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی جاری ہے،

    گرسال سیکٹر میں پاکستان سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کر دیں، مزید 3 طالبان جہنم واصل ہو گئے،، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افغان طالبان کی تعداد 30 کے لگ بھگ ہو گئی، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت اور کسی بھی جارحیت کیخلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں

    افغان طالبان حکومت کی پاک-افغان سرحد پر بلا اشتعال کارروائی کا پاکستان کی جانب سے فوری اور موثر جواب دے دیا گیا۔ افغان طالبان نے سنگین خوش فہمی کا شکار ہوئے خیبر پختونخوا میں پاکستان افغانستان سرحد پر متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی حماقت کی جس کا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور موثر جواب دیا جا رہا ہے۔ چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی افواج کو دھول چٹاتے ہوئے بھرپور جواب دیا جارہا ہے۔ ابتدائی رپورٹوں میں افغانستان کے بھاری جانی نقصان کی تصدیق ہوئی ہے جس میں متعدد چوکیاں اور سازوسامان و آلات تباہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

  • پی ٹی ایم سے منسلک اکاؤنٹس کا 15 پاکستانی فوجی چوکیوں پرقبضے کاپروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی ایم سے منسلک اکاؤنٹس کا 15 پاکستانی فوجی چوکیوں پرقبضے کاپروپیگنڈا بے نقاب

    سوشل میڈیا پر افغان، مبینہ آر ڈبلیو اے (RWA) اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے منسلک پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ افغانستان نے پاکستان آرمی کی 15 چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے، متعدد فوجیوں کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی اہلکاروں کو زندہ گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ان پوسٹس میں اس مبینہ کارروائی کو ایک بڑی جنگی فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    تاہم دستیاب حقائق اور زمینی ذرائع اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔

    حقیقت کیا ہے؟
    سیکیورٹی اور سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی کی کسی بھی چوکی پر قبضے کی کوئی آزاد، غیر جانبدار یا بین الاقوامی تصدیق موجود نہیں۔ دعویٰ کرنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے کسی قسم کی آپریشنل تفصیلات، جغرافیائی محلِ وقوع (geolocation) ڈیٹا، مستند ویڈیو یا تصویر، یا کسی تیسرے فریق کی توثیق فراہم نہیں کی گئی۔ سرکاری اور زمینی سطح کے ذرائع نے واضح طور پر ایسے کسی واقعے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ماضی میں بھی کشیدگی کے ادوار کے دوران اسی نوعیت کے مبالغہ آمیز اور نفسیاتی جنگ پر مبنی بیانیے پھیلائے جاتے رہے ہیں، جن کا مقصد عوامی جذبات کو بھڑکانا اور خوف و ہراس پیدا کرنا ہوتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی خبریں دراصل "انفارمیشن وارفیئر” یا اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد میدانِ جنگ میں کسی حقیقی پیش رفت کی عکاسی کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنا، عوام میں بے چینی پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات کو ہوا دینا ہوتا ہے۔حالیہ دعویٰ بھی اسی حکمت عملی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس میں بغیر کسی ثبوت کے بڑے پیمانے پر کامیابی کا تاثر دیا گیا تاکہ داخلی اور خارجی سطح پر نفسیاتی برتری حاصل کی جا سکے۔

    پاکستان آرمی کی 15 چوکیوں پر قبضے، فوجیوں کی شہادت یا گرفتاری سے متعلق دعویٰ مکمل طور پر جعلی اور منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ ان الزامات کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد، آزاد یا مستند ثبوت موجود نہیں۔عوام سے اپیل ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے گریز کریں اور معلومات کی تصدیق مستند ذرائع سے ضرور کریں۔

  • باجوڑ،شکست خوردہ افغان طالبان کی سول آبادی پر فائرنگ،5 زخمی،مسجد شہید

    باجوڑ،شکست خوردہ افغان طالبان کی سول آبادی پر فائرنگ،5 زخمی،مسجد شہید

    باجوڑ، بھرپور فوجی جواب کے بعد بزدل افغان طالبان حکومت کی جانب سے سول آبادی پر فائرنگ،بچوں،خواتین سمیت 5 افراد زخمی، مسجد پر گولہ باری سے مسجد بھی شہید ہو گئی

    سرحدی ضلع باجوڑ میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے برہ لغڑئی اور گردونواح کے علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے دوران ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ رہائشی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں میں تین خواتین اور دو بچے شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا آغاز افغان حدود سے ہوا، جس کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستانی فورسز نے دشمن کی فائرنگ کا نہ صرف منہ توڑ جواب دیا بلکہ سرحد پار موجود ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔مقامی اطلاعات کے مطابق شدید دباؤ کے بعد افغان طالبان کے اہلکار اپنی ایک سرحدی پوسٹ چھوڑ کر فرار ہوگئے، جس پر بعد ازاں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جوابی کارروائی کے دوران متعدد حملہ آور ہلاک بھی ہوئے،علاقے میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا جارحیت کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جاسکے۔

  • پاکستان کو نقصان پہنچانےکا افغانستان کا دعویٰ بھارتی پراکیسز کاپروپیگنڈہ

    پاکستان کو نقصان پہنچانےکا افغانستان کا دعویٰ بھارتی پراکیسز کاپروپیگنڈہ

    وزیراعظم شہباز شریف کےترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ پاک۔افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے حوالے سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق الحمدللہ نہ تو کسی پاکستانی چوکی پر قبضہ کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستانی فورسز نے موثر اور فوری کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار موجود حملہ آور عناصر کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا گیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔ پاکستانی سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور سرحدی علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ اب تک کسی بھی پاکستانی فوجی کے شہید یا اغوا ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایسے تمام دعوے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیے گئے ہیں جن میں پاکستانی چوکیوں کو نقصان پہنچانے یا اہلکاروں کے اغوا کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈا بھارت کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے تاکہ صورتحال کو غلط رنگ دیا جا سکے۔

    اعلیٰ عسکری حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب فوری اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق افواجِ پاکستان ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور قومی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور مصدقہ اطلاعات کی اشاعت نہایت ضروری ہے تاکہ افواہوں اور دشمن کے پروپیگنڈے کا سدباب کیا جا سکے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر یقین کریں۔