کویت کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے چار افراد کو سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کویت میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گرفتار افراد خفیہ طور پر کویت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سکیورٹی اداروں کو مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔
وزارت کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
کویتی حکام نے گرفتار افراد کی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی تاہم ابتدائی تحقیقات میں ان کے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ افراد کسی مخصوص مشن کے تحت ملک میں داخل ہونا چاہتے تھے یا نہیں۔
واقعے کے بعد کویت میں ساحلی نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے جبکہ سمندری حدود میں گشت تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر قانونی داخلے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک پہلے ہی سکیورٹی خدشات کے باعث حساس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس گرفتاری کے بعد خطے میں سفارتی اور سکیورٹی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
کویتی وزارتِ داخلہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
Blog
-

کویت میں پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے 4 افراد گرفتار
-

وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم شہباز شریف نے آج آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور برادرانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات اور تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستی اور قریبی تعلقات کو خطے کے لیے اہم قرار دیا۔
ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کی پاکستان کے لیے مسلسل حمایت کو سراہا جبکہ صدر الہام علییف نے بھی دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے پر زور دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک عالمی و علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ -

سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس،مبشر لقمان مہمان خصوصی
سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس کے زیر اہتمام ایف سی کالج لاہور میں بین الاقوامی کانفرنس کل بدھ کو ہو گی، سینئر صحافی و اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہو ں گے،سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس کی جانب سے خصوصی دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے
سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس کے زیر اہتمام “پاکستان کے لیے مستقبل کے رجحانات اور تبدیلی کے راستوں کی سمت” کے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس 13 اور 14 مئی 2026 کوایف سی کالج میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس میں ملکی و غیرملکی پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، سیکیورٹی تجزیہ کاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شرکت کریں گے۔کانفرنس میں سینئر صحافی و اینکر پرسن ، سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان “مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، پاکستان کا اسٹریٹجک کردار اور مفادات” کے عنوان سے ہونے والے خصوصی سیشن میں خطا ب کریں گے، اس نشست میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کوششوں، اور خطے میں اقتصادی و توانائی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس منتظمین کا کہنا ہے کہ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سیاسی و علاقائی امور پر مہارت اور تجزیاتی بصیرت کانفرنس کے مباحث کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی،مذکورہ سیشن 13 مئی کو صبح 11 بجے ایف سی کالج لاہور کے کمرہ نمبر E-002 میں منعقد ہوگا .
-

صومالی قزاقوں کا تاوان دگنا، پاکستانیوں سمیت عملے کی زندگی خطرے میں
صومالی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیے گئے تیل بردار جہاز کے عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم میں بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ جہاز پر پاکستانی شہریوں سمیت مختلف ممالک کے افراد موجود ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق بتائے جا رہے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق صومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز “ایم ٹی یوریکا” پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب انہوں نے یرغمال عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی ہے۔ اس سے قبل قزاقوں نے 3 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم مذاکرات میں تعطل آنے کے بعد رقم میں اچانک اضافہ کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر پاکستان کے 11 شہری بھی موجود ہیں جبکہ 8 مصری ملاح بھی اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ مغویوں کے اہلخانہ مسلسل اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے فکرمند ہیں اور حکومتوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اغوا ہونے والے تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم کے بھائی احمد راضی نے میڈیا کو بتایا کہ چند روز قبل ان کے بھائی کی مختصر فون کال موصول ہوئی تھی جس میں اس نے بتایا کہ جہاز کی مالکانہ کمپنی اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے، مگر بعد میں حالات مزید خراب ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے بتایا کہ جہاز پر موجود افراد شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اہلخانہ نے مصری اور بین الاقوامی حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کرایا جا سکے۔
دوسری جانب مغوی انجینئر کی اہلیہ امیرہ محمد نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے تاوان ادا نہ کرنے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار پہلے مختصر فون کالز کی اجازت دیتے تھے لیکن مذاکرات رکنے کے بعد رابطے بھی محدود ہو گئے ہیں۔
مصری وزارت خارجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے موغادیشو میں مصری سفارت خانے کو ہدایت جاری کی ہے کہ مغوی ملاحوں کی حفاظت اور جلد رہائی کے لیے صومالی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے۔ -

ٹرمپ کا ایک بار پھر ایران کے 159 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے 159 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں ایران، سابق امریکی صدور اور کیوبا سے متعلق بھی سخت بیانات دیے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تقابلی تصاویر شیئر کیں جن میں مختلف ادوار میں ایرانی بحری سرگرمیوں کو دکھایا گیا۔ تصاویر میں سابق امریکی صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کے دور کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں ایرانی بحری جہاز سمندر میں متحرک دکھائے گئے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیوں کے باعث ایران کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں اس کے بحری جہاز تباہ ہوئے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات یا شواہد پیش نہیں کیے۔
اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے سابق صدور اوباما اور بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے ادوار میں ایران کو کھلی چھوٹ ملی، جبکہ ان کی حکومت نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا سے متعلق بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ “کسی ریپبلکن نے کبھی مجھ سے کیوبا کے بارے میں بات نہیں کی کیونکہ کیوبا ایک ناکام ملک ہے جو صرف ایک سمت میں جا رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا اب مدد مانگ رہا ہے اور امریکہ اس معاملے پر بات چیت کرے گا۔
امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد چین کے دورے پر روانہ ہوں گے، تاہم انہوں نے اس دورے کی تفصیلات واضح نہیں کیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے دعوؤں پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان بیانات کو سیاسی مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ تجزیہ کار ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ان بیانات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ -

ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب امریکی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور معیشت دونوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ختم ہونے والے سال کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی سی پی آئی کی شرح 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل مارچ میں یہ شرح 3.3 فیصد جبکہ فروری میں 2.4 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اس تیزی سے اضافے کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں بڑھتی قیمتیں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف اپریل کے مہینے میں مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد اضافہ ہوا، جس میں سب سے زیادہ کردار پیٹرول اور دیگر توانائی مصنوعات کی مہنگی قیمتوں نے ادا کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں گزشتہ ماہ پیٹرول کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک سال کے دوران پیٹرول تقریباً 30 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا سمیت کئی ممالک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد یہ مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر سب سے بڑا اضافہ ہے۔ امریکی عوام پہلے ہی بڑھتے اخراجات اور بلند شرح سود کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران سے متعلق تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تیل مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست امریکی اور عالمی معیشت پر پڑیں گے۔ -

نواب ٹاؤن میں کروڑوں کی ڈکیتی، چور زیورات اور نقدی لے کر فرار
لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں چوری کی ایک بڑی واردات نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ نامعلوم چور ایک گھر سے کروڑوں روپے مالیت کے زیورات اور نقدی چوری کرکے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق واردات اس وقت پیش آئی جب گھر کے افراد کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے۔ چوروں نے اہلخانہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا اور بالائی منزل کے دروازے کا شیشہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے گھر کے مختلف کمروں کی تلاشی لی اور قیمتی سامان سمیٹ کر باآسانی فرار ہو گئے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ چور تقریباً 4 کروڑ روپے مالیت کے زیورات اور 3 لاکھ روپے نقدی ساتھ لے گئے۔ چوری ہونے والے زیورات میں 80 تولہ سونا شامل ہے، جبکہ 30 طلائی انگوٹھیاں، 4 قیمتی طلائی سیٹ اور ایک ڈائمنڈ سیٹ بھی واردات میں چوری کیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور فرانزک ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ تفتیشی حکام نے گھر سے فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں تاکہ ملزمان تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور قریبی علاقوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
علاقہ مکینوں نے شہر میں بڑھتی ہوئی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نے گھروں کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ -

گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پیداواری لاگت، درآمدی اخراجات اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گھی اور کوکنگ آئل مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ نئی قیمتوں کے مطابق گھی کی فی کلو قیمت میں 3 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ 598 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کوکنگ آئل 618 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضروریات پوری کرنا اب انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 10 سے 20 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں آٹا مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اچھی کوالٹی کے چاول بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق خوراک کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو جائے گا۔ لوگوں نے حکومت سے سبسڈی اور قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ -

پنجاب حکومت کا خواتین کیلئے ‘ای لرن شی ارن’ پروگرام شروع
پنجاب حکومت نے خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے 70 کروڑ روپے مالیت کا “ای لرن شی ارن” پروگرام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت میٹرک پاس خواتین کو مفت تربیت، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ سہولت اور ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد صوبے بھر کی خواتین کو آن لائن روزگار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آمدن حاصل کر سکیں۔
پروگرام کے تحت منتخب امیدواروں کو تین ماہ کی مفت آن لائن ٹریننگ دی جائے گی۔ اس تربیت میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آن لائن مصنوعات کی فروخت، برانڈ مینجمنٹ اور گرافک ڈیزائننگ جیسے شعبے شامل ہیں۔ خواتین کو تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کے ساتھ بصری مواد تیار کرنے کی مہارت بھی سکھائی جائے گی۔
اس کے علاوہ ورچوئل اسسٹنٹ کی تربیت بھی پروگرام کا حصہ ہوگی، جس کے ذریعے خواتین بین الاقوامی کلائنٹس کو انتظامی اور آن لائن سپورٹ فراہم کرنے کے قابل بن سکیں گی۔ آن لائن کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کی پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔
حکومت نے خواتین کو تربیت کے دوران درپیش مالی اور تکنیکی مشکلات کم کرنے کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منتخب خواتین کو مفت لیپ ٹاپ، ماہانہ وظیفہ، انٹرنیٹ پیکج اور کورس مکمل کرنے پر پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔
پروگرام میں درخواست دینے کے لیے عمر کی حد 15 سے 35 سال مقرر کی گئی ہے، تاہم بعض کورسز کے لیے 40 سال تک رعایت دی جائے گی۔ صرف پنجاب کی مستقل رہائشی خواتین درخواست دینے کی اہل ہوں گی جن کے پاس شناختی کارڈ یا ب فارم موجود ہو۔ کم از کم تعلیمی قابلیت میٹرک یا انٹرمیڈیٹ رکھی گئی ہے۔
خواہشمند خواتین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے پورٹل اور پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کروا سکتی ہیں۔ امیدواروں کا انتخاب میرٹ اور اہلیتی امتحان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ خواتین کو ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے اور بے روزگاری کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ -

حج ضوابط کی خلاف ورزی، سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت 18 غیر ملکی گرفتار
سعودی عرب میں حج 2026 کی تیاریاں عروج پر ہیں اور دنیا بھر سے عازمینِ حج کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مکہ مکرمہ میں بڑھتے ہوئے رش اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی حکام نے حج ضوابط پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف کارروائیوں کے دوران پاکستانیوں اور افغان باشندوں سمیت 18 غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مکہ ریجن پولیس نے ان افراد کو اقامہ، نسک کارڈ اور حج بریسلیٹ میں جعلسازی کے الزام میں حراست میں لیا۔ گرفتار افراد میں پاکستانی، افغان، سوڈانی، مصری اور یمنی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق بعض افراد جعلی دستاویزات کے ذریعے حدودِ مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ کچھ لوگ بغیر اجازت قیام کے لیے مکہ پہنچے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس غیر ملکیوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ حج پرمٹ کے بغیر مکہ میں داخل ہو کر وہاں رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹس اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیے۔
اس سے قبل پانچ افغان باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جو صحرائی راستے سے پیدل مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق حج سیزن کے دوران غیر قانونی داخلے اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے تمام شہریوں اور غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حج سے متعلق جاری قوانین اور ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ عازمینِ حج کی حفاظت، سکیورٹی اور بہتر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ حج پرمٹ کے بغیر مکہ میں داخل ہونے یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ گرفتار تمام افراد کو ابتدائی کارروائی کے بعد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔